Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 41–50 of 99

41

قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيمٌ

(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا رستہ ہے

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)

[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔

[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔

[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔

[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان …

42

إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)

[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔

[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔

[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔

[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان …

43

وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ

اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)

[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔

[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔

[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔

[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان …

44

لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَٰبٍۢ لِّكُلِّ بَابٍۢ مِّنْهُمْ جُزْءٌۭ مَّقْسُومٌ

اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)

[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔

[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔

[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔

[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان …

45

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍ

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)

[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔

[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔

[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔

[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔

[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔

[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی …

46

ٱدْخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع سے) داخل ہوجاؤ

بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)

[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔

[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔

[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔

[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔

[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔

[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی …

47

وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٍۢ مُّتَقَٰبِلِينَ

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ان کو ہم نکال کر (صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں

بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)

[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔

[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔

[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔

[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔

[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔

[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی …

48

لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌۭ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے

بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)

[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔

[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔

[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔

[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔

[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔

[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی …

49

۞ نَبِّئْ عِبَادِىٓ أَنِّىٓ أَنَا ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

(اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں

بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)

[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔

[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔

[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔

[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔

[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔

[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی …

50

وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ

اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے

بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)

[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔

[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔

[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔

[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔

[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔

[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.