Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 41–50 of 99

41

قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيمٌ

(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا رستہ ہے

صراطِ مستقیم کی تشریح مجاہد اور حسن اور قتادہ سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد حق کا راستہ ہے جو اللہ کی طرف نکلتاہے اور اسی پر ختم ہوتاہے (طَرِيقُ الْحَقِّ مَرْجِعُهَا إِلَى اللهِ تَعَالَى، وَإِلَيْهِ تَنْتَهِي) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 535 ۔ اگر آدمی شرک کی راہِ چلے تو وہ راہ خدا تک نہیں پہنچے گی بلکہ شریکوں تک پہنچے گی۔ وہ اگر سرکشی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کی منزل آدمی کا اپنا وجود ہوگا،نہ کہ خدا۔ اگر وہ بے قید ہو کر زندگی گزارے تو وہ مختلف سمتوںمیں بھٹکے گا۔ اس کا سفر خدا پر منتہیٰ نہیں ہوسکتا۔

مگر جب آدمی صرف خداکو اپنا مرکز توجہ بناتاہے اوراسی کو سب کچھ سمجھ کر اپنی زندگی کو خدا کے رخ پر چلاتا ہے تو بالکل قدرتی بات ہے کہ اس کا سفر خدا کی طرف جاری ہو اور بالآخر وہ خدا تک پہنچ جائے۔ خدا قادر ہے اور انسان عاجز۔ اس لیے خدا اور بندے کے درمیان ایک ہی صحیح نسبت ہے اور وہ عبدیت کی نسبت ہے۔ عبدیت کی روش اختیار کرنا خداکے ساتھ اپنی صحیح ترین نسبت کو پالینا ہے ۔ جس شخص کی نسبت خدا کے ساتھ قائم ہوجائے اس پر شیطان کا ز ور نہیں چلتا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ اپنی نسبت قائم نہ کی، اس کی نسبت شیطان کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے۔ پھر وہ شیطان کے مشوروں پر چلنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پہنچ جاتاہے جہاں بالآخر شیطان کو پہنچنا ہے۔

جہنم جو شیطان اور اس کے ساتھیوں کا آخری ٹھکانا ہے،اس کے سات درجے ہیں۔ (قَالَ عِكْرمة ’’سَبْعَةُ أَبْوَابٍ‘‘ سَبْعَةُ أَطْبَاقٍ) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 536 ۔ جہنمی لوگ اپنے اعمال کے فرق کے لحاظ سے سات بڑے گروہوں میں تقسیم کيے جائیں گے اور اس کے مطابق جہنم کے سات طبقات میں سے کسی ایک طبقہ میں جگہ پائیں گے۔

42

إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے

صراطِ مستقیم کی تشریح مجاہد اور حسن اور قتادہ سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد حق کا راستہ ہے جو اللہ کی طرف نکلتاہے اور اسی پر ختم ہوتاہے (طَرِيقُ الْحَقِّ مَرْجِعُهَا إِلَى اللهِ تَعَالَى، وَإِلَيْهِ تَنْتَهِي) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 535 ۔ اگر آدمی شرک کی راہِ چلے تو وہ راہ خدا تک نہیں پہنچے گی بلکہ شریکوں تک پہنچے گی۔ وہ اگر سرکشی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کی منزل آدمی کا اپنا وجود ہوگا،نہ کہ خدا۔ اگر وہ بے قید ہو کر زندگی گزارے تو وہ مختلف سمتوںمیں بھٹکے گا۔ اس کا سفر خدا پر منتہیٰ نہیں ہوسکتا۔

مگر جب آدمی صرف خداکو اپنا مرکز توجہ بناتاہے اوراسی کو سب کچھ سمجھ کر اپنی زندگی کو خدا کے رخ پر چلاتا ہے تو بالکل قدرتی بات ہے کہ اس کا سفر خدا کی طرف جاری ہو اور بالآخر وہ خدا تک پہنچ جائے۔ خدا قادر ہے اور انسان عاجز۔ اس لیے خدا اور بندے کے درمیان ایک ہی صحیح نسبت ہے اور وہ عبدیت کی نسبت ہے۔ عبدیت کی روش اختیار کرنا خداکے ساتھ اپنی صحیح ترین نسبت کو پالینا ہے ۔ جس شخص کی نسبت خدا کے ساتھ قائم ہوجائے اس پر شیطان کا ز ور نہیں چلتا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ اپنی نسبت قائم نہ کی، اس کی نسبت شیطان کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے۔ پھر وہ شیطان کے مشوروں پر چلنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پہنچ جاتاہے جہاں بالآخر شیطان کو پہنچنا ہے۔

جہنم جو شیطان اور اس کے ساتھیوں کا آخری ٹھکانا ہے،اس کے سات درجے ہیں۔ (قَالَ عِكْرمة ’’سَبْعَةُ أَبْوَابٍ‘‘ سَبْعَةُ أَطْبَاقٍ) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 536 ۔ جہنمی لوگ اپنے اعمال کے فرق کے لحاظ سے سات بڑے گروہوں میں تقسیم کيے جائیں گے اور اس کے مطابق جہنم کے سات طبقات میں سے کسی ایک طبقہ میں جگہ پائیں گے۔

43

وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ

اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے

صراطِ مستقیم کی تشریح مجاہد اور حسن اور قتادہ سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد حق کا راستہ ہے جو اللہ کی طرف نکلتاہے اور اسی پر ختم ہوتاہے (طَرِيقُ الْحَقِّ مَرْجِعُهَا إِلَى اللهِ تَعَالَى، وَإِلَيْهِ تَنْتَهِي) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 535 ۔ اگر آدمی شرک کی راہِ چلے تو وہ راہ خدا تک نہیں پہنچے گی بلکہ شریکوں تک پہنچے گی۔ وہ اگر سرکشی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کی منزل آدمی کا اپنا وجود ہوگا،نہ کہ خدا۔ اگر وہ بے قید ہو کر زندگی گزارے تو وہ مختلف سمتوںمیں بھٹکے گا۔ اس کا سفر خدا پر منتہیٰ نہیں ہوسکتا۔

مگر جب آدمی صرف خداکو اپنا مرکز توجہ بناتاہے اوراسی کو سب کچھ سمجھ کر اپنی زندگی کو خدا کے رخ پر چلاتا ہے تو بالکل قدرتی بات ہے کہ اس کا سفر خدا کی طرف جاری ہو اور بالآخر وہ خدا تک پہنچ جائے۔ خدا قادر ہے اور انسان عاجز۔ اس لیے خدا اور بندے کے درمیان ایک ہی صحیح نسبت ہے اور وہ عبدیت کی نسبت ہے۔ عبدیت کی روش اختیار کرنا خداکے ساتھ اپنی صحیح ترین نسبت کو پالینا ہے ۔ جس شخص کی نسبت خدا کے ساتھ قائم ہوجائے اس پر شیطان کا ز ور نہیں چلتا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ اپنی نسبت قائم نہ کی، اس کی نسبت شیطان کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے۔ پھر وہ شیطان کے مشوروں پر چلنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پہنچ جاتاہے جہاں بالآخر شیطان کو پہنچنا ہے۔

جہنم جو شیطان اور اس کے ساتھیوں کا آخری ٹھکانا ہے،اس کے سات درجے ہیں۔ (قَالَ عِكْرمة ’’سَبْعَةُ أَبْوَابٍ‘‘ سَبْعَةُ أَطْبَاقٍ) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 536 ۔ جہنمی لوگ اپنے اعمال کے فرق کے لحاظ سے سات بڑے گروہوں میں تقسیم کيے جائیں گے اور اس کے مطابق جہنم کے سات طبقات میں سے کسی ایک طبقہ میں جگہ پائیں گے۔

44

لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَٰبٍۢ لِّكُلِّ بَابٍۢ مِّنْهُمْ جُزْءٌۭ مَّقْسُومٌ

اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں

صراطِ مستقیم کی تشریح مجاہد اور حسن اور قتادہ سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد حق کا راستہ ہے جو اللہ کی طرف نکلتاہے اور اسی پر ختم ہوتاہے (طَرِيقُ الْحَقِّ مَرْجِعُهَا إِلَى اللهِ تَعَالَى، وَإِلَيْهِ تَنْتَهِي) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 535 ۔ اگر آدمی شرک کی راہِ چلے تو وہ راہ خدا تک نہیں پہنچے گی بلکہ شریکوں تک پہنچے گی۔ وہ اگر سرکشی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کی منزل آدمی کا اپنا وجود ہوگا،نہ کہ خدا۔ اگر وہ بے قید ہو کر زندگی گزارے تو وہ مختلف سمتوںمیں بھٹکے گا۔ اس کا سفر خدا پر منتہیٰ نہیں ہوسکتا۔

مگر جب آدمی صرف خداکو اپنا مرکز توجہ بناتاہے اوراسی کو سب کچھ سمجھ کر اپنی زندگی کو خدا کے رخ پر چلاتا ہے تو بالکل قدرتی بات ہے کہ اس کا سفر خدا کی طرف جاری ہو اور بالآخر وہ خدا تک پہنچ جائے۔ خدا قادر ہے اور انسان عاجز۔ اس لیے خدا اور بندے کے درمیان ایک ہی صحیح نسبت ہے اور وہ عبدیت کی نسبت ہے۔ عبدیت کی روش اختیار کرنا خداکے ساتھ اپنی صحیح ترین نسبت کو پالینا ہے ۔ جس شخص کی نسبت خدا کے ساتھ قائم ہوجائے اس پر شیطان کا ز ور نہیں چلتا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ اپنی نسبت قائم نہ کی، اس کی نسبت شیطان کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے۔ پھر وہ شیطان کے مشوروں پر چلنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پہنچ جاتاہے جہاں بالآخر شیطان کو پہنچنا ہے۔

جہنم جو شیطان اور اس کے ساتھیوں کا آخری ٹھکانا ہے،اس کے سات درجے ہیں۔ (قَالَ عِكْرمة ’’سَبْعَةُ أَبْوَابٍ‘‘ سَبْعَةُ أَطْبَاقٍ) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 536 ۔ جہنمی لوگ اپنے اعمال کے فرق کے لحاظ سے سات بڑے گروہوں میں تقسیم کيے جائیں گے اور اس کے مطابق جہنم کے سات طبقات میں سے کسی ایک طبقہ میں جگہ پائیں گے۔

45

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍ

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

جنت کی زندگی بے خوف زندگی ہوگی۔ اس کے مستحق وہ لوگ قرار پائیںگے جنھوں نے دنیا میں خدا کا خوف کیا۔ دنیا میں خدا کا خوف آخرت کی بے خوفی کی قیمت ہے۔

آپس کی رنجشیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک سرکشی کی وجہ سے، دوسری غلط فہمی کی وجہ سے۔ سرکشی کی بنا پر رنجش اور عناد پیدا ہونا سب سے بڑی اجتماعی برائی ہے۔ اہل ایمان کو اسے دنیا ہی میں ختم کرلینا ہے۔ جو لوگ اس کو دنیا میں ختم نہ کریں وہ آخرت میں جہنم کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

دوسری رنجش وہ ہے جو غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ کبھی ختم ہوجاتی ہے اور کبھی طرفین کے اخلاص کے باوجود آخر وقت تک باقی رہتی ہے۔ یہ دوسری قسم کی رنجش آخرت میں مکمل طورپر ختم ہوجائے گی۔ کیوں کہ آخرت حقیقتوں کے کامل ظہور کی دنیا ہے۔ جب تمام حقیقتیں بے نقاب ہو کر سامنے آجائیں گی تو ایک مخلص آدمی کے لیے کوئی وجہ باقی نہ رہے گی کہ وہ کیوں اپنے بھائی کے خلاف خواہ مخواہ رنجش رکھے۔

جنت کی زندگی اتنی لطیف اور نفیس زندگی ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم موجودہ دنیا کی لذتیں اور خوشیاں آنے والی لذتوں اور خوشیوں کی دنیا کا ایک ابتدائی تعارف ہیں۔ ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جس جنت کا تعارف اتنا لذیذ ہو وہ خود کتنی زیادہ لذیذ ہوگی۔

موجودہ دنیا میں کوئی شخص بالفرض ہر قسم کی لذتیں جمع کرلے تب بھی طرح طرح کی ناخوشگواریاں اس کی ہر لذت کو بے معنی بنا دیتی ہیں۔ مگر جنت ایک ایسی جگہ ہے جس کی لذّتیں ہر قسم کی ناخوش گواریوں سے پاک ہوں گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ اہلِ جنت سے کہا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ صحت مند رہو گے اور کبھی بیمار نہ ہوگے ۔ اب تم ہمیشہ جیوگے اور کبھی نہ مروگے۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گے اور کبھی بوڑھے نہ ہوگے۔ اب تم ہمیشہ یہاں رہو گے تم کو یہاں سے کبھی جانا نہ ہوگا (يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَمْرَضُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أبدا، وإن لكم أَنْ تُقِيمُوا فَلَا تَظْعَنُوا أَبَدًا) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 539

46

ٱدْخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع سے) داخل ہوجاؤ

جنت کی زندگی بے خوف زندگی ہوگی۔ اس کے مستحق وہ لوگ قرار پائیںگے جنھوں نے دنیا میں خدا کا خوف کیا۔ دنیا میں خدا کا خوف آخرت کی بے خوفی کی قیمت ہے۔

آپس کی رنجشیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک سرکشی کی وجہ سے، دوسری غلط فہمی کی وجہ سے۔ سرکشی کی بنا پر رنجش اور عناد پیدا ہونا سب سے بڑی اجتماعی برائی ہے۔ اہل ایمان کو اسے دنیا ہی میں ختم کرلینا ہے۔ جو لوگ اس کو دنیا میں ختم نہ کریں وہ آخرت میں جہنم کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

دوسری رنجش وہ ہے جو غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ کبھی ختم ہوجاتی ہے اور کبھی طرفین کے اخلاص کے باوجود آخر وقت تک باقی رہتی ہے۔ یہ دوسری قسم کی رنجش آخرت میں مکمل طورپر ختم ہوجائے گی۔ کیوں کہ آخرت حقیقتوں کے کامل ظہور کی دنیا ہے۔ جب تمام حقیقتیں بے نقاب ہو کر سامنے آجائیں گی تو ایک مخلص آدمی کے لیے کوئی وجہ باقی نہ رہے گی کہ وہ کیوں اپنے بھائی کے خلاف خواہ مخواہ رنجش رکھے۔

جنت کی زندگی اتنی لطیف اور نفیس زندگی ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم موجودہ دنیا کی لذتیں اور خوشیاں آنے والی لذتوں اور خوشیوں کی دنیا کا ایک ابتدائی تعارف ہیں۔ ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جس جنت کا تعارف اتنا لذیذ ہو وہ خود کتنی زیادہ لذیذ ہوگی۔

موجودہ دنیا میں کوئی شخص بالفرض ہر قسم کی لذتیں جمع کرلے تب بھی طرح طرح کی ناخوشگواریاں اس کی ہر لذت کو بے معنی بنا دیتی ہیں۔ مگر جنت ایک ایسی جگہ ہے جس کی لذّتیں ہر قسم کی ناخوش گواریوں سے پاک ہوں گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ اہلِ جنت سے کہا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ صحت مند رہو گے اور کبھی بیمار نہ ہوگے ۔ اب تم ہمیشہ جیوگے اور کبھی نہ مروگے۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گے اور کبھی بوڑھے نہ ہوگے۔ اب تم ہمیشہ یہاں رہو گے تم کو یہاں سے کبھی جانا نہ ہوگا (يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَمْرَضُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أبدا، وإن لكم أَنْ تُقِيمُوا فَلَا تَظْعَنُوا أَبَدًا) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 539

47

وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٍۢ مُّتَقَٰبِلِينَ

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ان کو ہم نکال کر (صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں

جنت کی زندگی بے خوف زندگی ہوگی۔ اس کے مستحق وہ لوگ قرار پائیںگے جنھوں نے دنیا میں خدا کا خوف کیا۔ دنیا میں خدا کا خوف آخرت کی بے خوفی کی قیمت ہے۔

آپس کی رنجشیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک سرکشی کی وجہ سے، دوسری غلط فہمی کی وجہ سے۔ سرکشی کی بنا پر رنجش اور عناد پیدا ہونا سب سے بڑی اجتماعی برائی ہے۔ اہل ایمان کو اسے دنیا ہی میں ختم کرلینا ہے۔ جو لوگ اس کو دنیا میں ختم نہ کریں وہ آخرت میں جہنم کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

دوسری رنجش وہ ہے جو غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ کبھی ختم ہوجاتی ہے اور کبھی طرفین کے اخلاص کے باوجود آخر وقت تک باقی رہتی ہے۔ یہ دوسری قسم کی رنجش آخرت میں مکمل طورپر ختم ہوجائے گی۔ کیوں کہ آخرت حقیقتوں کے کامل ظہور کی دنیا ہے۔ جب تمام حقیقتیں بے نقاب ہو کر سامنے آجائیں گی تو ایک مخلص آدمی کے لیے کوئی وجہ باقی نہ رہے گی کہ وہ کیوں اپنے بھائی کے خلاف خواہ مخواہ رنجش رکھے۔

جنت کی زندگی اتنی لطیف اور نفیس زندگی ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم موجودہ دنیا کی لذتیں اور خوشیاں آنے والی لذتوں اور خوشیوں کی دنیا کا ایک ابتدائی تعارف ہیں۔ ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جس جنت کا تعارف اتنا لذیذ ہو وہ خود کتنی زیادہ لذیذ ہوگی۔

موجودہ دنیا میں کوئی شخص بالفرض ہر قسم کی لذتیں جمع کرلے تب بھی طرح طرح کی ناخوشگواریاں اس کی ہر لذت کو بے معنی بنا دیتی ہیں۔ مگر جنت ایک ایسی جگہ ہے جس کی لذّتیں ہر قسم کی ناخوش گواریوں سے پاک ہوں گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ اہلِ جنت سے کہا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ صحت مند رہو گے اور کبھی بیمار نہ ہوگے ۔ اب تم ہمیشہ جیوگے اور کبھی نہ مروگے۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گے اور کبھی بوڑھے نہ ہوگے۔ اب تم ہمیشہ یہاں رہو گے تم کو یہاں سے کبھی جانا نہ ہوگا (يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَمْرَضُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أبدا، وإن لكم أَنْ تُقِيمُوا فَلَا تَظْعَنُوا أَبَدًا) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 539

48

لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌۭ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے

جنت کی زندگی بے خوف زندگی ہوگی۔ اس کے مستحق وہ لوگ قرار پائیںگے جنھوں نے دنیا میں خدا کا خوف کیا۔ دنیا میں خدا کا خوف آخرت کی بے خوفی کی قیمت ہے۔

آپس کی رنجشیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک سرکشی کی وجہ سے، دوسری غلط فہمی کی وجہ سے۔ سرکشی کی بنا پر رنجش اور عناد پیدا ہونا سب سے بڑی اجتماعی برائی ہے۔ اہل ایمان کو اسے دنیا ہی میں ختم کرلینا ہے۔ جو لوگ اس کو دنیا میں ختم نہ کریں وہ آخرت میں جہنم کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

دوسری رنجش وہ ہے جو غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ کبھی ختم ہوجاتی ہے اور کبھی طرفین کے اخلاص کے باوجود آخر وقت تک باقی رہتی ہے۔ یہ دوسری قسم کی رنجش آخرت میں مکمل طورپر ختم ہوجائے گی۔ کیوں کہ آخرت حقیقتوں کے کامل ظہور کی دنیا ہے۔ جب تمام حقیقتیں بے نقاب ہو کر سامنے آجائیں گی تو ایک مخلص آدمی کے لیے کوئی وجہ باقی نہ رہے گی کہ وہ کیوں اپنے بھائی کے خلاف خواہ مخواہ رنجش رکھے۔

جنت کی زندگی اتنی لطیف اور نفیس زندگی ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم موجودہ دنیا کی لذتیں اور خوشیاں آنے والی لذتوں اور خوشیوں کی دنیا کا ایک ابتدائی تعارف ہیں۔ ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جس جنت کا تعارف اتنا لذیذ ہو وہ خود کتنی زیادہ لذیذ ہوگی۔

موجودہ دنیا میں کوئی شخص بالفرض ہر قسم کی لذتیں جمع کرلے تب بھی طرح طرح کی ناخوشگواریاں اس کی ہر لذت کو بے معنی بنا دیتی ہیں۔ مگر جنت ایک ایسی جگہ ہے جس کی لذّتیں ہر قسم کی ناخوش گواریوں سے پاک ہوں گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ اہلِ جنت سے کہا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ صحت مند رہو گے اور کبھی بیمار نہ ہوگے ۔ اب تم ہمیشہ جیوگے اور کبھی نہ مروگے۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گے اور کبھی بوڑھے نہ ہوگے۔ اب تم ہمیشہ یہاں رہو گے تم کو یہاں سے کبھی جانا نہ ہوگا (يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَمْرَضُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أبدا، وإن لكم أَنْ تُقِيمُوا فَلَا تَظْعَنُوا أَبَدًا) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 539

49

۞ نَبِّئْ عِبَادِىٓ أَنِّىٓ أَنَا ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

(اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں

جنت کی زندگی بے خوف زندگی ہوگی۔ اس کے مستحق وہ لوگ قرار پائیںگے جنھوں نے دنیا میں خدا کا خوف کیا۔ دنیا میں خدا کا خوف آخرت کی بے خوفی کی قیمت ہے۔

آپس کی رنجشیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک سرکشی کی وجہ سے، دوسری غلط فہمی کی وجہ سے۔ سرکشی کی بنا پر رنجش اور عناد پیدا ہونا سب سے بڑی اجتماعی برائی ہے۔ اہل ایمان کو اسے دنیا ہی میں ختم کرلینا ہے۔ جو لوگ اس کو دنیا میں ختم نہ کریں وہ آخرت میں جہنم کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

دوسری رنجش وہ ہے جو غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ کبھی ختم ہوجاتی ہے اور کبھی طرفین کے اخلاص کے باوجود آخر وقت تک باقی رہتی ہے۔ یہ دوسری قسم کی رنجش آخرت میں مکمل طورپر ختم ہوجائے گی۔ کیوں کہ آخرت حقیقتوں کے کامل ظہور کی دنیا ہے۔ جب تمام حقیقتیں بے نقاب ہو کر سامنے آجائیں گی تو ایک مخلص آدمی کے لیے کوئی وجہ باقی نہ رہے گی کہ وہ کیوں اپنے بھائی کے خلاف خواہ مخواہ رنجش رکھے۔

جنت کی زندگی اتنی لطیف اور نفیس زندگی ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم موجودہ دنیا کی لذتیں اور خوشیاں آنے والی لذتوں اور خوشیوں کی دنیا کا ایک ابتدائی تعارف ہیں۔ ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جس جنت کا تعارف اتنا لذیذ ہو وہ خود کتنی زیادہ لذیذ ہوگی۔

موجودہ دنیا میں کوئی شخص بالفرض ہر قسم کی لذتیں جمع کرلے تب بھی طرح طرح کی ناخوشگواریاں اس کی ہر لذت کو بے معنی بنا دیتی ہیں۔ مگر جنت ایک ایسی جگہ ہے جس کی لذّتیں ہر قسم کی ناخوش گواریوں سے پاک ہوں گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ اہلِ جنت سے کہا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ صحت مند رہو گے اور کبھی بیمار نہ ہوگے ۔ اب تم ہمیشہ جیوگے اور کبھی نہ مروگے۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گے اور کبھی بوڑھے نہ ہوگے۔ اب تم ہمیشہ یہاں رہو گے تم کو یہاں سے کبھی جانا نہ ہوگا (يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَمْرَضُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أبدا، وإن لكم أَنْ تُقِيمُوا فَلَا تَظْعَنُوا أَبَدًا) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 539

50

وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ

اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے

جنت کی زندگی بے خوف زندگی ہوگی۔ اس کے مستحق وہ لوگ قرار پائیںگے جنھوں نے دنیا میں خدا کا خوف کیا۔ دنیا میں خدا کا خوف آخرت کی بے خوفی کی قیمت ہے۔

آپس کی رنجشیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک سرکشی کی وجہ سے، دوسری غلط فہمی کی وجہ سے۔ سرکشی کی بنا پر رنجش اور عناد پیدا ہونا سب سے بڑی اجتماعی برائی ہے۔ اہل ایمان کو اسے دنیا ہی میں ختم کرلینا ہے۔ جو لوگ اس کو دنیا میں ختم نہ کریں وہ آخرت میں جہنم کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

دوسری رنجش وہ ہے جو غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ کبھی ختم ہوجاتی ہے اور کبھی طرفین کے اخلاص کے باوجود آخر وقت تک باقی رہتی ہے۔ یہ دوسری قسم کی رنجش آخرت میں مکمل طورپر ختم ہوجائے گی۔ کیوں کہ آخرت حقیقتوں کے کامل ظہور کی دنیا ہے۔ جب تمام حقیقتیں بے نقاب ہو کر سامنے آجائیں گی تو ایک مخلص آدمی کے لیے کوئی وجہ باقی نہ رہے گی کہ وہ کیوں اپنے بھائی کے خلاف خواہ مخواہ رنجش رکھے۔

جنت کی زندگی اتنی لطیف اور نفیس زندگی ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم موجودہ دنیا کی لذتیں اور خوشیاں آنے والی لذتوں اور خوشیوں کی دنیا کا ایک ابتدائی تعارف ہیں۔ ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جس جنت کا تعارف اتنا لذیذ ہو وہ خود کتنی زیادہ لذیذ ہوگی۔

موجودہ دنیا میں کوئی شخص بالفرض ہر قسم کی لذتیں جمع کرلے تب بھی طرح طرح کی ناخوشگواریاں اس کی ہر لذت کو بے معنی بنا دیتی ہیں۔ مگر جنت ایک ایسی جگہ ہے جس کی لذّتیں ہر قسم کی ناخوش گواریوں سے پاک ہوں گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ اہلِ جنت سے کہا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ صحت مند رہو گے اور کبھی بیمار نہ ہوگے ۔ اب تم ہمیشہ جیوگے اور کبھی نہ مروگے۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گے اور کبھی بوڑھے نہ ہوگے۔ اب تم ہمیشہ یہاں رہو گے تم کو یہاں سے کبھی جانا نہ ہوگا (يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَمْرَضُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أبدا، وإن لكم أَنْ تُقِيمُوا فَلَا تَظْعَنُوا أَبَدًا) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 539

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.