Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 1–10 of 99

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ وَقُرْءَانٍۢ مُّبِينٍۢ

آلرا۔ یہ خدا کی کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں

الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ :” الْكِتٰبِ “ الف لام کی و جہ سے ” کامل کتاب “ ترجمہ کیا گیا ہے۔ ” الْكِتٰبِ “ اور ” قُرْاٰنٍ “ دونوں مبالغہ کے لیے مصدر ہیں (جن کا معنی ہے لکھنا اور پڑھنا) جو اسم مفعول کے معنی میں ہیں، یعنی یہ اس کلام کی آیات ہیں جو بیشمار بار لکھا ہوا اور بیحد و حساب پڑھا ہوا ہے، فرمایا : (ۙاِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ 77 ۝ ۙفِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ ) [ الواقعۃ : ٧٧، ٧٨ ] ” بلاشبہ یہ یقیناً ایک باعزت پڑھی جانے والی چیز ہے، جو ایک ایسی کتاب میں ہے جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔ “ لوح محفوظ میں لکھے جانے اور جبریل (علیہ السلام) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لے کر قیامت تک نہ اس کے لکھنے والوں کا شمار ہے نہ پڑھنے والوں کا۔ پھر خوبی یہ کہ یہ کتاب ہے تو کامل (الف لام کی و جہ سے) اور قرآن ہے تو ہر بات کو کھول کر بیان کرنے والا۔ قیامت تک کوئی اس جیسی ایک سورت بھی بنا کر نہیں لاسکتا۔

2

رُّبَمَا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ كَانُوا۟ مُسْلِمِينَ

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے

رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ :” رُبَّ “ حرف جر ہے، ” مَا “ بمعنی وقت۔ ” رُبَّ “ کا لفظ تقلیل کے لیے آتا ہے، یعنی کسی وقت، جیسے : ” رُبَّ أَخٍ لَمْ تَلِدْہُ اُمُّکَ “ ” کئی بھائی ہیں جنھیں تیری ماں نے نہیں جنا “ اور تکثیر کے لیے بھی، مثلاً ” رُبَّمَا یَنْجُو الذَّکِیُّ “ ” بہت دفعہ ذہین آدمی کامیاب ہوجاتا ہے۔ “ فرق موقع کو ملحوظ رکھ کر ہوتا ہے، مثلاً یہی مثال اگر اس طرح ہو کہ ” رُبَّمَا یَنْجُ الْکَسُوْلُ “ تو معنی ہوگا ” کسی وقت سست آدمی بھی کامیاب ہوجاتا ہے۔ “ اس آیت میں بعض علماء نے یہ لفظ تقلیل کے لیے قرار دیا ہے، یعنی ” کسی وقت “ اور بعض نے تکثیر کے لیے، یعنی بہت بار، صاحب مغنی اللبیب کے بقول یہاں یہی معنی راجح ہے، کیونکہ مرنے کے بعد کفار کا ہر لمحہ اسی حسرت میں گزرے گا۔ ” لَوْ “ تمنی کے لیے ہے۔ ایسی چیز کی خواہش جو ناممکن ہو تمنی کہلاتی ہے، ممکن کی خواہش ” ترجّی “ کہلاتی ہے۔ - يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : یہ سورت مکی ہے، جب مسلمان ہر طرح کمزور اور مغلوب تھے تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو تسلی دی کہ وہ وقت آ رہا ہے جب یہ کافر چاہیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے، مگر وقت نکل جانے کے بعد کسی کام کی خواہش کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس وقت سے مراد دنیا میں ایسے مواقع بھی ہیں جب مسلمانوں کو فتح و کامرانی اور کفار کو شکست و رسوائی حاصل ہوگی، جیسے بدر، خیبر اور فتح مکہ وغیرہ اور کفار چاہیں گے کہ اس وقت مسلمان ہوتے تو ہمیں بھی یہ عزت و غنیمت ملتی اور موت کے وقت بھی اس تمنا کا اظہار کریں گے، جیسا کہ فرمایا : (حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ 99 ۝ ۙلَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا ۭ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا) [ المؤمنون : ٩٩، ١٠٠ ] ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب مجھے واپس بھیجو، تاکہ میں جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کرلوں۔ ہرگز نہیں، یہ تو ایک بات ہے جسے وہ کہنے والا ہے۔ “ پھر موت کے بعد کی سختیوں میں، خصوصاً جب آگ میں داخل ہونے کو ہوں گے، فرمایا : (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ) [ الأنعام : ٢٧ ] ” اور کاش تو دیکھے جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں سے ہوجائیں۔ “ اور سب سے زیادہ حسرت کے ساتھ یہ خواہش اس وقت کریں گے جب مسلمانوں میں سے جہنم میں جانے والے سب کے سب جہنم سے نکال لیے جائیں گے۔ ابوموسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب اہل نار آگ میں جمع ہوجائیں گے اور ان کے ساتھ اہل قبلہ میں سے بھی وہ لوگ ہوں گے جنھیں اللہ چاہے گا تو کفار مسلمانوں سے کہیں گے : ” کیا تم مسلم نہیں تھے ؟ “ وہ کہیں گے : ” کیوں نہیں ؟ “ کفار کہیں گے : ” پھر تمہارے اسلام نے تمہیں کیا فائدہ دیا کہ تم بھی ہمارے ساتھ آگ میں پہنچ گئے ؟ “ وہ کہیں گے : ” ہمارے کچھ گناہ تھے جن کی و جہ سے ہم پکڑے گئے۔ “ انھوں نے جو کچھ کہا اللہ تعالیٰ اسے سنے گا اور جو اہل قبلہ میں سے ہوں گے ان کے متعلق حکم دے گا اور وہ نکال لیے جائیں گے، تو جب جہنمی یہ دیکھیں گے تو کہیں گے : ” کاش ہم بھی مسلم ہوتے اور ہم بھی اسی طرح نکل جاتے جیسے یہ نکلے ہیں۔ “ (ابو موسیٰ (رض) نے) کہا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ ) [ السنۃ لابن أبي عاصم، باب ذکر من یخرج …

3

ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا۟ وَيَتَمَتَّعُوا۟ وَيُلْهِهِمُ ٱلْأَمَلُ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

(اے محمد) ان کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ کھالیں اور فائدے اُٹھالیں اور (طول) امل ان کو دنیا میں مشغول کئے رہے عنقریب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا

ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ ۝: ” ذَرْ “ مثال واوی سے فعل امر ہے، اس کا صرف امر اور مضارع استعمال ہوتا ہے، اس کے باقی صیغوں کی جگہ ” تَرَکَ “ کے مشتقات استعمال ہوتے ہیں۔ ” وَيُلْهِهِمُ “ ” لَھْوٌ“ سے باب افعال کا مضارع ” یُلْھِیْ “ ہے جو ” ذَرْ “ کا جواب ہونے کی و جہ سے یا لام امر مقدر ہونے کی و جہ سے مجزوم ہے، اس کی ” یاء “ اور ” يَاْكُلُوْا “ اور ” وَيَتَمَتَّعُوْا “ کا نون بھی اسی و جہ سے گرگئے ہیں۔ یہ سارے امر انھیں ڈانٹنے کے لیے ہیں، یہ نہیں کہ انھیں اجازت دی جا رہی ہے۔ اس معنی کی آیات کے لیے دیکھیے سورة مرسلات ( ٤٦) ، سورة زخرف ( ٨٣) اور سورة طور (٤٥) وغیرہ۔” يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا “ سے معلوم ہوا کہ کفار کی زندگی کا مقصد ہی بس یہ ہے۔ ” الْاَمَلُ “ امید، کسی چیز کے حصول کی آرزو، عموماً جس کا حصول بعید ہو۔- وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ : ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں : ( أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَرَزَ بَیْنَ یَدَیْہِ غَرَزًا ثُمَّ غَرَزَ إِلٰی جَنْبِہٖ آخَرَ ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ فَأَبْعَدَہٗ ، ثُمَّ قَالَ ھَلْ تَدْرُوْنَ مَا ھٰذَا ؟ قَالُوْا اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ أَعْلَمُ ، قَالَ ھٰذَا الإِْنْسَانُ وَھٰذَا أَجَلُہُ وَھٰذَا أَمَلُہُ یَتَعَاطَی الْأَمَلَ یَخْتَلِجُہُ دُوْنَ ذٰلِکَ )[ مسند أحمد : ٣؍١٨، ح : ١١١٣٨، إسنادہ جید ] ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آگے ایک لکڑی گاڑی، پھر ایک اس کے پہلو میں گاڑی، پھر تیسری اس سے دور گاڑی، پھر فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : ” اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ “ فرمایا : ” یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل (موت) ہے اور وہ اس کی آرزو ہے۔ وہ آرزو حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اس کے حصول سے پہلے اس کے راستے میں اجل رکاوٹ بن جاتی ہے۔ “ عبداللہ بن عمرو (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں : ( صَلاَحُ أَوَّلِ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بالزُّھْدِ وَالْیَقِیْنِ وَیُھْلَکُ آخِرُھَا بالْبُخْلِ وَالْأَمَلِ ) [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ١٥؍٣، ح : ٣٤٢٧ ]” اس امت کے اول کی درستگی زہد اور یقین کے ساتھ ہے اور اس کا آخری حصہ بخل اور امل (امید) کے ساتھ ہلاک ہوگا۔ “

4

وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٌۭ مَّعْلُومٌۭ

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی۔ مگر اس کا وقت مرقوم ومعین تھا

اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ : وہ مقرر لکھا ہوا وقت جب تک باقی رہا اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت دی، لیکن جونہی مدت پوری ہوئی فوراً انھیں پکڑ لیا گیا۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم نے ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جھٹلانے اور ٹھٹھا اڑانے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے اور اس پر ابھی تک ہم نے گرفت نہیں کی تو اس سے تم نے یہ کیوں سمجھ لیا کہ تمہاری گرفت ہوگی ہی نہیں ؟

5

مَّا تَسْبِقُ مِنْ أُمَّةٍ أَجَلَهَا وَمَا يَسْتَـْٔخِرُونَ

کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے

وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ : یعنی نہ وہ وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے اور نہ وقت مقرر پر ہلاک ہونے سے بچ سکتی ہے۔ نیز دیکھیے سورة انعام (٢) ۔

6

وَقَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِى نُزِّلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌۭ

اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تُو تو دیوانہ ہے

وَقَالُوْا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ : وہ یہ بات بھی استہزا کے لیے کہہ رہے ہیں، یہ نہیں کہ وہ اسے مانتے تھے۔ ” الذِّكْرُ “ سے ہر وہ چیز مراد ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی، اس میں قرآن مجید بھی شامل ہے اور حدیث بھی۔ - اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ : پچھلی آیات میں کفار کو کتاب اللہ کے جھٹلانے پر ڈانٹا گیا تھا، اب ان کی سرکشی کا بیان ہے اور ان کے رسول کے ساتھ استہزا اور آپ کو جھٹلانے کا بیان ہے۔ وہ لوگ مذاق کے طور پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پاگل اور دیوانہ کہتے تھے، حالانکہ آپ سب سے زیادہ عقل مند تھے۔ یہ ان کے کفر و استہزا کی بدترین صورت تھی اور انھوں نے یہ بات اس قدر مشہور کر رکھی تھی کہ صحیح مسلم میں ضماد ازدی کا قصہ مذکور ہے کہ وہ ازد قبیلے کا ایک فرد تھا، مکہ آیا تو اس نے مکہ کے بیوقوفوں سے سنا کہ آپ مجنون ہیں، وہ آپ کے پاس آیا اور آپ کو آپ کا علاج کرنے کی پیش کش کی، آپ نے خطبہ مسنونہ پڑھا، اس نے درخواست کی کہ آپ اسے پھر پڑھیں، آپ نے تین دفعہ یہ خطبہ پڑھا، اس نے اس کی بیحد تعریف کی اور اسی پر مسلمان ہوگیا۔ [ مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ : ٨٦٨ ] سبحان اللہ علاج کے لیے آنے والے کا خود علاج ہوگیا۔

7

لَّوْ مَا تَأْتِينَا بِٱلْمَلَٰٓئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا

لَوْ مَا تَاْتِيْنَا بالْمَلٰۗىِٕكَةِ : کہ فرشتے سامنے آ کر گواہی دیں کہ یہ واقعی اللہ کا سچا پیغمبر ہے، اس کی پیروی اختیار کرو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس مطالبے کا کئی جگہ ذکر کیا ہے، فرمایا : (وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ) [ الأنعام : ٨ ] ” اور انھوں نے کہا اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا ؟ “ اور دیکھیے سورة زخرف (٥٣) اور سورة فرقان ( ٢١، ٢٢) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو عذاب سے ڈراتے تو انھوں نے ” لَوْ مَا تَاْتِيْنَا بالْمَلٰۗىِٕكَةِ “ کہہ کر عذاب کا مطالبہ کیا ہو۔ (کبیر)

8

مَا نُنَزِّلُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَمَا كَانُوٓا۟ إِذًۭا مُّنظَرِينَ

(کہہ دو) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ ۔۔ : یعنی فرشتے تو عین اس وقت نازل ہوتے ہیں جب کسی شخص کی موت کا وقت آگیا ہو، یا کسی قوم پر عذاب کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہو، اس کے بعد انھیں مہلت نہیں دی جاتی۔

9

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ ۔۔ : یہاں اللہ تعالیٰ نے لفظ ” قرآن “ کے بجائے لفظ ” ذکر “ استعمال فرمایا، جس میں سب سے پہلے قرآن آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ) [ یوسف : ٢ ] ” بیشک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔ “ اور اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال، افعال اور احوال یعنی حدیث بھی ذکر (نصیحت) ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا نازل کردہ ذکر قرار دیا، جیسا کہ فرمایا : (قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا 10 ۝ ۙرَّسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ مُبَيِّنٰتٍ ) [ الطلاق : ١٠، ١١ ] ” یقیناً اللہ نے تمہاری طرف ایک ذکر (نصیحت) نازل کیا ہے، جو ایسا رسول ہے کہ تمہارے سامنے اللہ کی واضح بیان کرنے والی آیات پڑھتا ہے۔ “ علاوہ ازیں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کریں اسے کرنے کا اور جو کہیں اسے ماننے کا حکم دیا، پہلے کا نام اتباع ہے، دوسرے کا اطاعت ہے، چناچہ فرمایا : (قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ ) [ آل عمران : ٣١ ] ” کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ “ اور فرمایا : (قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ ) [ آل عمران : ٣٢ ] ” کہہ دے اللہ اور رسول کا حکم مانو۔ “- اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا : اس جملے میں اللہ تعالیٰ نے بیحد تاکید کے لیے لفظ ” ہم نے “ کو تین دفعہ دہرایا ” اِنَّا “ میں ” نَا “ ( ہم نے) ، دوسرا ” نَحْنُ “ (ہم نے) اور تیسرا ” نَزَّلْنَا “ میں ” نَا “ (ہم نے) ۔ بہت کوشش سے بھی تینوں تاکیدوں کا ترجمہ فصیح اردو میں مشکل ہے۔ - 3 یعنی یہ ” ذکر “ جس کے لانے والے کو تم دیوانہ کہہ رہے ہو، یہ تو خود ہم ہی نے نازل کیا اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قاضی اسماعیل بصری سے پوچھا گیا کہ اس میں کیا راز ہے کہ پہلی کتابیں قرآن کی طرح محفوظ نہ رہ سکیں ؟ انھوں نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت انسانوں کے ذمے لگائی تھی، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ ۔۔ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ ) [ المائدۃ : ٤٤ ] ” بیشک ہم نے تورات اتاری۔۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے “ جب کہ قرآن کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لی۔ (الوسیط) ایک حکمت یہ بھی ہے کہ قرآن و حدیث قیامت تک کے لیے تمام لوگوں کے لیے ہیں، جب کہ اس سے پہلے ہر کتاب ایک قوم اور ایک وقت تک کے لیے تھی۔ جس طرح قرآن اپنے الفاظ اور معانی کے اعتبار سے معجزہ ہے کہ جن و انس جمع ہو کر بھی اس جیسی ایک سورت نہیں بنا سکتے، اسی طرح یہ بھی اس کا معجزہ ہے کہ اس میں رد و بدل نہیں ہو سکے گا۔ قرآن کی حفاظت کا یہ وعدہ حیرت انگیز طور پر پورا ہو رہا ہے۔ قرآن کے سوا دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں جو چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اس طرح محفوظ ہو کہ اس کے کسی ایک حرف میں رد و بدل نہ ہوا ہو۔ دنیا بھر میں قرآن کے جتنے نسخے موجود ہیں ان میں معمولی سا بھی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔ مسلمانوں پر زوال اور غلامی کے ایام بھی آئے، مگر قرآن کی حفاظت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت جو کسی اور کتاب کو نصیب نہیں ہوئی اور قرآن کی اس طرح حفاظت کے غیر مسلم مخالف بھی معترف ہیں۔ - 3 منکرین حدیث عموماً حدیث سے انکار کے لیے کہتے ہیں کہ قرآن کی حفاظت کا تو اللہ نے وعدہ کیا، مگر حدیث کی حفاظت کا وعدہ نہیں فرمایا، اس لیے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ ان سے پوچھیے کہ اس کی کیا دلیل ہے ؟ تو وہ یہ آیت پڑھیں گے، حالانکہ اس میں لفظ ” قرآن “ نہیں بلکہ ” اَلذِّکرَ “ ہے، جس میں حدیث بھی شامل ہے …

10

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِى شِيَعِ ٱلْأَوَّلِينَ

اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ ۔۔ :” شِيَعِ “ ” شِیْعَۃٌ“ کی جمع ہے، معنی ہے لوگوں کا ایسا گروہ جو ایک طریقے اور مذہب پر متفق ہو، خواہ نیک ہوں یا بد۔ یہاں یہ لفظ برے شیعہ یعنی بری جماعت کے معنی میں ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے : (اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ ) [ الأنعام : ١٥٩] ” بیشک وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین کو جدا جدا کرلیا اور کئی گروہ بن گئے، تو کسی چیز میں بھی ان سے نہیں۔ “ البتہ صافات میں نیک معنی میں ہے : (وَاِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيم) [ الصآفات : ٨٣ ] ” اور بیشک اس کے گروہ میں سے ابراہیم بھی ہے۔ “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان کے جھٹلانے اور استہزا سے رنجیدہ نہ ہوں، ہر زمانے میں کفار نے انبیاء کی اسی طرح ہنسی اڑائی ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.