Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 51–60 of 99

51

وَنَبِّئْهُمْ عَن ضَيْفِ إِبْرَٰهِيمَ

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو

19: مہمانوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیجے گئے تھے۔ اُوپر یہ بیان کیا گیا تھا کہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت بھی بہت وسیع ہے، اور عذاب بھی بڑا سخت ہے، لہٰذا ایک اِنسان کو نہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا چاہئے، اور نہ اس کے عذاب سے بے فکر ہو کر بیٹھنا چاہئے۔ اس مناسبت سے اُن مہمانوں کا یہ واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے، کیونکہ اِس واقعے میں اﷲ تعالیٰ کی رحمت کا بھی بیان ہے کہ یہ فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بڑھاپے میں حضرت اسحاق علیہ السلام جیسے بیٹے کی پیدائش کی خبر لے کر آئے، اور اﷲ تعالیٰ کے سخت عذاب کا بھی ذکر ہے کہ انہی فرشتوں کے ذریعے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل کیا گیا۔ یہ واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سورۂ ہود آیت (۱۱:۶۹ تا ۸۳) میں گذر چکا ہے۔ اس کے مختلف حصوں کی وضاحت ہم نے وہاں کی ہے۔

52

إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَٰمًۭا قَالَ إِنَّا مِنكُمْ وَجِلُونَ

جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو سلام کہا۔ (انہوں نے) کہا کہ ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے

20: سورۂ ہود میں گزرچکا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کو انسان سمجھ کر انکی مہمانی کے لئے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے کر آئے تھے، لیکن انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا جو اس علاقے کے رواج کے مطابق اس بات کی علامت تھی کہ یہ کوئی دشمن ہیں اور کسی برے ارادے سے آئے ہیں اس لئے انہیں خوف محسوس ہوا۔

53

قَالُوا۟ لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٍۢ

(مہمانوں نے) کہا کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں

Explained together with ayah 52

54

قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِى عَلَىٰٓ أَن مَّسَّنِىَ ٱلْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ

بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کاہے کی خوشخبری دیتے ہو

Explained together with ayah 52

55

قَالُوا۟ بَشَّرْنَٰكَ بِٱلْحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْقَٰنِطِينَ

(انہوں نے) کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوئیے

Explained together with ayah 52

56

قَالَ وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِۦٓ إِلَّا ٱلضَّآلُّونَ

(ابراہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے (میں مایوس کیوں ہونے لگا اس سے) مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے

Explained together with ayah 52

57

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا ٱلْمُرْسَلُونَ

پھر کہنے لگے کہ فرشتو! تمہیں (اور) کیا کام ہے

Explained together with ayah 52

58

قَالُوٓا۟ إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَىٰ قَوْمٍۢ مُّجْرِمِينَ

(انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (کہ اس کو عذاب کریں)

Explained together with ayah 52

59

إِلَّآ ءَالَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ

مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچالیں گے

Explained together with ayah 52

60

إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ قَدَّرْنَآ ۙ إِنَّهَا لَمِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ

البتہ ان کی عورت (کہ) اس کے لیے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی

Explained together with ayah 52

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.