Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 41–50 of 52

41

رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ

اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو

رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ ۔۔ : والد کے لیے بخشش کی دعا وہ وعدہ پورا کرنے کے لیے تھی جو انھوں نے گھر سے نکلتے وقت اس سے کیا تھا، مگر جب وہ شرک ہی پر فوت ہوگیا اور اللہ سے اس کی دشمنی ختم ہونے کی امید ہی نہ رہی تو وہ اس سے صاف بری ہوگئے۔ (دیکھیے توبہ : ١١٤) رہی اپنی والدہ کے لیے دعا تو شاید وہ پہلے ہی مسلمان ہوچکی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق تفصیل سے کچھ بیان نہیں فرمایا۔ تمام مومنین کے حق میں مغفرت کی دعا نوح (علیہ السلام) (نوح : ٢٨) سے لے کر ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (بخاری : ٧٥١٠) تک انبیاء اور اہل ایمان کرتے چلے آئے ہیں۔ (دیکھیے حشر : ١٠)

42

وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍۢ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَٰرُ

اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا ۔۔ :” الظّٰلِمُوْنَ “ سے مراد یہاں کفار اور مشرکین ہیں اور یہ بات اس سورت کی آیت (٤٤) سے صاف واضح ہو رہی ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کفار کو مہلت دے رہا ہے تو مت سمجھو کہ وہ ان کے اعمال سے بیخبر ہے۔ - اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ ۔۔ : ” تَشْخَصُ “ باب ” مَنَعَ “ سے ہے، ” شُخُوْصٌ“ کا معنی ہے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے آنکھوں کا کھلا رہ جانا، حرکت نہ کرنا۔

43

مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌۭ

(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے

” مُهْطِعِيْنَ “ تیز دوڑنے والے۔ ” أَھْطَعَ یُھْطِعُ “ (افعال) کا معنی ہے تیز دوڑنا۔ یہ لفظ سورة قمر (٨) اور سورة معارج (٣٦) میں بھی انھی معنوں میں استعمال ہوا ہے، یعنی قبروں سے نکل کر صور کی آواز کی طرف تیزی سے اس طرح دوڑ کر جا رہے ہوں گے کہ سر اوپر کی طرف اٹھے ہوئے اور آنکھیں کھلی، ٹکٹکی بندھی ہوگی۔ ” مُقْنِعِيْ “ یہ لفظ اصل میں باب افعال سے مذکر اسم فاعل ” مُقْنِعِیْنَ “ تھا، ” رُءُوْسِهِمْ “ کی طرف مضاف ہونے سے نون گرگیا، اس کا معنی ہے دائیں بائیں دیکھے بغیر اوپر کو سر اٹھانا، بعض نے اس کا معنی سر جھکانا بھی کیا ہے۔ (طنطاوی) ” أَفْءِدَۃٌ“ ” فُوَادٌ“ کی جمع ہے، بمعنی دل۔ ” مُقْنِعِيْ “ کا معنی ہے خالی، یعنی ان کے دل گھبراہٹ کی وجہ سے سوچ سمجھ سے خالی ہوں گے۔

44

وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ ٱلْعَذَابُ فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍۢ

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر۔ تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا

وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۙنُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۭ اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ 44 ۝ ۙ۔۔ : یعنی لوگوں کو اس دن سے ڈرایے۔ لوگوں سے مراد تمام لوگ ہیں، کیونکہ ڈرانے کی ضرورت تو نیک و بد ہر شخص کو ہے۔ اگرچہ اہل ایمان کی جزا کا بھی وہی دن ہے مگر یہاں مقام ڈرانے کا ہے، اس لیے اسی کا ذکر فرمایا، یا ” النَّاسَ “ سے خصوصاً کفار مراد ہیں۔ عذاب کا دن ظالموں کے لیے دنیا میں کسی وقت اور کسی صورت میں ہوسکتا ہے، موت کا وقت بھی مراد ہے اور قیامت کا بھی۔ اس وقت کفار اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول کرنے اور رسولوں کی پیروی کرنے کے لیے مہلت مانگیں گے، مگر مہلت کہاں۔ اس مفہوم کی آیات قرآن مجید میں بہت ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے سورة مومنون ( ٩٩، ١٠٠) ، سورة سجدہ (١٢) اور منافقون (٩، ١٠) ۔- اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ ۔۔ : ” زَوَالٍ “ کا معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، یا ایک حالت سے دوسری کی طرف منتقل ہونا ہے، یہاں مراد دوبارہ زندہ ہو کر اور قبروں سے نکل کر آخرت کی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے انھیں کہیں گے کہ تم نے تو دنیا میں قسمیں کھائی تھیں کہ مرنے کے بعد ہمیں کبھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مقصد انھیں ان کا ماضی یاد دلا کر مزید ذلیل و خوار کرنا ہوگا، جیسا کہ فرمایا : (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ ۭ بَلٰى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ) [ النحل : ٣٨ ] ” اور انھوں نے اپنی پکی قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جو مرجائے۔ کیوں نہیں وعدہ ہے اس کے ذمے سچا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم تو ایسے متکبر بن گئے اور موت کو بھول بیٹھے تھے کہ قسمیں اٹھاتے تھے کہ ہمارے عروج کو کبھی زوال نہیں۔

45

وَسَكَنتُمْ فِى مَسَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ ٱلْأَمْثَالَ

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں

وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ ۔۔ : یعنی تم لوگ اسی عرب، یمن، عراق اور مصر وغیرہ میں رہ رہے ہو جہاں تم سے پہلے عاد، ثمود، قوم نوح و ابراہیم، قوم لوط اور قوم فرعون رہتے تھے اور ان کے گناہوں کی سزا میں ہم نے ان پر جو عذاب نازل کیے وہ سب تمہیں اچھی طرح معلوم ہوچکے، گو تم زبان سے اقرار نہیں کرتے۔ ہم نے تو تمہیں اپنی کتابوں میں اور اپنے پیغمبروں کی زبانی مثالیں دے دے کر بھی سمجھایا، مثلاً مکھی کی مثال (حج : ٧٣) ، عنکبوت یعنی مکڑی کی مثال۔ (عنکبوت : ٤١) ، کتے کی مثال (اعراف : ١٧٦) اور سراب کی مثال (نور : ٣٩) وغیرہ۔ اس کے علاوہ پہلے کفار کے انجام بطور مثال بھی مراد ہوسکتے ہیں، مثلاً عاد وثمود، فرعون، قوم نوح وغیرہم۔ دیکھیے سورة رعد (٦) اور یونس (١٠٢) ۔

46

وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُمْ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ ۔۔ : یعنی ان پہلے کفار اور موجودہ کفار نے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کے خلاف اپنی زیادہ سے زیادہ اور خطرناک سے خطرناک جو بھی خفیہ تدبیر اور سازش وہ کرسکتے تھے کی۔ ” عِنْدَ اللہِ مَکْرُھُم “ سے یہی مراد ہے اور اللہ کو ان کی ہر سازش کا علم تھا۔ اس آیت کے تحت تفسیروں میں نمرود کا قصہ بھی ذکر کردیا گیا ہے جو صحت کے ساتھ ثابت نہیں۔ (رازی) - وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ : یہ ” اِنْ “ نافیہ (یعنی نہیں کے معنی میں) ہے، اس کے بعد لام پر کسرہ ہے، اسے لام جحد کہتے ہیں جو نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے اور اس کے بعد فعل مضارع ” أَنْ “ کے ساتھ منصوب ہوتا ہے جو لام جحد کے بعد وجوباً محذوف ہوتا ہے۔ عام قراءت یہی ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ” ان کی تدبیر ہرگز ایسی نہ تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں “ یعنی اللہ کا دین جو پہاڑوں کی طرح مستحکم ہے ان کی سازشیں کسی صورت اسے نقصان نہ پہنچا سکتی تھیں۔ - کسائی کی قراءت اس سے مختلف ہے، وہ ” لِتَزُوْلَ “ کو لام کے فتح کے ساتھ اور ” تَزُوْلُ “ کو مرفوع پڑھتے ہیں۔ اس صورت میں ” وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ “ میں ” اِن “ ”إِنَّہُ “ کا (یعنی حرف مشبہ بالفعل ”إِنَّ “ اور اس کے اسم ضمیر شان ” ہٗ “ کا قائم مقام) مخفف ہے اور ” لَتَزُوْلُ “ میں لام ابتدا تاکید کے لیے ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ یقیناً ان کی تدبیر اور سازش ایسی خطرناک اور شدید خوف ناک تھی کہ پہاڑ بھی (اگر کسی طرح اپنی جگہ سے ٹل سکتے تو) ان سازشوں سے ضرور ہی ٹل جاتے۔ - یاد رہے کہ یہ ترجمہ ” لَتَزُوْلُ “ یعنی لام ابتدا مفتوح اور آخری لام مرفوع پڑھنے کی صورت میں ہوگا، پہلی قراءت (یعنی پہلا لام مکسور اور آخری منصوب) کا یہ ترجمہ اگر کوئی کرلے تو وہ درست نہیں ہوگا۔ معنوی طور پر دوسری قراءت بھی بہت عمدہ ہے اور پہلی بھی۔

47

فَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِۦ رُسُلَهُۥٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍۢ

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا بےشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ ۔۔ : اللہ کے وعدے سے مراد دنیا و آخرت میں اللہ کے رسولوں اور اہل ایمان کی نصرت و عزت ہے، جیسا کہ فرمایا : ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ ) [ المؤمن : ٥١ ] ” بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔ “ مزید دیکھیے سورة مجادلہ (٢١) اور سورة ابراہیم (١٣، ١٤) کی تفسیر۔ اس سے مقصود ایک طرف تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا اور دوسری طرف آپ کے مخالفین کو متنبہ کرنا ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء ( علیہ السلام) سے جو ہم نے وعدے کیے وہ سب پورے کیے اسی طرح اپنے آخری رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تائید و نصرت کا جو وعدہ کر رہے ہیں اسے بھی یقیناً پورا کریں گے اور ان لوگوں کو تباہ و برباد کریں گے جو آپ کی مخالفت پر کمربستہ ہیں، کیونکہ اللہ سب پر غالب ہے، انتقام والا ہے۔

48

يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلْأَرْضُ غَيْرَ ٱلْأَرْضِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ ۖ وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ وزبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے

يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ : اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز زمین و آسمان کی موجودہ شکل و صورت بدل جائے گی۔ ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( تَکُوْنُ الْأَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خُبْزَۃً وَاحِدَۃً یَتَکَفَّؤُھَا الْجَبَّارُ بِیَدِہِ کَمَ ٥ ا یَکْفَؤُ أَحَدُکُمْ خُبْزَتَہُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَھْلِ الْجَنَّۃِ ) [ بخاري، الرقاق، باب یقبض اللہ الأرض یوم القیامۃ : ٦٥٢٠۔ مسلم : ٢٧٩٢ ] ” قیامت کے دن زمین ایک روٹی بن جائے گی، جبار (اللہ تعالیٰ ) اسے اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کرے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں اپنی روٹی الٹ پلٹ کرتا ہے، اہل جنت کی مہمان نوازی کے لیے۔ “ - سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، فرماتے تھے : ( یُحْشَرُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی أَرْضٍ بَیْضَاءَ عَفْرَاءَ کَقُرْصَۃِ نَقِيٍّ ، لَیْسَ فِیْہَا مَعْلَمٌ لِأَحَدٍ ) [ بخاري، الرقاق، باب یقبض اللّٰہ الأرض یوم القیامۃ : ٦٥٢١۔ مسلم : ٢٧٩٠ ] ” لوگ قیامت کے دن سفید مٹیالی زمین پر اکٹھے کیے جائیں گے، جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے، اس میں کسی کا کوئی نشان نہیں ہوگا۔ “ قرآن مجید میں بھی ہے کہ قیامت کے دن زمین صاف چٹیل میدان بن جائے گی جس میں کوئی بلندی یا پستی نظر نہیں آئے گی۔ (دیکھے طٰہٰ : ١٠٥ تا ١٠٧) رہا یہ سوال کہ یہ تبدیلی زمین و آسمان کی ذات میں ہوگی یا ان کی صفات میں، تو اس کے بارے میں قرآن مجید یا حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی چیز ثابت نہیں، اس لیے ہمیں اسی پر یقین رکھنا ہوگا جو قرآن کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے۔- وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ : یہ ان مشرکین کے ردّ کے لیے فرمایا جو اپنے شرکاء کا بھی کچھ اختیار سمجھتے ہیں کہ اس دن سب لوگ اس اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے جو اکیلا ہے، بڑا زبردست ہے، کوئی دوسرا کسی اختیار کا مالک نہ ہوگا۔

49

وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍۢ مُّقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں

وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ : ” قَرَنٌ“ قاف اور راء کے فتحہ کے ساتھ، وہ رسی جس میں دو بیل یا دو آدمی اکٹھے بندھے ہوتے ہیں۔ ” مُّقَرَّنِيْنَ “ کئی آدمی جو آپس میں اکٹھے جکڑے ہوتے ہوں۔ سورة صٓ (٣٨) میں ہے : (وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ ) یعنی سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کئی جن کردیے جو زنجیروں میں باہم جکڑے ہوئے تھے۔ لسان العرب میں ہے کہ ” مُّقَرَّنِيْنَ “ یا تو ” مَقْرُوْنِیْنَ “ کے معنی میں ہے، یا باب تفعیل تکثیر کے لیے ہے، یعنی کئی مجرم آپس میں زنجیروں میں بری طرح جکڑے ہوئے ہوں گے۔- فِي الْاَصْفَادِ : ” الْاَصْفَادِ “ ” صَفَدٌ“ (فاء کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے جو اس زنجیر کو کہتے ہیں جو پاؤں میں ڈالی جائے، یا وہ طوق جس کے ساتھ ہاتھ پاؤں کو گردن کی طرف باندھ دیا جاتا ہے۔ [ الوسیط للطنطاوی ] یعنی اے مخاطب تو اس دن کئی مجرموں کو ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں بندھے ہوئے دیکھے گا۔ ہر قسم کا مجرم اپنے جیسے مجرموں کے ساتھ جکڑا ہوا ہوگا۔ دیکھیے سورة فرقان (١٣) اور سورة حاقہ (٣٠ تا ٣٣) اور ہر فاسق اپنے جیسے فاسق کے ساتھ ہوگا۔ دیکھیے سورة صافات (٢٢، ٢٣) اور مریم (٦٨) ۔

50

سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍۢ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپیٹ رہی ہوگی

سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ : ” سَرَابِیْلُ “ ” سِرْبَالٌ“ کی جمع ہے، بمعنی قمیص۔ ” قَطِرَانٍ “ کا معنی قاموس اور لسان العرب میں ہے ابہل، صنوبر (چلغوزہ) اور اس قسم کے درختوں مثلاً چیڑ یا دیار وغیرہ سے نکلنے والی گوند، یعنی رال یا گندہ بیروزا جو تیزی سے جلتا ہے اور سخت بدبو دار ہوتا ہے، خارش زدہ اونٹوں کو ملا جاتا ہے۔ تمام مترجمین کی طرح میں نے بھی پہلے اس کا ترجمہ گندھک کیا تھا، مگر تفسیر کے وقت مختلف لغات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ” قَطِرَانٍ “ رال (بیروزا) ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ تارکول کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اس کا مادہ ” قَطْرٌ“ ٹپکنے کا مفہوم رکھتا ہے، اس لیے اس میں وہ تمام مائع چیزیں مراد ہوسکتی ہیں جو اشتعال پذیر یعنی شعلہ پکڑنے والی ہیں۔ (واللہ اعلم) ابومالک اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلنَّاءِحَۃُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِھَا تُقَامُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلَیْھَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ ) [ مسلم، الجنائز، باب التشدید في النیاحۃ : ٩٣٤ ] ” نوحہ یعنی ماتم و بین کرنے والی عورت اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گی کہ اس پر ” قَطِرَانٌ“ کی قمیص اور خارش کا کرتہ ہوگا۔ “ ابن عباس (رض) کی قراءت ہے ” مِنْ قَطِرٍ آنٍ “ یعنی ان کی قمیصیں کھولتے ہوئے تانبے سے ہوں گی، مگر پہلی قراءت ” قَطِرَانٍ “ متواتر اور راجح ہے۔ چہروں کو آگ سے ڈھانپنے کا خصوصاً ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ جسم کا سب سے باعزت حصہ ہے، اس کا حال یہ ہوگا تو دوسرے حصوں کا کیا حال ہوگا۔ - یہ معاملہ کفار کے ساتھ ہوگا، کیونکہ مومنوں کے سجدے کے آثار (نشانات) کو جلانا اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کردیا ہے۔ ابوہریرہ (رض) کی ایک لمبی حدیث، جس میں قیامت کے کچھ احوال بیان ہوئے ہیں، اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( حَتّٰی إِذَا فَرَغَ اللّٰہُ مِنَ الْقَضَاءِ بَیْنَ الْعِبَادِ ، وَ أَرَادَ أَنْ یُخْرِجَ بِرَحْمَتِہِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ ، أَمَرَ الْمَلاَءِکَۃَ أَنْ یُخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ کَانَ لاَ یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا، مِمَّنْ أَرَاد اللّٰہُ أَنْ یَرْحَمَہُ مِمَّنْ یَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ ، فَیَعْرِفُوْنَھُمْ فِي النَّارِ بِأَثَرِ السُّجُوْدِ ، تَأْکُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُوْدِ ، حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ أَثَرَ السُّجُوْدِ ) [ بخاری، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : ( وجوہ یومئذ ناضرۃ۔۔ ) : ٧٤٣٧ ] ” جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہوں گے اور اہل نار میں سے اپنی رحمت کے ساتھ جسے نکالنا چاہیں گے تو فرشتوں کو حکم دیں گے کہ وہ ان لوگوں کو آگ سے نکال لائیں جنھوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تھا، ان لوگوں میں سے جن پر اللہ رحم کرنا چاہتا ہوگا، جو ” لا الٰہ الا اللہ “ کی شہادت دیتے ہوں گے تو وہ انھیں آگ میں سجدے کے نشان کے ساتھ پہچانیں گے۔ آگ ابن آدم کو کھاجائے گی مگر سجدے کے نشان کو نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کردیا ہے کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے۔ “ - اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سب سے آخر میں جہنم سے نکلنے والے وہ ہوں گے جو شرک سے پاک ہوں گے اور جن کے جسم پر سجدے کے نشان ہوں گے۔ بےنماز اس نشان سے محروم ہوتے ہیں، انھیں اپنا انجام سوچ لینا چاہیے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.