سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :3
”ذکر“ کا لفظ قرآن میں اصطلاحا کلام الہٰی کے لیے استعمال ہوا ہے جو سراسر نصیحت بن کے آتا ہے ۔ پہلے جتنی کتابیں انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئی تھیں وہ سب بھی”ذکر“ تھیں اور یہ قرآن بھی ”ذکر“ ہے ۔ ذکر کے اصل معنی ہیں”یاد دلانا“ ” ہوشار کرنا “ اور ” نصیحت کرنا “ ۔
سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :4
یہ فقرہ وہ لوگ طنز کے طور پر کہتے تھے ۔ ان کو تو یہ تسلیم ہی نہیں تھا کہ یہ ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے ۔ نہ اسے تسلیم کر لینے کے بعد وہ آپ کو دیوانہ کہہ سکتے تھے ۔ دراصل ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ” اے وہ شخص جس کا دعوی یہ ہے کہ مجھ پر یہ ذکر نازل ہوا ہے“ ۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسی فرعون نے حضرت موسی علیہ السلام کی دعوت سننے کے بعد اپنے درباریوں سے کہی تھی کہ اِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْٓ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ ، ” یہ پیغمبر صاحب جو تم لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں ، ان کا دماغ درست نہیں ہے“ ۔