Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 21–30 of 52

21

وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَمِيعًۭا فَقَالَ ٱلضُّعَفَٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًۭا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيْنَٰكُمْ ۖ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍۢ

اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے؟ اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور لے آئے مخلوق نئی (19) اور نہیں ہے یہ (کام) اوپر اللہ کے کچھ بھی مشکل (20)اور وہ سامنے (کھڑے) ہوں گے اللہ کے سب تو کہیں گے کمزور لوگ ان لوگوں سے جو تکبر کرتے تھے (دنیا میں )، بے شک ہم تو تھے تمھارے تابع، پس کیا تم دور کر سکنے والے ہو ہم سے اللہ کاعذاب کچھ؟ وہ کہیں گے، اگر ہدایت دیتا ہمیں اللہ تو ، البتہ ہم بھی ہدایت کرتے تمھیں ، برابر ہے ہم پر آیا جزع فزع کریں ہم یا صبر کریں ہم، نہیں ہے واسطے ہمارے کوئی بھاگنے کی جگہ (21)

[19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بے شک اللہ نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ‘‘ یعنی تاکہ مخلوق اس کی عبادت کرے اور اس کی معرفت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنے اوامر و نواہی جاری کرے اور مخلوق ان آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمال پر استدلال کرے اور ان کو معلوم ہو جائے کہ وہ ہستی جس نے اتنے بڑے اور وسیع آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ تمام مخلوق کو نئے سرے سے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے تاکہ ان کی نیکی اور بدی پر ان کو جزا و سزا دے اور اس کی قدرت و مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں ہے۔ بنا بریں فرمایا ﴿ اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے‘‘ اس آیت کریمہ میں اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تمھیں لے جائے اور تمھاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والی ہو اور یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں فنا کر دے اور پھر تمھیں دوبارہ زندہ کر کے ایک نئی تخلیق عطا کرے۔ اس احتمال کے مطابق اس آیت سے قیامت کے احوال کا اثبات ہوتا ہے جن کا ذکر مابعد سطور میں آ رہا ہے۔

[20]﴿ وَّمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’اور یہ اللہ کو کچھ بھی مشکل نہیں ۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں بلکہ بہت آسان ہے ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ﴾(لقمان:31؍28) ’’تمھیں پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جلا اٹھانا ایک شخص کو پیدا کرنے اور اس کو جلا اٹھانے کی مانند ہے۔‘‘ ﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ﴾(الروم: 30؍27) ’’وہی تو ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور یہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔‘‘

[21]﴿ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور سب لوگ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو گی، سب اپنی اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی خدمت میں جائیں گے۔ وہ ایک ہموار زمین میں کھڑے ہوں گے جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے اور اس سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی۔ پس جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں گے تو آپس میں جھگڑا کریں گے، ہر شخص اپنے آپ کی مدافعت کرے گا۔ مگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے ﴿ فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا ﴾ ’’پس کمزور کہیں گے‘‘ یعنی پیروی کرنے والے اور مقلدین ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ’’بڑائی والوں کو‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں پیروی کی جاتی تھی جو گمراہی کے میدان میں قیادت کرتے تھے ﴿اِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعًا﴾ ’’ہم تو تمھارے پیرو تھے۔‘‘ یعنی دنیا میں ہم تمھاری پیروی کرتے تھے، تم ہمیں گمراہی کا حکم دیا کرتے تھے اور گمراہی کو ہمارے سامنے آراستہ کیا کرتے تھے، پس تم نے ہمیں بدراہ کر دیا ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’کیا پس تم ہم کو …

22

وَقَالَ ٱلشَّيْطَٰنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلْأَمْرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُمْ فَٱسْتَجَبْتُمْ لِى ۖ فَلَا تَلُومُونِى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُم ۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ أَنتُم بِمُصْرِخِىَّ ۖ إِنِّى كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے

اور کہے گا شیطان، جب فیصلہ کر دیا جائے گا تمام معاملات کا، بے شک اللہ نے وعدہ کیا تھا تم سے وعدہ کیا تھا تم سے وعدہ سچااور میں نے وعدہ کیا تھا تم سے پس خلاف ورزی کی میں نے تم سے اور نہیں تھا واسطے میرے تم پر کوئی غلبہ سوائے اس کے کہ میں نے بلایا تمھیں اور تم نے مان لی میری بات، سو نہ ملامت کرو تم مجھے اور ملامت کرو تم اپنے آپ کو ، نہیں ہوں میں تمھاری فریاد رسی کرنے والااور نہ تم ہی میری فریاد رسی کرنے والے ہو، بلاشبہ میں تو انکار کرتا ہوں اس کا جو تم شریک ٹھہراتے تھے مجھے (اللہ کا) پہلے اس سے، بے شک ظالم لوگ، ان کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک (22) اور داخل کیے جائیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ، ساتھ حکم اپنے رب کے، ان کی (ملاقات کی) دعاء ہو گی ان میں سلام (23)

[22]﴿وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ﴾ شیطان، جو دنیا میں واقع ہونے والی ہر برائی کا سبب ہے جہنمیوں سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہو کر کہے گا:﴿لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’جب فیصلہ ہو چکے گا سب امور کا‘‘ اور جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جہنمی جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ﴾ ’’جو وعدہ اللہ نے کیا تھا وہ تو سچ تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی زبان پر تمھارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا مگر تم نے اس کی اطاعت نہ کی، اگر تم نے اس کی اطاعت کی ہوتی تو تم فوز عظیم سے بہرہ ور ہوتے ﴿ وَوَعَدۡتُّكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا‘‘ بھلائی کا ﴿ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ ﴾ ’’پس میں نے تم سے وعدہ خلافی کی‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو جھوٹی آرزوئیں اور امیدیں دلائی تھیں وہ حاصل نہیں ہوئیں اور نہ کبھی حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ﴾ ’’اور میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا‘‘ میرے پاس کوئی دلیل اور اپنے قول کی کوئی تائید نہ تھی ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ﴾ ’’مگر یہ کہ میں نے تمھیں بلایا اور تم نے میری بات مان لی‘‘ یعنی میرے پاس زیادہ سے زیادہ جو اختیار تھا وہ یہ تھا کہ میں نے تمھیں اپنے مقصد کی طرف بلایا اور تمھارے سامنے اسے خوب آراستہ کیا، تم نے اپنی خواہشات نفس اور شہوات کی پیروی کرتے ہوئے میری دعوت پر لبیک کہا۔جب صورت حال یہ ہے ﴿ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ ’’تو تم مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ کو ملامت کرو‘‘ پس موجب عذاب میں تم ہی پر دارومدار ہے اور تم ہی اس عذاب کا سبب ہو۔ ﴿ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ ﴾ ’’میں تمھاری فریاد کو نہیں پہنچ سکتا‘‘ یعنی جس شدت عذاب میں تم مبتلا ہو میں تمھاری مدد نہیں کر سکتا۔ ﴿ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِيَّ﴾ ’’اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو‘‘ ہر ایک کے لیے اپنے اپنے حصے کا عذاب ہے ﴿ اِنِّيۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمُوۡنِ۠ مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’میں منکر ہوں جو تم نے مجھے شریک بنایا تھا اس سے پہلے‘‘ یعنی تم نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا تھا، میں اللہ تعالیٰ کا شریک نہ تھا اور تم پر میری اطاعت واجب نہ تھی پس میں تم سے بری الذمہ ہوں ﴿ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ بے شک شیطان کی اطاعت کر کے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے درد ناک عذاب ہے‘‘ وہ اس عذاب میں ابدالآباد تک رہیں گے۔ اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انھیں شیطان کی اطاعت سے ڈرایا اس نے شیطان کے مقاصد اور ان راستوں کی نشاندہی کردی ہے جہاں سے وہ داخل ہو کر انسان کو گمراہ کرتا ہے اس کا مقصد صرف انسان کو جہنم کی آگ میں جھونکنا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر واضح کر دیا ہے کہ جب شیطان اپنے لشکر سمیت جہنم میں داخل ہو گا تو وہ اپنے متبعین سے بریء الذمہ ہو جائے گا اور ان کے شرک …

23

وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌ

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا

اور کہے گا شیطان، جب فیصلہ کر دیا جائے گا تمام معاملات کا، بے شک اللہ نے وعدہ کیا تھا تم سے وعدہ کیا تھا تم سے وعدہ سچااور میں نے وعدہ کیا تھا تم سے پس خلاف ورزی کی میں نے تم سے اور نہیں تھا واسطے میرے تم پر کوئی غلبہ سوائے اس کے کہ میں نے بلایا تمھیں اور تم نے مان لی میری بات، سو نہ ملامت کرو تم مجھے اور ملامت کرو تم اپنے آپ کو ، نہیں ہوں میں تمھاری فریاد رسی کرنے والااور نہ تم ہی میری فریاد رسی کرنے والے ہو، بلاشبہ میں تو انکار کرتا ہوں اس کا جو تم شریک ٹھہراتے تھے مجھے (اللہ کا) پہلے اس سے، بے شک ظالم لوگ، ان کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک (22) اور داخل کیے جائیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ، ساتھ حکم اپنے رب کے، ان کی (ملاقات کی) دعاء ہو گی ان میں سلام (23)

[22]﴿وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ﴾ شیطان، جو دنیا میں واقع ہونے والی ہر برائی کا سبب ہے جہنمیوں سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہو کر کہے گا:﴿لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’جب فیصلہ ہو چکے گا سب امور کا‘‘ اور جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جہنمی جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ﴾ ’’جو وعدہ اللہ نے کیا تھا وہ تو سچ تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی زبان پر تمھارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا مگر تم نے اس کی اطاعت نہ کی، اگر تم نے اس کی اطاعت کی ہوتی تو تم فوز عظیم سے بہرہ ور ہوتے ﴿ وَوَعَدۡتُّكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا‘‘ بھلائی کا ﴿ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ ﴾ ’’پس میں نے تم سے وعدہ خلافی کی‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو جھوٹی آرزوئیں اور امیدیں دلائی تھیں وہ حاصل نہیں ہوئیں اور نہ کبھی حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ﴾ ’’اور میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا‘‘ میرے پاس کوئی دلیل اور اپنے قول کی کوئی تائید نہ تھی ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ﴾ ’’مگر یہ کہ میں نے تمھیں بلایا اور تم نے میری بات مان لی‘‘ یعنی میرے پاس زیادہ سے زیادہ جو اختیار تھا وہ یہ تھا کہ میں نے تمھیں اپنے مقصد کی طرف بلایا اور تمھارے سامنے اسے خوب آراستہ کیا، تم نے اپنی خواہشات نفس اور شہوات کی پیروی کرتے ہوئے میری دعوت پر لبیک کہا۔جب صورت حال یہ ہے ﴿ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ ’’تو تم مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ کو ملامت کرو‘‘ پس موجب عذاب میں تم ہی پر دارومدار ہے اور تم ہی اس عذاب کا سبب ہو۔ ﴿ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ ﴾ ’’میں تمھاری فریاد کو نہیں پہنچ سکتا‘‘ یعنی جس شدت عذاب میں تم مبتلا ہو میں تمھاری مدد نہیں کر سکتا۔ ﴿ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِيَّ﴾ ’’اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو‘‘ ہر ایک کے لیے اپنے اپنے حصے کا عذاب ہے ﴿ اِنِّيۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمُوۡنِ۠ مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’میں منکر ہوں جو تم نے مجھے شریک بنایا تھا اس سے پہلے‘‘ یعنی تم نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا تھا، میں اللہ تعالیٰ کا شریک نہ تھا اور تم پر میری اطاعت واجب نہ تھی پس میں تم سے بری الذمہ ہوں ﴿ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ بے شک شیطان کی اطاعت کر کے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے درد ناک عذاب ہے‘‘ وہ اس عذاب میں ابدالآباد تک رہیں گے۔ اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انھیں شیطان کی اطاعت سے ڈرایا اس نے شیطان کے مقاصد اور ان راستوں کی نشاندہی کردی ہے جہاں سے وہ داخل ہو کر انسان کو گمراہ کرتا ہے اس کا مقصد صرف انسان کو جہنم کی آگ میں جھونکنا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر واضح کر دیا ہے کہ جب شیطان اپنے لشکر سمیت جہنم میں داخل ہو گا تو وہ اپنے متبعین سے بریء الذمہ ہو جائے گا اور ان کے شرک …

24

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا كَلِمَةًۭ طَيِّبَةًۭ كَشَجَرَةٍۢ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌۭ وَفَرْعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ کس طرح بیان فرمائی ہے اللہ نے مثال کلمۂ طیبہ کی؟ (کہ وہ ہے) مانند درخت پاکیزہ (کھجور) کے، کہ جڑ اس کی مضبوط ہے اور شاخیں اس کی آسمان میں ہیں (24) لاتا ہے وہ (درخت) پھل اپنا ہر وقت ساتھ حکم اپنے رب کے،اور بیان فرماتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (25) اور مثال کلمۂ خبیثہ (کفرو شرک) کی ہے مانند درخت ناپاک کے، وہ اکھیڑ دیا جاتا ہے اورپر سے زمین کے، نہیں ہے اس کے لیے کوئی قرار (26)

[24]﴿ اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً ﴾ ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا، کیسے بیان کی اللہ نے ایک مثال، ستھری بات‘‘ یہاں کلمہ طیبہ (ستھری بات) سے مراد ہے اس امر کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی فروعات (ایسے ہے)﴿ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ﴾ ’’جیسے ایک ستھرا درخت ہے‘‘ اور اس سے مراد کھجور کا درخت ہے ﴿ اَصۡلُهَا ثَابِتٌ ﴾ ’’اس کی جڑ مضبوط ہے‘‘ یعنی زمین میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے ﴿ وَّفَرۡعُهَا ﴾ ’’اور اس کی شاخیں ۔‘‘ یعنی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں ۔ ﴿ فِي السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان میں ‘‘ اور یہ درخت دائمی طور پر کثیر الفوائد ہے۔

[25]﴿ تُؤۡتِيۡۤ اُكُلَهَا ﴾ ’’وہ پھل لاتا ہے‘‘ ﴿ كُلَّ حِيۡنٍۭؔ بِـاِذۡنِ رَبِّهَا﴾ ’’ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے‘‘ یہی حال شجر ایمان کا ہے، اس کی جڑیں علم و اعتقاد کے اعتبار سے بندۂ مومن کے قلب کی گہرائیوں میں نہایت مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں ، اس کی شاخیں یعنی کلمات طیبات، عمل صالح، اخلاق جمیلہ، آداب حسنہ ہمیشہ آسمان کی طرف بلند رہتی ہیں ۔ بندۂ مومن کی طرف سے ایسے اعمال و اقوال بلند ہوتے ہیں ۔ جو شجر ایمان سے نکلتے ہیں ، جن سے بندۂ مومن اور دیگر لوگ منتفع ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں ‘‘ ان سے جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے اور ان سے جن سے ان کو روکا ہے۔ کیونکہ ضرب الامثال میں ، معانی معقولہ کو امثال محسوسہ کے ذریعے سے قریب لایاجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے معنی میں مراد کی غایت حد تک تبیین اور توضیح ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حسن تعلیم ہے پوری، کامل اور بے پایاں حمد و ثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ پس یہ بندۂ مومن کے قلب میں کلمہء توحید کا وصف اور اس کے ثبات کا بیان ہے۔

[26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کلمۂ توحید کی ضد کلمۂ کفر اور اس کی شاخوں کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيۡثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيۡثَةِ﴾ ’’اور گندی بات کی مثال، جیسے گندا درخت ہے‘‘ جو کھانے اور ذائقے میں بدترین درخت ہے اور اس سے مراد اندرائن وغیرہ کا پودا ہے ﴿اِجۡتُثَّتۡ ﴾ یعنی اس پودے کو اکھاڑ لیا گیا ﴿ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَهَا مِنۡ قَرَارٍ ﴾ ’’زمین کے اوپر سے، اس کو کوئی ٹھہراؤ نہیں ‘‘ یعنی اس پودے کو ثبات حاصل نہیں اس پودے کی رگیں نہیں ہیں جو اس کو سہارا دے کر کھڑا کر سکیں اور نہ یہ کوئی اچھا پھل لاتا ہے بلکہ اس میں پھل پایا بھی جاتا ہے تو انتہائی بدذائقہ۔اسی طرح کفر اور گناہ کی بات قلب میں کوئی فائدہ مند مضبوطی اور ثبات پیدا نہیں کرتی، اس کا ثمرہ بھی قول خبیث اور عمل خبیث کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو اس کو تکلیف دیتا ہے۔ اس بندے کی طرف سے کوئی عمل صالح اللہ تعالیٰ کی طرف بلند نہیں ہوتا۔ اس قول و عمل سے وہ خود منتفع ہوتا ہے نہ کوئی اور۔

25

تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍۭ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ کس طرح بیان فرمائی ہے اللہ نے مثال کلمۂ طیبہ کی؟ (کہ وہ ہے) مانند درخت پاکیزہ (کھجور) کے، کہ جڑ اس کی مضبوط ہے اور شاخیں اس کی آسمان میں ہیں (24) لاتا ہے وہ (درخت) پھل اپنا ہر وقت ساتھ حکم اپنے رب کے،اور بیان فرماتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (25) اور مثال کلمۂ خبیثہ (کفرو شرک) کی ہے مانند درخت ناپاک کے، وہ اکھیڑ دیا جاتا ہے اورپر سے زمین کے، نہیں ہے اس کے لیے کوئی قرار (26)

[24]﴿ اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً ﴾ ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا، کیسے بیان کی اللہ نے ایک مثال، ستھری بات‘‘ یہاں کلمہ طیبہ (ستھری بات) سے مراد ہے اس امر کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی فروعات (ایسے ہے)﴿ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ﴾ ’’جیسے ایک ستھرا درخت ہے‘‘ اور اس سے مراد کھجور کا درخت ہے ﴿ اَصۡلُهَا ثَابِتٌ ﴾ ’’اس کی جڑ مضبوط ہے‘‘ یعنی زمین میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے ﴿ وَّفَرۡعُهَا ﴾ ’’اور اس کی شاخیں ۔‘‘ یعنی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں ۔ ﴿ فِي السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان میں ‘‘ اور یہ درخت دائمی طور پر کثیر الفوائد ہے۔

[25]﴿ تُؤۡتِيۡۤ اُكُلَهَا ﴾ ’’وہ پھل لاتا ہے‘‘ ﴿ كُلَّ حِيۡنٍۭؔ بِـاِذۡنِ رَبِّهَا﴾ ’’ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے‘‘ یہی حال شجر ایمان کا ہے، اس کی جڑیں علم و اعتقاد کے اعتبار سے بندۂ مومن کے قلب کی گہرائیوں میں نہایت مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں ، اس کی شاخیں یعنی کلمات طیبات، عمل صالح، اخلاق جمیلہ، آداب حسنہ ہمیشہ آسمان کی طرف بلند رہتی ہیں ۔ بندۂ مومن کی طرف سے ایسے اعمال و اقوال بلند ہوتے ہیں ۔ جو شجر ایمان سے نکلتے ہیں ، جن سے بندۂ مومن اور دیگر لوگ منتفع ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں ‘‘ ان سے جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے اور ان سے جن سے ان کو روکا ہے۔ کیونکہ ضرب الامثال میں ، معانی معقولہ کو امثال محسوسہ کے ذریعے سے قریب لایاجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے معنی میں مراد کی غایت حد تک تبیین اور توضیح ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حسن تعلیم ہے پوری، کامل اور بے پایاں حمد و ثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ پس یہ بندۂ مومن کے قلب میں کلمہء توحید کا وصف اور اس کے ثبات کا بیان ہے۔

[26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کلمۂ توحید کی ضد کلمۂ کفر اور اس کی شاخوں کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيۡثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيۡثَةِ﴾ ’’اور گندی بات کی مثال، جیسے گندا درخت ہے‘‘ جو کھانے اور ذائقے میں بدترین درخت ہے اور اس سے مراد اندرائن وغیرہ کا پودا ہے ﴿اِجۡتُثَّتۡ ﴾ یعنی اس پودے کو اکھاڑ لیا گیا ﴿ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَهَا مِنۡ قَرَارٍ ﴾ ’’زمین کے اوپر سے، اس کو کوئی ٹھہراؤ نہیں ‘‘ یعنی اس پودے کو ثبات حاصل نہیں اس پودے کی رگیں نہیں ہیں جو اس کو سہارا دے کر کھڑا کر سکیں اور نہ یہ کوئی اچھا پھل لاتا ہے بلکہ اس میں پھل پایا بھی جاتا ہے تو انتہائی بدذائقہ۔اسی طرح کفر اور گناہ کی بات قلب میں کوئی فائدہ مند مضبوطی اور ثبات پیدا نہیں کرتی، اس کا ثمرہ بھی قول خبیث اور عمل خبیث کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو اس کو تکلیف دیتا ہے۔ اس بندے کی طرف سے کوئی عمل صالح اللہ تعالیٰ کی طرف بلند نہیں ہوتا۔ اس قول و عمل سے وہ خود منتفع ہوتا ہے نہ کوئی اور۔

26

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍۢ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍۢ

اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا اس کو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ کس طرح بیان فرمائی ہے اللہ نے مثال کلمۂ طیبہ کی؟ (کہ وہ ہے) مانند درخت پاکیزہ (کھجور) کے، کہ جڑ اس کی مضبوط ہے اور شاخیں اس کی آسمان میں ہیں (24) لاتا ہے وہ (درخت) پھل اپنا ہر وقت ساتھ حکم اپنے رب کے،اور بیان فرماتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (25) اور مثال کلمۂ خبیثہ (کفرو شرک) کی ہے مانند درخت ناپاک کے، وہ اکھیڑ دیا جاتا ہے اورپر سے زمین کے، نہیں ہے اس کے لیے کوئی قرار (26)

[24]﴿ اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً ﴾ ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا، کیسے بیان کی اللہ نے ایک مثال، ستھری بات‘‘ یہاں کلمہ طیبہ (ستھری بات) سے مراد ہے اس امر کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی فروعات (ایسے ہے)﴿ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ﴾ ’’جیسے ایک ستھرا درخت ہے‘‘ اور اس سے مراد کھجور کا درخت ہے ﴿ اَصۡلُهَا ثَابِتٌ ﴾ ’’اس کی جڑ مضبوط ہے‘‘ یعنی زمین میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے ﴿ وَّفَرۡعُهَا ﴾ ’’اور اس کی شاخیں ۔‘‘ یعنی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں ۔ ﴿ فِي السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان میں ‘‘ اور یہ درخت دائمی طور پر کثیر الفوائد ہے۔

[25]﴿ تُؤۡتِيۡۤ اُكُلَهَا ﴾ ’’وہ پھل لاتا ہے‘‘ ﴿ كُلَّ حِيۡنٍۭؔ بِـاِذۡنِ رَبِّهَا﴾ ’’ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے‘‘ یہی حال شجر ایمان کا ہے، اس کی جڑیں علم و اعتقاد کے اعتبار سے بندۂ مومن کے قلب کی گہرائیوں میں نہایت مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں ، اس کی شاخیں یعنی کلمات طیبات، عمل صالح، اخلاق جمیلہ، آداب حسنہ ہمیشہ آسمان کی طرف بلند رہتی ہیں ۔ بندۂ مومن کی طرف سے ایسے اعمال و اقوال بلند ہوتے ہیں ۔ جو شجر ایمان سے نکلتے ہیں ، جن سے بندۂ مومن اور دیگر لوگ منتفع ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں ‘‘ ان سے جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے اور ان سے جن سے ان کو روکا ہے۔ کیونکہ ضرب الامثال میں ، معانی معقولہ کو امثال محسوسہ کے ذریعے سے قریب لایاجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے معنی میں مراد کی غایت حد تک تبیین اور توضیح ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حسن تعلیم ہے پوری، کامل اور بے پایاں حمد و ثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ پس یہ بندۂ مومن کے قلب میں کلمہء توحید کا وصف اور اس کے ثبات کا بیان ہے۔

[26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کلمۂ توحید کی ضد کلمۂ کفر اور اس کی شاخوں کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيۡثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيۡثَةِ﴾ ’’اور گندی بات کی مثال، جیسے گندا درخت ہے‘‘ جو کھانے اور ذائقے میں بدترین درخت ہے اور اس سے مراد اندرائن وغیرہ کا پودا ہے ﴿اِجۡتُثَّتۡ ﴾ یعنی اس پودے کو اکھاڑ لیا گیا ﴿ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَهَا مِنۡ قَرَارٍ ﴾ ’’زمین کے اوپر سے، اس کو کوئی ٹھہراؤ نہیں ‘‘ یعنی اس پودے کو ثبات حاصل نہیں اس پودے کی رگیں نہیں ہیں جو اس کو سہارا دے کر کھڑا کر سکیں اور نہ یہ کوئی اچھا پھل لاتا ہے بلکہ اس میں پھل پایا بھی جاتا ہے تو انتہائی بدذائقہ۔اسی طرح کفر اور گناہ کی بات قلب میں کوئی فائدہ مند مضبوطی اور ثبات پیدا نہیں کرتی، اس کا ثمرہ بھی قول خبیث اور عمل خبیث کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو اس کو تکلیف دیتا ہے۔ اس بندے کی طرف سے کوئی عمل صالح اللہ تعالیٰ کی طرف بلند نہیں ہوتا۔ اس قول و عمل سے وہ خود منتفع ہوتا ہے نہ کوئی اور۔

27

يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْقَوْلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّٰلِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ

خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

ثابت قدم رکھتا ہے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے، ساتھ قول ثابت (کلمۂ توحید) کے زندگانیٔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور گمراہ کرتا ہے اللہ ظالموں کواور کرتا ہے اللہ جو چاہتا ہے (27)

[27] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے جو کامل طور پر قلبی ایمان کو قائم کرتے ہیں ۔ جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے یہ اعمال اس ایمان کا ثمرہ ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دنیا کے اندر شبہات کے وارد ہونے کے وقت ہدایت اور یقین کے ذریعے سے ثبات اور استقامت عطا کرتا ہے اور جب شہوات پیش آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں قطعی اور پختہ ارادہ عطا کرتا ہے تب وہ خواہش نفس اور اس کی مراد پر اس امر کو مقدم رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ آخرت میں ، موت کے وقت دین اسلام اور خاتمہ بالخیر پر ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے وقت صحیح جواب کی توفیق عطا کر کے ثبات اور مضبوطی سے نوازتا ہے۔ جب میت سے پوچھا جاتا ہے ’’تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تو اللہ تعالیٰ صحیح جواب کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور مومن جواب دیتا ہے ’’میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد (ﷺ) ہیں ۔‘‘ ﴿وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں راہ صواب سے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں كيا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔یہ آیت کریمہ، قبر کے امتحان، قبر کے عذاب اور اس کی نعمت اور آرام پر دلالت کرتی ہے۔ جیسا کہ قبر کے امتحان، اس کی صفت و کیفیت، قبر کے عذاب اور اس کے آرام کے بارے میں نبی کریمﷺ سے نہایت تواتر کے ساتھ نصوص وارد ہوئی ہیں ۔

28

۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ كُفْرًۭا وَأَحَلُّوا۟ قَوْمَهُمْ دَارَ ٱلْبَوَارِ

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کو جنھوں نے بدل ڈالا اللہ کی نعمت (ایمان) کو کفر سے اور جا اتارا اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں (28)(یعنی ) جہنم میں ، وہ داخل ہوں گے اس میں اور بہت ہی برا ہے وہ ٹھکانا (29) اور بنائے انھوں نے واسطے اللہ کے شریک تاکہ وہ گمراہ کریں (لوگوں کو) اس کے راستے سے، کہہ دیجیے، تم فائدہ اٹھاؤ (دنیا میں ) پھر بلاشبہ واپسی تمھاری ہے طرف آگ کی (30)

[28] اللہ تبارک و تعالیٰ، رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار قریش کا اور ان کے معاملات کا مآل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ كُفۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی نعمت سے مراد حضرت محمد مصطفیﷺ کی رسالت ہے۔ آپ انھیں دنیا و آخرت میں نیکیوں کے ادراک کی طرف دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے اس نعمت کو ٹھکرا کر، اس کا انکار کر کے اور اپنے آپ کو اس نعمت کو قبول کرنے سے باز رکھ کر اس نعمت کو بدل ڈالا۔ ﴿ وَ ﴾ اور دوسروں کو اس نعمت کو قبول کرنے سے روکا حتیٰ کہ ﴿ اَحَلُّوۡا قَوۡمَهُمۡ دَارَ الۡبَوَارِجَهَنَّمَ﴾ ’’اتارا انھوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں ‘‘ اس سے مراد جہنم ہے کیونکہ وہ ان کی گمراہی کا سبب بنے اور اپنی قوم کے لیے وبال بن گئے جبکہ ان سے نفع کی امید تھی۔ منجملہ اس کے یہ بھی ہے کہ غزوہ بدر کے لیے ان کو نکلنے پر آمادہ کرنے کے لیے جنگ پر نکلنے کے بڑے فوائد بیان کیے۔ تاکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کریں ۔ پس ان کے ساتھ عبرت ناک سلوک ہوا اور جنگ بدر میں ان کے بہت سے بڑے بڑے سردار اور بہادر مارے گئے۔

[29]﴿جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَا﴾ ’’جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں ‘‘ یعنی جہنم کی حرارت انھیں ہر جانب سے گھیر لے گی ﴿ وَبِئۡسَ الۡقَرَارُ﴾ ’’اور (جہنم) بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘

[30]﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور ٹھہرائے انھوں نے اللہ کے لیے مقابل‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور شریک ﴿ لِّيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں ۔‘‘ یعنی تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنا کر اور ان کی عبادت کی طرف دعوت دے کر بندوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا سکیں ﴿ قُلۡ ﴾ ان کو وعید سناتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ تَمَتَّعُوۡا ﴾ اپنے کفر اور گمراہی سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو۔ پس یہ تمھیں کوئی فائدہ نہ دیں گے ﴿ فَاِنَّ مَصِيۡرَؔكُمۡ اِلَى النَّارِ ﴾ ’’اس لیے کہ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

29

جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ

(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کو جنھوں نے بدل ڈالا اللہ کی نعمت (ایمان) کو کفر سے اور جا اتارا اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں (28)(یعنی ) جہنم میں ، وہ داخل ہوں گے اس میں اور بہت ہی برا ہے وہ ٹھکانا (29) اور بنائے انھوں نے واسطے اللہ کے شریک تاکہ وہ گمراہ کریں (لوگوں کو) اس کے راستے سے، کہہ دیجیے، تم فائدہ اٹھاؤ (دنیا میں ) پھر بلاشبہ واپسی تمھاری ہے طرف آگ کی (30)

[28] اللہ تبارک و تعالیٰ، رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار قریش کا اور ان کے معاملات کا مآل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ كُفۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی نعمت سے مراد حضرت محمد مصطفیﷺ کی رسالت ہے۔ آپ انھیں دنیا و آخرت میں نیکیوں کے ادراک کی طرف دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے اس نعمت کو ٹھکرا کر، اس کا انکار کر کے اور اپنے آپ کو اس نعمت کو قبول کرنے سے باز رکھ کر اس نعمت کو بدل ڈالا۔ ﴿ وَ ﴾ اور دوسروں کو اس نعمت کو قبول کرنے سے روکا حتیٰ کہ ﴿ اَحَلُّوۡا قَوۡمَهُمۡ دَارَ الۡبَوَارِجَهَنَّمَ﴾ ’’اتارا انھوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں ‘‘ اس سے مراد جہنم ہے کیونکہ وہ ان کی گمراہی کا سبب بنے اور اپنی قوم کے لیے وبال بن گئے جبکہ ان سے نفع کی امید تھی۔ منجملہ اس کے یہ بھی ہے کہ غزوہ بدر کے لیے ان کو نکلنے پر آمادہ کرنے کے لیے جنگ پر نکلنے کے بڑے فوائد بیان کیے۔ تاکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کریں ۔ پس ان کے ساتھ عبرت ناک سلوک ہوا اور جنگ بدر میں ان کے بہت سے بڑے بڑے سردار اور بہادر مارے گئے۔

[29]﴿جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَا﴾ ’’جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں ‘‘ یعنی جہنم کی حرارت انھیں ہر جانب سے گھیر لے گی ﴿ وَبِئۡسَ الۡقَرَارُ﴾ ’’اور (جہنم) بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘

[30]﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور ٹھہرائے انھوں نے اللہ کے لیے مقابل‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور شریک ﴿ لِّيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں ۔‘‘ یعنی تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنا کر اور ان کی عبادت کی طرف دعوت دے کر بندوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا سکیں ﴿ قُلۡ ﴾ ان کو وعید سناتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ تَمَتَّعُوۡا ﴾ اپنے کفر اور گمراہی سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو۔ پس یہ تمھیں کوئی فائدہ نہ دیں گے ﴿ فَاِنَّ مَصِيۡرَؔكُمۡ اِلَى النَّارِ ﴾ ’’اس لیے کہ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

30

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًۭا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦ ۗ قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى ٱلنَّارِ

اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھا لو آخرکار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کو جنھوں نے بدل ڈالا اللہ کی نعمت (ایمان) کو کفر سے اور جا اتارا اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں (28)(یعنی ) جہنم میں ، وہ داخل ہوں گے اس میں اور بہت ہی برا ہے وہ ٹھکانا (29) اور بنائے انھوں نے واسطے اللہ کے شریک تاکہ وہ گمراہ کریں (لوگوں کو) اس کے راستے سے، کہہ دیجیے، تم فائدہ اٹھاؤ (دنیا میں ) پھر بلاشبہ واپسی تمھاری ہے طرف آگ کی (30)

[28] اللہ تبارک و تعالیٰ، رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار قریش کا اور ان کے معاملات کا مآل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ كُفۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی نعمت سے مراد حضرت محمد مصطفیﷺ کی رسالت ہے۔ آپ انھیں دنیا و آخرت میں نیکیوں کے ادراک کی طرف دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے اس نعمت کو ٹھکرا کر، اس کا انکار کر کے اور اپنے آپ کو اس نعمت کو قبول کرنے سے باز رکھ کر اس نعمت کو بدل ڈالا۔ ﴿ وَ ﴾ اور دوسروں کو اس نعمت کو قبول کرنے سے روکا حتیٰ کہ ﴿ اَحَلُّوۡا قَوۡمَهُمۡ دَارَ الۡبَوَارِجَهَنَّمَ﴾ ’’اتارا انھوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں ‘‘ اس سے مراد جہنم ہے کیونکہ وہ ان کی گمراہی کا سبب بنے اور اپنی قوم کے لیے وبال بن گئے جبکہ ان سے نفع کی امید تھی۔ منجملہ اس کے یہ بھی ہے کہ غزوہ بدر کے لیے ان کو نکلنے پر آمادہ کرنے کے لیے جنگ پر نکلنے کے بڑے فوائد بیان کیے۔ تاکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کریں ۔ پس ان کے ساتھ عبرت ناک سلوک ہوا اور جنگ بدر میں ان کے بہت سے بڑے بڑے سردار اور بہادر مارے گئے۔

[29]﴿جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَا﴾ ’’جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں ‘‘ یعنی جہنم کی حرارت انھیں ہر جانب سے گھیر لے گی ﴿ وَبِئۡسَ الۡقَرَارُ﴾ ’’اور (جہنم) بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘

[30]﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور ٹھہرائے انھوں نے اللہ کے لیے مقابل‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور شریک ﴿ لِّيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں ۔‘‘ یعنی تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنا کر اور ان کی عبادت کی طرف دعوت دے کر بندوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا سکیں ﴿ قُلۡ ﴾ ان کو وعید سناتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ تَمَتَّعُوۡا ﴾ اپنے کفر اور گمراہی سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو۔ پس یہ تمھیں کوئی فائدہ نہ دیں گے ﴿ فَاِنَّ مَصِيۡرَؔكُمۡ اِلَى النَّارِ ﴾ ’’اس لیے کہ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.