Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 31–40 of 99

31

إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰٓ أَن يَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ

مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا

ابلیس نے سجدہ نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہ بتائی کہ انسان میرے مقابلہ میں کم تر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ خود ابلیس کا اپنا احساس کمتری تھا۔ وہ یہ دیکھ کر جل اٹھا کہ میں پہلے سے کائنات میں ہوں اور مجھ کو یہ عزت نہیں ملی کہ تمام مخلوقات سے مجھے سجدہ کرایا جائے۔ اور انسان جو ابھی پیدا کیاگیاہے اس کو تمام مخلوقات سے سجدہ کرایا جارہا ہے۔ اس نے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ ’’انسان مجھ سے کم تر ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ کا مستحق دراصل میں تھا پھر غیر مستحق کی عزت افزائی کو میں کیوں کر تسلیم کروں۔

یہی گھمنڈ اور حسد تمام اجتماعی خرابیوں کی جڑ ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسے مواقع انسان کے سامنے بار بار آتے ہیں۔ جو شخص ایسے موقع پر جلن کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو اس نے فرشتوں کی پیروی کی اور جو شخص جلن کا شکار ہو جائے وہ گویا شیطان کا پیرو بنا۔

32

قَالَ يَٰٓإِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ

(خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا

ابلیس نے سجدہ نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہ بتائی کہ انسان میرے مقابلہ میں کم تر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ خود ابلیس کا اپنا احساس کمتری تھا۔ وہ یہ دیکھ کر جل اٹھا کہ میں پہلے سے کائنات میں ہوں اور مجھ کو یہ عزت نہیں ملی کہ تمام مخلوقات سے مجھے سجدہ کرایا جائے۔ اور انسان جو ابھی پیدا کیاگیاہے اس کو تمام مخلوقات سے سجدہ کرایا جارہا ہے۔ اس نے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ ’’انسان مجھ سے کم تر ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ کا مستحق دراصل میں تھا پھر غیر مستحق کی عزت افزائی کو میں کیوں کر تسلیم کروں۔

یہی گھمنڈ اور حسد تمام اجتماعی خرابیوں کی جڑ ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسے مواقع انسان کے سامنے بار بار آتے ہیں۔ جو شخص ایسے موقع پر جلن کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو اس نے فرشتوں کی پیروی کی اور جو شخص جلن کا شکار ہو جائے وہ گویا شیطان کا پیرو بنا۔

33

قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُۥ مِن صَلْصَٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ

(اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں

ابلیس نے سجدہ نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہ بتائی کہ انسان میرے مقابلہ میں کم تر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ خود ابلیس کا اپنا احساس کمتری تھا۔ وہ یہ دیکھ کر جل اٹھا کہ میں پہلے سے کائنات میں ہوں اور مجھ کو یہ عزت نہیں ملی کہ تمام مخلوقات سے مجھے سجدہ کرایا جائے۔ اور انسان جو ابھی پیدا کیاگیاہے اس کو تمام مخلوقات سے سجدہ کرایا جارہا ہے۔ اس نے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ ’’انسان مجھ سے کم تر ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ کا مستحق دراصل میں تھا پھر غیر مستحق کی عزت افزائی کو میں کیوں کر تسلیم کروں۔

یہی گھمنڈ اور حسد تمام اجتماعی خرابیوں کی جڑ ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسے مواقع انسان کے سامنے بار بار آتے ہیں۔ جو شخص ایسے موقع پر جلن کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو اس نے فرشتوں کی پیروی کی اور جو شخص جلن کا شکار ہو جائے وہ گویا شیطان کا پیرو بنا۔

34

قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌۭ

(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے

انسان کی تخلیق کے بعد واقعات نے جو رخ اختیار کیا اس نے شیطان کو مستقل طورپر انسان کا دشمن بنا دیا۔ اب قیامت تک کے لیے آدمی شیطان کی زد میں ہے۔ انسان کے لیے سب سے زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ وہ شیطان کے فریب سے چوکنا رہے۔ موجودہ دنیا میں یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی کامیابی کا فیصلہ بھی ہورہا ہے اور اسی مقام پر اس کی ناکامی کا فیصلہ بھی۔

35

وَإِنَّ عَلَيْكَ ٱللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ

اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)

انسان کی تخلیق کے بعد واقعات نے جو رخ اختیار کیا اس نے شیطان کو مستقل طورپر انسان کا دشمن بنا دیا۔ اب قیامت تک کے لیے آدمی شیطان کی زد میں ہے۔ انسان کے لیے سب سے زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ وہ شیطان کے فریب سے چوکنا رہے۔ موجودہ دنیا میں یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی کامیابی کا فیصلہ بھی ہورہا ہے اور اسی مقام پر اس کی ناکامی کا فیصلہ بھی۔

36

قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

(اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے

انسان کی تخلیق کے بعد واقعات نے جو رخ اختیار کیا اس نے شیطان کو مستقل طورپر انسان کا دشمن بنا دیا۔ اب قیامت تک کے لیے آدمی شیطان کی زد میں ہے۔ انسان کے لیے سب سے زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ وہ شیطان کے فریب سے چوکنا رہے۔ موجودہ دنیا میں یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی کامیابی کا فیصلہ بھی ہورہا ہے اور اسی مقام پر اس کی ناکامی کا فیصلہ بھی۔

37

قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ

فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے

انسان کی تخلیق کے بعد واقعات نے جو رخ اختیار کیا اس نے شیطان کو مستقل طورپر انسان کا دشمن بنا دیا۔ اب قیامت تک کے لیے آدمی شیطان کی زد میں ہے۔ انسان کے لیے سب سے زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ وہ شیطان کے فریب سے چوکنا رہے۔ موجودہ دنیا میں یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی کامیابی کا فیصلہ بھی ہورہا ہے اور اسی مقام پر اس کی ناکامی کا فیصلہ بھی۔

38

إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْوَقْتِ ٱلْمَعْلُومِ

وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک

انسان کی تخلیق کے بعد واقعات نے جو رخ اختیار کیا اس نے شیطان کو مستقل طورپر انسان کا دشمن بنا دیا۔ اب قیامت تک کے لیے آدمی شیطان کی زد میں ہے۔ انسان کے لیے سب سے زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ وہ شیطان کے فریب سے چوکنا رہے۔ موجودہ دنیا میں یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی کامیابی کا فیصلہ بھی ہورہا ہے اور اسی مقام پر اس کی ناکامی کا فیصلہ بھی۔

39

قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ

(اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا

ابلیس کے سامنے ایک آزمائشی صورت حال آئی۔ اس میں وہ شکست کھاگیا ۔ اب اس کے لیے صحیح طریقہ یہ تھاکہ وہ اپنی ہار مان لے۔ مگر اس کے بجائے اس نے یہ کیا کہ خود خدا پر الزام دینے لگا کہ اس نے جو کچھ کیا مجھ کو گمراہ کرنے کی خاطر کیا۔ جس واقعہ سے اس کی اپنی کمزوری ثابت ہو رہی تھی اس کو اس نے چاہا کہ خداکے اوپر ڈال دے — اپنی شکست کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا اسی شیطانی اسوہ کی پیروی ہے۔

ابلیس نے انسان کو سجدہ نہ کرنے کا سبب یہ بتایا کہ انسان کو مٹی سے بنایا گیا ہے اور مجھ کو آگ سے۔ اس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ مٹی کے مقابلہ میں آگ کو فضیلت کیوںحاصل ہو۔ مگر ابلیس کے اپنے ذہنی خانہ میں خود ساختہ تصور کے تحت یہ ہوا کہ مٹی حقیر چیز بن گئی اور آگ افضل چیز۔ اسی کا نام تزئین ہے ۔ یہ ایک نفسیاتی چیز ہے، نہ کہ کوئی عقلی چیز۔ ابلیس نے اپنی غلطی ماننے کے بجائے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دوسروں سے بھی وہی غلطی کرائے۔ وہ خود جس نفسیاتی کمزوری کا شکار ہوا ہے، اسی نفسیاتی کمزوری میں تمام انسانوں کو مبتلا کردے۔

ابلیس نے کہا کہ تیرے منتخب بندوں کے علاوہ سب کو میں گمراہ کروں گا— یہ خدا کے منتخب بندے کون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے مقابلہ میں سیدھی راہ پر آچکے ہیں، یعنی عبدیت کی راہ۔ بالفاظ دیگر، خداکے مقابلہ میں اپنی حیثیت واقعی کے اعتراف کی راہ۔

40

إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ

ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)

ابلیس کے سامنے ایک آزمائشی صورت حال آئی۔ اس میں وہ شکست کھاگیا ۔ اب اس کے لیے صحیح طریقہ یہ تھاکہ وہ اپنی ہار مان لے۔ مگر اس کے بجائے اس نے یہ کیا کہ خود خدا پر الزام دینے لگا کہ اس نے جو کچھ کیا مجھ کو گمراہ کرنے کی خاطر کیا۔ جس واقعہ سے اس کی اپنی کمزوری ثابت ہو رہی تھی اس کو اس نے چاہا کہ خداکے اوپر ڈال دے — اپنی شکست کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا اسی شیطانی اسوہ کی پیروی ہے۔

ابلیس نے انسان کو سجدہ نہ کرنے کا سبب یہ بتایا کہ انسان کو مٹی سے بنایا گیا ہے اور مجھ کو آگ سے۔ اس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ مٹی کے مقابلہ میں آگ کو فضیلت کیوںحاصل ہو۔ مگر ابلیس کے اپنے ذہنی خانہ میں خود ساختہ تصور کے تحت یہ ہوا کہ مٹی حقیر چیز بن گئی اور آگ افضل چیز۔ اسی کا نام تزئین ہے ۔ یہ ایک نفسیاتی چیز ہے، نہ کہ کوئی عقلی چیز۔ ابلیس نے اپنی غلطی ماننے کے بجائے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دوسروں سے بھی وہی غلطی کرائے۔ وہ خود جس نفسیاتی کمزوری کا شکار ہوا ہے، اسی نفسیاتی کمزوری میں تمام انسانوں کو مبتلا کردے۔

ابلیس نے کہا کہ تیرے منتخب بندوں کے علاوہ سب کو میں گمراہ کروں گا— یہ خدا کے منتخب بندے کون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے مقابلہ میں سیدھی راہ پر آچکے ہیں، یعنی عبدیت کی راہ۔ بالفاظ دیگر، خداکے مقابلہ میں اپنی حیثیت واقعی کے اعتراف کی راہ۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.