وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَمِيعًۭا فَقَالَ ٱلضُّعَفَٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًۭا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيْنَٰكُمْ ۖ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍۢ
اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے
وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا ۔۔ :” تَبَعًا “ یہ ” تَابِعٌ“ کی جمع ہے، جیسے ” خَادِمٌ“ کی جمع ” خَدَمٌ“ ہے، یعنی اس دن دنیا میں چھپاؤ کی تمام جگہیں ختم ہوجائیں گی۔ پہاڑوں کی بلندیاں، سمندروں کی گہرائیاں اور سطح زمین کی کرویّت ختم ہو کر روٹی کی طرح صاف زمین پر ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگی۔ دنیا میں کمزور اور طاقت ور مرید و مرشد، رعایا اور سردار ایک جیسی عاجزی اور بےبسی کے ساتھ اللہ کے سامنے ہوں گے، تو کمزور لوگ اپنے گمراہ کرنے والے بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے تھے اور اس وجہ سے ہم نے انبیاء کو جھٹلایا اور اللہ سے کفر کیا، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے بچانے میں ہمارے کسی کام آسکتے ہو ؟ ” مِنْ شَيْءٍ “ کا مطلب یہ ہے کہ سارا عذاب نہیں تو اس میں سے جتنا ہو سکے کم کروا دو ۔ وہ سارا گناہ اللہ کے ذمے ڈال کر خود بری ہو کر ان کی کسی بھی قسم کی مدد سے معذرت کرلیں گے۔ چناچہ کہیں گے، اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں ہدایت دیتے، گویا سارا قصور اللہ تعالیٰ کا ہے جس نے ہمیں ہدایت نہیں دی۔ [ اَلْعِیَاذ باللّٰہِ ] جیسا کہ شیطان نے سجدے سے انکار کرکے اپنے گمراہ ہونے کو اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا، فرمایا : (قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ ) [ الأعراف : ١٦ ] ” کہا، چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا۔ “ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت دی تھی، دونوں راستے دکھا دیے تھے، فرمایا : (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) [ الدھر : ٣ ] ” بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ ناشکرا۔ “ اب تمہارا اختیار تھا، نہ اس نے تمہیں بدی پر مجبور کیا نہ نیکی پر اور یہی آزمائش کی حکمت جن و انس کی پیدائش کا باعث تھی۔ خیر اب ایسے عذاب میں پھنس جانے کے بعد جس سے بھاگ نکلنے کی کوئی صورت نہیں، ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں، گھبراہٹ کا اظہار کریں یا صبر کریں۔ دونوں کا کچھ فائدہ ہے نہ یہاں سے چھٹکارے کی کوئی صورت ہے۔ ابن کثیر (رض) نے فرمایا کہ ظاہر یہ ہے کہ ان کی یہ باہمی قیل و قال جہنم میں داخلے کے بعد ہوگی۔ دیکھیے سورة مومن (٤٧) ، سورة اعراف (٣٨) اور سورة سبا (٣٢، ٣٣) بہرحال ان کا یہ جھگڑا میدان حشر اور جہنم دونوں میں بھی ہوسکتا ہے۔