Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 52

41

رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ

اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو

آیت نمبر 35 تا 41

اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر کریں ، غفلت کے بجائے نصیحت حاصل کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ جو بدراہ و گمراہ ہوگئے ، واپس ان کی اصلی راہ پر آجائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کر کے راہ ہدایت پر آجائیں۔

رب اجعل ھذا البلد امنا (14 : 35) ” پروردگار ، اس شہر (یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا دے “۔ امن وہ نعمت ہے جو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کے احساسات پر امن بہت اثر کرتا ہے ، کیونکہ انسان کی زندگی جاری ہی امن سے رہ سکتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائے امن کو اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ ذرا عقل کے ناخن لو اور اس شہر کے امن کو تباہ نہ کرو ، بڑی دعاؤں کے بعد یہ ملا ہے ۔ تم ایک طویل عرصہ ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہو اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتے ہو اور شکر نہیں کرتے۔ یہ امن اس شہر کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں سے حاصل ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور دین کو چھوڑ چکے ہو ، اور یوں نا شکری کرتے ہو۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس خانہ توحید میں تم نے اللہ کے شریکوں کے بت رکھ چھوڑے ہیں ، تم اس شہر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اس حصے پر تو غور کرو۔

واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( 14 : 35) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رب کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے التجا کر رہے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیو ، آپ اپنی دعا میں مدد بھی طلب فرماتے ہیں اور راہنمائی بھی چاہتے ہیں۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ہدایت کو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے دل شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکل آتا ہے اور جہالت کے بدلے علم اور تاریکی کے بدلے روشنی پاتا ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور توحید کی ہدایت اور روشنی ۔ توحید میں آخر انسان حیرت اور پریشانی کے تہ بہ تہ اندھیروں سے نکل جاتا ہے اور گمراہی اور بدکرداری سے بچ نکلتا ہے ۔ وہ روشن دماغ ، پرسکون اور برقرار ہوتا ہے اور مختلف الہٰوں اور خداؤں کی بندگی سے نکل کر اور ذلت اور غلامی سے نکل کر ، ایک خدا کی نہایت ہی باعزت بندگی میں داخل ہوتا ہے اور ایک آزاد زندگی پاتا ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رب تعالیٰ نے کر رکھے تھے۔ اب وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ انعامات برقرار ہیں۔ وہ بھی اور ان کی اولاد بھی بت پرستی کی لعنت سے دور رہے

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ما حول میں ان کی ہم عصر نسلوں میں سے اکثریت کو بت پرستی نے گمراہ کر رکھا ہے ، سابقہ لوگ بھی اس میں مبتلائے ہوئے اور خلق کثیر کو ان بتوں نے گمراہ کیا۔

رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14 : 36) ” اے رب ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے “۔ اب یہ دعا اعلان کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ …

42

وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍۢ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَٰرُ

اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

آیت نمبر 42 تا 43

رسول اللہ ﷺ اللہ کو ظالموں کے اعمال سے غافل نہ سمجھتے تھے۔ لیکن بظاہر یہ بات نظر آتی تھی کہ لوگ دیکھتے تھے کہ ظالم عیش کر رہے ہیں۔ اللہ کی دھمکیاں سن رہے ہیں ، دنیا کی زندگی گزر رہی ہے اور ان ظالموں کو اللہ کا کوئی عذاب اپنی گرفت میں نہیں لیتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ یہ انداز کلام اختیار کرتے ہیں تا کہ یہ یقین کرلیا جائے کہ یہ لوگ اپنے لیے متعین مہلت کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آخر میں اللہ ایسے لوگوں کو وقت آنے پر پکڑتا ہے اور اس کی پکڑ ایسی ہوتی ہے کہ پھر اس سے کوئی چھوٹ نہیں سکتا۔ وہ ایسا سخت دن ہوگا جس میں ان کی نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ نہایت جزع و فزع کی حالت میں ہوں گے۔ آنکھیں کھلی ہوں گی لیکن ان کے حواس مبہوت ہوجائیں گے اور ان کو کچھ نظر نہ آئے گا۔ اس قدر خوف ہوگا کہ ان کی نظر جہاں جم گئی جم گئی اور پھر اس ہولناک دن میں پوری قوم کی حالت یوں ہوگی کہ وہ بھاگے بھاگے پھریں گے۔ کسی چیز کی طرف ان کا دھیان نہ ہوگا۔ کسی چیز کی طرف التفات نہ ہوگا۔ سر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ خوشی سے نہیں بلکہ مجبوراً ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ کسی بھی منظر پر جب ان کی نظر اٹھ کر جم جائے گی تو اس سے ہٹا نہ سکیں گے اور نظر وہیں ٹک جائے گی۔ ان کے دل ہوا ہوں گے ، اڑے اڑے پھر رہے ہوں۔ نہ کچھ یاد ہوگا ، نہ کوئی حجت و دلیل ہوگی نہ کوئی تدبیر ہوگی۔

یہ ہے وہ دن جس کی طرف اللہ ان کو موخر کر رہا ہے۔ اس طرح یہ اس میدان میں کھڑے ہوں گے ، نہایت خوفزدہ۔ آیت کے ان چار ٹکڑوں میں ان کی حالت یہ نظر آتی ہے جس طرح ایک طاقتور باشے (باز) کے پنجوں میں ایک نہایت ہی چھوٹا پرندہ پھنس جاتا ہے اور وہ اسے دبوچ لیتا ہے۔ ذرا دوبارہ پڑھیں :

انما یوخرھم ۔۔۔۔۔ الابصار (42) مھطعین ۔۔۔۔۔ وافئدتھم ھواء (43) (14 : 42- 43) اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے۔ اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں ، سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں ، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں ”۔

سر اٹھائے تیز تیز بھاگنا ، یوں کہ نظریں آسمانوں پر جمی ہوں اس طرح کہ ٹکٹکی بندھ گئی ہو ، اور دل کی حالت یہ ہو کہ وہ ہوا کی طرح اڑ رہا ہے اور کچھ سمجھ میں نہ آرہا ہو ، تو یہ ایسی حالت جس میں انتہائی خوف ظاہر کیا گیا ہے ، جس میں انسان کی نظر ایک جگہ ٹک جاتی ہے۔

یہ دن جس کی طرف اللہ ان کو لے جا رہا ہے اور اس مہلت کے ختم ہونے کا وہاں ان کا انتظار ہو رہا ہے ، تو اے پیغمبر ، ان لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس میں کوئی عذر قبول نہ ہوگا اور کوئی صورت چھٹکارے کی نہ ہوگی۔ چناچہ اس خوفناک دن کا ایک دوسرا منظر لایا جاتا ہے۔

43

مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌۭ

(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے

آیت نمبر 42 تا 43

رسول اللہ ﷺ اللہ کو ظالموں کے اعمال سے غافل نہ سمجھتے تھے۔ لیکن بظاہر یہ بات نظر آتی تھی کہ لوگ دیکھتے تھے کہ ظالم عیش کر رہے ہیں۔ اللہ کی دھمکیاں سن رہے ہیں ، دنیا کی زندگی گزر رہی ہے اور ان ظالموں کو اللہ کا کوئی عذاب اپنی گرفت میں نہیں لیتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ یہ انداز کلام اختیار کرتے ہیں تا کہ یہ یقین کرلیا جائے کہ یہ لوگ اپنے لیے متعین مہلت کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آخر میں اللہ ایسے لوگوں کو وقت آنے پر پکڑتا ہے اور اس کی پکڑ ایسی ہوتی ہے کہ پھر اس سے کوئی چھوٹ نہیں سکتا۔ وہ ایسا سخت دن ہوگا جس میں ان کی نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ نہایت جزع و فزع کی حالت میں ہوں گے۔ آنکھیں کھلی ہوں گی لیکن ان کے حواس مبہوت ہوجائیں گے اور ان کو کچھ نظر نہ آئے گا۔ اس قدر خوف ہوگا کہ ان کی نظر جہاں جم گئی جم گئی اور پھر اس ہولناک دن میں پوری قوم کی حالت یوں ہوگی کہ وہ بھاگے بھاگے پھریں گے۔ کسی چیز کی طرف ان کا دھیان نہ ہوگا۔ کسی چیز کی طرف التفات نہ ہوگا۔ سر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ خوشی سے نہیں بلکہ مجبوراً ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ کسی بھی منظر پر جب ان کی نظر اٹھ کر جم جائے گی تو اس سے ہٹا نہ سکیں گے اور نظر وہیں ٹک جائے گی۔ ان کے دل ہوا ہوں گے ، اڑے اڑے پھر رہے ہوں۔ نہ کچھ یاد ہوگا ، نہ کوئی حجت و دلیل ہوگی نہ کوئی تدبیر ہوگی۔

یہ ہے وہ دن جس کی طرف اللہ ان کو موخر کر رہا ہے۔ اس طرح یہ اس میدان میں کھڑے ہوں گے ، نہایت خوفزدہ۔ آیت کے ان چار ٹکڑوں میں ان کی حالت یہ نظر آتی ہے جس طرح ایک طاقتور باشے (باز) کے پنجوں میں ایک نہایت ہی چھوٹا پرندہ پھنس جاتا ہے اور وہ اسے دبوچ لیتا ہے۔ ذرا دوبارہ پڑھیں :

انما یوخرھم ۔۔۔۔۔ الابصار (42) مھطعین ۔۔۔۔۔ وافئدتھم ھواء (43) (14 : 42- 43) اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے۔ اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں ، سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں ، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں ”۔

سر اٹھائے تیز تیز بھاگنا ، یوں کہ نظریں آسمانوں پر جمی ہوں اس طرح کہ ٹکٹکی بندھ گئی ہو ، اور دل کی حالت یہ ہو کہ وہ ہوا کی طرح اڑ رہا ہے اور کچھ سمجھ میں نہ آرہا ہو ، تو یہ ایسی حالت جس میں انتہائی خوف ظاہر کیا گیا ہے ، جس میں انسان کی نظر ایک جگہ ٹک جاتی ہے۔

یہ دن جس کی طرف اللہ ان کو لے جا رہا ہے اور اس مہلت کے ختم ہونے کا وہاں ان کا انتظار ہو رہا ہے ، تو اے پیغمبر ، ان لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس میں کوئی عذر قبول نہ ہوگا اور کوئی صورت چھٹکارے کی نہ ہوگی۔ چناچہ اس خوفناک دن کا ایک دوسرا منظر لایا جاتا ہے۔

44

وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ ٱلْعَذَابُ فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍۢ

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر۔ تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا

آیت نمبر 44 تا 45

اے پیغمبر ان لوگوں کو اس عذاب سے ڈرائیں جس کا نقشہ ابھی کھینچا گیا ، اس دن یہ ظالم بڑے پر امید ہو کر اور برخوردار بن کر یہ سوال کریں گے ۔ “ ربنا ” (اے ہمارے رب) آج تو وہ بہت احترام سے ربنا کہتے ہیں جبکہ دنیا میں تو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔

اخرنا الی۔۔۔۔۔۔۔ ونتبع الرسل (14 : 44) “ ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ، ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ”۔

اب یہاں حکایتی انداز کلام براہ راست خطاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے ، گویا وہ ہمارے سامنے کھڑے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں ، دعا کر رہے ہیں اور ہم اب میدان محشر میں ہیں ، حیات دنیا کا دفتر لپیٹ دیا گیا ہے اور وہ دیکھو عالم بالا سے ان کو براہ راست مخاطب کر کے سخت سرزنش اور سخت شرمندہ کیا جا رہا ہے اور ان کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ ذرا پیچھے مڑکر دیکھو تم کیا کرتے رہے ہو۔

اولم تکونوا اقستم من قبل مالکم من زوال (14 : 44) “ کیا تم لوگ وہی نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے ”۔ اب تمہاری کیا رائے ہے ؟ تم زوال پذیر ہوگئے یا نہیں ؟ تم تو ایسی باتیں کیا کرتے تھے جبکہ امم سابقہ کے آثار اور تاریخ تمہارے سامنے تھی۔ ظالموں اور سرکشوں کا انجام تو سامنے تھا۔

وسکنتم فی مسکن ۔۔۔۔۔ لکم الامثال (14 : 45) “ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے کر تمہیں سمجھا چکے تھے ”۔ لیکن تمہارا رویہ بھی عجیب تھا کہ ان ظالموں کے کھنڈرات اور ان کے احوال کو دیکھ کر کہ وہ ان سے خالی پڑے ہیں اور ان کے شہروں میں اب تم بس رہے ہو اور پھر بھی تم قسمیں کھا رہے تھے۔ “ تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہے ”۔۔۔ یہاں اب یہ منظر ختم ہوجاتا ہے اور ہم جان لیتے ہیں کہ ان کی دعا اور اسے مسترد کرنے کے بعد اب ان کا انجام کیا ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی میں ایسی صورت حال رات اور دن پیش آتی رہتی ہے۔ کئی سرکش اور ڈکٹیٹر ان لوگوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو ان سے پہلے گزرے اور بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ ان برسر اقتدار سرکشوں کے ہاتھوں ہی وہ مغلوب ہو کر نکالے گئے ہوتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے یہ جانشینان پھر سرکشی اور جباری و قہاری شروع کردیتے ہیں اور عین ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور ہلاکت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے شعور و وجدان کے اندر اس سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے عبرتناک واقعات کوئی ارتعاش پیدا نہیں کرتے حالانکہ ان کی تاریخ پکار رہی ہوتی ہے۔ یہی تمہاری تاریخ ہے۔ پھر جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ بھی ان کے ساتھ ، اسی انجام سے دوچار ہوتے ہوئے جا ملتے ہیں اور اللہ کی زمین ان ناپاک لوگوں سے خالی کردی جاتی ہے۔

اب پردہ گرتا ہے ، قیامت کا منظر لپیٹ دیا جاتا ہے اور ان لوگوں کے موجودہ حالات پر بات شروع ہوتی ہے جو اس دنیا میں موجود تھے۔ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور مومنین کے خلاف رات اور دن سازشیں کر رہے تھے اور زندگی کے میدانوں کے ہر پہلو کے اعتبار سے اسلام کے خلاف فتنے برپا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا مکرو فریب اور پروپیگنڈا جس قدر بھی عظیم ہو تمہیں اللہ اقوام ما قبل ہی کی طرح پکڑے گا۔

45

وَسَكَنتُمْ فِى مَسَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ ٱلْأَمْثَالَ

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں

آیت نمبر 44 تا 45

اے پیغمبر ان لوگوں کو اس عذاب سے ڈرائیں جس کا نقشہ ابھی کھینچا گیا ، اس دن یہ ظالم بڑے پر امید ہو کر اور برخوردار بن کر یہ سوال کریں گے ۔ “ ربنا ” (اے ہمارے رب) آج تو وہ بہت احترام سے ربنا کہتے ہیں جبکہ دنیا میں تو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔

اخرنا الی۔۔۔۔۔۔۔ ونتبع الرسل (14 : 44) “ ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ، ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ”۔

اب یہاں حکایتی انداز کلام براہ راست خطاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے ، گویا وہ ہمارے سامنے کھڑے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں ، دعا کر رہے ہیں اور ہم اب میدان محشر میں ہیں ، حیات دنیا کا دفتر لپیٹ دیا گیا ہے اور وہ دیکھو عالم بالا سے ان کو براہ راست مخاطب کر کے سخت سرزنش اور سخت شرمندہ کیا جا رہا ہے اور ان کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ ذرا پیچھے مڑکر دیکھو تم کیا کرتے رہے ہو۔

اولم تکونوا اقستم من قبل مالکم من زوال (14 : 44) “ کیا تم لوگ وہی نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے ”۔ اب تمہاری کیا رائے ہے ؟ تم زوال پذیر ہوگئے یا نہیں ؟ تم تو ایسی باتیں کیا کرتے تھے جبکہ امم سابقہ کے آثار اور تاریخ تمہارے سامنے تھی۔ ظالموں اور سرکشوں کا انجام تو سامنے تھا۔

وسکنتم فی مسکن ۔۔۔۔۔ لکم الامثال (14 : 45) “ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے کر تمہیں سمجھا چکے تھے ”۔ لیکن تمہارا رویہ بھی عجیب تھا کہ ان ظالموں کے کھنڈرات اور ان کے احوال کو دیکھ کر کہ وہ ان سے خالی پڑے ہیں اور ان کے شہروں میں اب تم بس رہے ہو اور پھر بھی تم قسمیں کھا رہے تھے۔ “ تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہے ”۔۔۔ یہاں اب یہ منظر ختم ہوجاتا ہے اور ہم جان لیتے ہیں کہ ان کی دعا اور اسے مسترد کرنے کے بعد اب ان کا انجام کیا ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی میں ایسی صورت حال رات اور دن پیش آتی رہتی ہے۔ کئی سرکش اور ڈکٹیٹر ان لوگوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو ان سے پہلے گزرے اور بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ ان برسر اقتدار سرکشوں کے ہاتھوں ہی وہ مغلوب ہو کر نکالے گئے ہوتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے یہ جانشینان پھر سرکشی اور جباری و قہاری شروع کردیتے ہیں اور عین ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور ہلاکت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے شعور و وجدان کے اندر اس سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے عبرتناک واقعات کوئی ارتعاش پیدا نہیں کرتے حالانکہ ان کی تاریخ پکار رہی ہوتی ہے۔ یہی تمہاری تاریخ ہے۔ پھر جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ بھی ان کے ساتھ ، اسی انجام سے دوچار ہوتے ہوئے جا ملتے ہیں اور اللہ کی زمین ان ناپاک لوگوں سے خالی کردی جاتی ہے۔

اب پردہ گرتا ہے ، قیامت کا منظر لپیٹ دیا جاتا ہے اور ان لوگوں کے موجودہ حالات پر بات شروع ہوتی ہے جو اس دنیا میں موجود تھے۔ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور مومنین کے خلاف رات اور دن سازشیں کر رہے تھے اور زندگی کے میدانوں کے ہر پہلو کے اعتبار سے اسلام کے خلاف فتنے برپا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا مکرو فریب اور پروپیگنڈا جس قدر بھی عظیم ہو تمہیں اللہ اقوام ما قبل ہی کی طرح پکڑے گا۔

46

وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُمْ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں

آیت نمبر 46

اللہ ان کو بھی گھیرے ہوئے ہے اور ان کی مکاری بھی اللہ کے دائرہ قدرت میں ہے اگرچہ ان کی تدابیر اس قدر سخت اور شدید ہوں کہ ان کے ذریعہ پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹایا جاسکتا ہو۔ ظاہر ہے کہ کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے لئے بہت بڑی قوت کی ضرورت ہے اور اس کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اگرچہ یہ بہت بڑے بڑے مکر اور فریب کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی فریب اللہ کے دائرہ قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اللہ جس طرح چاہے وہ ان کی مکاریوں کو ختم کرسکتا ہے۔

47

فَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِۦ رُسُلَهُۥٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍۢ

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا بےشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے

آیت نمبر 47

یہ لوگ جو تدابیر کرتے ہیں یہ اللہ کے مقابلے میں موثر نہیں ہیں اور اللہ اپنے رسولوں اور اپنی تحریکات کی جب مدد کرنا چاہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ “ وہ تو زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے ”۔

اس سے کوئی ظالم بچ کر نہیں نکل سکتا اور کوئی مکار اس کے عذاب سے نجات نہیں پا سکتا۔ یہاں ظلم اور سرکشی اور عظیم مکاری کے بالمقابل لفظ انتقام لایا گیا ہے جو نہایت موزوں ہے کیونکہ ظالم اور مکار سے انتقام لینا مناسب ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف جب انتقام کی نسبت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ظلم و سرکشی کی مناسب جزاء و سزا اور اس میں بھی عادلانہ طریق کار۔ اور یہ عادلانہ جزاء و سزا تب واقعہ ہوگی۔

48

يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلْأَرْضُ غَيْرَ ٱلْأَرْضِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ ۖ وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ وزبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے

یہ کیونکر ہوگا ، اس کی تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ہے ، نہ ہمیں معلوم ہے کہ اس دوسری زمین کی طبیعات کیسی ہوں گی اور یہ ہوگی کہاں ، البتہ قرآن کی یہ آیات ہمارے شعور کے اندر یہ تاثر بٹھاتی ہے کہ یہ لوگ کیا ہیں اور ان کی مکاریاں کیا ہیں ، اللہ کی قدرت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ زمین و آسمان کو بدل کر رکھ دے گا۔ ان کی کامیابیاں اللہ کے مقابلے میں حقیر اور معمولی ہیں۔ وہ دیکھو دوسرے منظر میں یہ زمین و آسمان تو قدرت نے بدل کر رکھ دئیے ! !

آیت نمبر 48

ترجمہ : ان کو یہ احساس ہوجائے گا کہ وہ تو اللہ کے سامنے کھلے اور ننگے کھڑے ہیں۔ کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہے وہ اپنے گھروں میں نہیں ہیں ! وہ تو قبروں میں بھی نہیں ! وہ تو ایک کھلے میدان میں اللہ واحد وقہار کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہاں “ قہار ” کا لفظ عمداً استعمال ہوا تا کہ سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کو ذرا متنبہ کردیا جائے کہ ان کی سرکشی اللہ کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ اگرچہ یہ سرکشی اور مکاری اس قدر سخت ہو کہ اس سے پہاڑوں کو بنایا جاسکتا ہو۔

اب ہمارے سامنے مناظر عذاب قیامت میں سے ایک شدید اور سخت منظر پیش کیا جاتا ہے جو نہایت ذلیل کرنے والا ہے اور سرکشوں اور جابر مکاروں کے لئے موزوں ہے۔

49

وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍۢ مُّقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں

آیت نمبر 49 تا 50

ان مجرموں کا منظر یوں ہے کہ دو دو زنجیروں میں بندھے ہوں گے۔ صف در صف جا رہے ہوں گے۔ اللہ قہار کی طرف سے یہ ان کی تذلیل ہوگی۔ مزید یہ کہ ان کا لباس ایک ایسے مواد سے بنا ہوگا جو سخت آتش گیر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاہ تارکول سے ہوگا۔ یہ ان کی مزید تذلیل ہوگی۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے قریب آتے ہی یہ لوگ شعلوں کے نذر ہوں گے۔

وتغشی وجوھم النار (14 : 50) “ ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی ”۔ یہ ایک ذلیل عذاب ہوگا ، اور ان کے مکر اور سرکشی اور استکبار کے لئے مناسب علاج۔

50

سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍۢ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپیٹ رہی ہوگی

آیت نمبر 49 تا 50

ان مجرموں کا منظر یوں ہے کہ دو دو زنجیروں میں بندھے ہوں گے۔ صف در صف جا رہے ہوں گے۔ اللہ قہار کی طرف سے یہ ان کی تذلیل ہوگی۔ مزید یہ کہ ان کا لباس ایک ایسے مواد سے بنا ہوگا جو سخت آتش گیر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاہ تارکول سے ہوگا۔ یہ ان کی مزید تذلیل ہوگی۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے قریب آتے ہی یہ لوگ شعلوں کے نذر ہوں گے۔

وتغشی وجوھم النار (14 : 50) “ ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی ”۔ یہ ایک ذلیل عذاب ہوگا ، اور ان کے مکر اور سرکشی اور استکبار کے لئے مناسب علاج۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.