Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 21–30 of 99

21

وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَآئِنُهُۥ وَمَا نُنَزِّلُهُۥٓ إِلَّا بِقَدَرٍۢ مَّعْلُومٍۢ

اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں

[٢ ١] ضروریات زندگی کی مناسب مقدار میں فراہمی :۔ اللہ کے پاس ہر چیز کے خزانے موجود ہیں لہذا وہ چاہتا تو تمام انسانوں کو وافر رزق اور مال و دولت عطا کرسکتا تھا۔ مگر اس کی حکمت کا تقاضا ایسا نہیں کیونکہ ایک تو رزق کی فراوانی عموماً اللہ کو بھول جانے اور گمراہ ہوجانے کا سبب بن جاتی ہے۔ الاماشاء اللہ اور دوسرے اگر تمام لوگ ہی مالدار ہوتے اور محتاج کوئی بھی نہ ہوتا تو دنیا کا موجودہ نظام چل ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ اسی صورت میں چل سکتا ہے کہ ایک کو دوسرے کی احتیاج ہو۔ امیر کو غریب کی احتیاج ہو اور غریب کو امیر کی۔ پھر اس میں انسان کی آزمائش بھی ہے لہذا رزق کی کمی بیشی کا تمام تر معاملہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔- پھر یہ معاملہ صرف رزق تک محدود نہیں بلکہ اس میں ضروریات زندگی کی تمام اشیاء شامل ہیں۔ مثلاً ہوا، پانی، روشنی، حرارت، گرمی، سردی، ان میں سے کوئی بھی چیز اپنی مقرر حد سے بڑھ جائے یا کم ہوجائے تو انسان کی زندگی محال ہوجائے۔ گویا اللہ کے پاس خزانے تو ہر چیز کے ہیں مگر وہ انھیں اپنی حکمت اور طے شدہ مقدار کے مطابق ہی مہیا کرتا ہے۔ مثلاً پانی کی افراط بھی اگر طوفان کی صورت اختیار کرجائے تو وہ بھی انسان کی ہلاکت کا موجب ہے اور تفریط ہو تو وہ بھی۔ یہی حال دوسری ضروریات زندگی کا ہے۔

22

وَأَرْسَلْنَا ٱلرِّيَٰحَ لَوَٰقِحَ فَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَسْقَيْنَٰكُمُوهُ وَمَآ أَنتُمْ لَهُۥ بِخَٰزِنِينَ

اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی ہوتی ہیں اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کو اس کا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خرانہ نہیں رکھتے

[١٣] زندگی کے لئے پانی کی اہمیت :۔ پانی کا ذخیرہ یا تو زمین کے نیچے ہوتا ہے۔ وہ بھی اللہ کے قبضہ ئقدرت میں ہے۔ وہ چاہے تو پانی کی سطح کو بہت نیچے لے جائے اور انسان پانی حاصل ہی نہ کرسکے۔ یا بارش کی صورت میں نازل ہوتا ہے۔ وہ بھی خالصتاً اللہ کے قبضہ ئقدرت میں ہے۔ وہ چاہے تو کسی مقام پر سالہا سال بارش ہی نہ ہو یا پھر پہاڑوں پر سردیوں میں برفباری ہوتی ہے جو گرمیوں میں پگھل کر دریاؤں کی صورت میں رواں ہوتی ہے۔ لیکن کئی دفعہ دریاؤں میں پانی کی انتہائی کمی واقع ہوجاتی ہے حالانکہ پانی اللہ کی اتنی بڑی نعمت ہے جس کے بغیر نہ انسان زندہ رہ سکتا ہے نہ دوسرے جاندار اور نہ ہی نباتات اگ سکتی ہیں۔ یعنی پانی نہ ہونے سے انسان خوراک سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔

23

وَإِنَّا لَنَحْنُ نُحْىِۦ وَنُمِيتُ وَنَحْنُ ٱلْوَٰرِثُونَ

اور ہم ہی حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ اور ہم سب کے وارث (مالک) ہیں

[٤ ١] ہر چیز کا مالک اور وارث اللہ تعالیٰ ہے :۔ پیدائش اور موت دونوں ایسی چیزیں ہیں جن پر انسان کا ذرہ بھر بھی اختیار نہیں۔ نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے مرتا ہے۔ پھر اس کے ہاں جو اولاد ہوتی ہے وہ بھی اس کی مرضی سے نہیں ہوتی۔ پھر اس اولاد کی زندگی اور موت بھی اللہ ہی کے قبضہ ئقدرت میں ہوتی ہے۔ اور یہ سلسلہ یونہی آگے چلتا جاتا ہے۔ پھر جو کچھ انسان اپنی زندگی میں کماتا ہے۔ اس کا بھی عارضی طور پر ہی مالک ہوتا ہے۔ اس کی موت کے بعد اس کی کمائی اس کے وارثوں کے قبضہ میں چلی جاتی ہے اور یہ انتقال زر اور جائیداد بھی اضطراری ہوتا ہے جس میں انسان کا اپنا کچھ اختیار نہیں ہوتا۔ پھر یہ وارثوں کا قبضہ بھی عارضی ہوتا ہے۔ اور بالآخر یہ سب کچھ اللہ کے خزانے میں جمع ہوجاتا ہے جو حقیقتاً اصلی مالک تھا۔

24

وَلَقَدْ عَلِمْنَا ٱلْمُسْتَقْدِمِينَ مِنكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا ٱلْمُسْتَـْٔخِرِينَ

اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں

[٥ ١] الفاظ میں عمومیت ہے اور ان سے مراد وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو پہلے گزر چکے ہیں اور جو بعد میں آنے والے ہیں اور یہ بھی کہ جو اسلام لانے میں آگے نکل جانے والے ہیں یا پیچھے رہنے والے ہیں۔ یا کسی بھی نیک کام میں یا برے کام میں آگے نکل جانے اور پیچھے والے۔ اللہ ان سب پوری طرح باخبر ہے۔

25

وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ ۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے

[٦ ١] کافر یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں گے یا ہماری خاک کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا تو ہم دوبارہ کیسے پیدا کیے جائیں گے۔ یہ اعتراض کرنے والے لوگ نہ تو اللہ کی صفت حکمت کی معرفت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کے لامحدود علم کی وسعت کی۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سب سے کو دوبارہ پیدا کرے پھر انھیں ان کے اچھے یا برے اعمال کی جزا و سزا دے اور اس کا علم اس قدر وسیع ہے کہ وہ ان کی خاک کے منتشر شدہ ذرات تک کو جانتا ہے اور انھیں اکٹھا کرکے انھیں دوبارہ زندگی بخش کر اپنے پاس حاضر کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

26

وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِن صَلْصَٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے

[٧ ١] آدم کی پیدائش مٹی سے ہوئی :۔ مٹی کے لیے عربی زبان میں عام لفظ تراب ہے جو ہر طرح کی مٹی پر بولا جاسکتا ہے۔ جیسے سیدنا آدم کے متعلق ایک مقام پر فرمایا : (خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59؀) 3 ۔ آل عمران :59) تاہم تراب کا لفظ عموماً خشک مٹی کے لیے بولا جاتا ہے اور انسان کے پتلے کی ساخت میں مٹی کی جن اقسام کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ یہ ہیں۔ طین یعنی گیلی مٹی یا وہ خشک مٹی جس میں پانی ملایا گیا ہو طین لازب چپک دار گیلی مٹی ( چکنی مٹی) اس کے بعد اسی مٹی کو حَمَاٍمَّسْنُوْنٍ کی شکل دی گئی یعنی ایسی مٹی یا گارا جو گل سڑ کر سیاہ رنگ کی ہوگئی ہو خمیر اٹھ رہا ہو اور بو پیدا ہوگئی ہو۔ ایسی ہی مٹی سے آدم کا پتلا بنایا گیا۔ پھر اسے حرارت یا آگ میں اس قدر تپایا گیا کہ وہ کھنکھنانے سے کھن کھن کی آواز پیدا کرتا ایسی مٹی کو صَلْصَالٍ اور صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ کا نام دیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کی پیدائش میں غالب عنصر مٹی ہی تھا۔

27

وَٱلْجَآنَّ خَلَقْنَٰهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ ٱلسَّمُومِ

اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا

[٨ ١] جنوں کی پیدائش آگ سے ہوئی :۔ جنوں کو ایسی آگ سے پیدا کیا گیا جس میں ہوا ملی ہوئی تھی۔ سموم بمعنی سخت گرم ہوا۔ یعنی اتنی گرم ہوا سے جو آگ جیسی گرم ہو اور ہر چیز کو جھلس کر رکھ دے۔ جس سے معلوم ہوا کہ جنوں کی پیدائش میں غالب عنصر آگ تھا۔ ابلیس اصل میں جنوں کی جنس سے تعلق رکھتا تھا۔ مگر اپنی ہمہ وقت عبادت گزاری کی وجہ سے فرشتوں کی صفوں میں شامل ہوگیا تھا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة بقرہ کا حاشیہ نمبر ٥٣)- جانّ اور جن کا لغوی مفہوم اور مراد :۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جس طرح آدمیوں یا انسانوں کے جد امجد کا نام آدم (علیہ السلام) ہے۔ اسی طرح جنوں کے جد امجد جانّ ہے۔ اور جن کا لغوی معنی کسی چیز کو ڈھانپ کر چھپا دینا ہے کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ اور جنوں کو بھی جن اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ انسانوں کے لیے غیر مرئی مخلوق ہے جو انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ جن اپنی شکل و صورت بدل سکتے ہیں کبھی یہ دیو، بھوت پریوں کی شکل میں انسانوں کے سامنے نمودار ہوتے ہیں اور کبھی سانپ کی شکل میں۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر تم گھروں میں سانپ دیکھو تو مارنے سے پہلے اسے کہہ لو کہ اگر وہ جن ہے تو چلا جائے۔ قرآن میں بھی جان کا لفظ سانپ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ (٢٧ : ١٠) اور جان صرف ایسے سانپ کو کہتے ہیں جو عصا کی طرح لمبا اور پتلا ہو۔

28

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّى خَٰلِقٌۢ بَشَرًۭا مِّن صَلْصَٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں

Explained together with ayah 27

29

فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِى فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَٰجِدِينَ

جب اس کو (صورت انسانیہ میں) درست کر لوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا

[٩ ١] فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم :۔ جب انسان کا پتلا تیار ہوگیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے لگا ہوں۔ جب میں اس کی نوک پلک درست کرکے اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم اسی وقت اس کے سامنے سجدہ میں گرپڑنا روح پھونکنے سے مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ہلکا سا پر تو انسان میں پیدا ہوجائے اور انسان کو جو دوسری تمام جانداروں سے زیادہ عقل وتمیز، قوت ارادہ و اختیار، مختلف اشیاء کے خواص معلوم کرنے کا علم نیز غور و فکر کے ذریعہ استنباط یا تنائج حاصل کرنے کا علم دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اسی نفخہ کا نتیجہ ہے اور اسی بنا پر انسان زمین میں اللہ کا خلیفہ بنایا گیا۔- عقیدہ حلول اور ارتقاء کا رد :۔ (نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ 29؀) 15 ۔ الحجر :29) کے الفاظ سے بعض لوگوں نے بڑا گمراہ کن مفہوم اخذ کیا ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ انسان کی ذات میں حلول کر گیا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ جتنا حصہ اللہ نے اپنی روح کا آدم میں پھونکا تو اتنا اس سے کم ہوگیا۔ (نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ) حالانکہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے سورج اپنی شعاعیں زمین پر ڈالتا ہے تو وہ روشنی سے جگمگا اٹھتی ہے اس سے نہ سورج کی روشنی میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے اور نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ سورج زمین میں حلول کر گیا ہے۔- دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کسی ارتقاء کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ نظریہ چونکہ آج کل ہمارے کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے اور بعض مسلمان بھی اس نظریہ سے مرعوب ہوچکے ہیں۔ نیز اس نظریہ نے مذہبی دنیا میں ایک اضطراب سا پیدا کردیا ہے لہذا یہاں ہم کچھ اس کی تفصیل پیش کر رہے ہیں :- واضح رہے کہ انسان اور دوسرے حیوانات کی تخلیق کے متعلق دو طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بحیثیت انسان ہی پیدا کیا ہے۔ جیسا کہ اس آیت اور قرآن کریم کی بعض دوسری آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم کو پیدا کیا پھر اس سے اس کی بیوی پیدا کی۔ پھر اس سے بنی نوع انسان تمام دنیا میں پھیلی۔ آدم کا پتلا جب اللہ تعالیٰ نے بنایا تو اس میں اپنی روح سے پھونکا۔ اور ایسی روح کسی دوسری چیز میں نہیں پھونکی گئی۔ یہ اسی روح کا اثر ہے کہ انسان میں دوسرے تمام حیوانات سے بہت زیادہ عقل و شعور، قوت ارادہ و اختیار اور تکلم کی صفات پائی جاتی ہیں۔ اس طبقہ کے قائلین اگرچہ زیادہ تر الہامی مذاہب کے لوگ ہیں تاہم بعض مغربی مفکرین نے بھی اس نظریہ کی حمایت کی ہے۔- تخلیق انسانی سے متعلق مختلف نظریات :۔ دوسرا گروہ مادہ پرستوں کا ہے جو اسے خالص ارتقائی شکل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق زندگی اربوں سال پہلے ساحل سمندر سے نمودار ہوئی۔ پھر اس سے نباتات اور اس کی مختلف انواع وجود میں آئیں۔ پھر نباتات ہی سے ترقی کرتے کرتے حیوانات پیدا ہوئے۔ انہی حیوانات سے انسانی غیر انسانی اور نیم انسانی حالت کے مختلف مدارج سے ترقی کرتا ہوا مرتبہ انسانیت تک پہنچا ہے۔ اس تدریجی اور ارتقائی سفر کے دوران کوئی ایسا نقطہ متعین نہیں کیا جاسکتا جہاں سے غیر انسانی حالت کا وجود ختم کرکے نوع انسانی کا آغاز تسلیم کیا جائے۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظریہ سب سے پہلے ارسطو (٣٨٤۔ ٣٢٢ ق م) نے پیش کیا تھا۔ قدیم زمانہ میں تھیلیس، عناکسی میندر، عناکسی مینس، ایمپی ووکل اور جوہر پسند فلاسفہ بھی مسئلہ ارتقاء کے قائل تھے۔ مسلمان مفکرین میں سے ابن خلدون، ابن مسکویہ اور حافظ مسعودی نے بھی اشیائے کائنات میں مشابہت دیکھ کر کسی حد تک اس نظریہ ارتقاء کی حمایت کی ہے۔ (انسائیکلو پیڈیا مطبوعہ فیروز سنز، زیر عنوان ارتقائیت)- کیا انسان بندر کی اولاد ہے ؟:۔ انیسویں صدی عیسوی سے پہلے یہ نظریہ ایک …

30

فَسَجَدَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ

تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گر پڑے

Explained together with ayah 29

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.