Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 11–20 of 99

11

وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے

Explained together with ayah 9

12

كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُۥ فِى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِينَ

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں

Explained together with ayah 9

13

لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ ٱلْأَوَّلِينَ

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے

[٦] کافروں کی ایمان نہ لانے کے لئے کٹ حجتیاں :۔ جس طرح منکرین حق اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کبھی آپ پر اختراغ کا الزام لگاتے ہیں کبھی کہتے ہیں یہ محض جادوگری اور جادو بیانی ہے۔ کبھی کسی معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور کبھی فرشتوں کے نزول کا، کبھی بشر ہونے کی بنا پر آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں اور کبھی جادوگر اور کبھی دیوانہ کہہ دیتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے آیات الٰہی کو نہ ماننے کے لیے کٹ حجتیاں ہیں اور ایسا استہزاء صرف آپ سے ہی نہیں کیا جارہا بلکہ منکرین حق پہلے رسولوں سے بھی یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ اللہ کی آیات سن لینے کے بعد انھیں سوجھتا ہی یہی کچھ ہے۔ ایسی آیات کو نازل کرنے کا ایک اہم مقصد رسول اللہ اور مسلمانوں کو تسلی دینا بھی ہے جو سخت سنگین حالات سے دو چار تھے اور چونکہ یہ تیرہ سال کا طویل عرصہ تھا لہذا ایسی آیات کا نزول بھی وقتاً فوقتاً بہ تکرار ہوتا رہا۔

14

وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ

اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں

Explained together with ayah 13

15

لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌۭ مَّسْحُورُونَ

تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے

[٧] کافر حسی معجزہ دیکھ کر بھی تعصب سے باز نہیں آتے :۔ اور ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے کا معاملہ یہ ہے کہ اگر ہم کوئی ایسا سلسلہ بنادیں کہ یہ لوگ آسمان کی بلندیوں پر چڑھنے لگ جائیں۔ خود چڑھیں پھر اتریں تو بھی بعد میں یہی کہہ دیں گے کہ اس میں حقیقت کچھ بھی نہیں تھی یہ تو محض نظر کا فریب تھا یا زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیں گے کہ یہ جو کچھ ہوا ہے سب جادو کے کرشمے ہیں اور جادو ہی کے زور سے ہم چڑھتے اور اترتے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ ضدی اور ہٹ دھرم جب میں نہ مانوں والا رویہ اختیار کرلیں تو پھر کسی عقلی دلیل کا کیا ذکر، معجزہ دیکھ کر بھی حق کو حق تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکتے۔

16

وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِى ٱلسَّمَآءِ بُرُوجًۭا وَزَيَّنَّٰهَا لِلنَّٰظِرِينَ

اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا

[٨] آسمانوں کے برج :۔ اس آیت میں اگر کوئی شخص بروج کے لفظ سے وہ ہی بارہ برج مراد لیتا ہے جو قدیم اہل ہیئت نے فلک ہشتم پر بنا رکھے ہیں تو اس کی مرضی ہے ورنہ آیت کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا کیونکہ ان برجوں میں سے اکثر برجوں کی اشکال کا زینت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ بھلا سرطان (کیکڑا) عقرب (بچھو) ترازو اور ڈول وغیرہ کیا خوبصورتی پیدا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علماء نے یہاں بروج سے ستارے اور سیارے مراد لیے ہیں جو رات کے وقت آسمان کو زینت بخشتے ہیں۔ لغوی لحاظ سے ہم نمایاں طور پر ظاہر ہونے والی ہر چیز کو برج کہہ سکتے ہیں خواہ وہ کوئی عمارت ہو یا گنبد ہو یا قلعہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آسمان کو ایسا مزیں بنادینا بذات خود اس کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہے۔ پھر اس کے بعد انھیں اس کی اور کیا نشانی درکار ہے ؟

17

وَحَفِظْنَٰهَا مِن كُلِّ شَيْطَٰنٍۢ رَّجِيمٍ

اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا

Explained together with ayah 16

18

إِلَّا مَنِ ٱسْتَرَقَ ٱلسَّمْعَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٌۭ مُّبِينٌۭ

ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے

[٩] شہاب ثاقب کی حقیقت :۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :- سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمام آسمان میں جب کسی حکم کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کا حکم بجا لانے کے لیے نہایت عاجزی سے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں اور ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جیسے کسی صاف پتھر پر زنجیر ماری جا رہی ہو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں تک اپنا پیغام پہنچا دیتا ہے پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو دور والے فرشتے نزدیک والوں سے پوچھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ؟ وہ کہتے ہیں جو فرمایا بجا ارشاد فرمایا۔ فرشتوں کی یہ باتیں چوری چھپے سے سننے والے (شیطان) سن لیتے ہیں اور اوپر تلے رہ کر وہاں تک جاتے ہیں۔ پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فرشتے اس بات کو سننے والے شیطان پر آگ کا شعلہ پھینکتے ہیں جو اسے نیچے والے شیطان کو بات پہنچانے سے پہلے ہی جلا ڈالتا ہے۔ اور کبھی یہ شعلہ اسے بات پہنچانے کے بعد پہنچتا ہے تو اوپر والا شیطان نچلے کو بات پہنچانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اس طرح وہ بات زمین تک آپہنچتی ہے۔ پھر وہ بات ساحر (کاہن، نجومی) کے منہ پر جاری ہوتی ہے۔ تو اس میں وہ سو جھوٹ ملا کر لوگوں سے بیان کرتا ہے پھر اگر اس کی کوئی بات سچی نکل آئے تو لوگ کہتے ہیں دیکھو اس نجومی نے ہمیں خبر دی کہ فلاں وقت ایسا ایسا ہوگا اور وہ بات سچ نکلی۔ یہ وہ بات ہوتی ہے جو آسمان سے چرائی گئی تھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر سورة سبا )- اس آیت میں شہاب مبین کے لفظ ہیں اور ایک دوسرے مقام پر ( اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَــطْفَةَ فَاَتْــبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ 10؀) 37 ۔ الصافات :10) کے الفاظ ہیں جن کے معنی ہیں چھید کر جانے والا چمکدار شعلہ۔ رات کو بسا اوقات ایسے شعلہ دار ستارے نظر آتے ہیں۔ جنہیں ہم اپنی زبان میں ٹوٹنے والے تارے کہتے ہیں اور ہمیں ایک شعلہ تیزی سے فضا میں سفر کرتا نظر آتا ہے پھر اچانک بجھ جاتا ہے۔ ممکن ہے یہ شیطان کو جلا کر بھسم کردینے والے وہی ستارے ہوں جنہیں آج کل علم ہیئت کی اصطلاح میں شہاب ثاقب کہا جاتا ہے جو کثیر تعداد میں فضا میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کا کثیر حصہ فضا میں ہی گم ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی یہ زمین پر گڑ پڑتے ہیں اگر یہ سب ستارے زمین پر گرتے تو ممکن ہے کہ انسان کا اس زمین پر زندہ رہنا ہی محال ہوجاتا۔ یہ بس اللہ تعالیٰ ہی کا نظام ہے جو ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جس شہاب ثاقب کا ذکر کتاب و سنت میں آیا ہے وہ معروف شہاب ثاقب کے علاوہ کوئی اور قسم کا ہو جس تک تاحال علم انسانی کی رسائی نہ ہوسکی ہو۔

19

وَٱلْأَرْضَ مَدَدْنَٰهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ وَأَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْزُونٍۢ

اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اُگائی

[٠ ١] ہر چیز کی پیدائش اور افزائش اللہ کے مقررہ اندازے کے مطابق ہی ہوسکتی ہے :۔ موجودہ تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ نباتات کی ہر نوع میں تناسل کی اس قدر زبردست طاقت ہے کہ اگر صرف ایک ہی پودے کو زمین میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے تو چند ہی سالوں میں اسی جنس کے پودے تمام روئے زمین پر پھیل جائیں اور کسی دوسری قسم کے پودے کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہے اور یہ حکیم وعلیم اور قادر مطلق کا سوچا سمجھا اندازہ ہی ہے جس کے مطابق بیشمار قسم کی نباتات اس زمین پر اگ رہی ہے اور ہر نوع کی پیداوار اپنی ایک مخصوص حد تک پہنچ کر رک جاتی ہے مزید یہ کہ ہر نوع کی پیداوار کو اس علاقہ کی ضرورت اور وہاں کے لوگوں کی طبیعت کے مطابق پیدا کیا جاتا ہے۔ بالکل یہی صورت انسان کے نطفہ کی ہے۔ اس کے ایک دفعہ کے انزال میں بارآور کرنے والے اتنی کثیر تعداد میں جرثومے پائے جاتے ہیں جو تمام دنیا کی عورتوں کو بار آور کرسکتے ہیں۔ یہ بس اللہ کی حکمت ہی ہے کہ وہ جتنے انسان پیدا کرنا چاہتا ہے اتنے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ پھر ہر چیز زمین سے خوراک حاصل کرکے بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہے لیکن وہ بھی ایک مخصوص حد تک پہنچ کر رک جاتی ہے مثلاً آج کل انسان عموماً پانچ سے چھ فٹ تک لمبا ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی انسان دوگنی خوراک کھا کر بارہ فٹ لمبا ہوجائے۔ یہی حال دوسری مخلوق کا ہے خواہ یہ نباتات کی قسم سے ہو یا حیوانات کی قسم سے یا انسان ہو۔ غرض جاندار کیا اور بےجان کیا۔ ہر چیز کے ہر ہر پہلو سے تعلق رکھنے والی اللہ نے حدیں مقرر کر رکھی ہیں جن سے وہ تجاوز نہیں کرسکتیں۔

20

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُۥ بِرَٰزِقِينَ

اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے

[١ ١] ایسی مخلوق بھی انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہے اور اس میں ہر قسم کے چرند، پرند، درندے اور تمام حشرات الارض وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب کی روزی بھی اسی طرح زمین کے ساتھ ہی وابستہ ہے جیسے تمہاری وابستہ ہے۔

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.