Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 31–40 of 52

31

قُل لِّعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ سِرًّۭا وَعَلَانِيَةًۭ مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا بَيْعٌۭ فِيهِ وَلَا خِلَٰلٌ

(اے پیغمبر) میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہوگا اور نہ دوستی (کام آئے گی) ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں

قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : انسان سارے ہی اللہ کے بندے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کا ” عِبَادِیْ “ (میرے بندے) کہنا بہت بڑی عزت افزائی ہے، جیسا کہ فرمایا : (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا) [ بنی إسرائیل : ١ ] ” پاک ہے وہ جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا۔ “ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ ان لوگوں سے کہہ دیں جن میں دو وصف ہیں، ایک تو یہ کہ وہ صرف میرے بندے ہیں، کسی غیر کے نہیں، جو اپنے نام عبداللہ، عبد الرحمٰن اور ان جیسے رکھتے ہیں، نہ کہ عبد الحسین، عبد النبی، پیراں دتہ، غوث بخش وغیرہ اور جو قولاً و عملاً صرف میری عبادت اور بندگی کرتے ہیں، نہ کہ کسی غیر کی اور دوسرا وصف یہ کہ وہ ایمان لے آئے ہیں۔ - يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنْفِقُوْا ۔۔ : یہ دونوں فعل لام امر مقدر کی وجہ سے مجزوم ہیں۔ اقامت کا معنی ہے سیدھا کرنا، یعنی نماز کو درست کرکے پڑھیں، اس میں ہمیشگی، وقت پر ادا کرنا، تمام ارکان کو صحیح ادا کرنا اور خشوع کے ساتھ ادا کرنا سب کچھ آجاتا ہے۔ نماز میں بندگی کی ہر قسم کا کچھ نہ کچھ حصہ آجاتا ہے، قبلہ کی طرف رخ حج سے مناسبت رکھتا ہے، قیام، رکوع سجود اور دو زانو ہونا غلامی اور بندگی کے اظہار کی مختلف صورتیں ہیں، نماز کے دوران میں کھانے پینے وغیرہ سے اجتناب روزے سے مناسبت رکھتا ہے، کاروبار چھوڑ کر آنا اس شخص کے لیے ممکن ہی نہیں جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے پر تیار ہی نہیں اور کئی اور چیزیں ایسی ہیں جو صرف نماز ہی میں ہیں، کسی اور عبادت میں نہیں۔ قرآن مجید میں اکثر نماز اور زکوٰۃ یا خرچ کرنا اکٹھا آیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی ان دونوں کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ - مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً : اس میں دو باتوں کی طرف توجہ لازم ہے۔ ایک تو لفظ ” مِنْ “ ہے کہ اللہ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے جان، مال، اولاد، قوت، علم، عزت، غرض جو شمار ہی نہیں ہوسکتا، وہ سارے کا سارا ہم سے خرچ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، کیونکہ اسے ہماری کمزوری کا علم ہے جو اس نے سورة محمد کی آیت (٣٦، ٣٧) میں ذکر فرمائی ہے۔ دوسرا لفظ ” رَزَقْنَا “ ہے کہ تم نے جو کچھ خرچ کرنا ہے ہمارے دیے ہوئے میں سے کرنا ہے، اگر یہ سوچو گے تو دل میں بخل نہیں آئے گا اور اگر سب کچھ اپنا سمجھو گے تو مشکل ہی سے خرچ کرسکو گے۔ ” سِرًّا “ یعنی پوشیدہ اس لیے کہ وہ ریا سے پاک ہے اور ” وَّعَلَانِيَةً “ یعنی علانیہ اس لیے کہ دوسروں کو رغبت ہو، یا فرض زکوٰۃ ہو تو علانیہ دو ، کیونکہ چھپا کردینے سے زکوٰۃ نہ دینے کی تہمت کا خطرہ ہے۔ - مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ : ” خِلٰلٌ“ یہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے، بمعنی دلی دوستی، مراد ہے قیامت کا دن کہ جس میں نیک اعمال خریدے جاسکیں گے نہ کسی کی دوستی اور محبت کام آئے گی کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچا سکے۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” یعنی نیک عمل بکتے نہیں اور کوئی دوستی سے رعایت نہیں کرتا۔ “ (موضح) اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا : (اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ ) [ الزخرف : ٦٧ ] ” سب خلیل (دلی دوست) اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔ “

32

ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزْقًۭا لَّكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْفُلْكَ لِتَجْرِىَ فِى ٱلْبَحْرِ بِأَمْرِهِۦ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْأَنْهَٰرَ

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں (اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اس کے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیر فرمان کیا

اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔۔ : یعنی وہ اللہ جس کی ناشکری پر تم کمربستہ ہو، جس کی اطاعت اور بندگی سے روگردانی کر رہے ہو اور جس کے ساتھ بلادلیل شریک بنا رہے ہو، وہ تو وہ ذات ہے۔۔ اس کے بعد ان تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی دس نعمتیں شمار کی گئی ہیں اور آخر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتیں شمار کرنے کی تم میں طاقت ہی نہیں۔ - الْفُلْكَ : واحد جمع ایک ہی طرح ہے، بڑی کشتیاں، بحری جہاز۔ - وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ : ” الْاَنْهٰرَ “ ” نَھْرٌ“ کی جمع ہے، ندی، نالے اور دریا۔ تم ان سے اپنی کھیتیاں سیراب کرتے ہو اور ان میں جہاز اور کشتیاں چلاتے ہو، مچھلیاں پکڑتے ہو، بجلی پیدا کرتے ہو، ان کے کناروں پر پہاڑوں میں راستے بناتے ہیں، غرض بیشمار فائدے اٹھاتے ہو۔

33

وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ دَآئِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ

اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا

دَاۗىِٕـبَيْنِ : یہ ” دَأَبَ یَدْأَبُ دَأْبًا “ سے اسم فاعل کا تثنیہ ہے، مسلسل چلنا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے چلنے کے لیے جو نظام اور ضابطہ مقرر کردیا ہے اس پر لگا تار چلے جا رہے ہیں، نہ کبھی تھمتے ہیں اور نہ بگڑتے ہیں اور نہ رفتار میں کمی بیشی ہوتی ہے۔

34

وَءَاتَىٰكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ ۗ إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لَظَلُومٌۭ كَفَّارٌۭ

اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے

وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ : یعنی یہ سب کچھ اور بہت کچھ تمہارے مانگے بغیر دیا۔ علاوہ ازیں جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے بھی جتنا چاہا اس نے تمہیں دیا۔ ” من “ تبعیضیہ ہے۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ زبان حال یا قال سے تم نے جو مانگا، یعنی اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے تمہاری حالت جو تقاضا کرتی تھی اور جو بھی تمہاری ضرورت ہوسکتی تھی اس نے اس میں سے جتنا چاہا تمہیں دیا۔ - وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا : یعنی مختصر طور پر بھی نہیں گن سکو گے، کجا یہ کہ تم لا محدود نعمتوں کو شمار کرسکو، تو سوچو تم اس کا شکر کس طرح ادا کرسکتے ہو۔ (شوکانی) ” كَفَّارٌ“ بہت ناشکرا۔ ” اَحْصٰی یُحْصِيْ اِحْصَاءً “ (افعال) شمار کرنا، کیونکہ ” اَلْحَصٰی “ کا معنی کنکری ہے اور عرب کنکریوں کے ذریعے سے شمار کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ کنکریوں سے محدود شمار ہی ہوسکتا ہے۔- اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ : انسان پر اللہ تعالیٰ کے کتنے احسانات ہیں اور ہر آن ہوتے رہتے ہیں، مگر وہ ہے کہ ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو ناشکری پر اتر آتا ہے۔ ” لَظَلُوْمٌ“ سے یہی مراد ہے، یا ” الْاِنْسَانَ “ میں الف لام عہد کا ہے اور مراد کافر انسان ہے کہ وہ اللہ کا حق دوسروں کو دے کر، یعنی غیر اللہ کی عبادت کرکے بہت بڑا ظلم کر رہا ہے۔ فرمایا : (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : ١٣ ]” بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔ “ کیونکہ ظلم کا معنی ہے ” وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَیْرِ مَحَلِّہِ “ کہ کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ رکھ دینا۔ تو کافر انسان اللہ کی نعمتیں استعمال کرکے نہ اس کی عبادت کرتا ہے نہ اطاعت بلکہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو مخلوق کے احسانات شمار کرتا ہے، کبھی کسی کو جھولی بھرنے والا کہتا ہے، کبھی کسی کو داتا کہتا ہے، کبھی کسی کو دستگیر، کبھی کسی کو مشکل کشا۔” الْاِنْسَانَ “ سے مراد یہاں کافر انسان ہونے کی دلیل اس سلسلۂ آیات کی ابتدا بھی ہے، فرمایا : (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ 28؀ۙ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۭ وَبِئْسَ الْقَرَارُ ) [ إبراہیم : ٢٨، ٢٩ ] ” کیا تو نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا، جہنم میں، وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔ “ یہ اس کی زبردست ناشکری ہے۔ اے کافر انسان افسوس تیری اس کافری اور ناشکری پر۔ کاش تو اپنے اصل داتا اور دستگیر کا احسان مانتا، اسی کا شکر ادا کرتا ؂- بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی - مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

35

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَٰذَا ٱلْبَلَدَ ءَامِنًۭا وَٱجْنُبْنِى وَبَنِىَّ أَن نَّعْبُدَ ٱلْأَصْنَامَ

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لیے) امن کی جگہ بنا دے۔ اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ ۔۔ : عام احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب خاص اس احسان کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں پر کیا تھا اور وہ تھا ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا ان کے جد اعلیٰ اسماعیل (علیہ السلام) کو یہاں لا کر آباد کرنا۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) نے کن تمناؤں کے ساتھ تمہیں یہاں لا کر بسایا تھا اور کس طرح اس شہر کے پرامن بنانے کی اور اپنے اور اپنے بیٹوں کے لیے بت پرستی سے محفوظ رہنے کی دعا کی تھی، مگر آج تم ان احسانات کو بھول گئے اور بت پرستی کو اپنا دین قرار دے دیا۔ - اٰمِنًا : یہ ” ذَا اَمْنٍ “ (امن والا) کے معنی میں ہے، جیسے ” لَابِنٌ“ (دودھ والا) اور ” تَامِرٌ“ (کھجور والا) ہے۔ سورة بقرہ (١٢٦) میں ” هٰذَا بَلَداً اٰمِنًا “ اور یہاں ” هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا “ میں فرق یہ ہے کہ سورة بقرہ میں ” ھٰذَا “ پہلا مفعول اور ” بَلَداً “ دوسرا مفعول ہے، جب کہ یہاں ” ہَذا البلد “ پہلا مفعول اور ” اٰمناً “ دوسرا مفعول ہے۔ دونوں جگہ ترجمے کا فرق ملاحظہ فرمائیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ سورة بقرہ (١٢٦) میں موجود پہلی دعا ” رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَداً اٰمِنًا “ اس وقت کی ہے جب شہر نہیں بنا تھا، تو دعا کی کہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا دے اور دوسری دعا اس وقت کی جب شہر بن چکا تھا، اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہوچکے تھے کہ پروردگار اس شہر کو امن والا بنا دے۔ امن ایک بہت بڑی نعمت ہے اور خوف بہت بڑی آزمائش ہے۔ رازی فرماتے ہیں، ایک عالم سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کو بیماری اور خوف میں سے ایک کے انتخاب پر مجبور کیا جائے تو آپ کیا اختیار کریں گے ؟ انھوں نے فرمایا، میں بیماری کو اختیار کروں گا کہ اس میں آدمی کھا پی اور سو تو سکتا ہے، خوف میں اس سے بھی محروم ہوجاتا ہے، آپ ایک بکری کا تصور کریں جس کی ٹانگ ٹوٹ جائے، وہ کھاتی پیتی رہے گی، سو بھی جائے گی، مگر ایک تندرست بکری جس کے سامنے بھیڑیا ہو، وہ نہ کھا سکے گی، نہ پی سکے گی اور نہ آرام کرسکے گی، حتیٰ کہ نوبت موت تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورة قریش میں بھوک سے کھلانے اور خوف سے امن دینے کی نعمت کا ذکر فرما کر قریش کو خاص اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ - وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ : ” جَنَبَ یَجْنُبُ “ یہ ” نصر “ سے اور افعال اور تفعیل سے ایک ہی معنی میں آتا ہے۔ ” صنم “ اس پتھر یا لکڑی یا کسی دھات کے بنائے ہوئے بت، تصویر یا مجسمے کو کہتے ہیں جو کسی انسان یا فرشتے یا دیوتا کی حقیقی یا خیالی صورت پر پوجا کے لیے بنایا گیا ہو، جب کہ ” وثن “ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو غیر اللہ کی عبادت کے لیے مختص ہو، خواہ قبر ہو یا درخت یا دریا یا بت یا کوئی جانور یا انسان وغیرہ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم اور اپنے والد کی صنم پرستی اور اس پر اصرار اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اس لیے وہ اپنے یا اپنی اولاد کے اس میں مبتلا ہونے سے سخت خوف زدہ تھے، سو انھوں نے یہ دعا کی۔ ” بَنِیَّ “ میں ساری اولاد شامل ہے، جیسے بنی آدم یا بنی اسرائیل۔ بیٹوں کی حد تک تو دعا قبول ہوئی، مگر ساری اولاد کے حق میں بعینہٖ قبول نہیں ہوئی، جیسا کہ فرمایا : (وَمِنْ ذُرِّيَّـتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ) [ الصافات : ١١٣ ] ” اور ان دونوں (ابراہیم اور اسحاق) کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔ “ یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کا مالک ہے، وہ اپنی حکمت کے مطابق دعا کرنے والے کی دعا کا جتنا حصہ چاہتا ہے اس کی خواہش کے مطابق پورا کردیتا ہے اور جو حصہ چاہتا ہے کسی اور صورت میں عطا کردیتا ہے۔ دعا کسی صورت بھی ضائع نہیں جاتی، البتہ مرضی اسی کی چلتی ہے، کسی دوسرے حتیٰ کہ انبیاء کی بھی نہیں۔ ہمیں …

36

رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنِى فَإِنَّهُۥ مِنِّى ۖ وَمَنْ عَصَانِى فَإِنَّكَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے۔ اور جس نے میری نافرمانی کی تو تُو بخشنے والا مہربان ہے

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ ۔۔ : صنم پرستی عام ہونے اور لوگوں کے بہت جلد اس میں مبتلا ہونے کی بڑی وجہیں دو ہیں، ایک تو یہ کہ ان دیکھے معبود (اللہ تعالیٰ ) پر یقین رکھنے کے بجائے انسان چاہتا ہے کہ وہ ایسی چیز کی عبادت کرے جو اسے نظر آئے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ ظاہر کوئی چیز نہیں، کیونکہ کائنات کی ہر چیز اپنے بنانے والے کے وجود اور توحید کی شہادت دے رہی ہے اور لطف یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا یہ دعویٰ نہیں کہ یہ زمین و آسمان اور ساری کائنات میں نے بنائی ہے، اگر کوئی یہ دعویٰ کرلے تو ہر شخص اسے جھوٹا کہے گا، بلکہ خود اس کا دل اسے جھٹلائے گا کہ آسمان و زمین تو تجھ سے اور تیرے باپ دادا سے لاکھوں برس پہلے کے بنے ہوئے ہیں۔ وہ اگرچہ ظاہر ہے مگر اس کی ذات سے زیادہ کوئی چیز آنکھوں سے غائب بھی نہیں، کیونکہ کسی میں اسے دیکھنے کی تاب ہی نہیں۔ [ هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ] اس لیے وہ پہلا تقاضا ہی ایمان بالغیب کا کرتا ہے، کوئی اس کے دیدار کا شوق رکھے یا درخواست کرے، جیسے موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تو وہ ناراض نہیں ہوتا بلکہ جنت میں اپنے دیدار کا وعدہ کرتا ہے، مگر کوئی ایمان لانے کے لیے دیکھنے کی شرط لگائے، جیسے بنی اسرائیل نے کہا : (لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً ) [ البقرۃ : ٥٥ ] ”(اے موسیٰ ) ہم تیرے لیے ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کو صاف سامنے نہ دیکھ لیں “ تو پھر اس کی آتش غضب بھڑک اٹھتی ہے، پھر کبھی تو وہ بجلی گرا کر بھسم کردیتا ہے اور اکثر کو اس نے مہلت دے رکھی ہے، قیامت کو انھیں ان کے مطالبے کا جواب دے گا۔ غرض یہی انسان کی بےوقوفی ہے کہ جب وہ اپنی کمزوری کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا تو ایمان بالغیب کے بجائے نظر آنے والا رب گھڑ کر اس کی پوجا شروع کردیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوسرا سبب محبت میں غلو بھی شامل ہوجاتا ہے، یعنی جس ہستی سے بھی اس کو حد سے زیادہ محبت ہوتی ہے، اسے نیک سمجھتا ہے یا اس کی ہیبت سے ڈرتا ہے، اس کا بت بنا کر اسے پوجنا شروع کردیتا ہے۔ قوم نوح میں صنم پرستی کی ابتدا اسی طرح ہوئی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نوح۔ بیشمار قوموں کے صنم پرستی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ابراہیم (علیہ السلام) کہہ رہے ہیں کہ اے پروردگار ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا، مراد یہ ہے کہ یہ ان کی گمراہی کا باعث بن گئے، جیسے کہتے ہیں کہ سڑک لاہور لے جاتی ہے، وہ تو صرف ذریعہ ہے، جانے والا جاتا تو خود ہے۔- وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ : یہاں سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کے لیے بھی بخشش کی دعا کی، حالانکہ ان الفاظ سے یہ بات نہیں نکلتی، بلکہ صرف یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا معاملہ تیرے سپرد ہے، تو چاہے تو بخش دے، چاہے تو عذاب دے اور ساتھ ہی عرض کی : ” پس بیشک تو غفور و رحیم ہے۔ “ بلا شبہ اس میں نہایت ادب، عجز اور سلیقے سے ایک قسم کی سفارش ہے، مگر اسے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا نہیں کہا جاسکتا، ہاں انھوں نے اپنے والد کے لیے وعدہ کی وجہ سے بخشش کی دعا کی تھی، پھر اللہ کا دشمن ثابت ہوجانے پر اس سے براءت کا اظہار فرما دیا۔ (دیکھیے توبہ : ١١٤) قرآن میں ابراہیم اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے منقول دعاؤں میں ہر نافرمان کا معاملہ، خواہ مشرک ہو یا عام گناہ گار، اللہ کے سپرد کیا گیا ہے، ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کے ذکر کے ساتھ ایک قسم کی سفارش کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ یہ ان دونوں پیغمبروں کی بیشمار تکلیفیں اٹھانے کے باوجود حد درجے کی نرم دلی ہے، عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا ہے : (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) …

37

رَّبَّنَآ إِنِّىٓ أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِى بِوَادٍ غَيْرِ ذِى زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ ٱلْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجْعَلْ أَفْـِٔدَةًۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهْوِىٓ إِلَيْهِمْ وَٱرْزُقْهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ

اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میوؤں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں

رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ : ” مِنْ “ تبعیض کے لیے ہے۔ ” کچھ اولاد “ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی تو اس وقت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوچکے تھے۔ انھیں اور ان کی والدہ سارہ[ کو ابراہیم (علیہ السلام) نے دوسری جگہ (شام میں) ٹھہرایا ہوا تھا۔- بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ : وادی نیچی جگہ کو کہا جاتا ہے، جہاں کبھی پانی بہتا ہو، خصوصاً پہاڑوں کے درمیان گہری جگہ کو ” وادی “ کہتے ہیں۔ ” ذِيْ زَرْعٍ “ مکہ اور اس کے گردو نواح بلکہ ارض عرب میں کھیتی باڑی نہیں تھی، کیونکہ بارش کے علاوہ وہاں پانی نہیں ملتا تھا اور زمین بھی پتھریلی یا ریتلی تھی، خصوصاً مکہ والی جگہ میں تو بالکل نہ پانی تھا نہ کھیتی باڑی۔ ان غیر آباد بیابان پہاڑوں کے درمیان اسماعیل اور ان کی والدہ ہاجرہ (رض) کو لا کر چھوڑ جانے کا، پھر ہاجرہ[ کے صفا ومروہ کے درمیان دوڑنے کا اور پانی تلاش کرنے اور زم زم کے پھوٹ نکلنے کا لمبا واقعہ صحیح بخاری میں ابن عباس (رض) سے مذکور ہے۔ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ( یزفون ) النسلان في المشي : ٣٣٦٤، ٣٣٦٥ ] ہزاروں سال بعد ابھی تک وہ ” ذِيْ زَرْعٍ “ ہی ہے، البتہ طائف میں کچھ کھیتی باڑی اور پھل وغیرہ ہیں، مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتَّیٰ یَکْثُرَ الْمَالُ وَیَفِیْضَ ، حَتّٰی یَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَکَاۃِ مَالِہٖ فَلاَ یَجِدُ أَحَدًا یَقْبَلُھَا مِنْہُ ، وَحَتّٰی تَعُوْدَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوْجًا وَأَنْھَارًا ) ” قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مال بہت زیادہ نہ ہوجائے، حتیٰ کہ آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نکلے گا، لیکن وہ کوئی ایسا شخص نہیں پائے گا جو اس سے اس کی زکوٰۃ لے لے اور جب تک ارض عرب دوبارہ مروج (سبزہ زار، کھلے کھیت) اور ندیوں نالوں کی صورت میں نہ بدل جائے۔ “ [ مسلم، الزکاۃ، باب الترغیب في الصدقۃ قبل أن۔۔ : ٦٠؍١٥٧، قبل ح : ١٠١٣ ] لفظ ” تَعُوْدَ “ (دوبارہ نہ بدل جائے) سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے بھی کبھی یہ پہاڑ کشمیر کے پہاڑوں کی طرح سرسبز اور ندیوں نہروں والے تھے، قیامت کے قریب پھر اسی طرح ہوجائیں گے۔ - عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ : اس سے بعض مفسرین نے اخذ کیا ہے کہ یہ دعا ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ تعمیر کرنے کے بعد کی، ممکن ہے ایسا ہی ہو مگر بیت اللہ تو ابراہیم (علیہ السلام) کے وہاں جانے سے بھی بہت پہلے تعمیر ہوچکا تھا، کیونکہ وہ زمین پر اللہ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا پہلا گھر ہے اور سب جانتے ہیں کہ زمین پر اللہ کی عبادت آدم (علیہ السلام) سے یا اس سے بھی پہلے سے شروع ہے، اس کے بانئ اول آدم (علیہ السلام) ہیں یا اس سے بھی پہلے کی کوئی مخلوق، مثلاً فرشتے یا جن وغیرہ۔ ہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں سیلابوں کی وجہ سے یہ ایک ٹیلے کی شکل میں بدل چکا تھا، وہ جگہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتائی اور انھی پہلی بنیادوں پر دوبارہ کعبہ تعمیر ہوا۔ دیکھیے سورة بقرہ (١٢٨) اور سورة حج (٢٦) ” الْمُحَرَّمِ “ اس لیے کہ کئی کام جو دوسری جگہ حلال ہیں مثلاً شکار کرنا، درخت کاٹنا وغیرہ، وہ یہاں حرام ہیں اور اس گھر کی عزت نہ کرنے والے کا یہاں طاقت کے ذریعے سے قبضہ حرام ہے، ممکن نہیں۔ اس لیے اس گھر کا لقب ” اَلْبَیْتُ الْعَتِیْقُ “ بھی ہے، یعنی جو ہمیشہ سے آزاد رہا۔ عتیق کا ایک معنی قدیم بھی ہے۔ - رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : معلوم ہوا کہ آدمی کو خود بھی اور اولاد کو بھی ایسی جگہ ٹھہرانا چاہیے جہاں اہل توحید کی مسجد پہلے سے موجود ہو، یا جب آدمی وہاں سکونت اختیار کرے تو سب سے پہلا کام اپنا مکان اور مسجد بیک وقت بنانے کا کرے، خواہ کچی اینٹوں کی چار دیواری ہی ہو، جیسا کہ ہمارے پیارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں آتے ہی کیا تھا، تاکہ اقامت صلاۃ …

38

رَبَّنَآ إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِى وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ

اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے۔ اور خدا سے کوئی چیز مخفی نہیں (نہ) زمین میں نہ آسمان میں

رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ ۔۔ : یعنی ہماری چھپی ہوئی دلی خواہشوں کو اور جو کچھ ہم زبان سے مانگ رہے ہیں تو سب جانتا ہے۔ یہ مانگنے کا بہترین طریقہ ہے کہ صرف تعریف پر اکتفا کیا جائے۔ ” کتاب الاغانی (٨؍٣٤٤) “ میں ہے کہ امیہ بن ابی الصلت نے عبداللہ بن جدعان کو مخاطب کر کے کہا تھا ؂- أَ أَذْکُرُ حَاجَتِيْ أَمْ قَدْ کَفَانِيْ- حَیَاءُکَ اِنَّ شِیْمَتَکَ الْحَیَاءُ- إِذَا أَثْنَی عَلَیْکَ الْمَرْءُ یَومًا - کَفَاہُ مِنْ تَعَرُّضِہِ الثَّنَاءُ- ” کیا میں اپنی حاجت ذکر کروں یا یقیناً مجھے تیری حیا ہی کافی ہے، کیونکہ تیری عادت ہی حیا ہے، جب آدمی کسی دن تیری تعریف کر دے تو اسے ضرورت پیش کرنے کے بجائے تعریف ہی کافی ہوجاتی ہے۔ “- سفیان بن عیینہ (رض) نے فرمایا : ” جب مخلوق کا یہ حال ہے تو خالق کا کیا حال ہوگا۔ “ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَفْضَلُ الذِّکْرِ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَ أَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ ) [ ابن ماجہ، الأدب، باب فضل الحامدین : ٣٨٠٠۔ ترمذی : ٣٣٨٣، عن جابر (رض) ] ” سب سے بہتر ذکر لا الٰہ الا اللہ ہے اور سب سے بہتر دعا الحمد للہ ہے۔ “ مقصد یہ ہے کہ پروردگار ہم جو مانگ رہے ہیں اور جو کچھ ہمارے دل میں ہے تو سب کچھ جانتا ہے، بیشک اللہ پر آسمان میں کوئی چیز ہو یا زمین میں، مخفی نہیں رہتی۔ سو ہماری ظاہر درخواستوں کے ساتھ دلی مرادیں بھی پوری کر دے۔ یاد رہے کہ وہ مشہور روایت جس میں ذکر ہے کہ آگ میں پھینکے جانے کے وقت بارش کے فرشتے نے ابراہیم (علیہ السلام) کو مدد کی پیش کش کی تو یہ جاننے کے بعد کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجنے کے بجائے اپنی مرضی سے آیا ہے، تو انھوں نے مدد قبول کرنے سے انکار کردیا اور جب اس نے کہا کہ پھر آپ خود ہی اللہ تعالیٰ سے دعاکریں تو فرمایا : ( حَسْبِيْ عَنْ سُؤَالِيْ عِلْمُہُ بِحَالِيْ ) یا فرمایا : ( عِلْمُہُ بِحَالِيْ یُغْنِيْ عَنْ سُؤَالِہِ ) ” مجھے سوال کرنے کے بجائے یہی کافی ہے کہ وہ میرے حال کو جانتا ہے۔ “ سو یہ محض ایک اسرائیلی روایت ہے جس کی کچھ حقیقت نہیں، بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَنْ لَّمْ یَدْعُ اللّٰہَ سُبْحَانَہُ غَضِبَ عَلَیْہِ ) ” جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے۔ “ [ ابن ماجہ، الدعاء، باب فضل الدعاء : ٣٨٢٧۔ السلسلۃ الصحیحۃ : ٦؍٣٢٣، ح : ٢٦٥٤ ] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ ) [ المؤمن : ٦٠ ] ” اور تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو (مجھ سے دعا کرو) میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بیشک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ “ ایسی روایات صوفی لوگ اپنے خودساختہ وظائف و چلہ جات کو رائج کرنے اور دعا سے محروم کرنے کے لیے بیان کیا کرتے ہیں۔ - 3 بعض مفسرین نے فرمایا کہ اہل مکہ کے لیے صحیح عقیدے اور امن اور کھانے پینے کی چیزیں عطا کرنے کی دعا کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) نے ہاجرہ و اسماعیل (علیہ السلام) سے جدائی کے وقت گزرنے والی کیفیت، جو آنکھوں کے آنسوؤں یا دل کی بےقراری کی وجہ سے دونوں میاں بیوی پر گزر رہی تھی، وہ پیش کی ہے، مگر شکوے کا ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لائے، یہ حوصلہ پیغمبروں اور ان کے اہل بیت ہی کا ہوتا ہے۔

39

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى وَهَبَ لِى عَلَى ٱلْكِبَرِ إِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ ۚ إِنَّ رَبِّى لَسَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ

خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بےشک میرا پروردگار سننے والا ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ ۔۔ : ” وَھَبَ یَھَبُ ھِبَۃً “ کا معنی کسی معاوضے کے بغیر عطا کردینا ہے۔ معلوم ہوا اولاد اللہ تعالیٰ کا ہبہ ہے، یہ صرف اسباب جمع ہوجانے سے نہیں ہوتی، ورنہ ہر تندرست جوڑے کے ملنے سے اولاد ہوجاتی، بلکہ یہ محض عطائے الٰہی ہے، وہ بھی اس کی مرضی کے مطابق ہوتی ہے، چاہے تو لڑکے ہی دے، چاہے لڑکیاں، چاہے دونوں ملا کر دے اور چاہے تو بےاولاد رکھے۔ (مزید دیکھیے الشوریٰ : ٥٠) رازی نے فرمایا، قرآن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ دونوں بیٹے بڑی عمر اور بڑھاپے میں عطا کیے گئے، لیکن یہ بات کہ اس وقت آپ کی عمر کیا تھی معلوم نہیں ہوتی، اس کے لیے صرف اسرائیلی روایات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، چناچہ کہا جاتا ہے کہ اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ابراہیم (علیہ السلام) ننانویں (٩٩) برس کے تھے اور اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر ایک سو بارہ (١١٢) برس تھی۔ مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق ہم اس کی تصدیق یا تکذیب نہیں کرسکتے۔- لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ : لفظی معنی ہے ” دعا کو بہت سننے والا “ مگر مراد قبول کرنے والا ہے، جیسے کہا جاتا ہے، فلاں کی تو سنی گئی، یعنی مراد پوری ہوگئی۔

40

رَبِّ ٱجْعَلْنِى مُقِيمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ

اے پروردگار مجھ کو (ایسی توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما

رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ : یہ ابراہیم (علیہ السلام) کی عاجزانہ دعاؤں کا آخری حصہ ہے، جس میں انھوں نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے اس چیز پر پابند رہنے کی دعا کی ہے جو توحید و رسالت کے یقین و اقرار کے بعد اسلام میں سب چیزوں سے زیادہ ضروری ہے، یعنی نماز جو خاشعین (عاجزی کرنے والوں) کے سوا سب لوگوں کے لیے نہایت دشوار ہے (دیکھیے بقرہ : ٤٥، ٤٦) اور جس کے متعلق موسیٰ (علیہ السلام) (جَزَاہ اللّٰہُ عَنَّا وَ عَنْ جَمِیْعِ أُمَّتِنَا أَحْسَنَ الْجَزَاءِ ) نے کہا تھا کہ میں نے بنی اسرائیل کو بہت زیادہ بھگتا ہے، آپ کی امت پانچ نمازوں کی طاقت بھی نہیں رکھے گی۔ سو جو ایمان و کفر کے درمیان فرق کرنے والی سب سے نمایاں چیز ہے، ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی اتنی فکر تھی کہ اپنے اور اپنی اولاد کے لیے اس کی پابندی کی خاص طور پر دعا کی۔ - وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ :” اور میری اولاد میں سے بھی “ بظاہر یہ ” من “ تبعیض کے لیے ہے، یعنی مجھے اور میری اولاد میں سے بھی کچھ نماز کے پابند بنا، مگر اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انھوں نے ساری اولاد کے لیے یہ دعا کیوں نہ کی ؟ اس کا جواب اکثر مفسرین نے یہ دیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو انسانی تاریخ سے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ “ سے اندازہ تھا کہ ساری اولاد نمازی نہیں ہو سکے گی، اس لیے انھوں نے یہ دعا کی کہ ایسا نہ ہو کہ اولاد میں سے کوئی بھی نمازی نہ رہے، یہ اسی طرح ہے جیسا کہ انھوں نے دعا کی تھی : (رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ) [ البقرۃ : ١٢٨ ] ” اے ہمارے رب اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماں بردار بنا۔ “ ابن عاشور صاحب ” التحریر والتنویر “ نے لکھا ہے : ” یہ ” مِنْ “ ابتدائیہ ہے، تبعیض کے لیے نہیں اور ” وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ “ محذوف کی صفت ہے جس کا عطف یائے متکلم پر ہے۔ مقدر عبارت اس طرح ہوگی : ” رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَاجْعَلْ مُقِیْمِیْنَ للصَّلَاۃِ مِنْ ذُرِّیَّتِيْ “ یعنی مجھے نماز کا پابند بنا اور نماز کا پابند ان کو بھی بنا جو میری اولاد میں سے ہوں۔ ” وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ “ کی ترکیب بھی اسی طرح ہوسکتی ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ دعا مانگتے وقت یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) بت پرستی سے بچنے کی دعا تو اپنے اور اپنی ساری اولاد کے لیے کریں، فرمایا : (وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ ) [ إبراھیم : ٣٥ ] (اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بت پوجنے سے بچائے رکھ) مگر نماز کا پابند بنانے کی دعا سب کے لیے کرنے کے بجائے بعض کے لیے کریں۔ جب ہم خود دعا کرتے وقت یہ پسند نہیں کرتے کہ یہ دعا کریں کہ یا اللہ ہماری کچھ اولاد کو نمازی بنا تو ابراہیم (علیہ السلام) یہ کیسے پسند کرسکتے ہیں ؟ “ ابن عاشور کی بات دل کو لگتی ہے۔ (واللہ اعلم)- رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاۗءِ : دعا کے بعد پھر قبولیت کی درخواست اپنے عجز کا اظہار اور قبولیت پر اصرار ہے۔ ” دُعَاۗءِ “ پر کسرہ اس لیے ہے کہ یہ اصل میں ” دُعَاءِيْ “ تھا، آیات کے فواصل کی موافقت کے لیے یاء حذف کرکے کسرہ اس پر دلالت کے لیے باقی رکھا گیا ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.