رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ
اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو
آیت نمبر 35 تا 41
اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر کریں ، غفلت کے بجائے نصیحت حاصل کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ جو بدراہ و گمراہ ہوگئے ، واپس ان کی اصلی راہ پر آجائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کر کے راہ ہدایت پر آجائیں۔
رب اجعل ھذا البلد امنا (14 : 35) ” پروردگار ، اس شہر (یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا دے “۔ امن وہ نعمت ہے جو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کے احساسات پر امن بہت اثر کرتا ہے ، کیونکہ انسان کی زندگی جاری ہی امن سے رہ سکتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائے امن کو اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ ذرا عقل کے ناخن لو اور اس شہر کے امن کو تباہ نہ کرو ، بڑی دعاؤں کے بعد یہ ملا ہے ۔ تم ایک طویل عرصہ ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہو اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتے ہو اور شکر نہیں کرتے۔ یہ امن اس شہر کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں سے حاصل ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور دین کو چھوڑ چکے ہو ، اور یوں نا شکری کرتے ہو۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس خانہ توحید میں تم نے اللہ کے شریکوں کے بت رکھ چھوڑے ہیں ، تم اس شہر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اس حصے پر تو غور کرو۔
واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( 14 : 35) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رب کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے التجا کر رہے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیو ، آپ اپنی دعا میں مدد بھی طلب فرماتے ہیں اور راہنمائی بھی چاہتے ہیں۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ہدایت کو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے دل شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکل آتا ہے اور جہالت کے بدلے علم اور تاریکی کے بدلے روشنی پاتا ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور توحید کی ہدایت اور روشنی ۔ توحید میں آخر انسان حیرت اور پریشانی کے تہ بہ تہ اندھیروں سے نکل جاتا ہے اور گمراہی اور بدکرداری سے بچ نکلتا ہے ۔ وہ روشن دماغ ، پرسکون اور برقرار ہوتا ہے اور مختلف الہٰوں اور خداؤں کی بندگی سے نکل کر اور ذلت اور غلامی سے نکل کر ، ایک خدا کی نہایت ہی باعزت بندگی میں داخل ہوتا ہے اور ایک آزاد زندگی پاتا ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رب تعالیٰ نے کر رکھے تھے۔ اب وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ انعامات برقرار ہیں۔ وہ بھی اور ان کی اولاد بھی بت پرستی کی لعنت سے دور رہے
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ما حول میں ان کی ہم عصر نسلوں میں سے اکثریت کو بت پرستی نے گمراہ کر رکھا ہے ، سابقہ لوگ بھی اس میں مبتلائے ہوئے اور خلق کثیر کو ان بتوں نے گمراہ کیا۔
رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14 : 36) ” اے رب ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے “۔ اب یہ دعا اعلان کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ …