Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 21–30 of 99

21

وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَآئِنُهُۥ وَمَا نُنَزِّلُهُۥٓ إِلَّا بِقَدَرٍۢ مَّعْلُومٍۢ

اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں

حد بندی کا اصول کائنا ت کی تمام چیزوں میں رائج ہے۔ ہوا ایک حد کے اندر چلتی ہے، حالانکہ خدا کبھی کبھی دکھاتا ہے کہ وہ آندھی بھی بن سکتی ہے۔ سورج ایک خاص فاصلہ پر ہے۔ اگر وہ اس سے اوپر چلا جائے تو زمین برف کی طرح جم جائے۔ سورج نیچے آجائے تو زمین جلتی ہوئی بھٹی بن جائے۔ زمین کی کشش نہایت موزوں مقدار میں ہے۔ اگر زمین کی جسامت دگنا ہوتی تو اس کی کشش اتنی بڑھ جاتی کہ بوجھ کی وجہ سے آدمی کے لیے زمین پر چلنا مشکل ہوتا۔ اور اگر زمین کی جسامت موجودہ جسامت سے نصف کے بقدر کم ہوتی تو اس کی کشش اتنی گھٹ جاتی کہ آدمی اور اس کے مکانات ہلکے پن کی وجہ سے زمین پر ٹھہر نہ سکتے۔ یہی حال ان تمام چیزوں کا ہے جن کے درمیان انسان رہتا ہے۔ ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر ہے وہ نہ اس سے گھٹتاہے اور نہ اس سے بڑھتاہے۔

زمین پر انسان اور تمام جانداروں کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے۔ زیرِ زمین پانی کے ذخیروں سے لے کر فضائی بادلوں تک پانی کی فراہمی کا نظام اتنے عجیب اور اتنے عظیم پیمانے پر ہے جس کا قائم کرنا ہرگز انسان کے بس میں نہیں۔ اس عجیب اور عظیم انتظام کو خدا مسلسل عین انسانی ضرورت کے مطابق قائم کيے ہوئے ہے۔

انسان ایک بے حدنازک مخلوق ہے۔ اس کے ماحول میں کوئی فرق اس کی پوری ہستی کو تہ وبالا کردینے کے لیے کافی ہے۔ ایسی حالت میں بے شمار اجزاء کی ایک کائنات، لاتعداد امکانات کا حامل ہونے کے باوجود، عین اسی مخصوص امکانی انداز ے پر قائم ہے جو انسان جیسی ایک مخلوق کے لیے مناسب ہے۔ یہ اعتدال اور تناسب ہر گز اتفاقی نہیں ہوسکتا۔ یقیناً اس کا کوئی زبردست خالق اور ناظم ہے۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کو نہ مانے یا خدا کو مان کر اس کا شریک ٹھہرائے وہ صرف اپنے غیر معقول ہونے کا ثبوت دیتا ہے، نہ کہ عقیدۂ توحید کے غیر معقول ہونے کا۔

22

وَأَرْسَلْنَا ٱلرِّيَٰحَ لَوَٰقِحَ فَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَسْقَيْنَٰكُمُوهُ وَمَآ أَنتُمْ لَهُۥ بِخَٰزِنِينَ

اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی ہوتی ہیں اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کو اس کا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خرانہ نہیں رکھتے

حد بندی کا اصول کائنا ت کی تمام چیزوں میں رائج ہے۔ ہوا ایک حد کے اندر چلتی ہے، حالانکہ خدا کبھی کبھی دکھاتا ہے کہ وہ آندھی بھی بن سکتی ہے۔ سورج ایک خاص فاصلہ پر ہے۔ اگر وہ اس سے اوپر چلا جائے تو زمین برف کی طرح جم جائے۔ سورج نیچے آجائے تو زمین جلتی ہوئی بھٹی بن جائے۔ زمین کی کشش نہایت موزوں مقدار میں ہے۔ اگر زمین کی جسامت دگنا ہوتی تو اس کی کشش اتنی بڑھ جاتی کہ بوجھ کی وجہ سے آدمی کے لیے زمین پر چلنا مشکل ہوتا۔ اور اگر زمین کی جسامت موجودہ جسامت سے نصف کے بقدر کم ہوتی تو اس کی کشش اتنی گھٹ جاتی کہ آدمی اور اس کے مکانات ہلکے پن کی وجہ سے زمین پر ٹھہر نہ سکتے۔ یہی حال ان تمام چیزوں کا ہے جن کے درمیان انسان رہتا ہے۔ ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر ہے وہ نہ اس سے گھٹتاہے اور نہ اس سے بڑھتاہے۔

زمین پر انسان اور تمام جانداروں کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے۔ زیرِ زمین پانی کے ذخیروں سے لے کر فضائی بادلوں تک پانی کی فراہمی کا نظام اتنے عجیب اور اتنے عظیم پیمانے پر ہے جس کا قائم کرنا ہرگز انسان کے بس میں نہیں۔ اس عجیب اور عظیم انتظام کو خدا مسلسل عین انسانی ضرورت کے مطابق قائم کيے ہوئے ہے۔

انسان ایک بے حدنازک مخلوق ہے۔ اس کے ماحول میں کوئی فرق اس کی پوری ہستی کو تہ وبالا کردینے کے لیے کافی ہے۔ ایسی حالت میں بے شمار اجزاء کی ایک کائنات، لاتعداد امکانات کا حامل ہونے کے باوجود، عین اسی مخصوص امکانی انداز ے پر قائم ہے جو انسان جیسی ایک مخلوق کے لیے مناسب ہے۔ یہ اعتدال اور تناسب ہر گز اتفاقی نہیں ہوسکتا۔ یقیناً اس کا کوئی زبردست خالق اور ناظم ہے۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کو نہ مانے یا خدا کو مان کر اس کا شریک ٹھہرائے وہ صرف اپنے غیر معقول ہونے کا ثبوت دیتا ہے، نہ کہ عقیدۂ توحید کے غیر معقول ہونے کا۔

23

وَإِنَّا لَنَحْنُ نُحْىِۦ وَنُمِيتُ وَنَحْنُ ٱلْوَٰرِثُونَ

اور ہم ہی حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ اور ہم سب کے وارث (مالک) ہیں

دنیا میںانسان کو بسانا، پھر یہاں سے اس کو اٹھا لینا دونوں خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اگر یہ انسان کی مرضی سے ہوتا تو وہ کبھی یہاں نہ آسکتا اور آنے کے بعدکبھی یہاں سے واپس نہ جاتا۔ اسی سے یہ بھی ثابت ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے بھی زمین وآسمان خداکے تھے اور اس کے بعد بھی وہ خدا کے رہیں گے۔

زمین پر اَن گنت چیزیں ہیں۔ مگر ہر ایک کی ایک انفرادیت ہے۔ ہر چیز وہی خاص اور متعین کردار ادا کرتی ہے، جو اس کو ادا کرنا چاہیے۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ زمین کا خالق ایک ایک چیز کا انفرادی علم رکھتا ہے۔ وہ ہر چیز کو اس کے اپنے خصوصی وظیفہ میں لگائے ہوئے ہے۔ حتی کہ ایک آدمی کے ہاتھ کے انگوٹھے پر جو نشان ہوتا ہے، وہ بھی تمام دوسرے انسانوں سے بالکل مختلف ہوتاہے۔ ایک شخص کے انگوٹھے کا نشان پھر کبھی کسی دوسرے انسان کے ساتھ دہرایا نہیں جاتا۔

ایسے قادر اور باخبر خدا کے لیے اس میں کیا مشکل ہے کہ وہ ہر آدمی کا الگ الگ حساب لے اور ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے جس کا وہ فی الواقع مستحق ہے۔

24

وَلَقَدْ عَلِمْنَا ٱلْمُسْتَقْدِمِينَ مِنكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا ٱلْمُسْتَـْٔخِرِينَ

اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں

دنیا میںانسان کو بسانا، پھر یہاں سے اس کو اٹھا لینا دونوں خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اگر یہ انسان کی مرضی سے ہوتا تو وہ کبھی یہاں نہ آسکتا اور آنے کے بعدکبھی یہاں سے واپس نہ جاتا۔ اسی سے یہ بھی ثابت ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے بھی زمین وآسمان خداکے تھے اور اس کے بعد بھی وہ خدا کے رہیں گے۔

زمین پر اَن گنت چیزیں ہیں۔ مگر ہر ایک کی ایک انفرادیت ہے۔ ہر چیز وہی خاص اور متعین کردار ادا کرتی ہے، جو اس کو ادا کرنا چاہیے۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ زمین کا خالق ایک ایک چیز کا انفرادی علم رکھتا ہے۔ وہ ہر چیز کو اس کے اپنے خصوصی وظیفہ میں لگائے ہوئے ہے۔ حتی کہ ایک آدمی کے ہاتھ کے انگوٹھے پر جو نشان ہوتا ہے، وہ بھی تمام دوسرے انسانوں سے بالکل مختلف ہوتاہے۔ ایک شخص کے انگوٹھے کا نشان پھر کبھی کسی دوسرے انسان کے ساتھ دہرایا نہیں جاتا۔

ایسے قادر اور باخبر خدا کے لیے اس میں کیا مشکل ہے کہ وہ ہر آدمی کا الگ الگ حساب لے اور ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے جس کا وہ فی الواقع مستحق ہے۔

25

وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ ۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے

دنیا میںانسان کو بسانا، پھر یہاں سے اس کو اٹھا لینا دونوں خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اگر یہ انسان کی مرضی سے ہوتا تو وہ کبھی یہاں نہ آسکتا اور آنے کے بعدکبھی یہاں سے واپس نہ جاتا۔ اسی سے یہ بھی ثابت ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے بھی زمین وآسمان خداکے تھے اور اس کے بعد بھی وہ خدا کے رہیں گے۔

زمین پر اَن گنت چیزیں ہیں۔ مگر ہر ایک کی ایک انفرادیت ہے۔ ہر چیز وہی خاص اور متعین کردار ادا کرتی ہے، جو اس کو ادا کرنا چاہیے۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ زمین کا خالق ایک ایک چیز کا انفرادی علم رکھتا ہے۔ وہ ہر چیز کو اس کے اپنے خصوصی وظیفہ میں لگائے ہوئے ہے۔ حتی کہ ایک آدمی کے ہاتھ کے انگوٹھے پر جو نشان ہوتا ہے، وہ بھی تمام دوسرے انسانوں سے بالکل مختلف ہوتاہے۔ ایک شخص کے انگوٹھے کا نشان پھر کبھی کسی دوسرے انسان کے ساتھ دہرایا نہیں جاتا۔

ایسے قادر اور باخبر خدا کے لیے اس میں کیا مشکل ہے کہ وہ ہر آدمی کا الگ الگ حساب لے اور ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے جس کا وہ فی الواقع مستحق ہے۔

26

وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِن صَلْصَٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے

انسان کاوجود دو چیزوں سے مرکب ہے۔ ایک جسم اور دوسرے روح۔ جسم تمام تر ارضی مادوں سے بناہے۔ انسانی جسم کا تجزیہ بتاتا ہے کہ وہ انھیں اجزاء کی ترکیب سے بنا ہے جس کو عرف عام میں پانی اور مٹی کہتے ہیں۔ گویا جسم کے اعتبار سے انسان سراسر ایک بے حیات اور بے شعور وجود کا نام ہے۔ مگر جب خدا اس کے اندر اپنے پاس سے روح ڈال دے تو اچانک یہی جسم ایسی صلاحیتوں کا حامل بن جاتاہے جو معلوم کائنات میں کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں۔یہاں دوسری مخلوق وہ ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ جن انسان کے حریف ہیں۔ جن آگ کے شعلوں سے بنائے گئے ہیں۔ گویا کہ وہ عین اپنی پیدائش کے اعتبار سے جلانے والی مخلوق ہیں۔ جس طرح مٹی والی زمین اپنے آپ کو آگ والے سورج سے دور رکھتی ہے تاکہ وہ جل نہ جائے۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جنوں سے بچائے۔ ورنہ وہ اس کو اخلاقی اور دینی اعتبار سے جلا ڈالیں گے۔

27

وَٱلْجَآنَّ خَلَقْنَٰهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ ٱلسَّمُومِ

اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا

انسان کاوجود دو چیزوں سے مرکب ہے۔ ایک جسم اور دوسرے روح۔ جسم تمام تر ارضی مادوں سے بناہے۔ انسانی جسم کا تجزیہ بتاتا ہے کہ وہ انھیں اجزاء کی ترکیب سے بنا ہے جس کو عرف عام میں پانی اور مٹی کہتے ہیں۔ گویا جسم کے اعتبار سے انسان سراسر ایک بے حیات اور بے شعور وجود کا نام ہے۔ مگر جب خدا اس کے اندر اپنے پاس سے روح ڈال دے تو اچانک یہی جسم ایسی صلاحیتوں کا حامل بن جاتاہے جو معلوم کائنات میں کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں۔یہاں دوسری مخلوق وہ ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ جن انسان کے حریف ہیں۔ جن آگ کے شعلوں سے بنائے گئے ہیں۔ گویا کہ وہ عین اپنی پیدائش کے اعتبار سے جلانے والی مخلوق ہیں۔ جس طرح مٹی والی زمین اپنے آپ کو آگ والے سورج سے دور رکھتی ہے تاکہ وہ جل نہ جائے۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جنوں سے بچائے۔ ورنہ وہ اس کو اخلاقی اور دینی اعتبار سے جلا ڈالیں گے۔

28

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّى خَٰلِقٌۢ بَشَرًۭا مِّن صَلْصَٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں

ابلیس نے سجدہ نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہ بتائی کہ انسان میرے مقابلہ میں کم تر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ خود ابلیس کا اپنا احساس کمتری تھا۔ وہ یہ دیکھ کر جل اٹھا کہ میں پہلے سے کائنات میں ہوں اور مجھ کو یہ عزت نہیں ملی کہ تمام مخلوقات سے مجھے سجدہ کرایا جائے۔ اور انسان جو ابھی پیدا کیاگیاہے اس کو تمام مخلوقات سے سجدہ کرایا جارہا ہے۔ اس نے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ ’’انسان مجھ سے کم تر ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ کا مستحق دراصل میں تھا پھر غیر مستحق کی عزت افزائی کو میں کیوں کر تسلیم کروں۔

یہی گھمنڈ اور حسد تمام اجتماعی خرابیوں کی جڑ ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسے مواقع انسان کے سامنے بار بار آتے ہیں۔ جو شخص ایسے موقع پر جلن کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو اس نے فرشتوں کی پیروی کی اور جو شخص جلن کا شکار ہو جائے وہ گویا شیطان کا پیرو بنا۔

29

فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِى فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَٰجِدِينَ

جب اس کو (صورت انسانیہ میں) درست کر لوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا

ابلیس نے سجدہ نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہ بتائی کہ انسان میرے مقابلہ میں کم تر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ خود ابلیس کا اپنا احساس کمتری تھا۔ وہ یہ دیکھ کر جل اٹھا کہ میں پہلے سے کائنات میں ہوں اور مجھ کو یہ عزت نہیں ملی کہ تمام مخلوقات سے مجھے سجدہ کرایا جائے۔ اور انسان جو ابھی پیدا کیاگیاہے اس کو تمام مخلوقات سے سجدہ کرایا جارہا ہے۔ اس نے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ ’’انسان مجھ سے کم تر ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ کا مستحق دراصل میں تھا پھر غیر مستحق کی عزت افزائی کو میں کیوں کر تسلیم کروں۔

یہی گھمنڈ اور حسد تمام اجتماعی خرابیوں کی جڑ ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسے مواقع انسان کے سامنے بار بار آتے ہیں۔ جو شخص ایسے موقع پر جلن کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو اس نے فرشتوں کی پیروی کی اور جو شخص جلن کا شکار ہو جائے وہ گویا شیطان کا پیرو بنا۔

30

فَسَجَدَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ

تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گر پڑے

ابلیس نے سجدہ نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہ بتائی کہ انسان میرے مقابلہ میں کم تر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ خود ابلیس کا اپنا احساس کمتری تھا۔ وہ یہ دیکھ کر جل اٹھا کہ میں پہلے سے کائنات میں ہوں اور مجھ کو یہ عزت نہیں ملی کہ تمام مخلوقات سے مجھے سجدہ کرایا جائے۔ اور انسان جو ابھی پیدا کیاگیاہے اس کو تمام مخلوقات سے سجدہ کرایا جارہا ہے۔ اس نے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ ’’انسان مجھ سے کم تر ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ کا مستحق دراصل میں تھا پھر غیر مستحق کی عزت افزائی کو میں کیوں کر تسلیم کروں۔

یہی گھمنڈ اور حسد تمام اجتماعی خرابیوں کی جڑ ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسے مواقع انسان کے سامنے بار بار آتے ہیں۔ جو شخص ایسے موقع پر جلن کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو اس نے فرشتوں کی پیروی کی اور جو شخص جلن کا شکار ہو جائے وہ گویا شیطان کا پیرو بنا۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.