Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 61–70 of 99

61

فَلَمَّا جَآءَ ءَالَ لُوطٍ ٱلْمُرْسَلُونَ

پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے

ایک ’’حق‘‘ وہ تھا جس کو لے کر فرشتے حضرت ابراہیم ؑکے پاس آئے تھے۔ دوسرا حق وہ ہے جس کو لے کر وہ حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ پہلا حق خداکے خصوصی انعام کی صورت میں تھا۔ دوسرا حق خدا کی خصوصی سزا کی صورت میں۔

حضرت لوط کے پاس فرشتے انسان کی صورت میں آئے۔ یہ فرشتے اس لیے آئے تھے کہ وہ پیغمبر کو نہ ماننے والوں کے درمیان وہ فیصلہ نافذ کردیں جو خدا نے ان کی سرکشی کی بنا پر ان کے لیے مقدر کیاہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق، حضرت لوط رات کے اندھیرے میں دوسرے اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل گئے۔ اس کے بعد صبح سویرے شدید زلزلہ کے دھماکوں سے وہ پورا علاقہ تلپٹ ہوگیا۔ تمام منکرین انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کردیے گئے۔

یہ ہلاکت کہاں ہوئی۔ یہ ان کی اسی دنیا میں ہوئی جس کو وہ اپنی دنیا سمجھے ہوئے تھے۔ جہاں کی ہر چیز ان کو اپنی ساتھی اور مدد گار دکھائی دیتی تھی۔ خدا جب حکم دیتا ہے تو عین وہی نقشہ آدمی کے لیے ہلاکت کا نقشہ بن جاتاہے، جس کو وہ اپنے لیے کامیابی کا نقشہ سمجھے ہوئے تھا۔ جس محل کے اندر اپنے آپ کو پاکر آدمی فخر کرتاہے اس محل کو اس طرح کھنڈر کردیا جاتا ہے جیسے کہ وہ ایک ملبہ تھا جو آدمی کے سرپر پٹک دیاگیا۔

62

قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌۭ مُّنكَرُونَ

تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہو

ایک ’’حق‘‘ وہ تھا جس کو لے کر فرشتے حضرت ابراہیم ؑکے پاس آئے تھے۔ دوسرا حق وہ ہے جس کو لے کر وہ حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ پہلا حق خداکے خصوصی انعام کی صورت میں تھا۔ دوسرا حق خدا کی خصوصی سزا کی صورت میں۔

حضرت لوط کے پاس فرشتے انسان کی صورت میں آئے۔ یہ فرشتے اس لیے آئے تھے کہ وہ پیغمبر کو نہ ماننے والوں کے درمیان وہ فیصلہ نافذ کردیں جو خدا نے ان کی سرکشی کی بنا پر ان کے لیے مقدر کیاہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق، حضرت لوط رات کے اندھیرے میں دوسرے اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل گئے۔ اس کے بعد صبح سویرے شدید زلزلہ کے دھماکوں سے وہ پورا علاقہ تلپٹ ہوگیا۔ تمام منکرین انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کردیے گئے۔

یہ ہلاکت کہاں ہوئی۔ یہ ان کی اسی دنیا میں ہوئی جس کو وہ اپنی دنیا سمجھے ہوئے تھے۔ جہاں کی ہر چیز ان کو اپنی ساتھی اور مدد گار دکھائی دیتی تھی۔ خدا جب حکم دیتا ہے تو عین وہی نقشہ آدمی کے لیے ہلاکت کا نقشہ بن جاتاہے، جس کو وہ اپنے لیے کامیابی کا نقشہ سمجھے ہوئے تھا۔ جس محل کے اندر اپنے آپ کو پاکر آدمی فخر کرتاہے اس محل کو اس طرح کھنڈر کردیا جاتا ہے جیسے کہ وہ ایک ملبہ تھا جو آدمی کے سرپر پٹک دیاگیا۔

63

قَالُوا۟ بَلْ جِئْنَٰكَ بِمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَمْتَرُونَ

وہ بولے کہ نہیں بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے

ایک ’’حق‘‘ وہ تھا جس کو لے کر فرشتے حضرت ابراہیم ؑکے پاس آئے تھے۔ دوسرا حق وہ ہے جس کو لے کر وہ حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ پہلا حق خداکے خصوصی انعام کی صورت میں تھا۔ دوسرا حق خدا کی خصوصی سزا کی صورت میں۔

حضرت لوط کے پاس فرشتے انسان کی صورت میں آئے۔ یہ فرشتے اس لیے آئے تھے کہ وہ پیغمبر کو نہ ماننے والوں کے درمیان وہ فیصلہ نافذ کردیں جو خدا نے ان کی سرکشی کی بنا پر ان کے لیے مقدر کیاہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق، حضرت لوط رات کے اندھیرے میں دوسرے اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل گئے۔ اس کے بعد صبح سویرے شدید زلزلہ کے دھماکوں سے وہ پورا علاقہ تلپٹ ہوگیا۔ تمام منکرین انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کردیے گئے۔

یہ ہلاکت کہاں ہوئی۔ یہ ان کی اسی دنیا میں ہوئی جس کو وہ اپنی دنیا سمجھے ہوئے تھے۔ جہاں کی ہر چیز ان کو اپنی ساتھی اور مدد گار دکھائی دیتی تھی۔ خدا جب حکم دیتا ہے تو عین وہی نقشہ آدمی کے لیے ہلاکت کا نقشہ بن جاتاہے، جس کو وہ اپنے لیے کامیابی کا نقشہ سمجھے ہوئے تھا۔ جس محل کے اندر اپنے آپ کو پاکر آدمی فخر کرتاہے اس محل کو اس طرح کھنڈر کردیا جاتا ہے جیسے کہ وہ ایک ملبہ تھا جو آدمی کے سرپر پٹک دیاگیا۔

64

وَأَتَيْنَٰكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ

اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں

ایک ’’حق‘‘ وہ تھا جس کو لے کر فرشتے حضرت ابراہیم ؑکے پاس آئے تھے۔ دوسرا حق وہ ہے جس کو لے کر وہ حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ پہلا حق خداکے خصوصی انعام کی صورت میں تھا۔ دوسرا حق خدا کی خصوصی سزا کی صورت میں۔

حضرت لوط کے پاس فرشتے انسان کی صورت میں آئے۔ یہ فرشتے اس لیے آئے تھے کہ وہ پیغمبر کو نہ ماننے والوں کے درمیان وہ فیصلہ نافذ کردیں جو خدا نے ان کی سرکشی کی بنا پر ان کے لیے مقدر کیاہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق، حضرت لوط رات کے اندھیرے میں دوسرے اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل گئے۔ اس کے بعد صبح سویرے شدید زلزلہ کے دھماکوں سے وہ پورا علاقہ تلپٹ ہوگیا۔ تمام منکرین انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کردیے گئے۔

یہ ہلاکت کہاں ہوئی۔ یہ ان کی اسی دنیا میں ہوئی جس کو وہ اپنی دنیا سمجھے ہوئے تھے۔ جہاں کی ہر چیز ان کو اپنی ساتھی اور مدد گار دکھائی دیتی تھی۔ خدا جب حکم دیتا ہے تو عین وہی نقشہ آدمی کے لیے ہلاکت کا نقشہ بن جاتاہے، جس کو وہ اپنے لیے کامیابی کا نقشہ سمجھے ہوئے تھا۔ جس محل کے اندر اپنے آپ کو پاکر آدمی فخر کرتاہے اس محل کو اس طرح کھنڈر کردیا جاتا ہے جیسے کہ وہ ایک ملبہ تھا جو آدمی کے سرپر پٹک دیاگیا۔

65

فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍۢ مِّنَ ٱلَّيْلِ وَٱتَّبِعْ أَدْبَٰرَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌۭ وَٱمْضُوا۟ حَيْثُ تُؤْمَرُونَ

تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے۔ اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جایئے

ایک ’’حق‘‘ وہ تھا جس کو لے کر فرشتے حضرت ابراہیم ؑکے پاس آئے تھے۔ دوسرا حق وہ ہے جس کو لے کر وہ حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ پہلا حق خداکے خصوصی انعام کی صورت میں تھا۔ دوسرا حق خدا کی خصوصی سزا کی صورت میں۔

حضرت لوط کے پاس فرشتے انسان کی صورت میں آئے۔ یہ فرشتے اس لیے آئے تھے کہ وہ پیغمبر کو نہ ماننے والوں کے درمیان وہ فیصلہ نافذ کردیں جو خدا نے ان کی سرکشی کی بنا پر ان کے لیے مقدر کیاہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق، حضرت لوط رات کے اندھیرے میں دوسرے اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل گئے۔ اس کے بعد صبح سویرے شدید زلزلہ کے دھماکوں سے وہ پورا علاقہ تلپٹ ہوگیا۔ تمام منکرین انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کردیے گئے۔

یہ ہلاکت کہاں ہوئی۔ یہ ان کی اسی دنیا میں ہوئی جس کو وہ اپنی دنیا سمجھے ہوئے تھے۔ جہاں کی ہر چیز ان کو اپنی ساتھی اور مدد گار دکھائی دیتی تھی۔ خدا جب حکم دیتا ہے تو عین وہی نقشہ آدمی کے لیے ہلاکت کا نقشہ بن جاتاہے، جس کو وہ اپنے لیے کامیابی کا نقشہ سمجھے ہوئے تھا۔ جس محل کے اندر اپنے آپ کو پاکر آدمی فخر کرتاہے اس محل کو اس طرح کھنڈر کردیا جاتا ہے جیسے کہ وہ ایک ملبہ تھا جو آدمی کے سرپر پٹک دیاگیا۔

66

وَقَضَيْنَآ إِلَيْهِ ذَٰلِكَ ٱلْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَٰٓؤُلَآءِ مَقْطُوعٌۭ مُّصْبِحِينَ

اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی

ایک ’’حق‘‘ وہ تھا جس کو لے کر فرشتے حضرت ابراہیم ؑکے پاس آئے تھے۔ دوسرا حق وہ ہے جس کو لے کر وہ حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ پہلا حق خداکے خصوصی انعام کی صورت میں تھا۔ دوسرا حق خدا کی خصوصی سزا کی صورت میں۔

حضرت لوط کے پاس فرشتے انسان کی صورت میں آئے۔ یہ فرشتے اس لیے آئے تھے کہ وہ پیغمبر کو نہ ماننے والوں کے درمیان وہ فیصلہ نافذ کردیں جو خدا نے ان کی سرکشی کی بنا پر ان کے لیے مقدر کیاہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق، حضرت لوط رات کے اندھیرے میں دوسرے اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل گئے۔ اس کے بعد صبح سویرے شدید زلزلہ کے دھماکوں سے وہ پورا علاقہ تلپٹ ہوگیا۔ تمام منکرین انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کردیے گئے۔

یہ ہلاکت کہاں ہوئی۔ یہ ان کی اسی دنیا میں ہوئی جس کو وہ اپنی دنیا سمجھے ہوئے تھے۔ جہاں کی ہر چیز ان کو اپنی ساتھی اور مدد گار دکھائی دیتی تھی۔ خدا جب حکم دیتا ہے تو عین وہی نقشہ آدمی کے لیے ہلاکت کا نقشہ بن جاتاہے، جس کو وہ اپنے لیے کامیابی کا نقشہ سمجھے ہوئے تھا۔ جس محل کے اندر اپنے آپ کو پاکر آدمی فخر کرتاہے اس محل کو اس طرح کھنڈر کردیا جاتا ہے جیسے کہ وہ ایک ملبہ تھا جو آدمی کے سرپر پٹک دیاگیا۔

67

وَجَآءَ أَهْلُ ٱلْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ

اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے

قومِ لوط کی بستی (سدوم) میں جو فرشتے آئے وہ نہایت خوبصورت نوجوان کی صورت میں آئے۔ یہ گویا فحاشی میں ڈوبی ہوئی اس قوم کی جانچ کا آخری پرچہ تھا۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی بڑھی ہوئی سرکشی کی بنا پر ان نوجوان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ حسب عادت ان کے ساتھ بد کاری کرنا چاہتے تھے۔ مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ جن کو پرکشش نوجوان سمجھ رہے ہیں وہ دراصل عذاب کے فرشتے ہیں، جو صرف اس لیے آئے ہیں کہ ان کو ہمیشہ کے لیے ذلیل کرکے چھوڑ دیں۔

’’میری بیٹیاں‘‘ سے مراد قوم کی بیٹیاں ہیں۔ حضرت لوط نے جب دیکھا کہ ظالم لوگ منع کرنے کے باوجود مہمانوںپر ٹوٹے پڑ رہے ہیں تو آپ نے ان سے کہا کہ خدارا، میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھ کو رسوا نہ کرو۔ اگر تم کو کچھ کرنا ہے تو یہ قوم کی لڑکیاں ہیں ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو۔

68

قَالَ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ ضَيْفِى فَلَا تَفْضَحُونِ

(لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں (کہیں ان کے بارے میں) مجھے رسوا نہ کرنا

قومِ لوط کی بستی (سدوم) میں جو فرشتے آئے وہ نہایت خوبصورت نوجوان کی صورت میں آئے۔ یہ گویا فحاشی میں ڈوبی ہوئی اس قوم کی جانچ کا آخری پرچہ تھا۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی بڑھی ہوئی سرکشی کی بنا پر ان نوجوان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ حسب عادت ان کے ساتھ بد کاری کرنا چاہتے تھے۔ مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ جن کو پرکشش نوجوان سمجھ رہے ہیں وہ دراصل عذاب کے فرشتے ہیں، جو صرف اس لیے آئے ہیں کہ ان کو ہمیشہ کے لیے ذلیل کرکے چھوڑ دیں۔

’’میری بیٹیاں‘‘ سے مراد قوم کی بیٹیاں ہیں۔ حضرت لوط نے جب دیکھا کہ ظالم لوگ منع کرنے کے باوجود مہمانوںپر ٹوٹے پڑ رہے ہیں تو آپ نے ان سے کہا کہ خدارا، میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھ کو رسوا نہ کرو۔ اگر تم کو کچھ کرنا ہے تو یہ قوم کی لڑکیاں ہیں ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو۔

69

وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ

اور خدا سے ڈرو۔ اور میری بےآبروئی نہ کیجو

قومِ لوط کی بستی (سدوم) میں جو فرشتے آئے وہ نہایت خوبصورت نوجوان کی صورت میں آئے۔ یہ گویا فحاشی میں ڈوبی ہوئی اس قوم کی جانچ کا آخری پرچہ تھا۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی بڑھی ہوئی سرکشی کی بنا پر ان نوجوان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ حسب عادت ان کے ساتھ بد کاری کرنا چاہتے تھے۔ مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ جن کو پرکشش نوجوان سمجھ رہے ہیں وہ دراصل عذاب کے فرشتے ہیں، جو صرف اس لیے آئے ہیں کہ ان کو ہمیشہ کے لیے ذلیل کرکے چھوڑ دیں۔

’’میری بیٹیاں‘‘ سے مراد قوم کی بیٹیاں ہیں۔ حضرت لوط نے جب دیکھا کہ ظالم لوگ منع کرنے کے باوجود مہمانوںپر ٹوٹے پڑ رہے ہیں تو آپ نے ان سے کہا کہ خدارا، میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھ کو رسوا نہ کرو۔ اگر تم کو کچھ کرنا ہے تو یہ قوم کی لڑکیاں ہیں ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو۔

70

قَالُوٓا۟ أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ ٱلْعَٰلَمِينَ

وہ بولے کیا ہم نے تم کو سارے جہان (کی حمایت وطرفداری) سے منع نہیں کیا

قومِ لوط کی بستی (سدوم) میں جو فرشتے آئے وہ نہایت خوبصورت نوجوان کی صورت میں آئے۔ یہ گویا فحاشی میں ڈوبی ہوئی اس قوم کی جانچ کا آخری پرچہ تھا۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی بڑھی ہوئی سرکشی کی بنا پر ان نوجوان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ حسب عادت ان کے ساتھ بد کاری کرنا چاہتے تھے۔ مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ جن کو پرکشش نوجوان سمجھ رہے ہیں وہ دراصل عذاب کے فرشتے ہیں، جو صرف اس لیے آئے ہیں کہ ان کو ہمیشہ کے لیے ذلیل کرکے چھوڑ دیں۔

’’میری بیٹیاں‘‘ سے مراد قوم کی بیٹیاں ہیں۔ حضرت لوط نے جب دیکھا کہ ظالم لوگ منع کرنے کے باوجود مہمانوںپر ٹوٹے پڑ رہے ہیں تو آپ نے ان سے کہا کہ خدارا، میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھ کو رسوا نہ کرو۔ اگر تم کو کچھ کرنا ہے تو یہ قوم کی لڑکیاں ہیں ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.