Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 41–50 of 99

41

قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيمٌ

(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا رستہ ہے

قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ : یعنی یہی صراط مستقیم اور درست بات ہے جو مجھ پر لازم ہے کہ تو میرے مخلص بندوں کو گمراہ نہ کرسکے گا اور جو میرے لیے خالص ہوگا اس کی حفاظت میں خود کروں گا، جیسے بعد میں فرمایا : (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ) [ الحجر : ٤٢ ] اور ایک معنی یہ بھی ہے کہ ” ھَذَا “ سے اخلاص کی طرف اشارہ ہو، یعنی یہی اخلاص کی راہ مجھ تک سیدھی پہنچتی ہے اور میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں ہوگا۔ (روح المعانی) دوسرا معنی واضح ہے۔ (واللہ اعلم)

42

إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ ۔۔ : یہ پچھلی بات ہی کی وضاحت ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے اور اگر ” عِبَادٌ“ سے مراد عام ہو تو مستثنیٰ متصل ہوگا، مطلب یہ کہ جو خود ہی بھٹکے ہوں اور جہالت کی بنا پر خود ہی تیری پیروی کرنا چاہیں۔

43

وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ

اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے

Explained together with ayah 42

44

لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَٰبٍۢ لِّكُلِّ بَابٍۢ مِّنْهُمْ جُزْءٌۭ مَّقْسُومٌ

اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ : یہ سات دروازے مختلف قسم کے گناہ گاروں کے لیے ہوں گے، جو جہنمیوں کو جہنم کے مختلف درجوں کی طرف پہنچائیں گے۔ قرآن مجید میں جہنم کے درجوں کو ” درکات “ کہا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ) [ النساء : ١٤٥ ] ” بیشک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ “ ابوطالب کے متعلق صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آگ اس کے ٹخنوں تک پہنچ رہی ہوگی۔ سمرہ (رض) سے روایت کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرماتے تھے : ( إِنَّ مِنْھُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ النَّارُ إِلٰی کَعْبَیْہِ ، وَمِنْھُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ إِلٰی حُجْزَتِہِ ، وَمِنْھُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ إِلٰی عُنُقِہِ )” ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنھیں آگ ٹخنوں تک پکڑے گی اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنھیں ان کی کمر تک پکڑے گی اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنھیں ان کی گردن تک پکڑے گی۔ “ [ مسلم، الجنۃ - وصفۃ نعیمھا، باب جہنم أعاذنا اللہ منھا : ٢٨٤٥ ]- لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ : تقسیم کیے ہوئے حصے سے مراد بدکاروں کے سات حصوں میں تقسیم شدہ مجرموں کا ایک حصہ ہے، یعنی جس طرح ایک خاص عمل والے لوگ جنت میں ایک خاص دروازے سے داخل ہوں گے، اسی طرح برے عمل والے لوگ بھی اپنے اعمال کے مطابق جہنم کے مختلف دروازوں سے داخل ہوں گے، جیسے اوپر ذکر ہوا : (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ) [ النساء : ١٤٥ ] ” بیشک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ “ شاہ عبدالقادر (رض) فرماتے ہیں : ” شاید بہشت کا ایک دروازہ زیادہ اس لیے ہے کہ بعض موحدین صرف اللہ کے فضل سے جنت میں جائیں گے، بغیر عمل کے۔ “ (موضح)

45

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍ

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

” نَّ الْمُتَّقِيْنَ “ ” اِتَّقٰی “ باب افتعال سے اسم فاعل ” مُتَّقِیْ “ کی جمع ہے۔ مجرد ” وَقٰی یَقِيْ وَقَایَۃً “ ہے، بمعنی بچانا اور نقصان دہ چیزوں سے محفوظ رکھنا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (٢) ۔- فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ : گمراہ لوگوں کے برے انجام کے ساتھ ہی متقی لوگوں کے بہترین انجام کا ذکر ہے اور یہ قرآن مجید کا عام انداز ہے کہ وہ دونوں پہلوؤں کا ساتھ ساتھ ذکر کرتا ہے۔ ” جَنّٰتٍ “ ” جَنَّۃٌ“ کی جمع ہے، گھنے درختوں کا باغ جو زمین کو چھپائے ہوئے ہو۔ ” جَنَّ یَجُنُّ “ کا معنی ہے چھپانا۔ ” وَّعُيُوْنٍ “ کا معنی ہے چشمے، مراد وہ چشمے ہیں جن سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں، یا الگ چشمے، کیونکہ چشموں کا حسن ایک الگ ہی چیز ہے۔ سورة دہر میں کافور اور زنجبیل کی آمیزش والے چشمے، سلسبیل نامی چشمے اور سورة مطففین میں تسنیم نامی چشمے کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ یاد رہے کہ جنت سے مراد صرف باغ ہی نہیں، بلکہ سونے چاندی کی اینٹوں کے مکانات اور ایک ایک موتی یا لعل سے بنے ہوئے میلوں لمبے اور اونچے خیموں کے ساتھ ملے ہوئے باغات ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں جنت کے اوصاف میں مذکور ہے۔

46

ٱدْخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع سے) داخل ہوجاؤ

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيْنَ ۔۔ : یعنی انھیں یہ کہا جائے گا۔ ” بِسَلٰمٍ “ یعنی ہر قسم کے آفات و مصائب سے سلامتی کے ساتھ، ایک دوسرے کو سلام کہتے ہوئے، فرشتوں کے سلام سنتے ہوئے اور پروردگار عالم کے ”ښسَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ “ کے ساتھ۔ (دیکھیے یٰسٓ : ٥٨) اسی لیے جنت کا ایک نام ” دار السلام “ بھی ہے، فرمایا : (لَهُمْ دَار السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ ) [ الأنعام : ١٢٧ ] ” اٰمِنِيْنَ “ ہر خوف خطرے سے محفوظ۔

47

وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٍۢ مُّتَقَٰبِلِينَ

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ان کو ہم نکال کر (صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں

وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِ ۔۔ : ” نَزْعٌ“ کا معنی کھینچ کر، اکھاڑ کر نکالنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کینہ اور دشمنی دل میں کتنی گہری جڑ پکڑتی ہے۔ ” غِلٍّ “ کینہ، کھوٹ، یعنی اللہ تعالیٰ دنیا میں اہل جنت کے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق ہر کینے کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے گا، کیونکہ جس سینے میں کوئی کدورت ہو وہ مکمل خوشی سے ہم کنار نہیں ہوسکتا۔ دلوں کی صفائی کے بعد وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ محبت ہو تو خودبخود چہرے آپس میں مل جاتے ہیں، جب کہ دلوں میں کدورت ہو تو چہرے بھی ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ؂- دل بدلتے ہیں تو چہرے بھی بدل جاتے ہیں - ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اہل جنت کے متعلق) فرمایا : ( قُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ لاَ اخْتِلَافَ بَیْنَھُمْ وَلَا تَبَاغُضَ ) [ بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ : ٣٢٤٦ ] ” ان کے دل ایک آدمی کے دل کی طرح ہوں گے، نہ ان میں کوئی اختلاف ہوگا، نہ آپس میں کوئی بغض۔ “ ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( یَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ فَیُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَۃٍ بَیْنَ الجَنَّۃِ وَالنَّارِ ، فَیُقْتَصُّ لِبَعْضِھِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ کَانَتْ بَیْنَھُمْ فِي الدُّنْیَا، حَتّٰی إِذَا ھُذِّبُوْا وَ نُقُّوْا أُذِنَ لَھُمْ فِيْ دُخُوْلِ الجَنَّۃِ ) [ بخاری، الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ : ٦٥٣٥ ] ” مومن آگ سے بچ کر آئیں گے تو جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے، پھر دنیا میں ان کے ایک دوسرے پر مظالم کا قصاص ایک دوسرے کو دلوایا جائے گا، یہاں تک کہ جب ان کی پوری تراش خراش کردی جائے گی اور خوب پاک صاف کردیے جائیں گے تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔ “ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام اور صلحائے امت باہمی لڑائیوں اور رنجشوں کے باوجود جنت میں جائیں گے، مگر اس سے پہلے ان کے دلوں کی باہمی کدورتیں بالکل دور کردی جائیں گی اور وہ صاف دل بھائی بھائی ہو کر جنت میں جائیں گے۔

48

لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌۭ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے

لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ : دنیا میں کوئی شخص دکھ، مصیبت، مشقت اور تھکن سے خالی نہیں، بلکہ یہ ساری زندگی ہی محنت اور مشقت کی ہے، یہاں زیادہ سے زیادہ خوشی اور لذت کے ساتھ بھی کوئی نہ کوئی مشقت، محنت، تھکن یا غم ضرور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة بلد کے شروع میں کئی قسمیں کھا کر فرمایا : (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ ) [ البلد : ٤ ] ” بلاشبہ یقیناً ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے “ اور سورة انشقاق میں فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِ ) [ الانشقاق : ٦ ] ” اے انسان بیشک تو مشقت کرتے کرتے اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، سخت مشقت، پھر اس سے ملنے والا ہے۔ “ جب کہ جنت میں نہ کوئی دکھ ہوگا نہ تھکاوٹ۔ ابوسعید خدری اور ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( یُنَادِيْ مُنَادٍ إِنَّ لَکُمْ أَنْ تَصِحُّوْا فَلَا تَسْقَمُوْا أَبَدًا وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَحْیَوْا فَلَا تَمُوْتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَشِبُّوْا فَلَا تَھْرَمُوْا أَبَدًا، وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَنْعَمُوْا فَلَا تَبْأَسُوْا أَبَدًا فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ عَزَّوَجَلَّ : (وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) [ الأعراف : ٤٣ ] )” ایک منادی ندا دے گا (اے جنت والو ) بیشک تمہارے لیے یہ ہوگا کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے اور تمہارے لیے یہ ہوگا کہ تم زندہ رہو گے کبھی تمہیں موت نہیں آئے گی اور تمہارے لیے یہ ہوگا کہ تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمہارے لیے طے ہوچکا کہ تم خوش حال رہو گے کبھی تنگی اور تکلیف نہیں اٹھاؤ گے۔ “ چناچہ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) ” اور انھیں آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے جس کے وارث تم اس کی وجہ سے بنائے گئے ہو جو تم کیا کرتے تھے۔ “ [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب في دوام نعیم أہل الجنۃ۔۔ : ٢٢؍٢٨٣٧ ]- وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ : عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِذَا صَارَ أَھْلُ الْجَنَّۃِ إِلَی الْجَنَّۃِ ، وَصَارَ أَھْلُ النَّارِ إِلَی النَّارِ ، أُتِيَ بالْمَوْتِ حَتّٰی یُجْعَلَ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ ، ثُمَّ یُذْبَحُ ، ثُمَّ یُنَادِيْ مُنَادٍ یَا أَھْلَ الْجَنَّۃِ لَا مَوْتَ ، یَا أَھْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ ، فَیَزْدَادُ أَھْلُ الْجَنَّۃِ فَرَحًا إِلٰی فَرَحِھِمْ ، وَیَزْدَادُ أَھْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلٰی حُزْنِھِمْ ) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب النار یدخلھا الجبارون۔۔ : ٤٣؍٢٨٥٠ ] ” جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں پہنچ جائیں گے تو موت کو (ایک مینڈھے کی شکل میں) لایا جائے گا اور اسے جنت اور جہنم کے درمیان رکھ دیا جائے گا، پھر اسے ذبح کردیا جائے گا، پھر ایک منادی اعلان کرے گا اے جنت والو اب موت نہیں اور اے آگ والو اب موت نہیں، تو جنت والے اپنی خوشی کے ساتھ اور زیادہ خوش ہوجائیں گے اور آگ والے اپنے غم کے ساتھ اور زیادہ غم زدہ ہوجائیں گے۔ “

49

۞ نَبِّئْ عِبَادِىٓ أَنِّىٓ أَنَا ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

(اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں

نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ ۔۔ : ” نَبَأٌ“ خاص اور اہمیت والی خبر کو کہتے ہیں۔ ” نَبِّئْ “ باب تفعیل سے امر ہے، یعنی یہ بات اچھی طرح بتادو ، تاکہ وہ امید بھی رکھیں اور خوف بھی، کیونکہ ایمان ان دونوں کے درمیان ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَوْ یَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الْعُقُوْبَۃِ ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِہِ أَحَدٌ، وَلَوْ یَعْلَمُ الْکَافِرُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الرَّحْمَۃِ ، مَا قَنِطَ مِنْ جَنَّتِہِ أَحَدٌ ) [ مسلم، التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی۔۔ : ٢٧٥٥ ] ” اگر مومن جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی عقوبت ہے تو کوئی اس کی جنت کا طمع نہ رکھے اور اگر کافر جان لے کہ اللہ کے پاس کس قدر رحمت ہے تو کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو۔ “ ان آیات میں رحمت و مغفرت کا بیان پہلے اور عذاب الیم کا ذکر بعد میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اصل اور غالب صفت رحمت ہے، عذاب تو محض عدل کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف کی آیت (١٥٦) کی تفسیر۔ - یہاں رحمت کے اظہار کے لیے پہلے ” عِبَادِيْٓ“ سے خطاب، پھر ” أَنَّ “ ، ” اَنَا “ ضمیر فصل اور ” الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “ کو الف لام کے ساتھ لا کر تاکید پر تاکید فرمائی، دوسری آیت میں ” ھُوَ “ ضمیر فصل اور ” اَلْعَذَاب “ کو معرف باللام لا کر تاکید فرمائی۔ پہلی آیت میں فرمایا کہ میری صفات رحمت یہ ہیں اور ان کا مالک میرے سوا کوئی نہیں، دوسری آیت میں فرمایا اور میرے عذاب کی صفت یہ ہے، یہ نہیں فرمایا : ” وَإِنِّيْ أَنَا الْمُعَذِّبُ ۔۔ “ کہ میں ہی ایسا عذاب دینے والا ہوں، بلکہ اپنے عذاب کی صفت بیان فرمائی کہ میرا عذاب ہی ایسا ہے جو عذاب الیم ہے۔- 3 یہ آیات تمہید ہیں ان واقعات کی جو آگے آ رہے ہیں، جن میں فرشتوں کی ایک جماعت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور ہوا اور انھی کے ذریعے سے اس کے عذاب الیم کا ظہور ہوا۔

50

وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ

اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے

Explained together with ayah 49

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.