Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 41–50 of 52

41

رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ

اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو

[٤١] سیدنا ابراہیم کی اپنے والدین کے حق میں معافی کی دعا یا تو مشرک کے لیے دعائے مغفرت سے امتناع سے پہلے کی ہے اور یا اپنے باپ سے اس وعدہ کی بنا پر ہے جو آپ نے گھر سے رخصت ہوتے وقت اپنے والد سے کیا تھا جس کا ذکر سورة توبہ کی آیت نمبر ١١٤ میں گزر چکا ہے تاہم یہ دعا اس قدر جامع ہے جو ہر مسلمان کو اپنے والدین کے حق میں مانگتے رہنا چاہیے۔ اور اسی اہمیت کے پیش نظر ہر نماز میں درود کے بعد اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی جاتی ہے۔

42

وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍۢ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَٰرُ

اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

[٤٢] قیامت کی ہولناکی کا ایک منظر :۔ کچھ ظالم ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اللہ دنیا میں بھی سزا دیتا ہے اور آخرت میں تو بہرحال انھیں یقیناً سزا دے گا اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں زندگی بھر دنیا میں سزا نہیں ملتی اور ان کی رسی دراز رکھی جاتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ ان کی کرتوتوں سے بیخبر ہے بلکہ مجرموں کو دنیوی اور اخروی سزا دینے کے لیے بھی اللہ کے ہاں قانون مقرر ہے جس کا انحصار گناہوں کی کمیت اور کیفیت پر ہوتا ہے۔ جن مجرموں کو دنیا میں سزا نہ ملے تو ان کی سزا کو روز آخرت تک موخر کردیا جاتا ہے۔ اس دن کی ہولناکی اور دہشت کا یہ حال ہوگا کہ مجرم اپنی پلکیں بھی نہ جھپک سکیں گے اور ان کی آنکھیں مسلسل یہ منظر دیکھ رہی ہوں گی اور بند بھی نہ ہو سکیں گی۔ وہ اسی حالت میں سر اٹھائے اور نظریں سامنے جمائے میدان محشر کی طرف دوڑ رہے ہوں گے وہ نیچے کی طرف بھی نہ دیکھ سکیں گے اور دہشت سے ان کے دل دھڑک رہے ہوں گے اور کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے۔ اس دن سب لوگ سر تاپا برہنہ ہوں گے اور دہشت کا یہ عالم ہوگا کہ کسی کو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کا خیال نہ آئے گا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔- سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : تم ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ اٹھائے جاؤ گے میں نے کہا یارسول اللہ مرد عورت ایک دوسرے کو دیکھیں گے نہیں ؟ فرمایا : وہ وقت اتنا سخت ہوگا کہ اس بات کے قصد کا کسی کو ہوش ہی نہ ہوگا (بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب کیف الحشر) (مسلم۔ کتاب الجنۃ۔ باب فناء الدنیا وبیان الحشر یوم القیامۃ)

43

مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌۭ

(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے

Explained together with ayah 42

44

وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ ٱلْعَذَابُ فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍۢ

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر۔ تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا

[٤٣] اس دن سے مراد یا تو ان کی موت کا دن ہے اور اس معنی کی تائید سورة مومنون کی آیت نمبر ١٠٠ سے ہوتی ہے اور یا آخرت کا دن ہے اور اس معنی کی تائید سورة السجدہ کی آیت نمبر ١٢ سے ہوتی ہے۔ نیز اس سے اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی تباہ کرنے والا عذاب مراد لیا جاسکتا ہے۔- [٤٤] قریش کا قسم کھانا کہ انھیں کبھی زوال نہیں آئے گا :۔ یعنی زبان حال سے یا قال سے گویا انھیں اس بات کا دل میں اس قدر پختہ یقین تھا جیسے کوئی قسم کھا کر وثوق سے کہتا ہے اور وہ یہ بات تھی کہ ہماری اس شان و شوکت کو کبھی زوال نہیں آسکتا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ صورت حال سامنے لائیے کہ ابتدائے اسلام میں ایک طرف تو رؤسائے قریش تھے جنہیں کعبہ کی تولیت اور بعض دوسری وجوہ سے عرب بھر میں قیادت و سیادت حاصل تھی۔ سارے عرب میں انھیں عزت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا خوشحال اور کھاتے پیتے لوگ تھے اور ان کی عزت اور ناموری کا ڈنکا بجتا تھا۔ دوسری طرف گنتی کے چند بےبس اور ناتواں مسلمان تھے جو ان کے ظلم و استبداد کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ اس صورت میں ان سرداران قریش کو کبھی یہ خیال آسکتا تھا کہ کسی وقت یہ سارا نقشہ الٹ بھی سکتا ہے۔ جب کہ ہم مجبور و محکوم ہوں گے اور یہ مسلمان ہم پر حاکم اور بالادست ہوں گے۔ اسی کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے زبان حال سے قسمیں کھانے سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی سرکش اور متکبر کافر نے فی الواقع ایسی قسم کھائی بھی ہو۔

45

وَسَكَنتُمْ فِى مَسَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ ٱلْأَمْثَالَ

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں

[٤٥] حالانکہ ہم نے سابقہ امتوں کے انجام کی مثالیں دے دے کر تم پر یہ بات واضح کردی تھی کہ ایسا انقلاب آسکتا ہے۔ پہلے بھی آتا رہا ہے اور اب بھی آکے رہے گا اور ان کے قصے تمہارے ہاں زبان زد بھی تھے اور ان کے ہلاک کردہ علاقے تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے بھی رہتے تھے اور انھیں کے علاقوں میں تم میں سے کچھ لوگ آج بھی آباد ہیں۔ لہذا یہ بھی عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں یہاں سے ہٹا کر دوسرے لوگوں کو آگے لے آئے۔

46

وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُمْ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں

[٤٦] کفار مکہ کی زبردست چال کیا تھی ؟ :۔ یہ الفاظ بطور محاورہ استعمال ہوئے ہیں یعنی ان کی چالیں اس قدر یقینی اور تیر بہدف تھیں کہ ان کے خطا ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ وہ چالیں کیا تھیں ؟ اس کا ذکر قرآن کی دوسری آیات میں موجود ہے کہ یا تو اس پیغمبر کو جلا وطن کردیا جائے یا قید کردیا جائے یا قتل کردیا جائے۔ پھر اتقاق اس بات پر ہوا تھا کہ اس کے گھر کا محاصرہ کیا جائے اور یہ محاصرین ہر قبیلے کے ایک ایک فرد پر مشتمل ہوں گے۔ جو سب مل کر حملہ کرکے اس کو قتل کریں گے اور اس طرح پیغمبر اسلام اور اسلام دونوں کا مکمل طور پر قلع قمع ہوجائے گا وغیرذٰلِکَ یہ مطلب اس صورت میں ہے۔ جب (وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ 46 ۔ ) 14 ۔ ابراھیم :46) میں ان کو شرطیہ سمجھا جائے اور بعض مفسرین نے یہاں ان کو نافیہ سمجھا ہے اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ ان کی چالیں کوئی ایسی تو نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ ٹل جاتے۔ یعنی اللہ کی چال کے مقابلہ میں انکی چالوں کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ کی تدبیر ہی ایسی مستحکم ہوتی ہے کہ اس سے پہاڑ بھی ٹل جاتے ہیں۔ ناممکن باتیں بھی ممکن بن جاتی ہیں۔ اور بعض مفسرین ان الفاظ کو صرف قریش مکہ تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ ان الفاظ سے تمام سرکش اقوام مراد لیتے ہیں جنہوں نے نہایت مضبوط اور بلند وبالا عمارتیں تعمیر کر رکھی تھیں کہ اللہ کا عذاب آئے بھی تو وہ محفوظ رہ سکیں۔ پہاڑ ٹل جائیں تو ٹل جائیں مگر ان کی تدبیریں ناکام نہ ہوں۔ مگر جب عذاب آیا تو تباہ و برباد ہوگئے پھر تم ان سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟

47

فَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِۦ رُسُلَهُۥٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍۢ

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا بےشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے

[٤٧] اس آیت میں بظاہر خطاب رسول اللہ کو ہے مگر اصل مقصود مخالفین کو اس بات پر مطلع کرنا ہے کہ اللہ نے اپنے رسولوں سے پہلے بھی جتنے وعدے کیے تھے سب پورے کردیئے تھے اور وقت آنے پر رسولوں کی مدد کی اور ان کے مخالفین کو تباہ و برباد کیا تھا اور آپ سے جو وعدہ کیا جارہا ہے وہ بھی اللہ پورا کرکے رہے گا کیونکہ وہ سب پر غالب اور منکرین حق سے انتقام لینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

48

يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلْأَرْضُ غَيْرَ ٱلْأَرْضِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ ۖ وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ وزبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے

[٤٨] اللہ کی عدالت میں لوگوں کی پیشی اور حساب :۔ نفخہ صور اول کے وقت موجودہ نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا جیسا کہ سورة تکویر اور بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد نفخہ صور ثانی تک کیا کیا تغیرات واقع ہوں گے اور یہ درمیانی عرصہ کتنا ہوگا۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ نفخہ صور ثانی پر ایک نیا نظام کائنات وجود میں لایا جائے گا جس میں یا تو موجودہ زمین و آسمان کی ذوات ہی تبدیل کردی جائیں گی یا ان کی ہیئت میں خاصا تغیر و تبدل واقع ہوگا۔ آیت کے الفاظ میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے۔ اسی نفخہ ثانی کے وقت آدم سے لے کر قیامت تک پیدا شدہ سب انسانوں کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا۔ انہی واقعات کا نام قرآن کی اصطلاح میں حشر ونشر ہے۔ اس نئی زمین اور نئے آسمان کے لیے طبعی قوانین بھی موجودہ قوانین سے الگ ہوں گے اور اسی زمین پر اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی۔ میزان الاعمال رکھی جائے گی اور لوگوں کے اعمال کے مطابق ان کی جزاو سزا کے فیصلے ہوں گے۔- قرآن کی بعض آیات سے زمین میں تبدیلی کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین میں اس دن کوئی بلندی یا پستی نہیں رہے گی۔ سب پہاڑ زمین بوس کردیئے جائیں گے اور سب کھڈے بھر دیئے جائیں گے اس طرح سطح زمین ہموار اور پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جائے گی اور سب سے اہم تبدیلی یہ ہوگی کہ سمندروں، دریاؤں اور ندی نالوں کو خشک کردیا جائے۔ اور سمندر کی سطح کا رقبہ خشکی کے رقبہ سے تین گناہ زیادہ ہے اس طرح موجودہ زمین سے اس وقت کی تبدیل شدہ زمین کم از کم چار گنا بڑھ جائے گی اور دوسرے وہ زمین بالکل ہموار ہوگی۔

49

وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍۢ مُّقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں

[٤٩] مجرموں کی باپہ زنجیر پیشی :۔ مجرموں کو اللہ کے حضور قیدیوں کی صورت میں پابند سلاسل بنا کر پیش کیا جائے گا اور اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ہی نوعیت کے سب مجرموں کو اکٹھا کرکے سب کو ایک ہی زنجیر کے ذریعہ منسلک کردیا جائے گا جیسا کہ قرآن کی بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے۔

50

سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍۢ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپیٹ رہی ہوگی

[٥٠] قطران سے مراد ہر وہ جلنے والا غلیظ مادہ ہے جو بدبودار، گاڑھا اور سیاہ دھواں چھوڑتا ہوا جلتا ہے اور تادیر جلتا رہتا ہے اور بجھنے میں نہیں آتا۔ اس کی آگ کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ آگ مجرموں کے تمام جسم سے لپٹ رہی ہوگی اور چہرہ کا نام بالخصوص اس لیے لیا گیا کہ بدن کی ظاہری ساخت میں سب سے اشرف حصہ چہرہ ہی ہوتا ہے اور چہرہ کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ دوسرے جسم کی نسبت سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.