Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 31–40 of 99

31

إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰٓ أَن يَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ

مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا

Explained together with ayah 29

32

قَالَ يَٰٓإِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ

(خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا

Explained together with ayah 29

33

قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُۥ مِن صَلْصَٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ

(اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں

Explained together with ayah 29

34

قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌۭ

(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے

Explained together with ayah 29

35

وَإِنَّ عَلَيْكَ ٱللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ

اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)

اس آیت سے آیت (٣٩) تک کی مفصل تفسیر کے لیے سورة اعراف ( ١١ تا ١٨) اور سورة بقرہ ( ٣٠ تا ٣٤) تک کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔ - وَّاِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ : اس کا ترجمہ ” خاص لعنت “ الف لام کی و جہ سے کیا گیا ہے اور اس کی وضاحت سورة ص (٧٨) میں آئی ہے، فرمایا : (وَّاِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِی) یعنی تجھ پر میری لعنت ہے۔

36

قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

(اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے

Explained together with ayah 35

37

قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ

فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے

Explained together with ayah 35

38

إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْوَقْتِ ٱلْمَعْلُومِ

وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک

Explained together with ayah 35

39

قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ

(اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا

لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ : میں ان کے لیے زمین میں مزین کروں گا، کیا چیز، آیت کے سیاق وسباق سے عبارت یہ بنتی ہے کہ میں ان کے لیے زمین میں بھی خواہش نفس اور اللہ کی نافرمانی کو مزین اور خوش نما بنا کر پیش کروں گا، جیسا کہ آسمان میں ان کو ممنوعہ پودے کا کھانا خوش نما بنا کر پیش کیا اور گمراہ کردیا تھا، فرمایا : (وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى) [ طہٰ : ١٢١ ] دوسرا معنی یہ ہے کہ میں انھیں تمام زینت زمین ہی میں دکھاؤں گا کہ جو کچھ ہے یہیں ہے، تاکہ وہ نہ آخرت کی طرف توجہ کریں اور نہ اس کا یقین کریں، سو اس طرح میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا، جیسا کہ فرمایا : ( وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ) [ الأعراف : ١٧٦ ] ” اور لیکن وہ زمین ہی کی طرف چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا، سو اس کی مثال کتے کی سی ہے۔ “

40

إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ

ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ : یعنی تیرے وہ بندے جو خالص تیرے لیے چن لیے گئے اور جنھیں تو نے خاص اپنا بنا لیا میں انھیں گمراہ نہیں کرسکوں گا۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.