Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 51–60 of 99

51

وَنَبِّئْهُمْ عَن ضَيْفِ إِبْرَٰهِيمَ

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو

[٢٨] سیدنا ابراہیم کے مہمان فرشتے :۔ یہ مہمان فرشتے تھے جو اصل میں تو لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے جارہے تھے کہ ان کی بستی کو تباہ کر ڈالیں۔ پہلے وہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف آئے اور انھیں مہمان اس لیے کہا گیا کہ وہ اجنبی صورت میں آئے تھے وہ انھیں ایک بیٹے یعنی سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دینے آئے تھے۔ یہ واقعہ پہلے سورة ہود کی آیت نمبر ٦٩ تا ٧٤ میں بھی گزر چکا ہے۔

52

إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَٰمًۭا قَالَ إِنَّا مِنكُمْ وَجِلُونَ

جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو سلام کہا۔ (انہوں نے) کہا کہ ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے

Explained together with ayah 51

53

قَالُوا۟ لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٍۢ

(مہمانوں نے) کہا کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں

Explained together with ayah 51

54

قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِى عَلَىٰٓ أَن مَّسَّنِىَ ٱلْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ

بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کاہے کی خوشخبری دیتے ہو

Explained together with ayah 51

55

قَالُوا۟ بَشَّرْنَٰكَ بِٱلْحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْقَٰنِطِينَ

(انہوں نے) کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوئیے

[٢٩] سورة ہود میں اور اس مقام میں قدرے اختلاف ہے سورة ہود کے مطابق فرشتوں نے یہ خوشخبری سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی سارہ کو دی تھی جو پاس ہی کھڑی فرشتوں اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا مکالمہ سن رہی تھی۔ اس نے بھی اس بڑھاپے کی عمر میں بچہ پیدا ہونے کی بشارت پر تعجب کا اظہار کیا تھا اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی از راہ تعجب فرشتوں سے یہی بات پوچھی کہ یہ کیا خوشخبری دے رہے ہو ؟- [ ٣٠] سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ تعجب اس لیے نہ تھا کہ وہ اس بات کو ناممکن سمجھتے تھے یا اللہ کی رحمت سے مایوس ہوچکے تھے بلکہ اس لیے تھا کہ وہ اس تکرار سے تاکید مزید اور اسی نسبت سے اپنی مسرت میں مزید اضافہ کے خواہشمند تھے۔

56

قَالَ وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِۦٓ إِلَّا ٱلضَّآلُّونَ

(ابراہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے (میں مایوس کیوں ہونے لگا اس سے) مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے

Explained together with ayah 55

57

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا ٱلْمُرْسَلُونَ

پھر کہنے لگے کہ فرشتو! تمہیں (اور) کیا کام ہے

[٣١] سیدنا ابراہیم کے ڈرنے کی وجہ :۔ ان فرشتوں کی آمد سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ کسی خاص مہم پر آئے ہیں۔ ورنہ لڑکے کی خوشخبری دینے کے لیے تو ایک فرشتہ بھی کافی تھا نیز یہ کہ کئی فرشتوں کا انسانی شکل میں آناغیر معمولی حالات میں ہی ہوا کرتا ہے۔ لہذا آپ نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ تمہاری اس طرح آمد کی اصل غرض وغایت کیا ہے ؟ واضح رہے کہ قرآن نے یہاں خطب کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور یہ لفظ کسی ناگوار صورت حال کے لیے آتا ہے گویا آپ ان فرشتوں کی آمد سے فی الواقع ڈر رہے تھے۔ پھر جب فرشتوں نے بتایا کہ وہ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں تو آپ کا ڈر جاتا رہا۔

58

قَالُوٓا۟ إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَىٰ قَوْمٍۢ مُّجْرِمِينَ

(انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (کہ اس کو عذاب کریں)

Explained together with ayah 57

59

إِلَّآ ءَالَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ

مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچالیں گے

Explained together with ayah 57

60

إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ قَدَّرْنَآ ۙ إِنَّهَا لَمِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ

البتہ ان کی عورت (کہ) اس کے لیے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی

Explained together with ayah 57

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.