وَنَبِّئْهُمْ عَن ضَيْفِ إِبْرَٰهِيمَ
اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو
19: مہمانوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیجے گئے تھے۔ اُوپر یہ بیان کیا گیا تھا کہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت بھی بہت وسیع ہے، اور عذاب بھی بڑا سخت ہے، لہٰذا ایک اِنسان کو نہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا چاہئے، اور نہ اس کے عذاب سے بے فکر ہو کر بیٹھنا چاہئے۔ اس مناسبت سے اُن مہمانوں کا یہ واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے، کیونکہ اِس واقعے میں اﷲ تعالیٰ کی رحمت کا بھی بیان ہے کہ یہ فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بڑھاپے میں حضرت اسحاق علیہ السلام جیسے بیٹے کی پیدائش کی خبر لے کر آئے، اور اﷲ تعالیٰ کے سخت عذاب کا بھی ذکر ہے کہ انہی فرشتوں کے ذریعے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل کیا گیا۔ یہ واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سورۂ ہود آیت (۱۱:۶۹ تا ۸۳) میں گذر چکا ہے۔ اس کے مختلف حصوں کی وضاحت ہم نے وہاں کی ہے۔