وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے
Explained together with ayah 9
سُورَةُ الحِجۡرِ
Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani
Ayahs 11–20 of 99
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے
Explained together with ayah 9
كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُۥ فِى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِينَ
اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں
4: ’’ یہ بات‘‘ سے قرآن کریم بھی مراد ہوسکتا ہے، یعنی قرآن کریم ان کے دلوں میں داخل تو ہوتا ہے، لیکن ان کے مجرمانہ طرز عمل کی وجہ سے وہ انہیں ایمان کی دولت نہیں بخشتا۔ اور ’’ یہ بات‘‘ سے ان کے مذاق اڑانے کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے۔ یعنی ان کے مجرمانہ طرز عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اور کفر و بغاوت اور اسہزاء ان کے دلوں میں داخل کردیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔
لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ ٱلْأَوَّلِينَ
سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے
Explained together with ayah 12
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ
اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں
Explained together with ayah 12
لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌۭ مَّسْحُورُونَ
تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے
5: مطلب یہ ہے کہ ان کے سارے مطالبات محض ضد پر مبنی ہیں۔ فرشتے اتارنا تو درکنار، اگر خود ان کو آسمان پر لے جایا جائے تب بھی یہ آنحضرت صلی اللہ علی وسلم کو جھٹلانے کا کوئی نہ کوئی بہانہ گھڑ لیں گے۔ اور یہ کہیں گے کہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔
وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِى ٱلسَّمَآءِ بُرُوجًۭا وَزَيَّنَّٰهَا لِلنَّٰظِرِينَ
اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا
6: برج اصل میں قلعے کو کہتے ہیں، لیکن اکثر مفسرین نے کہا ہے یہاں بروج سے مراد ستارے ہیں
7: یعنی آسمان ستاروں سے سجا ہوا نظر آتا ہے یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ قرآن کریم نے آسمان کا لفظ مختلف مقامات پر مختلف معنی میں استعمال فرمایا ہے کہیں اس سے مراد ان سات آسمانوں میں سے کوئی آسمان ہوتا ہے جن کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوپر تلے پیدا فرمایا ہے اور کہیں اس سے اوپر کی سمت مراد ہوتی ہے چنانچہ آگے آیت نمبر 21 میں جہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ آسمان سے پانی ہم نے اتارا ہے وہاں آسمان سے ہی معنی مراد ہیں۔ بظاہر اس آیت میں بھی یہی معنی مراد ہیں۔
وَحَفِظْنَٰهَا مِن كُلِّ شَيْطَٰنٍۢ رَّجِيمٍ
اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا
Explained together with ayah 16
إِلَّا مَنِ ٱسْتَرَقَ ٱلسَّمْعَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٌۭ مُّبِينٌۭ
ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے
8: یہ حقیقت قرآنِ کریم نے کئی جگہ بیان فرمائی ہے کہ شیطان آسمان کے اُوپر جاکر عالمِ بالا کی خبریں حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ خبریں کاہنوں اور نجومیوں تک پہنچائیں، اور وہ اُن کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرائیں کہ انہیں غیب کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں۔ لیکن آسمان میں ان کا داخلہ شروع ہی سے بند ہے، البتہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی دُنیا میں تشریف آوری سے پہلے یہ شیاطین آسمان کے قریب جاکر فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے تھے، اور وہاں سے کوئی بات کان میں پڑجاتی توا ُس کے ساتھ سینکڑوں جھوٹ ملاکر کاہنوں کو بتادیتے تھے، اس طرح کبھی کوئی بات صحیح بھی نکل آتی تھی۔ لیکن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد ان کو آسمان کے قریب جانے سے بھی روک دیا گیا۔ اب اگر وہ ایسی کوشش کرتے ہیں تو اُن کو ایک شعلے کے ذریعے مار کر بھگا دیا جاتا ہے، ستارہ ٹوٹنے کے جو واقعات ہمیں آسمان پر نظر آتے ہیں، بعض اوقات وہ یہی شعلہ ہوتا ہے جس کے ذریعے شیطان کو مار بھگایا جاتا ہے۔ اس حقیقت کی پوری تفصیل ان شا اللہ تعالیٰ سورۂ جن میں آئے گی۔
وَٱلْأَرْضَ مَدَدْنَٰهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ وَأَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْزُونٍۢ
اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اُگائی
9: قرآن کریم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ شروع میں جب زمین کو سمندر پر بچھایا گیا تو وہ ڈولتی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا فرمائے ؛ تاکہ وہ زمین کو جما کر رکھیں، دیکھئے سورۃ نحل آیت نمبر : ١٥
وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُۥ بِرَٰزِقِينَ
اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے
10: اگرچہ ہر چیز کو رزق تو حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے ؛ لیکن بعض پالتو جانور ایسے ہیں جنہیں انسان ظاہری طور پر چارہ فراہم کرتا ہے، ان کے علاوہ اکثر مخلوقات ایسی ہیں جنہیں رزق مہیا کرنے میں ظاہری طور پر بھی انسان کا کوئی دخل نہیں ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ ہم نے انسانوں کے لئے بھی رزق کے سامان پیدا کئے ہیں اور ان مخلو قات کے لئے بھی جنہیں انسان ظاہری طور پر کوئی غذا فراہم نہیں کرتا۔
عربی گرامر کی رو سے اس آیت کا ترجمہ ایک اور طرح بھی ممکن ہے اور وہ مخلوقات بھی پیدا کی ہیں جن کو تم رزق نہیں دیتے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لئے وہ مخلوقات بھی پیدا کی ہیں جن کو وہ ظاہری طور پر بھی رزق نہیں دیتا مگر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے جیسے شکار کے جانور۔
Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.