Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 41–50 of 52

41

رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ

اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو

اور (یاد کرو!) جب کہا ابراہیم نے، اے میرے رب! تو بنا دے اس شہر (مکہ) کو امن والااوردور رکھ مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم عبادت کریں بتوں کی (35) اے میرے رب! بلاشبہ انھوں نے گمراہ کیے ہیں بہت سے لوگ، پس جس شخص نے پیروی کی میری تو بے شک وہ میرا ہے اور جس نے نافرمانی کی میری، سو تو بڑا بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے (36) اے ہمارے رب! بے شک میں نے بسائی ہے اپنی کچھ اولاد ایک ایسی وادی میں جو نہیں ہے کھیتی والی، نزدیک تیرے حرمت والے گھر (کعبے) کے، اے ہمارے رب! تاکہ وہ قائم کریں نماز، پس کر دے تو دل کچھ لوگوں کے کہ مائل ہوں ان کی طرف اور تو رزق دے انھیں پھلوں سے تاکہ وہ (تیرا) شکر کریں (37) اے رب ہمارے! بے شک تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں اور نہیں چھپتی اوپر اللہ کے کوئی بھی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں (38) تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، وہ جس نے عطا کیے مجھے باوجود بڑھاپے کے اسماعیل اور اسحق، بے شک میرا رب ، البتہ خوب سننے والا ہے دعا کا (39) اے میرے رب! بنا دے مجھے قائم رکھنے والا نماز کو اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! اور تو قبول فرما میری دعا (40)اے ہمارے رب! تو بخش دے مجھ کو اور میرے ماں باپ کواور (سب) مومنوں کو جس دن قائم ہو گا حساب (41)

[35]﴿ وَ ﴾ ’’اور۔‘‘ یعنی اس حالت جمیلہ میں ابراہیمu کو یاد کیجیے ﴿ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰؔذَا الۡبَلَدَ ﴾ ’’جب ابراہیم نے کہا، اے رب! بنا دے اس شہر کو‘‘ یعنی حرم مبارک کو ﴿ اٰمِنًا ﴾ ’’امن والا‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے شرعاً اور قدراً آپ کی دعا قبول فرمائی اور اس کی حرمت کے اسباب میسر فرمائے جو کہ ہمیں معلوم ہیں حتیٰ کہ اگر کوئی ظالم حرم میں برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے جیسے اصحاب فیل کے ساتھ کیا تھا… ابراہیمu نے اپنے لیے، اپنے بیٹوں کے لیے اور اس ارض محترم کے لیے امن کی دعا کی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَّاجۡنُبۡنِيۡ وَبَنِيَّ اَنۡ نَّعۡبُدَ الۡاَصۡنَامَ ﴾ ’’اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے دور رکھ‘‘ یعنی ان کے قریب جانے سے بچا۔

[36] پھر آپ نے اپنے اور اپنی اولاد کے بارے میں ان خدشات کا ذکر فرمایا جو انھیں اکثر لوگوں کے ان بتوں کی عبادت کے فتنے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے لاحق ہوئے، اس لیے انھوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضۡلَلۡنَ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ﴾ ’’اے پروردگار! انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔‘‘ یعنی ان کے سبب سے بہت سے لوگ گمراہ ہوئے۔ ﴿ فَمَنۡ تَبِعَنِيۡ ﴾ ’’پس جس نے میری اتباع کی۔‘‘ یعنی توحید الٰہی اور اخلاص للہ میں جس نے میری پیروی کی۔ ﴿ فَاِنَّهٗ مِنِّيۡ﴾ ’’تو وہ میرا ہے۔‘‘ یعنی کامل موافقت کی وجہ سے وہ مجھ سے ہے، جو کوئی جس قوم سے محبت کرتا ہے اور اس کی پیروی کرتا ہے، وہ اسی قوم سے ملحق شمار ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ عَصَانِيۡ فَاِنَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بہت بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یہ حضرت خلیلu کی شفقت ہے کہ انھوں نے گناہ گاروں کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ صرف اسے عذاب دے گا جو سرکشی اختیار کرتا ہے۔

[37]﴿ رَبَّنَاۤ اِنِّيۡۤ اَسۡكَنۡتُ مِنۡ ذُرِّيَّتِيۡ بِوَادٍ غَيۡرِ ذِيۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَيۡتِكَ الۡمُحَرَّمِ﴾ ’’اے رب! میں نے بسایا ہے اپنی ایک اولاد کو، ایسے میدان میں جہاں کھیتی نہیں ، تیرے محترم گھر کے پاس‘‘ یعنی آنجنابﷺ نے حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ [ کو شام سے لا کر مکہ مکرمہ کی سرزمین میں بسایا تھا، اس وقت حضرت اسماعیلu دودھ پیتے تھے۔اس وقت یہ وادی بالکل سنسان تھی اور اس میں کوئی آبادی نہ تھی۔ جب آپ نے ماں بیٹے کو اس وادی میں آباد کر دیا تو اس وقت …

42

وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍۢ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَٰرُ

اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

اور نہ گمان کریں آپ اللہ کو بے خبر اس سے جو عمل کرتے ہیں ظالم، یقینا وہ مہلت دیتا ہے اس دن تک کہ پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اس میں آنکھیں (42) دوڑ رہے ہوں گے وہ (محشر کی طرف) اٹھائے اپنے سروں کو، نہیں لوٹے گی (خود) ان کی طرف ان کی نگاہ اور ان کے دل (عقل و شعور سے) خالی ہوں گے (43)

[42] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ظالموں کے لیے سخت وعید اور مظلوموں کے لیے تسلی ہے، فرمایا ﴿وَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور ہرگز مت خیال کریں کہ اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم کرتے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو مہلت دی ہے اور ان کو نہایت فراوانی سے رزق عطا کیا اور ان کو چھوڑ دیا کہ وہ نہایت اطمینان اور امن کے ساتھ چلیں پھریں ۔ پس یہ مہلت اور رزق کی فراوانی ان کے حسن حال پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں میں اضافہ ہو جائے یہاں تک کہ جب وہ اسے پکڑ لیتا ہے تو پھر وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود: 11 ؍102)’’اور اسی طرح ہوتی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی بستی کو اس کے ظلم کے سبب سے پکڑتا ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی سخت اور المناک ہوتی ہے۔‘‘ یہاں ظلم سے مراد وہ ظلم بھی ہے جو بندے اور اس کے رب کے مابین ہے اور وہ ظلم بھی ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر روا رکھتا ہے۔﴿اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’ان کو تو اس دن کے لیے ڈھیل دے رکھی ہے کہ کھلی رہ جائیں گی اس میں آنکھیں ‘‘ یعنی ہول اور دہشت کی وجہ سے آنکھیں ادھر ادھر دیکھ نہیں سکیں گی، کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

[43]﴿مُهۡطِعِيۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہوں گے‘‘ جب پکارنے والا انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حساب دینے کے لیے پکارے گا تو وہ جلدی سے اس پکار پر لبیک کہیں گے، وہ اس سے بچ نہ سکیں گے، ان کا کوئی ٹھکانا ہو گا نہ کوئی پناہ گاہ ﴿ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ ﴾ ’’اوپر اٹھائے اپنے سر‘‘ یعنی اپنے سروں کو اس طرح اٹھائے ہوئے ہوں گے کہ ان کے ہاتھ ان کی ٹھوڑیوں کے ساتھ بندھے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھ جائیں گے۔ ﴿ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ ﴾ ’’ان کی طرف ان کی آنکھیں پھر کر نہیں آئیں گی اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے‘‘ ان کے دل خالی ہوں گے اور حلق تک آجائیں گے مگر وہ ہر قسم کے غم و ہموم اور حزن و قلق سے لبریز ہوں گے۔

43

مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌۭ

(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے

اور نہ گمان کریں آپ اللہ کو بے خبر اس سے جو عمل کرتے ہیں ظالم، یقینا وہ مہلت دیتا ہے اس دن تک کہ پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اس میں آنکھیں (42) دوڑ رہے ہوں گے وہ (محشر کی طرف) اٹھائے اپنے سروں کو، نہیں لوٹے گی (خود) ان کی طرف ان کی نگاہ اور ان کے دل (عقل و شعور سے) خالی ہوں گے (43)

[42] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ظالموں کے لیے سخت وعید اور مظلوموں کے لیے تسلی ہے، فرمایا ﴿وَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور ہرگز مت خیال کریں کہ اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم کرتے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو مہلت دی ہے اور ان کو نہایت فراوانی سے رزق عطا کیا اور ان کو چھوڑ دیا کہ وہ نہایت اطمینان اور امن کے ساتھ چلیں پھریں ۔ پس یہ مہلت اور رزق کی فراوانی ان کے حسن حال پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں میں اضافہ ہو جائے یہاں تک کہ جب وہ اسے پکڑ لیتا ہے تو پھر وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود: 11 ؍102)’’اور اسی طرح ہوتی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی بستی کو اس کے ظلم کے سبب سے پکڑتا ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی سخت اور المناک ہوتی ہے۔‘‘ یہاں ظلم سے مراد وہ ظلم بھی ہے جو بندے اور اس کے رب کے مابین ہے اور وہ ظلم بھی ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر روا رکھتا ہے۔﴿اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’ان کو تو اس دن کے لیے ڈھیل دے رکھی ہے کہ کھلی رہ جائیں گی اس میں آنکھیں ‘‘ یعنی ہول اور دہشت کی وجہ سے آنکھیں ادھر ادھر دیکھ نہیں سکیں گی، کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

[43]﴿مُهۡطِعِيۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہوں گے‘‘ جب پکارنے والا انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حساب دینے کے لیے پکارے گا تو وہ جلدی سے اس پکار پر لبیک کہیں گے، وہ اس سے بچ نہ سکیں گے، ان کا کوئی ٹھکانا ہو گا نہ کوئی پناہ گاہ ﴿ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ ﴾ ’’اوپر اٹھائے اپنے سر‘‘ یعنی اپنے سروں کو اس طرح اٹھائے ہوئے ہوں گے کہ ان کے ہاتھ ان کی ٹھوڑیوں کے ساتھ بندھے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھ جائیں گے۔ ﴿ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ ﴾ ’’ان کی طرف ان کی آنکھیں پھر کر نہیں آئیں گی اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے‘‘ ان کے دل خالی ہوں گے اور حلق تک آجائیں گے مگر وہ ہر قسم کے غم و ہموم اور حزن و قلق سے لبریز ہوں گے۔

44

وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ ٱلْعَذَابُ فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍۢ

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر۔ تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا

اور آپ ڈرائیں لوگوں کو اس دن سے کہ آئے گا (اس دن) ان پر عذاب، پس کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا تھا، اے ہمارے رب! مہلت دے ہمیں تھوڑی سی مدت تک، ہم قبول کر لیں گے تیری دعوت اور پیروی کریں گے رسولوں کی، (تو کہا جائے گا) کیا نہیں تھے تم کہ قسمیں کھاتے تھے پہلے اس سے کہ نہیں ہے تمھارے لیے کوئی زوال (44)اور آباد تھے تم گھروں میں انھی لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا تھا اپنی جانوں پراورواضح ہو گیا تھا واسطے تمھارے کہ کیسا (سلوک) کیا ہم نے ساتھ ان کے؟ اور بیان کی تھیں ہم نے تمھارے لیے مثالیں (45) اور تحقیق مکر كيے تھے انھوں نے اپنے مکراور اللہ کے پاس ہیں ان کے مکراور نہ تھے مکر ان کے کہ ٹل جاتے بوجہ ان (مکروں ) کے پہاڑ (46)

[44] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡذِرِ النَّاسَ يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمُ الۡعَذَابُ ﴾ یعنی ان کے سامنے اس دن کے احوال کا وصف بیان کیجیے اور انھیں برے اعمال سے ڈرايے جو اس عذاب کے موجب ہیں جو انھیں شدائد میں آ پکڑے گا۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’تب ظالم لوگ کہیں گے۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، تکذیب اور دیگر معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا وہ اپنے کرتوتوں پر نادم ہوکر واپس دنیا میں لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے مگر یہ واپس لوٹنے کا وقت نہ ہو گا۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے ہمارے رب مہلت دے ہم کو تھوڑی دیر تک‘‘ یعنی ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے ہم پر ہر بات واضح ہو چکی ہے ﴿ نُّجِبۡ دَعۡوَتَكَ ﴾ ’’کہ ہم قبول کر لیں تیری دعوت کو‘‘ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَ نَتَّبِـعِ الرُّسُلَ ﴾ ’’اور پیروی کر لیں ہم رسولوں کی‘‘ ان کی یہ تمام آہ و زاریاں دردناک عذاب سے گلو خلاصی کے لیے ہوں گی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں ۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر انھیں واپس بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام دوبارہ کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔‘‘ اس لیے ان کو سخت زجروتوبیخ کی جائے گی اور کہا جائے گا ﴿ اَوَلَمۡ تَكُوۡنُوۡۤا اَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَا لَكُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴾ ’’کیا تم پہلے قسمیں نہ کھاتے تھے کہ تم کو دنیا سے نہیں ٹلنا‘‘ یعنی اس دنیا سے منتقل ہو کر آخرت میں نہیں جاؤ گے، یہ تو اب تم پر واضح ہو گیا کہ تم اپنی قسم میں سخت جھوٹے تھے اور جو تم دعوے کیا کرتے تھے وہ تمھارے سب دعوے بھی جھوٹ تھے۔

[45]﴿ وَ ﴾ تمھارے اعمال کی کوتاہی کی وجہ یہ نہ تھی کہ تمھارے پاس واضح دلائل نہ آئے تھے۔ بلکہ ﴿ سَكَنۡتُمۡ فِيۡ مَسٰكِنِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَتَبَيَّنَ لَكُمۡ كَيۡفَ فَعَلۡنَا بِهِمۡ ﴾ ’’تم ان بستیوں میں آباد تھے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تم پر واضح ہو گیا تھا کہ کیسا کیا ہم نے ان کے ساتھ‘‘ ان کو مختلف انواع کی سزائیں دے کر اور جب انھوں نے واضح دلائل کی تکذیب کی تو کیسے ہم نے ان پر عذاب نازل کیا؟ ہم نے تمھارے سامنے واضح مثالیں بیان کر دی ہیں جو دل میں شک کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نہیں رہنے دیتیں ۔ پس ان آیات بینات نے تمھیں کوئی فائدہ نہ دیا بلکہ اس کے برعکس تم نے روگردانی کی اور اپنے باطل پر جمے رہے، حتیٰ کہ تم پر یہ روز بد آ گیا جس میں تمھاری جھوٹی معذرت خواہی کوئی فائدہ نہ دے گی۔

[46]﴿ وَقَدۡ مَكَرُوۡا﴾ ’’اور چال چلی‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والوں نے ﴿ مَكۡرَهُمۡ ﴾ ’’اپنی چال‘‘ ایسی ایسی چالیں چلیں جن کا انھوں نے ارادہ کیا اور جو وہ چل سکتے تھے۔ ﴿ وَعِنۡدَ اللّٰهِ مَكۡرُهُمۡ﴾ ’’اور اللہ کے ہاں ہے ان کی چال‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم اور اپنی قدرت کے ذریعے سے ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان کی چالیں لوٹ کر انھی کے خلاف گئیں ۔ ﴿وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾(فاطر: 35؍43) …

45

وَسَكَنتُمْ فِى مَسَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ ٱلْأَمْثَالَ

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں

اور آپ ڈرائیں لوگوں کو اس دن سے کہ آئے گا (اس دن) ان پر عذاب، پس کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا تھا، اے ہمارے رب! مہلت دے ہمیں تھوڑی سی مدت تک، ہم قبول کر لیں گے تیری دعوت اور پیروی کریں گے رسولوں کی، (تو کہا جائے گا) کیا نہیں تھے تم کہ قسمیں کھاتے تھے پہلے اس سے کہ نہیں ہے تمھارے لیے کوئی زوال (44)اور آباد تھے تم گھروں میں انھی لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا تھا اپنی جانوں پراورواضح ہو گیا تھا واسطے تمھارے کہ کیسا (سلوک) کیا ہم نے ساتھ ان کے؟ اور بیان کی تھیں ہم نے تمھارے لیے مثالیں (45) اور تحقیق مکر كيے تھے انھوں نے اپنے مکراور اللہ کے پاس ہیں ان کے مکراور نہ تھے مکر ان کے کہ ٹل جاتے بوجہ ان (مکروں ) کے پہاڑ (46)

[44] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡذِرِ النَّاسَ يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمُ الۡعَذَابُ ﴾ یعنی ان کے سامنے اس دن کے احوال کا وصف بیان کیجیے اور انھیں برے اعمال سے ڈرايے جو اس عذاب کے موجب ہیں جو انھیں شدائد میں آ پکڑے گا۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’تب ظالم لوگ کہیں گے۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، تکذیب اور دیگر معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا وہ اپنے کرتوتوں پر نادم ہوکر واپس دنیا میں لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے مگر یہ واپس لوٹنے کا وقت نہ ہو گا۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے ہمارے رب مہلت دے ہم کو تھوڑی دیر تک‘‘ یعنی ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے ہم پر ہر بات واضح ہو چکی ہے ﴿ نُّجِبۡ دَعۡوَتَكَ ﴾ ’’کہ ہم قبول کر لیں تیری دعوت کو‘‘ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَ نَتَّبِـعِ الرُّسُلَ ﴾ ’’اور پیروی کر لیں ہم رسولوں کی‘‘ ان کی یہ تمام آہ و زاریاں دردناک عذاب سے گلو خلاصی کے لیے ہوں گی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں ۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر انھیں واپس بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام دوبارہ کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔‘‘ اس لیے ان کو سخت زجروتوبیخ کی جائے گی اور کہا جائے گا ﴿ اَوَلَمۡ تَكُوۡنُوۡۤا اَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَا لَكُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴾ ’’کیا تم پہلے قسمیں نہ کھاتے تھے کہ تم کو دنیا سے نہیں ٹلنا‘‘ یعنی اس دنیا سے منتقل ہو کر آخرت میں نہیں جاؤ گے، یہ تو اب تم پر واضح ہو گیا کہ تم اپنی قسم میں سخت جھوٹے تھے اور جو تم دعوے کیا کرتے تھے وہ تمھارے سب دعوے بھی جھوٹ تھے۔

[45]﴿ وَ ﴾ تمھارے اعمال کی کوتاہی کی وجہ یہ نہ تھی کہ تمھارے پاس واضح دلائل نہ آئے تھے۔ بلکہ ﴿ سَكَنۡتُمۡ فِيۡ مَسٰكِنِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَتَبَيَّنَ لَكُمۡ كَيۡفَ فَعَلۡنَا بِهِمۡ ﴾ ’’تم ان بستیوں میں آباد تھے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تم پر واضح ہو گیا تھا کہ کیسا کیا ہم نے ان کے ساتھ‘‘ ان کو مختلف انواع کی سزائیں دے کر اور جب انھوں نے واضح دلائل کی تکذیب کی تو کیسے ہم نے ان پر عذاب نازل کیا؟ ہم نے تمھارے سامنے واضح مثالیں بیان کر دی ہیں جو دل میں شک کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نہیں رہنے دیتیں ۔ پس ان آیات بینات نے تمھیں کوئی فائدہ نہ دیا بلکہ اس کے برعکس تم نے روگردانی کی اور اپنے باطل پر جمے رہے، حتیٰ کہ تم پر یہ روز بد آ گیا جس میں تمھاری جھوٹی معذرت خواہی کوئی فائدہ نہ دے گی۔

[46]﴿ وَقَدۡ مَكَرُوۡا﴾ ’’اور چال چلی‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والوں نے ﴿ مَكۡرَهُمۡ ﴾ ’’اپنی چال‘‘ ایسی ایسی چالیں چلیں جن کا انھوں نے ارادہ کیا اور جو وہ چل سکتے تھے۔ ﴿ وَعِنۡدَ اللّٰهِ مَكۡرُهُمۡ﴾ ’’اور اللہ کے ہاں ہے ان کی چال‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم اور اپنی قدرت کے ذریعے سے ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان کی چالیں لوٹ کر انھی کے خلاف گئیں ۔ ﴿وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾(فاطر: 35؍43) …

46

وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُمْ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں

اور آپ ڈرائیں لوگوں کو اس دن سے کہ آئے گا (اس دن) ان پر عذاب، پس کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا تھا، اے ہمارے رب! مہلت دے ہمیں تھوڑی سی مدت تک، ہم قبول کر لیں گے تیری دعوت اور پیروی کریں گے رسولوں کی، (تو کہا جائے گا) کیا نہیں تھے تم کہ قسمیں کھاتے تھے پہلے اس سے کہ نہیں ہے تمھارے لیے کوئی زوال (44)اور آباد تھے تم گھروں میں انھی لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا تھا اپنی جانوں پراورواضح ہو گیا تھا واسطے تمھارے کہ کیسا (سلوک) کیا ہم نے ساتھ ان کے؟ اور بیان کی تھیں ہم نے تمھارے لیے مثالیں (45) اور تحقیق مکر كيے تھے انھوں نے اپنے مکراور اللہ کے پاس ہیں ان کے مکراور نہ تھے مکر ان کے کہ ٹل جاتے بوجہ ان (مکروں ) کے پہاڑ (46)

[44] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡذِرِ النَّاسَ يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمُ الۡعَذَابُ ﴾ یعنی ان کے سامنے اس دن کے احوال کا وصف بیان کیجیے اور انھیں برے اعمال سے ڈرايے جو اس عذاب کے موجب ہیں جو انھیں شدائد میں آ پکڑے گا۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’تب ظالم لوگ کہیں گے۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، تکذیب اور دیگر معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا وہ اپنے کرتوتوں پر نادم ہوکر واپس دنیا میں لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے مگر یہ واپس لوٹنے کا وقت نہ ہو گا۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے ہمارے رب مہلت دے ہم کو تھوڑی دیر تک‘‘ یعنی ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے ہم پر ہر بات واضح ہو چکی ہے ﴿ نُّجِبۡ دَعۡوَتَكَ ﴾ ’’کہ ہم قبول کر لیں تیری دعوت کو‘‘ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَ نَتَّبِـعِ الرُّسُلَ ﴾ ’’اور پیروی کر لیں ہم رسولوں کی‘‘ ان کی یہ تمام آہ و زاریاں دردناک عذاب سے گلو خلاصی کے لیے ہوں گی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں ۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر انھیں واپس بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام دوبارہ کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔‘‘ اس لیے ان کو سخت زجروتوبیخ کی جائے گی اور کہا جائے گا ﴿ اَوَلَمۡ تَكُوۡنُوۡۤا اَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَا لَكُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴾ ’’کیا تم پہلے قسمیں نہ کھاتے تھے کہ تم کو دنیا سے نہیں ٹلنا‘‘ یعنی اس دنیا سے منتقل ہو کر آخرت میں نہیں جاؤ گے، یہ تو اب تم پر واضح ہو گیا کہ تم اپنی قسم میں سخت جھوٹے تھے اور جو تم دعوے کیا کرتے تھے وہ تمھارے سب دعوے بھی جھوٹ تھے۔

[45]﴿ وَ ﴾ تمھارے اعمال کی کوتاہی کی وجہ یہ نہ تھی کہ تمھارے پاس واضح دلائل نہ آئے تھے۔ بلکہ ﴿ سَكَنۡتُمۡ فِيۡ مَسٰكِنِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَتَبَيَّنَ لَكُمۡ كَيۡفَ فَعَلۡنَا بِهِمۡ ﴾ ’’تم ان بستیوں میں آباد تھے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تم پر واضح ہو گیا تھا کہ کیسا کیا ہم نے ان کے ساتھ‘‘ ان کو مختلف انواع کی سزائیں دے کر اور جب انھوں نے واضح دلائل کی تکذیب کی تو کیسے ہم نے ان پر عذاب نازل کیا؟ ہم نے تمھارے سامنے واضح مثالیں بیان کر دی ہیں جو دل میں شک کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نہیں رہنے دیتیں ۔ پس ان آیات بینات نے تمھیں کوئی فائدہ نہ دیا بلکہ اس کے برعکس تم نے روگردانی کی اور اپنے باطل پر جمے رہے، حتیٰ کہ تم پر یہ روز بد آ گیا جس میں تمھاری جھوٹی معذرت خواہی کوئی فائدہ نہ دے گی۔

[46]﴿ وَقَدۡ مَكَرُوۡا﴾ ’’اور چال چلی‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والوں نے ﴿ مَكۡرَهُمۡ ﴾ ’’اپنی چال‘‘ ایسی ایسی چالیں چلیں جن کا انھوں نے ارادہ کیا اور جو وہ چل سکتے تھے۔ ﴿ وَعِنۡدَ اللّٰهِ مَكۡرُهُمۡ﴾ ’’اور اللہ کے ہاں ہے ان کی چال‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم اور اپنی قدرت کے ذریعے سے ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان کی چالیں لوٹ کر انھی کے خلاف گئیں ۔ ﴿وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾(فاطر: 35؍43) …

47

فَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِۦ رُسُلَهُۥٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍۢ

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا بےشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے

پس نہ گمان کریں آپ اللہ کو خلاف کرنے والا اپنے وعدے کا، اپنے رسولوں سے، بے شک اللہ غالب ہے، انتقام لینے والا (47) جس دن کہ بدل دی جائے گی یہ زمین اور زمین سے اور آسمان بھی اور سامنے ہوں گے وہ لوگ اللہ کے، (جو) ایک ہے بڑا زبردست (48) اور آپ دیکھیں گے مجرموں کو اس دن جکڑے ہوئے ہوں گے وہ زنجیروں میں (49) قمیصیں ان کی ہوں گی گندھک کی اور ڈھانکتی ہو گی ان کے چہروں کو آگ (50) تاکہ بدلہ دے اللہ ہر نفس کو اس عمل کا جو اس نے کمایا، بے شک اللہ بہت ہی جلد حساب لینے والا ہے (49) یہ (قرآن) پیام ہے لوگوں کے لیےاور تاکہ وہ (لوگ) ڈرائے جائیں اس کے ذریعے سےاور تاکہ وہ جان لیں کہ صرف وہی (اللہ) معبود ہے ایک اور تاکہ نصیحت حاصل کریں عقل والے (52)

[47] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهٖ رُسُلَهٗ ﴾ ’’پس خیال مت کریں کہ اللہ خلاف کرے گا اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور ان کی سعادت، رسولوں کے دشمنوں کی ہلاکت، دنیا میں ان کو بے یارومددگار چھوڑنے اور آخرت میں ان کو سزا دینے کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ پس اس وعدے کا پورا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ صادق القول ہستی کا وعدہ ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ سچے لوگوں ، یعنی اپنے رسولوں کی زبان پر کیا ہے اور یہ مرتبے کے اعتبار سے بلند ترین خبر ہے… خاص طور پر اس بنا پر بھی کہ یہ حکمت الٰہی، سنت ربانی اور عقل انسانی کے مطابق ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ ﴾ ’’بے شک اللہ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز بے بس نہیں کر سکتی، اس لیے کہ وہ ﴿ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’زبردست، بدلہ لینے والا ہے۔‘‘ جب وہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ کرتا ہے تو کوئی اس سے بچ سکتا ہے نہ اسے عاجز کر سکتا ہے اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔

[48]﴿ يَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَيۡرَ الۡاَرۡضِ وَالسَّمٰوٰتُ﴾’’جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔‘‘ یعنی جس روز زمین اور آسمان کو بدل کر کچھ اور ہی بنا دیا جائے گا، یہ تبدیلی ذات کی تبدیلی نہیں بلکہ صفات کی تبدیلی ہو گی کیوں کہ قیامت کے روز زمین کو ہموار کر کے اس طرح پھیلا دیا جائے گا جیسے چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے، روئے زمین پر کوئی پہاڑ یا کوئی بلند جگہ نہ ملے گی تمام زمین ہموار اور برابر ہو جائے گی اور تو اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھے گا اور آسمان اس دن کی دہشت کی وجہ سے پگھلے ہوئے تابنے کی مانند ہو جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔﴿ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ ﴾ ’’اور سب لوگ اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز تمام خلائق اپنی قبروں سے اٹھ کھڑی ہو گی اور ان میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے چھپ نہ سکے گا ﴿ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ ﴾ ’’یگانہ، زبردست‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات کی عظمت اور اپنے افعال کی عظمت میں منفرد ہے۔ وہ تمام کائنات پر غالب ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے دست تصرف اور تدبیر کے تحت ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز حرکت کر سکتی ہے نہ ساکن ہو سکتی ہے۔

[49]﴿ وَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھے گا تو گناہ گاروں کو‘‘ جن کا وصف جرم کرنا اور گناہوں کی کثرت ہے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’اس روز‘‘ ﴿مُّقَرَّنِيۡنَ فِي الۡاَصۡفَادِ ﴾ ’’باہم جکڑے ہوں گے زنجیروں میں ‘‘ یعنی تمام مجرموں کو آگ کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا اور ذلیل ترین صورت، بدترین ہیئت اور قبیح ترین حالت میں ان کو جہنم کے عذاب کی طرف ہانکا جائے گا۔

[50]﴿ سَرَابِيۡلُهُمۡ ﴾ ’’ان کے کرتے‘‘ یعنی ان کے کپڑے ﴿ مِّنۡ قَطِرَانٍ ﴾ ’’گندھک کے ہوں گے‘‘ یعنی وہ انتہائی شدید شعلہ زن آگ، سخت حرارت اور جہنم کی بدبو میں ہوں گے۔ ﴿ وَّتَغۡشٰى وُجُوۡهَهُمُ ﴾ ’’اور ان کے چہروں …

48

يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلْأَرْضُ غَيْرَ ٱلْأَرْضِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ ۖ وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ وزبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے

پس نہ گمان کریں آپ اللہ کو خلاف کرنے والا اپنے وعدے کا، اپنے رسولوں سے، بے شک اللہ غالب ہے، انتقام لینے والا (47) جس دن کہ بدل دی جائے گی یہ زمین اور زمین سے اور آسمان بھی اور سامنے ہوں گے وہ لوگ اللہ کے، (جو) ایک ہے بڑا زبردست (48) اور آپ دیکھیں گے مجرموں کو اس دن جکڑے ہوئے ہوں گے وہ زنجیروں میں (49) قمیصیں ان کی ہوں گی گندھک کی اور ڈھانکتی ہو گی ان کے چہروں کو آگ (50) تاکہ بدلہ دے اللہ ہر نفس کو اس عمل کا جو اس نے کمایا، بے شک اللہ بہت ہی جلد حساب لینے والا ہے (49) یہ (قرآن) پیام ہے لوگوں کے لیےاور تاکہ وہ (لوگ) ڈرائے جائیں اس کے ذریعے سےاور تاکہ وہ جان لیں کہ صرف وہی (اللہ) معبود ہے ایک اور تاکہ نصیحت حاصل کریں عقل والے (52)

[47] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهٖ رُسُلَهٗ ﴾ ’’پس خیال مت کریں کہ اللہ خلاف کرے گا اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور ان کی سعادت، رسولوں کے دشمنوں کی ہلاکت، دنیا میں ان کو بے یارومددگار چھوڑنے اور آخرت میں ان کو سزا دینے کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ پس اس وعدے کا پورا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ صادق القول ہستی کا وعدہ ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ سچے لوگوں ، یعنی اپنے رسولوں کی زبان پر کیا ہے اور یہ مرتبے کے اعتبار سے بلند ترین خبر ہے… خاص طور پر اس بنا پر بھی کہ یہ حکمت الٰہی، سنت ربانی اور عقل انسانی کے مطابق ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ ﴾ ’’بے شک اللہ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز بے بس نہیں کر سکتی، اس لیے کہ وہ ﴿ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’زبردست، بدلہ لینے والا ہے۔‘‘ جب وہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ کرتا ہے تو کوئی اس سے بچ سکتا ہے نہ اسے عاجز کر سکتا ہے اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔

[48]﴿ يَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَيۡرَ الۡاَرۡضِ وَالسَّمٰوٰتُ﴾’’جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔‘‘ یعنی جس روز زمین اور آسمان کو بدل کر کچھ اور ہی بنا دیا جائے گا، یہ تبدیلی ذات کی تبدیلی نہیں بلکہ صفات کی تبدیلی ہو گی کیوں کہ قیامت کے روز زمین کو ہموار کر کے اس طرح پھیلا دیا جائے گا جیسے چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے، روئے زمین پر کوئی پہاڑ یا کوئی بلند جگہ نہ ملے گی تمام زمین ہموار اور برابر ہو جائے گی اور تو اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھے گا اور آسمان اس دن کی دہشت کی وجہ سے پگھلے ہوئے تابنے کی مانند ہو جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔﴿ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ ﴾ ’’اور سب لوگ اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز تمام خلائق اپنی قبروں سے اٹھ کھڑی ہو گی اور ان میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے چھپ نہ سکے گا ﴿ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ ﴾ ’’یگانہ، زبردست‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات کی عظمت اور اپنے افعال کی عظمت میں منفرد ہے۔ وہ تمام کائنات پر غالب ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے دست تصرف اور تدبیر کے تحت ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز حرکت کر سکتی ہے نہ ساکن ہو سکتی ہے۔

[49]﴿ وَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھے گا تو گناہ گاروں کو‘‘ جن کا وصف جرم کرنا اور گناہوں کی کثرت ہے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’اس روز‘‘ ﴿مُّقَرَّنِيۡنَ فِي الۡاَصۡفَادِ ﴾ ’’باہم جکڑے ہوں گے زنجیروں میں ‘‘ یعنی تمام مجرموں کو آگ کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا اور ذلیل ترین صورت، بدترین ہیئت اور قبیح ترین حالت میں ان کو جہنم کے عذاب کی طرف ہانکا جائے گا۔

[50]﴿ سَرَابِيۡلُهُمۡ ﴾ ’’ان کے کرتے‘‘ یعنی ان کے کپڑے ﴿ مِّنۡ قَطِرَانٍ ﴾ ’’گندھک کے ہوں گے‘‘ یعنی وہ انتہائی شدید شعلہ زن آگ، سخت حرارت اور جہنم کی بدبو میں ہوں گے۔ ﴿ وَّتَغۡشٰى وُجُوۡهَهُمُ ﴾ ’’اور ان کے چہروں …

49

وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍۢ مُّقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں

پس نہ گمان کریں آپ اللہ کو خلاف کرنے والا اپنے وعدے کا، اپنے رسولوں سے، بے شک اللہ غالب ہے، انتقام لینے والا (47) جس دن کہ بدل دی جائے گی یہ زمین اور زمین سے اور آسمان بھی اور سامنے ہوں گے وہ لوگ اللہ کے، (جو) ایک ہے بڑا زبردست (48) اور آپ دیکھیں گے مجرموں کو اس دن جکڑے ہوئے ہوں گے وہ زنجیروں میں (49) قمیصیں ان کی ہوں گی گندھک کی اور ڈھانکتی ہو گی ان کے چہروں کو آگ (50) تاکہ بدلہ دے اللہ ہر نفس کو اس عمل کا جو اس نے کمایا، بے شک اللہ بہت ہی جلد حساب لینے والا ہے (49) یہ (قرآن) پیام ہے لوگوں کے لیےاور تاکہ وہ (لوگ) ڈرائے جائیں اس کے ذریعے سےاور تاکہ وہ جان لیں کہ صرف وہی (اللہ) معبود ہے ایک اور تاکہ نصیحت حاصل کریں عقل والے (52)

[47] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهٖ رُسُلَهٗ ﴾ ’’پس خیال مت کریں کہ اللہ خلاف کرے گا اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور ان کی سعادت، رسولوں کے دشمنوں کی ہلاکت، دنیا میں ان کو بے یارومددگار چھوڑنے اور آخرت میں ان کو سزا دینے کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ پس اس وعدے کا پورا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ صادق القول ہستی کا وعدہ ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ سچے لوگوں ، یعنی اپنے رسولوں کی زبان پر کیا ہے اور یہ مرتبے کے اعتبار سے بلند ترین خبر ہے… خاص طور پر اس بنا پر بھی کہ یہ حکمت الٰہی، سنت ربانی اور عقل انسانی کے مطابق ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ ﴾ ’’بے شک اللہ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز بے بس نہیں کر سکتی، اس لیے کہ وہ ﴿ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’زبردست، بدلہ لینے والا ہے۔‘‘ جب وہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ کرتا ہے تو کوئی اس سے بچ سکتا ہے نہ اسے عاجز کر سکتا ہے اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔

[48]﴿ يَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَيۡرَ الۡاَرۡضِ وَالسَّمٰوٰتُ﴾’’جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔‘‘ یعنی جس روز زمین اور آسمان کو بدل کر کچھ اور ہی بنا دیا جائے گا، یہ تبدیلی ذات کی تبدیلی نہیں بلکہ صفات کی تبدیلی ہو گی کیوں کہ قیامت کے روز زمین کو ہموار کر کے اس طرح پھیلا دیا جائے گا جیسے چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے، روئے زمین پر کوئی پہاڑ یا کوئی بلند جگہ نہ ملے گی تمام زمین ہموار اور برابر ہو جائے گی اور تو اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھے گا اور آسمان اس دن کی دہشت کی وجہ سے پگھلے ہوئے تابنے کی مانند ہو جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔﴿ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ ﴾ ’’اور سب لوگ اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز تمام خلائق اپنی قبروں سے اٹھ کھڑی ہو گی اور ان میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے چھپ نہ سکے گا ﴿ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ ﴾ ’’یگانہ، زبردست‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات کی عظمت اور اپنے افعال کی عظمت میں منفرد ہے۔ وہ تمام کائنات پر غالب ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے دست تصرف اور تدبیر کے تحت ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز حرکت کر سکتی ہے نہ ساکن ہو سکتی ہے۔

[49]﴿ وَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھے گا تو گناہ گاروں کو‘‘ جن کا وصف جرم کرنا اور گناہوں کی کثرت ہے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’اس روز‘‘ ﴿مُّقَرَّنِيۡنَ فِي الۡاَصۡفَادِ ﴾ ’’باہم جکڑے ہوں گے زنجیروں میں ‘‘ یعنی تمام مجرموں کو آگ کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا اور ذلیل ترین صورت، بدترین ہیئت اور قبیح ترین حالت میں ان کو جہنم کے عذاب کی طرف ہانکا جائے گا۔

[50]﴿ سَرَابِيۡلُهُمۡ ﴾ ’’ان کے کرتے‘‘ یعنی ان کے کپڑے ﴿ مِّنۡ قَطِرَانٍ ﴾ ’’گندھک کے ہوں گے‘‘ یعنی وہ انتہائی شدید شعلہ زن آگ، سخت حرارت اور جہنم کی بدبو میں ہوں گے۔ ﴿ وَّتَغۡشٰى وُجُوۡهَهُمُ ﴾ ’’اور ان کے چہروں …

50

سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍۢ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپیٹ رہی ہوگی

پس نہ گمان کریں آپ اللہ کو خلاف کرنے والا اپنے وعدے کا، اپنے رسولوں سے، بے شک اللہ غالب ہے، انتقام لینے والا (47) جس دن کہ بدل دی جائے گی یہ زمین اور زمین سے اور آسمان بھی اور سامنے ہوں گے وہ لوگ اللہ کے، (جو) ایک ہے بڑا زبردست (48) اور آپ دیکھیں گے مجرموں کو اس دن جکڑے ہوئے ہوں گے وہ زنجیروں میں (49) قمیصیں ان کی ہوں گی گندھک کی اور ڈھانکتی ہو گی ان کے چہروں کو آگ (50) تاکہ بدلہ دے اللہ ہر نفس کو اس عمل کا جو اس نے کمایا، بے شک اللہ بہت ہی جلد حساب لینے والا ہے (49) یہ (قرآن) پیام ہے لوگوں کے لیےاور تاکہ وہ (لوگ) ڈرائے جائیں اس کے ذریعے سےاور تاکہ وہ جان لیں کہ صرف وہی (اللہ) معبود ہے ایک اور تاکہ نصیحت حاصل کریں عقل والے (52)

[47] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهٖ رُسُلَهٗ ﴾ ’’پس خیال مت کریں کہ اللہ خلاف کرے گا اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور ان کی سعادت، رسولوں کے دشمنوں کی ہلاکت، دنیا میں ان کو بے یارومددگار چھوڑنے اور آخرت میں ان کو سزا دینے کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ پس اس وعدے کا پورا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ صادق القول ہستی کا وعدہ ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ سچے لوگوں ، یعنی اپنے رسولوں کی زبان پر کیا ہے اور یہ مرتبے کے اعتبار سے بلند ترین خبر ہے… خاص طور پر اس بنا پر بھی کہ یہ حکمت الٰہی، سنت ربانی اور عقل انسانی کے مطابق ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ ﴾ ’’بے شک اللہ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز بے بس نہیں کر سکتی، اس لیے کہ وہ ﴿ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’زبردست، بدلہ لینے والا ہے۔‘‘ جب وہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ کرتا ہے تو کوئی اس سے بچ سکتا ہے نہ اسے عاجز کر سکتا ہے اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔

[48]﴿ يَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَيۡرَ الۡاَرۡضِ وَالسَّمٰوٰتُ﴾’’جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔‘‘ یعنی جس روز زمین اور آسمان کو بدل کر کچھ اور ہی بنا دیا جائے گا، یہ تبدیلی ذات کی تبدیلی نہیں بلکہ صفات کی تبدیلی ہو گی کیوں کہ قیامت کے روز زمین کو ہموار کر کے اس طرح پھیلا دیا جائے گا جیسے چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے، روئے زمین پر کوئی پہاڑ یا کوئی بلند جگہ نہ ملے گی تمام زمین ہموار اور برابر ہو جائے گی اور تو اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھے گا اور آسمان اس دن کی دہشت کی وجہ سے پگھلے ہوئے تابنے کی مانند ہو جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔﴿ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ ﴾ ’’اور سب لوگ اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز تمام خلائق اپنی قبروں سے اٹھ کھڑی ہو گی اور ان میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے چھپ نہ سکے گا ﴿ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ ﴾ ’’یگانہ، زبردست‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات کی عظمت اور اپنے افعال کی عظمت میں منفرد ہے۔ وہ تمام کائنات پر غالب ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے دست تصرف اور تدبیر کے تحت ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز حرکت کر سکتی ہے نہ ساکن ہو سکتی ہے۔

[49]﴿ وَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھے گا تو گناہ گاروں کو‘‘ جن کا وصف جرم کرنا اور گناہوں کی کثرت ہے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’اس روز‘‘ ﴿مُّقَرَّنِيۡنَ فِي الۡاَصۡفَادِ ﴾ ’’باہم جکڑے ہوں گے زنجیروں میں ‘‘ یعنی تمام مجرموں کو آگ کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا اور ذلیل ترین صورت، بدترین ہیئت اور قبیح ترین حالت میں ان کو جہنم کے عذاب کی طرف ہانکا جائے گا۔

[50]﴿ سَرَابِيۡلُهُمۡ ﴾ ’’ان کے کرتے‘‘ یعنی ان کے کپڑے ﴿ مِّنۡ قَطِرَانٍ ﴾ ’’گندھک کے ہوں گے‘‘ یعنی وہ انتہائی شدید شعلہ زن آگ، سخت حرارت اور جہنم کی بدبو میں ہوں گے۔ ﴿ وَّتَغۡشٰى وُجُوۡهَهُمُ ﴾ ’’اور ان کے چہروں …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.