Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 41–50 of 99

41

قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيمٌ

(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا رستہ ہے

[٢٢] وہ سیدھا راستہ جو اللہ تک پہنچتا ہے یہ ہے کہ انسان خالصتاً اسی کی عبادت کرے اور اسی پر توکل کرے اور ایمان لانے کے بعد کماحقہ اس کے تقاضوں کو پورا کرے اور اپنے ایمان میں مستقل اور ثابت قدم رہے۔ ایسے لوگ جو اس راہ پر چلتے جائیں کبھی شیطان کے پھندے میں نہیں آسکتے۔

42

إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے

[٢٣] شیطان کو کس حد تک اختیار دیا گیا ہے ؟:۔ شیطان کو صرف اتنا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دھوکے سے، فریب سے، جھوٹ بول کر، وسوسے ڈال کر، دنیا کے فوائد میں الجھا کر، غلط قسم کی توقعات اور وعدے دے کر انسان کو گمراہ کرسکتا ہے تو کرے مگر اسے یہ اختیار قطعاً نہیں دیا گیا کہ وہ کسی کو زبردستی کھینچ کر اللہ کی راہ سے ہٹا کر اپنی راہ پر ڈال دے۔ جیسا کہ پہلے سورة ابراہیم کی آیت نمبر ٢٢ میں گزر چکا ہے کہ شیطان خود اہل دوزخ کے سامنے اس بات کا اعتراف کرے گا کہ میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا اور تمہیں اپنی طرف بلایا جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہ تھی پھر بھی تم نے میری دعوت کو تسلیم کرلیا۔ حالانکہ میرا تم پر کچھ زور نہ تھا لہذا آج مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی عقلوں کا ماتم کرو۔

43

وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ

اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے

Explained together with ayah 42

44

لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَٰبٍۢ لِّكُلِّ بَابٍۢ مِّنْهُمْ جُزْءٌۭ مَّقْسُومٌ

اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں

[٢٤] جہنم کے دروازے طبقے اور ان کے نام :۔ تقسیم شدہ حصہ سے مراد یہ ہے کہ ایک ہی گناہ کے مجرم الگ کردیئے جائیں گے اور وہ سب ایک ہی دروازہ سے داخل ہوں گے۔ جیسے دہریے ایک دروازے سے، مشرک الگ دروازہ سے، منافق الگ دروازے سے وغیرہ وغیرہ۔ بالفاظ دیگر جہنم کے ہر طبقہ کے لیے الگ الگ دروازہ ہوگا اور یہ طبقات بھی سات ہی ہوں گے۔ ابن عباس (رض) کے نزدیک ان کے نام یہ ہیں۔ جہنم، سعیر، لظیٰ ، حطمہ، سقر جحیم اور ہاویہ اور جہنم کا لفظ ان سب طبقات کے لیے عام بھی ہے اور پہلے طبقہ کا نام بھی ہے۔ اور بعض لوگوں نے ان طبقات کے لیے گنہگاروں کی یوں تقسیم کی ہے۔ پہلے طبقہ جہنم میں گنہگار مسلمان۔ دوسرے طبقہ سعیر میں یہود، تیسرے طبقہ لظیٰ میں نصاریٰ ، چوتھے طبقے حطمہ میں صائبین، پانچویں طبقہ سقر میں مجوس، چھٹے طبقہ میں مشرک اور ساتویں طبقہ میں منافق جو سب سے نچلا طبقہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ واضح رہے کہ جہنم کے تو سات دروازے ہیں جبکہ جنت کے دروازے آٹھ ہیں۔

45

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍ

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

Explained together with ayah 44

46

ٱدْخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع سے) داخل ہوجاؤ

Explained together with ayah 44

47

وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٍۢ مُّتَقَٰبِلِينَ

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ان کو ہم نکال کر (صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں

[٢٥] جنت میں داخلہ سے پہلے دلوں کی صفائی :۔ دنیا کی زندگی میں نیک لوگوں کے درمیان بعض غلط فہمیوں کی بنا پر کچھ رنجش اور ناراضگی دلوں میں رہ بھی گئی ہوگی تو جنت میں داخل ہونے سے پہلے پہلے ایسی سب چیزیں اللہ تعالیٰ دلوں سے نکال دے گا اور وہ بھائی بھائی بن کر جنت میں داخل ہوں گے۔ پچھلی سب باتیں دلوں سے محو کردی جائیں گی۔ سیدنا علی نے یہی آیت پڑھ کر فرمایا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ میرے عثمان طلحہ اور زبیر کے درمیان بھی صفائی کرا دے گا۔ واضح رہے کہ یہ چاروں صحابہ کرام (رض) ان چھ رکنی کمیٹی کے ممبر تھے جو سیدنا عمر نے اپنے وفات سے پیشتر نئے خلیفہ کے انتخاب کے سلسلہ میں تشکیل دی تھی اور یہ رنجش بعض غلط فہمیوں کی بنا پر پیدا ہوگئی تھی۔- اور بعض لوگوں نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ جنت میں اہل جنت کے درجات مختلف ہوں گے۔ کوئی اعلیٰ درجہ کی جنت کا مستحق ہوگا اور کوئی نچلے درجہ والی جنت کا۔ تو داخلہ سے پہلے ہر ایک کے دل سے رشک اور رنجش وغیرہ نکال دی جائے گی ہر جنتی اپنے اپنے درجہ پر قانع اور مطمئن ہوگا۔

48

لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌۭ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے

[٢٦] یعنی دنیوی زندگی کی طرح اپنا پیٹ پالنے کے لیے وہاں کچھ محنت و مشقت نہیں کرنی پڑے گی۔ ہر مطلوبہ چیز طلب کرنے پر فوراً حاضر کردی جائے گی۔ انھیں ان چیزوں کے حصول کے لیے نقل مکانی کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اور ان کے لیے یہ سب نعمتیں دائمی ہوں گی اور ان کی زندگی بھی دائمی زندگی ہوگی۔

49

۞ نَبِّئْ عِبَادِىٓ أَنِّىٓ أَنَا ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

(اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں

Explained together with ayah 48

50

وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ

اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے

[٢٧] اللہ تعالیٰ سے امید بھی اور خوف بھی :۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا اکٹھا ذکر کردیا۔ تاکہ لوگ نہ تو اللہ تعالیٰ کی بخشش پر ہی تکیہ کرکے بےخوف ہوجائیں اور گناہ کے کاموں پر دلیر ہوجائیں اور نہ ہی اللہ سے اتنا زیادہ ڈرنے لگیں کہ اس کی رحمت سے مایوس ہوجائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کے بعد بھی اپنے نیک اعمال پر تکیہ کرکے بےخوف نہ ہوجانا چاہیے بلکہ اپنی بعض تقصیرات کی وجہ سے اس سے ڈرتے بھی رہنا چاہیے انہی دو صفات کا اکٹھا ذکر اللہ تعالیٰ نے اور بھی بہت سے مقامات پر فرمایا ہے مثلاً مومنوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی۔ (يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا 16؀) 32 ۔ السجدة :16) اور فرمایا (وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۭاِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ 56؀) 7 ۔ الاعراف :56) تاہم اللہ کی رحمت کا پہلو ہی راجح ہونا چاہیے کیونکہ اس کے ساتھ ہی فرما دیا کہ (وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۭاِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ 56؀) 7 ۔ الاعراف :56)

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.