حین سے مراد - قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ کھجور کے درخت میں پھل صرف دو ماہ تک رہتا ہے۔ سعید سے ایک اور روایت کے مطابق آیت میں لفظ ’ حین ‘ سے چھ ماہ کا عرصہ مراد ہے۔ القاسم بن عبد اللہ نے ابو حازم سے روایت کی ہے، انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ جب آپ سے لفظ ’ حین ‘ کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے یہ آیت تلاوت کی (توتی اکلھا کل حسین) اور فرمایا ” چھ ماہ “ پھر یہ آیت تلاوت کی (لیسجننہ حتی حین۔ اسے ایک مدت کے لئے قید کردیں) اور فرمایا : ” تیرہ سال “ پھر یہ آیت تلاوت کی (ولتعلمن نباہ بعد حین “ اور تمہیں ضرور اس کی خبر ایک مدت کے بعد مل جائے گی) اور فرمایا ” قیامت کا دن، ہشام بن حسان نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے کہا : ان فعلت کذا وکذا الی حین فغلا مہ حسو “ اگر میں نے فلاں فلاں کام فلاں مدت تک کر لئے تو میرا غلام آزاد) وہ شخص حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس آ کر مسئلہ پوچھنے لگا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا میں نے جواب میں کہا۔ ” حین یعنی مدت کی ایک قسم وہ ہے جس کا ادراک نہیں ہوسکتا۔- قول باری ہے (وان ادری لعلہ فتنۃ لکم و متاع الی حین۔ اور میں خبر نہیں رکھتا شاید کہ وہ تمہارے لئے امتحان ہی ہو اور ایک (خاص) وقت تک کے لئے فائدہ اٹھانا) اس لئے یہ شخص کھجور اتارنے کے وقت سے لے کر شگوفہ نکلنے تک فقرے میں ذکر کردہ کاموں سے باز رہے۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میرا یہ جواب حضرت عمر بن عبد العزیز کو بہت پسند آیا۔ عبد الرزاق نے معمر سے اور انہوں نے حسن سے قول باری (توتلی اکلھا کل حین) کی تفسیر میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” چھ یا سات ماہ کے مابین “۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ’ حین ‘ کے لفظ کا اطلاق وقت مبہم پر ہوتا ہے لیکن اس سے ایک مقرر وقت مراد لینا بھی درست ہے۔ قول باری ہے (فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون۔ اللہ کی تسبیح ہے جب تم شام کرو اور جب صبح کرو) پھر فرمایا (وحین تظھرون۔ اور جب تم دوپہر کرو) یہاں یہ لفظ نماز فجر، ظہر اور مغرب کے اوقات پر محمول ہے اگرچہ اس میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے بھی ہے۔ یہاں لفظ ’ حین ‘ سے ان اوقات میں فرض نمازوں کی ادائیگی مراد ہے اس لئے یہاں یہ لفظ ان نمازوں کے اوقات کے لئے اسم بن گیا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس سے لفظ ’ حین ‘ کی تفسیر میں ” صبح اور شام “ کی جو روایت منقول ہے اس میں آپ کا ذہن اس قول باری کی طرف گیا ہے (حین تمسون وحین تصبحون) بعض دفعہ ’ حین ‘ کے لفظ کا اطلاق کر کے اس سے کم سے کم وقت مراد لیا جاتا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (وسوف یعلمون حین یدون العذاب۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے) یہاں یہ لفظ دیکھنے کے وقت پر محمول ہے۔ دیکھ لینے کا وقت انتہائی مختصر ہوتا ہے اس میں کوئی امتداد نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ اس لفظ کا اطلاق کر کے چالیس سال کی مدت مراد ہوتی ہے اس لئے کہ قول باری (ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیئا مذکورا۔ بیشک انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہیں تھا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے چالیس سال مراد ہے۔- آیت زیر بحث کی تفسیر کے سلسلے میں ہم نے سلف سے ایک سال، چھ ماہ، تیرہ سال اور دو …