رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ
اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو
اور (یاد کرو!) جب کہا ابراہیم نے، اے میرے رب! تو بنا دے اس شہر (مکہ) کو امن والااوردور رکھ مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم عبادت کریں بتوں کی (35) اے میرے رب! بلاشبہ انھوں نے گمراہ کیے ہیں بہت سے لوگ، پس جس شخص نے پیروی کی میری تو بے شک وہ میرا ہے اور جس نے نافرمانی کی میری، سو تو بڑا بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے (36) اے ہمارے رب! بے شک میں نے بسائی ہے اپنی کچھ اولاد ایک ایسی وادی میں جو نہیں ہے کھیتی والی، نزدیک تیرے حرمت والے گھر (کعبے) کے، اے ہمارے رب! تاکہ وہ قائم کریں نماز، پس کر دے تو دل کچھ لوگوں کے کہ مائل ہوں ان کی طرف اور تو رزق دے انھیں پھلوں سے تاکہ وہ (تیرا) شکر کریں (37) اے رب ہمارے! بے شک تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں اور نہیں چھپتی اوپر اللہ کے کوئی بھی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں (38) تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، وہ جس نے عطا کیے مجھے باوجود بڑھاپے کے اسماعیل اور اسحق، بے شک میرا رب ، البتہ خوب سننے والا ہے دعا کا (39) اے میرے رب! بنا دے مجھے قائم رکھنے والا نماز کو اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! اور تو قبول فرما میری دعا (40)اے ہمارے رب! تو بخش دے مجھ کو اور میرے ماں باپ کواور (سب) مومنوں کو جس دن قائم ہو گا حساب (41)
[35]﴿ وَ ﴾ ’’اور۔‘‘ یعنی اس حالت جمیلہ میں ابراہیمu کو یاد کیجیے ﴿ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰؔذَا الۡبَلَدَ ﴾ ’’جب ابراہیم نے کہا، اے رب! بنا دے اس شہر کو‘‘ یعنی حرم مبارک کو ﴿ اٰمِنًا ﴾ ’’امن والا‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے شرعاً اور قدراً آپ کی دعا قبول فرمائی اور اس کی حرمت کے اسباب میسر فرمائے جو کہ ہمیں معلوم ہیں حتیٰ کہ اگر کوئی ظالم حرم میں برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے جیسے اصحاب فیل کے ساتھ کیا تھا… ابراہیمu نے اپنے لیے، اپنے بیٹوں کے لیے اور اس ارض محترم کے لیے امن کی دعا کی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَّاجۡنُبۡنِيۡ وَبَنِيَّ اَنۡ نَّعۡبُدَ الۡاَصۡنَامَ ﴾ ’’اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے دور رکھ‘‘ یعنی ان کے قریب جانے سے بچا۔
[36] پھر آپ نے اپنے اور اپنی اولاد کے بارے میں ان خدشات کا ذکر فرمایا جو انھیں اکثر لوگوں کے ان بتوں کی عبادت کے فتنے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے لاحق ہوئے، اس لیے انھوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضۡلَلۡنَ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ﴾ ’’اے پروردگار! انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔‘‘ یعنی ان کے سبب سے بہت سے لوگ گمراہ ہوئے۔ ﴿ فَمَنۡ تَبِعَنِيۡ ﴾ ’’پس جس نے میری اتباع کی۔‘‘ یعنی توحید الٰہی اور اخلاص للہ میں جس نے میری پیروی کی۔ ﴿ فَاِنَّهٗ مِنِّيۡ﴾ ’’تو وہ میرا ہے۔‘‘ یعنی کامل موافقت کی وجہ سے وہ مجھ سے ہے، جو کوئی جس قوم سے محبت کرتا ہے اور اس کی پیروی کرتا ہے، وہ اسی قوم سے ملحق شمار ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ عَصَانِيۡ فَاِنَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بہت بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یہ حضرت خلیلu کی شفقت ہے کہ انھوں نے گناہ گاروں کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ صرف اسے عذاب دے گا جو سرکشی اختیار کرتا ہے۔
[37]﴿ رَبَّنَاۤ اِنِّيۡۤ اَسۡكَنۡتُ مِنۡ ذُرِّيَّتِيۡ بِوَادٍ غَيۡرِ ذِيۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَيۡتِكَ الۡمُحَرَّمِ﴾ ’’اے رب! میں نے بسایا ہے اپنی ایک اولاد کو، ایسے میدان میں جہاں کھیتی نہیں ، تیرے محترم گھر کے پاس‘‘ یعنی آنجنابﷺ نے حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ [ کو شام سے لا کر مکہ مکرمہ کی سرزمین میں بسایا تھا، اس وقت حضرت اسماعیلu دودھ پیتے تھے۔اس وقت یہ وادی بالکل سنسان تھی اور اس میں کوئی آبادی نہ تھی۔ جب آپ نے ماں بیٹے کو اس وادی میں آباد کر دیا تو اس وقت …