Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi

Ayahs 51–60 of 99

51

وَنَبِّئْهُمْ عَن ضَيْفِ إِبْرَٰهِيمَ

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :30

یہاں حضرت ابراہیم اور ان کے بعد متصلا قوم لوط کا قصہ جس غرض کے لیے سنایا جا رہا ہے اس کو سمجھنے کے لیے اس سورۃ کی ابتدائی آیات کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے ۔ آیات ۷ -۸ میں کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ ” اگر تم سچے نبی ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کے لے کیوں نہیں آتے؟ “ اس کا مختصر جواب وہاں صرف اس قدر دے کر چھوڑ دیا گیا تھا کہ ” فرشتوں کو ہم یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے ، انہیں تو ہم جب بھیجتے ہیں حق کے ساتھ ہی بھیجتے ہیں“ ۔ اب اس کا مفصل جواب یہاں ان دونوں قصوں کے پیرائے میں دیا جا رہا ہے ۔ یہاں انہیں بتایا جا رہا ہے کہ ایک ” حق “ تو وہ ہے جسے لے کر فرشتے ابراہیم کے پاس آئے تھے ، اور دوسرا حق وہ ہے جسے لے کر وہ قوم لوط پر پہنچے تھے ۔ اب تم خود دیکھ لو کہ تمہارے پاس ان میں سے کونسا حق لے کر فرشتے آسکتے ہیں ۔ ابراہیم والے حق کے لائق تو ظاہر ہے کہ تم نہیں ہو ۔ اب کیا اس حق کے ساتھ فرشتوں کو بلوانا چاہتے ہو جسے لے کر وہ قوم لوط کے ہاں نازل ہو ئے تھے؟

52

إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَٰمًۭا قَالَ إِنَّا مِنكُمْ وَجِلُونَ

جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو سلام کہا۔ (انہوں نے) کہا کہ ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :31

تقابل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ ہود ، رکوع ۷ مع حواشی ۔

53

قَالُوا۟ لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٍۢ

(مہمانوں نے) کہا کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :32

یعنی حضرت اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت ، جیسا کہ سورہ ہود میں بصراحت بیان ہوا ہے ۔

54

قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِى عَلَىٰٓ أَن مَّسَّنِىَ ٱلْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ

بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کاہے کی خوشخبری دیتے ہو

Explained together with ayah 53

55

قَالُوا۟ بَشَّرْنَٰكَ بِٱلْحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْقَٰنِطِينَ

(انہوں نے) کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوئیے

Explained together with ayah 53

56

قَالَ وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِۦٓ إِلَّا ٱلضَّآلُّونَ

(ابراہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے (میں مایوس کیوں ہونے لگا اس سے) مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے

Explained together with ayah 53

57

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا ٱلْمُرْسَلُونَ

پھر کہنے لگے کہ فرشتو! تمہیں (اور) کیا کام ہے

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :33

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس سوال سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا ہمیشہ غیر معمولی حالات ہی میں ہوا کرتا ہے اور کوئی بڑی مہم ہی ہوتی ہے جس پر وہ بھیجے جاتے ہیں ۔

58

قَالُوٓا۟ إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَىٰ قَوْمٍۢ مُّجْرِمِينَ

(انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (کہ اس کو عذاب کریں)

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :34

اشارے کا یہ اختصار صاف بتا رہا ہے کہ قوم لوط کے جرائم کا پیمانہ اس وقت اتنا لبریز ہو چکا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے باخبر آدمی کے سامنے اس کا نام لینے کی قطعا ضرورت نہ تھی ، بس” ایک مجرم قوم“ کہہ دینا بالکل کافی تھا ۔

59

إِلَّآ ءَالَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ

مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچالیں گے

Explained together with ayah 58

60

إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ قَدَّرْنَآ ۙ إِنَّهَا لَمِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ

البتہ ان کی عورت (کہ) اس کے لیے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی

Explained together with ayah 58

Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.