Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi

Ayahs 41–50 of 99

41

قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيمٌ

(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا رستہ ہے

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :23

ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک معنی وہ ہیں جو ہم نے ترجمہ میں بیان کیے ہیں اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ ھٰذَا طَرِیْقٌ حَقٌّ عَلَیَّ اَنْ اُرَاعِیْہ ، یعنی یہ بات درست ہے ، میں بھی اس کا پابند رہوں گا ۔

42

إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :24

”اس فقرے کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک وہ جو ترجمے میں اختیار کیا گیا ہے ۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ میرے بندوں ( یعنی عام انسانوں ) پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا کہ تو انہیں زبردستی نافرمان بنا دے ، البتہ جو خود ہی بہکے ہوئے ہوں اور آپ ہی تیری پیروی کرنا چاہیں انہیں تیری راہ پر جانے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا ، انہیں ہم زبردستی اس سے باز رکھنے کی کوشش نہ کریں گے ۔

پہلے معنی کے لحاظ سے مضمون کا خلاصہ یہ ہوگا کہ بندگی کا طریقہ اللہ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے ، جو لوگ اس راستے کو اختیار کرلیں گے ان پر شیطان کا بس نہ چلے گا ، انہیں اللہ اپنے لیے خالص فرما لے گا اور شیطان خود بھی اقراری ہے کہ وہ اس کے پھندے میں نہ پھسیں گے ۔ البتہ جو لوگ خود بندگی سے منحرف ہو کر اپنی فلاح و سعادت کی راہ گم کر دیں گے وہ ابلیس کے ہتھے چڑھ جائیں گے اور پھر جدھر جدھر وہ انہیں فریب دے کر لے جانا چاہے گا ، وہ اس کے پیچھے بھٹکتے اور دور سے دور تر نکلتے چلے جائیں گے ۔

دوسرے معنی کے لحاظ سے اس بیان کا خلاصہ یہ ہوگا: شیطان نے انسانوں کو بہکانے کے لیے اپنا طریق کار یہ بیان کیا کہ وہ زمین کی زندگی کو اس کے لیے خوشنما بنا کر انہیں خدا سے غافل اور بندگی کی راہ سے منحرف کرے گا ۔ اللہ تعالی نے اس کی توثیق کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شرط میں نے مانی ، اور مزید توضیح کرتے ہوئے یہ بات بھی صاف کر دی کہ تجھے صرف فریب دینے کا اختیار دیا جا رہا ہے ، یہ اقتدار نہیں دیا جا رہا کہ تو ہاتھ پکڑ کر انہیں زبردستی اپنی راہ پر کھینچ لے جائے ۔ شیطان نے اپنے نوٹس سے ان بندوں کو مستثنی کیا جنہیں اللہ اپنے لیے خالص فرما لے ۔ اس سے یہ غلط فہمی مترشح ہو رہی تھی کہ شاید اللہ تعالی بغیر کسی معقول وجہ کے یونہی جس کو چاہے گا خالص کر لے گا اور وہ شیطان کی دست رس سے بچ جائے گا ۔ اللہ تعالی نے یہ کہہ کر بات صاف کر دی کہ جو خود بہکا ہوا ہوگا وہی تیری پیروی کرے گا ۔ بالفاظ دیگر جو بہکا ہوا ہوگا وہ تیری پیروی نہ کرے گا اور وہی ہمارا وہ مخصوص بندہ ہوگا جسے ہم خالص اپنا کرلیں گے ۔

43

وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ

اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :25

“اس جگہ یہ قصہ جس غرض کے لیے بیان کیا گیا ہے اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاق و سباق کو واضح طور پر ذہن میں رکھا جائے ۔ پہلے اور دوسرے رکوع کے مضمون پر غور کرنے سے یہ بات صاف سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس سلسلہ بیان میں آدم و ابلیس کا یہ قصہ بیان کرنے سے مقصود کفار کو اس حقیقت پر متنبہ کرتا ہے کہ تم اپنے ازلی دشمن شیطان کے پھندے میں پھنس گئے ہو اور اس پستی میں گرے چلے جا رہے ہو جس میں وہ اپنے حسد کی بنا پر تمہیں گرانا چاہتا ہے ۔ اس کے برعکس یہ نبی تمہیں اس کے پھندے سے نکال کر اس بلندی کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہا ہے جو دراصل انسان ہونے کی حیثیت سے تمہارا فطری مقام ہے ۔ لیکن تم عجیب احمق لوگ ہو کہ اپنے دشمن کو دوست ، اور اپنے خیر خواہ کو دشمن سمجھ رہے ہو ۔

اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اسی قصہ سے ان پر واضح کی گئی ہے کہ تمہارے لیے راہ نجات صرف ایک ہی ہے ، اور وہ اللہ کی بندگی ہے ۔ اس راہ کو چھوڑ کر تم جس راہ پر بھی جاؤ گے وہ شیطان کی راہ ہے جو سیدھی جہنم کی طرف جاتی ہے ۔

تیسری بات جو اس قصے کے ذریعہ سے ان کو سمجھائی گئی ہے ، یہ ہے کہ اپنی اس غلطی کے ذمہ دار تم خود ہو ۔ شیطان کا کوئی کام اس سے زیادہ نہیں ہے کہ وہ ظاہر حیات دنیا سے تم کو دھوکا دے کر تمہیں بندگی کی راہ سے منحرف کر نے کی کوشش کرتا ہے ، اس سے دھوکا کھانا تمہارا اپنا فعل ہے جس کی کوئی ذمہ داری تمہارے اپنے سوا کسی اور پر نہیں ہے ۔

( اس کی مزید توضیح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ ابراہیم ، آیت ۲۲ و حاشیہ نمبر ۳۱ ) ۔

44

لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَٰبٍۢ لِّكُلِّ بَابٍۢ مِّنْهُمْ جُزْءٌۭ مَّقْسُومٌ

اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :26

جہنم کے یہ دروازے ان گمراہیوں اور معصیتوں کے لحاظ سے ہیں جن پر چل کر آدمی اپنے لیے دوزخ کی راہ کھولتا ہے ۔ مثلاً کوئی دہریت کے راستے سے دوزخ کی طرف جاتا ہے ، کوئی شرک کے راستہ سے ، کوئی نفاق کے راستہ سے ، کوئی نفس پرستی اور فسق و فجور کے راستہ سے ، کوئی ظلم و ستم اور خلق آزاری کے راستہ سے ، کوئی تبلیغ ضلالت اور اقامت کفر کے راستہ سے ، اور کوئی اشاعت فحشاء و منکر کے راستہ سے ۔

45

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍ

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :27

یعنی وہ لوگ جو شیطان کی پیروی سے بچے رہے ہوں اور جنہوں نے اللہ سے ڈرتے ہوئے عبدیت کی زندگی بسر کی ہو ۔

46

ٱدْخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع سے) داخل ہوجاؤ

Explained together with ayah 45

47

وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٍۢ مُّتَقَٰبِلِينَ

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ان کو ہم نکال کر (صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :28

یعنی نیک لوگوں کے درمیان آپس کی غلط فہمیوں کی بنا پر دنیا میں اگر کچھ کدورتیں پیدا ہوگئی ہوں گی تو جنت میں داخل ہونے کے وقت وہ دور ہو جائیں گی اور ان کے دل ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف کر دیے جائیں گے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف ۔ حاشیہ نمبر ۳۲ ) ۔

48

لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌۭ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :29

اس کی تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ یقال لا ھل الجنۃ ان لکم ان تصحوا ولا تمرضوا ابدًا ، و ان لکم ان تعیشو ا فلا تمو تو ا ابدا ، و ان لکم ان تشبّوا ولا تھرموا ابدًا ، و ان لکم ان تقیمو ا فلا تظعنو ا ابدًا ۔ یعنی” اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے ، کبھی بیمار نہ پڑو گے ۔ اور اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے ، کبھی موت تم کو نہ آئے گی ۔ اور اب تم ہمیشہ جوان رہو گے ، کبھی بڑھاپا تم پر نہ آئے گا ۔ اور اب تم ہمیشہ مقیم رہو گے ، کبھی کوچ کرنے کی تمہیں ضرورت نہ ہوگی“ ۔ اس کی مزید تشریح ان آیات و احادیث سے ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں انسان کو اپنی معاش اور اپنی ضروریات کی فراہمی کے لیے کوئی محنت نہ کرنی پڑے گی ، سب کچھ اسے بلا سعی و مشقت ملے گا ۔

49

۞ نَبِّئْ عِبَادِىٓ أَنِّىٓ أَنَا ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

(اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں

Explained together with ayah 48

50

وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ

اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے

Explained together with ayah 48

Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.