Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 11–20 of 99

11

وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے

اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے بھی (کئی رسول) پہلے گروہوں میں (10) اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول مگر تھے وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے(11) اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں اس (استہزاء) کو دلوں میں مجرموں کے (12)(چنانچہ ) نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اس (قرآن) کےاور تحقیق گزر چکا ہے (یہ) طریقہ پہلے لوگوں کا (13)

[10] جب مشرکین نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔‘‘ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کر چکے ہیں ۔

[11]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾ ’’اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا‘‘ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔‘‘

[13,12]﴿۠ كَذٰلِكَ نَسۡلُكُهٗ ﴾ ’’اسی طرح داخل کر دیتے ہیں ہم اس کو‘‘ یعنی جھٹلانے کو ﴿ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کے دلوں میں ‘‘ ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفروتکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہو گئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہو گیا، یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہو گئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی‘‘ یعنی ان کے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔

12

كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُۥ فِى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِينَ

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں

اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے بھی (کئی رسول) پہلے گروہوں میں (10) اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول مگر تھے وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے(11) اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں اس (استہزاء) کو دلوں میں مجرموں کے (12)(چنانچہ ) نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اس (قرآن) کےاور تحقیق گزر چکا ہے (یہ) طریقہ پہلے لوگوں کا (13)

[10] جب مشرکین نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔‘‘ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کر چکے ہیں ۔

[11]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾ ’’اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا‘‘ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔‘‘

[13,12]﴿۠ كَذٰلِكَ نَسۡلُكُهٗ ﴾ ’’اسی طرح داخل کر دیتے ہیں ہم اس کو‘‘ یعنی جھٹلانے کو ﴿ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کے دلوں میں ‘‘ ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفروتکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہو گئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہو گیا، یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہو گئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی‘‘ یعنی ان کے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔

13

لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ ٱلْأَوَّلِينَ

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے

اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے بھی (کئی رسول) پہلے گروہوں میں (10) اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول مگر تھے وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے(11) اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں اس (استہزاء) کو دلوں میں مجرموں کے (12)(چنانچہ ) نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اس (قرآن) کےاور تحقیق گزر چکا ہے (یہ) طریقہ پہلے لوگوں کا (13)

[10] جب مشرکین نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔‘‘ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کر چکے ہیں ۔

[11]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾ ’’اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا‘‘ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔‘‘

[13,12]﴿۠ كَذٰلِكَ نَسۡلُكُهٗ ﴾ ’’اسی طرح داخل کر دیتے ہیں ہم اس کو‘‘ یعنی جھٹلانے کو ﴿ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کے دلوں میں ‘‘ ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفروتکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہو گئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہو گیا، یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہو گئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی‘‘ یعنی ان کے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔

14

وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ

اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں

اور اگر کھول دیں ہم اوپر ان کے ایک دروازہ آسمان کا، پس ہو جائیں وہ اس میں چڑھنے والے (14) تو بھی وہ کہیں گے یقینا بند کر دی گئی ہیں نظریں ہماری بلکہ ہم لوگ ہیں جادو کیے ہوئے (15)

[15,14] یعنی اگر ان کے پاس کوئی بڑا سا معجزہ بھی آ جائے تو یہ حق کا انکار کر دیں گے اور ہرگز ایمان نہیں لائیں گے چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَوۡ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر کھول دیں ہم ان پر دروازہ آسمان سے‘‘ اور وہ خود اس دروازے کا عیاں طور پر مشاہدہ کر لیں اس دروازے میں سے اوپر چڑھ بھی جائیں تب بھی وہ اپنے ظلم و عناد کی بنا پر اس معجزے کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ اِنَّمَا سُكِّرَتۡ اَبۡصَارُنَا ﴾ ’’باندھ دیا گیا ہے ہماری نگاہوں کو‘‘ یعنی ہماری آنکھوں پر نشے کا پردہ آ گیا، حتی کہ ہم نے وہ کچھ دیکھا جو ہم دیکھ نہ سکتے تھے۔ ﴿ بَلۡ نَحۡنُ قَوۡمٌ مَّسۡحُوۡرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے‘‘ یعنی یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ جادو ہے۔ اور جو قوم انکار کی اس حالت کو پہنچ جائے تو ان لوگوں میں اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہتی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جو انبیاء و رسل کے لائے ہوئے حق پر دلالت کرتی ہیں چنانچہ فرمایا:

15

لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌۭ مَّسْحُورُونَ

تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے

اور اگر کھول دیں ہم اوپر ان کے ایک دروازہ آسمان کا، پس ہو جائیں وہ اس میں چڑھنے والے (14) تو بھی وہ کہیں گے یقینا بند کر دی گئی ہیں نظریں ہماری بلکہ ہم لوگ ہیں جادو کیے ہوئے (15)

[15,14] یعنی اگر ان کے پاس کوئی بڑا سا معجزہ بھی آ جائے تو یہ حق کا انکار کر دیں گے اور ہرگز ایمان نہیں لائیں گے چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَوۡ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر کھول دیں ہم ان پر دروازہ آسمان سے‘‘ اور وہ خود اس دروازے کا عیاں طور پر مشاہدہ کر لیں اس دروازے میں سے اوپر چڑھ بھی جائیں تب بھی وہ اپنے ظلم و عناد کی بنا پر اس معجزے کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ اِنَّمَا سُكِّرَتۡ اَبۡصَارُنَا ﴾ ’’باندھ دیا گیا ہے ہماری نگاہوں کو‘‘ یعنی ہماری آنکھوں پر نشے کا پردہ آ گیا، حتی کہ ہم نے وہ کچھ دیکھا جو ہم دیکھ نہ سکتے تھے۔ ﴿ بَلۡ نَحۡنُ قَوۡمٌ مَّسۡحُوۡرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے‘‘ یعنی یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ جادو ہے۔ اور جو قوم انکار کی اس حالت کو پہنچ جائے تو ان لوگوں میں اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہتی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جو انبیاء و رسل کے لائے ہوئے حق پر دلالت کرتی ہیں چنانچہ فرمایا:

16

وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِى ٱلسَّمَآءِ بُرُوجًۭا وَزَيَّنَّٰهَا لِلنَّٰظِرِينَ

اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا

اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)

[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔

[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔

[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔

[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔

[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور …

17

وَحَفِظْنَٰهَا مِن كُلِّ شَيْطَٰنٍۢ رَّجِيمٍ

اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا

اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)

[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔

[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔

[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔

[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔

[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور …

18

إِلَّا مَنِ ٱسْتَرَقَ ٱلسَّمْعَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٌۭ مُّبِينٌۭ

ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے

اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)

[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔

[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔

[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔

[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔

[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور …

19

وَٱلْأَرْضَ مَدَدْنَٰهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ وَأَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْزُونٍۢ

اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اُگائی

اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)

[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔

[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔

[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔

[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔

[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور …

20

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُۥ بِرَٰزِقِينَ

اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے

اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)

[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔

[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔

[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔

[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔

[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.