Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 21–30 of 52

21

وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَمِيعًۭا فَقَالَ ٱلضُّعَفَٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًۭا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيْنَٰكُمْ ۖ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍۢ

اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے

وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا ۔۔ :” تَبَعًا “ یہ ” تَابِعٌ“ کی جمع ہے، جیسے ” خَادِمٌ“ کی جمع ” خَدَمٌ“ ہے، یعنی اس دن دنیا میں چھپاؤ کی تمام جگہیں ختم ہوجائیں گی۔ پہاڑوں کی بلندیاں، سمندروں کی گہرائیاں اور سطح زمین کی کرویّت ختم ہو کر روٹی کی طرح صاف زمین پر ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگی۔ دنیا میں کمزور اور طاقت ور مرید و مرشد، رعایا اور سردار ایک جیسی عاجزی اور بےبسی کے ساتھ اللہ کے سامنے ہوں گے، تو کمزور لوگ اپنے گمراہ کرنے والے بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے تھے اور اس وجہ سے ہم نے انبیاء کو جھٹلایا اور اللہ سے کفر کیا، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے بچانے میں ہمارے کسی کام آسکتے ہو ؟ ” مِنْ شَيْءٍ “ کا مطلب یہ ہے کہ سارا عذاب نہیں تو اس میں سے جتنا ہو سکے کم کروا دو ۔ وہ سارا گناہ اللہ کے ذمے ڈال کر خود بری ہو کر ان کی کسی بھی قسم کی مدد سے معذرت کرلیں گے۔ چناچہ کہیں گے، اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں ہدایت دیتے، گویا سارا قصور اللہ تعالیٰ کا ہے جس نے ہمیں ہدایت نہیں دی۔ [ اَلْعِیَاذ باللّٰہِ ] جیسا کہ شیطان نے سجدے سے انکار کرکے اپنے گمراہ ہونے کو اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا، فرمایا : (قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ ) [ الأعراف : ١٦ ] ” کہا، چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا۔ “ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت دی تھی، دونوں راستے دکھا دیے تھے، فرمایا : (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) [ الدھر : ٣ ] ” بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ ناشکرا۔ “ اب تمہارا اختیار تھا، نہ اس نے تمہیں بدی پر مجبور کیا نہ نیکی پر اور یہی آزمائش کی حکمت جن و انس کی پیدائش کا باعث تھی۔ خیر اب ایسے عذاب میں پھنس جانے کے بعد جس سے بھاگ نکلنے کی کوئی صورت نہیں، ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں، گھبراہٹ کا اظہار کریں یا صبر کریں۔ دونوں کا کچھ فائدہ ہے نہ یہاں سے چھٹکارے کی کوئی صورت ہے۔ ابن کثیر (رض) نے فرمایا کہ ظاہر یہ ہے کہ ان کی یہ باہمی قیل و قال جہنم میں داخلے کے بعد ہوگی۔ دیکھیے سورة مومن (٤٧) ، سورة اعراف (٣٨) اور سورة سبا (٣٢، ٣٣) بہرحال ان کا یہ جھگڑا میدان حشر اور جہنم دونوں میں بھی ہوسکتا ہے۔

22

وَقَالَ ٱلشَّيْطَٰنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلْأَمْرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُمْ فَٱسْتَجَبْتُمْ لِى ۖ فَلَا تَلُومُونِى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُم ۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ أَنتُم بِمُصْرِخِىَّ ۖ إِنِّى كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے

بِمُصْرِخِكُمْ : ” صُرَاخٌ“ کا معنی چیخنا چلانا ہے جو مصیبت سے بچانے کے لیے بطور فریاد ہوتا ہے۔ ” اَصْرَخَ یُصْرِخُ “ باب افعال میں ہمزہ ازالۂ ماخذ کے لیے ہے، یعنی اس مصیبت کو جو چیخنے کا باعث ہے دور کرنا، جیسے ” شَکَانِیْ فَأَشْکَیْتُہُ “ کہ اس نے مجھ سے شکایت کی تو میں نے اس کی شکایت دور کردی۔ اسی لیے عام طور پر ” صُرَاخٌ“ کا معنی فریاد اور ” اِصْرَاخٌ“ کا معنی فریاد رسی کرلیا جاتا ہے۔ ” بِمُصْرِخِيَّ “ اصل میں ” بِمُصْرِخِیْنَ “ جمع مذکر سالم تھا، یاء متکلم کی طرف مضاف ہوا تو نون اعرابی گرگیا اور یاء کے یاء میں ادغام کے ساتھ ” بِمُصْرِخِیّ “ ہوگیا۔ - وَقَال الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ ۔۔ : فیصلے کے بعد جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جہنمی جہنم میں اور ہر طرف سے شیطان پر ملامت کی بوچھاڑ ہوگی تو شیطان اس کے جواب میں کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ حق تھا، کیونکہ وہ ان تمام چیزوں کا مالک تھا جن کا وعدہ کیا تھا، مثلاً مرنے کے بعد زندہ کرنا، جنت، جہنم اور دعا کی قبولیت وغیرہ، اس لیے اس نے وہ وعدہ پورا کیا اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا وہ جھوٹا تھا کہ اس طرح کرو گے تو یہ ہوجائے گا، داتا کو پکارو گے تو یہ ہوگا، دستگیر کو پکارو گے تو یہ ہوگا، کیونکہ ان میں سے کوئی کسی چیز کا مالک ہی نہ تھا اور جو آرزوئیں میں نے تمہارے دل میں ا بھاری تھیں کہ فلاں کی نیاز دینے سے معشوق قدموں میں آ گرتا ہے، فلاں کے نام کا بکرا دینے سے دشمن کا ستیاناس ہوجاتا ہے، ان کا وجود ہی نہ تھا۔ فرمایا : (يَعِدُھُمْ وَيُمَنِّيْهِمْ ۭ وَمَا يَعِدُھُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا) [ النساء : ١٢٠ ] ” وہ انھیں وعدے دیتا ہے اور انھیں آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انھیں دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتا۔ “ اس لیے اللہ تعالیٰ کی ہمیں تعلیم یہ ہے کہ تم جب بھی وعدہ کرو تو اس چیز کا کرو جو تم کرسکتے ہو، پھر بھی ساتھ ان شاء اللہ ضرور کہو، کیونکہ تمہارا اختیار اللہ تعالیٰ کے تابع ہے، فرمایا : (وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا 23؀ۙاِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ) [ الکہف : ٢٣، ٢٤ ] ” اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز نہ کہہ کہ میں کل یہ کام ضرور کرنے والا ہوں، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ “ - وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ ۔۔ : ” سُلْطَۃٌ“ اور ” سُلْطٰنٍ “ کا مطلب زبردستی کسی پر غلبہ حاصل کرلینا، مسلط ہوجانا ہے۔ یہ تسلط دو طرح کا ہوتا ہے، ایک حکومت کے ذریعے سے ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ شیطان کی ان پر کوئی حکومت نہ تھی کہ وہ ان پر کوئی فوج چڑھا لایا تھا اور ایک سلطان اور غلبہ صحیح دلیل کا ہوتا ہے، کیونکہ وہ دلیل دل پر قابو پا لیتی ہے اور آدمی اس کے مطابق عمل پر مجبور ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ شیطان کے پاس ڈنڈا بھی نہ تھا اور کوئی معقول دلیل بھی نہ تھی، چناچہ وہ کہے گا میں نے تو بس اتنا کیا تھا کہ تمہیں کچھ کاموں کی دعوت دی، وہ تمہاری کمزوریوں، مثلاً حرص، شہوت، غصے، بزدلی وغیرہ کے عین مطابق تھی اور اس میں تمہاری خواہشات کو ابھارا گیا تھا، تم نے فوراً اسے قبول کرلیا ( أَجَبْتُمْ اور اِسْتَجَبْتُمْ کے فرق کو ملحوظ رکھیں) اس لیے مجھے ملامت مت کرو، بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو، کیونکہ اپنی مرضی سے گناہ تم نے کیا، میں نے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی۔ اب نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو نہ میں تمھاری۔ سورة نحل کی آیت (١٠٠) میں شیطان کے سلطان کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔- اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا تھا میں اس کا انکار کرتا ہوں، کیونکہ عبادت تو صرف اللہ کا حق تھا، اسی طرح حکم ماننا تم پر صرف اللہ کا حق تھا اور وہ بھی اس کی عبادت میں شامل تھا، تم نے اس کے بجائے میرا حکم مانا، میری عبادت کی، مجھے …

23

وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌ

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا

وَاُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق یہاں بھی مشرکین اور شیطان کے ذکر کے بعد ایمان اور عمل صالح والوں کا انجام ذکر فرمایا کہ وہ جنتوں میں داخل کردیے گئے۔ مراد یہ ہے کہ کیے جائیں گے، مگر بات اتنی یقینی ہے کہ اسے ماضی کے لفظ سے بیان کیا کہ سمجھو یہ کام ہوچکا۔ اس سے پہلے شیطان اور مشرکین، کمزور اور سرداروں کی گفتگو میں بھی ماضی کا صیغہ یہی حکمت رکھتا ہے۔ - وَاُدْخِلَ : ” داخل کیے جائیں گے “ داخل کون کرے گا ؟ اس کی تین جہتیں ہیں، اصل تو اللہ تعالیٰ ہے جو جنت میں بھیجنے کا حکم دے گا، پھر فرشتے ہیں جو اس کے حکم سے انھیں جنت میں لے جائیں گے، تیسرے ان کا ایمان اور عمل صالح ہیں جو اللہ کی رحمت اور ان کے جنت میں جانے کا ذریعہ بنیں گے، اس لیے مجہول کا صیغہ استعمال کیا۔ ” بِاِذْنِ رَبِّهِمْ “ یعنی یہ سب کچھ ان کے رب کی توفیق اور مہربانی سے ہوگا۔ - : یعنی آپس میں ملتے وقت وہ ” السلام علیکم “ کہیں گے۔ فرشتے ان سے کہیں گے : (سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ ) [ الرعد : ٢٤ ] ” سلام ہو تم پر اس کے بدلے میں جو تم نے صبر کیا۔ “ یعنی تم پر سلامتی ہو، پھر رب رحیم انھیں سلام کہے گا : (ښسَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ ) [ یٰسٓ : ٥٨ ]” سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بیحد مہربان ہے۔ “ اس میں مبارک باد کا مفہوم بھی ہے، سلامتی کی دعا بھی اور اللہ کی طرف سے سلامتی کا عطیہ بھی۔

24

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا كَلِمَةًۭ طَيِّبَةًۭ كَشَجَرَةٍۢ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌۭ وَفَرْعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں

اَلَمْ تَرَ : یہ خطاب اولاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے اور پھر ہر اس شخص سے ہے جو خطاب کے لائق ہے۔ استفہام سے مراد پوچھنا نہیں بتانا ہے۔ اسے استفہام تقریری کہتے ہیں۔ ” کیا تو نے نہیں دیکھا ؟ “ یہاں دیکھنے سے مراد علم اور جاننا ہے جو کائنات کو دیکھنے اور اس میں غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے۔ مفسر آلوسی کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ” الم تر “ کا مخاطب بعض اوقات وہ شخص ہوتا ہے جو پہلے سے اس بات سے واقف ہو، ایسی صورت میں مراد تعجب کا اظہار ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کا مخاطب وہ شخص ہوتا ہے جو اس سے واقف نہ ہو، اس وقت مراد ایک تو اسے بتانا ہوتا ہے اور ایک اس بات پر تعجب کا اظہار ہوتا ہے کہ اتنی مشہور بات بھی تمہیں معلوم نہیں، جو سب لوگ دیکھی ہوئی بات کی طرح جانتے ہیں۔ پھر اس مخاطب سے بات اس طرح کی جاتی ہے گویا وہ اسے اچھی طرح جانتا ہے۔ - مَثَلًا ” یہ ” ضَرَبَ “ کا مفعول بہ ہے، ” كَلِمَةً “ اس سے بدل ہے یا عطف بیان۔ مثل کا لفظ کسی چیز کی وضاحت کے لیے اس سے زیادہ واضح چیز کے ساتھ مثال دے کر سمجھانے کے لیے آتا ہے۔ - كَلِمَةً طَيِّبَةً : اس میں ہر پاکیزہ کلام، مثلاً تسبیح، تقدیس، تحمید اور تہلیل وغیرہ شامل ہے اور ہر پاکیزہ کلام کا خلاصہ ” لا الٰہ الا اللہ “ ہے، کیونکہ ہر پاکیزہ کلام یا عمل کا مدار یہی ہے۔ اس لیے مفسرین نے عموماً اس سے کلمۂ اسلام اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا ہر پاکیزہ قول و عمل مراد لیا ہے۔- كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ ۔۔ : پاکیزہ اور عمدہ درخت کی چند خوبیاں بیان فرمائیں، پہلی یہ کہ اس کی جڑ مضبوط ہے، جس کی وجہ سے اس کا اکھڑنا مشکل ہے اور وہ زمین سے غذا بخوبی حاصل کرلیتا ہے اور ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ اس کی چوٹی بہت اونچی ہے، جس کی وجہ سے اسے نقصان پہنچانا مشکل ہے، وہ آلودگی سے محفوظ دھوپ اور صاف ہوا سے بھی اپنی پوری خوراک حاصل کرتا ہے۔ مفسر طنطاوی نے ” الوسیط “ میں لکھا ہے کہ جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ درخت اپنی غذا کا صرف پانچ فیصد زمین سے حاصل کرتے ہیں، باقی فضا سے۔ تیسری یہ کہ وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے۔ اس صفت کی تفسیر میں مفسرین کو مشکل پیش آئی ہے۔ صحیح بخاری (٦١٢٢، ٦١٤٤) میں ابن عمر (رض) کی حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کے درخت کو مومن سے تشبیہ دی ہے کہ اس کے پتے کبھی نہیں گرتے اور وہ ہر وقت اپنا پھل اپنے رب کے حکم سے دیتا ہے، مگر آپ نے اسے کلمہ طیبہ سے تشبیہ نہیں دی۔ ترمذی (٣١١٩) میں انس (رض) سے روایت ہے کہ یہاں کلمہ طیبہ (كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ) سے مراد کھجور ہے، مگر شیخ البانی (رض) نے اسے مرفوعاً ضعیف اور موقوفاً صحیح فرمایا ہے۔ بہرحال جو مفسرین اس سے مراد کھجور کا درخت لیتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ کھجور کے درخت سے پھل کی ابتدا سے لے کر اس کے گودے، کچی کھجور، نیم پختہ، تازہ پکی ہوئی غرض ہر مرحلے کے پھل کو تقریباً چھ ماہ تک کھایا جاتا ہے، پھر اسے محفوظ کرکے سارا سال کھایا جاتا ہے۔ مفسر طنطاوی نے فرمایا کہ میرے خیال میں ” تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا “ کو صرف پھل میں محدود کرنا ٹھیک نہیں، مراد یہ ہے کہ وہ درخت ہر وقت فائدہ پہنچاتا رہتا ہے، پھل کی صورت میں، سائے کی صورت میں، خوشبو کی صورت میں، عمارتی لکڑی یا ایندھن کی صورت میں، پتوں اور ٹہنیوں اور گوند کی مصنوعات کی صورت میں اور دوا کی صورت میں، اگر کچھ بھی نہ ہو تو ہوا کو آلودگی سے صاف کرکے آکسیجن بنانے کی صورت میں ہر وقت وہ اپنا فائدہ پہنچاتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کھجور کے علاوہ وہ تمام درخت بھی اس میں آجاتے ہیں جن میں یہ تینوں خوبیاں ہوں۔ اسی طرح کلمہ اسلام دنیا اور آخرت کے ہر مرحلے میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مومن کو مختلف قسم کے بیشمار فوائد پہنچاتا رہتا ہے اور ہر وقت مومن کا کوئی نہ کوئی نیک عمل آسمان کی طرف …

25

تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍۭ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

Explained together with ayah 24

26

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍۢ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍۢ

اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا اس کو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ ۔۔ : اور خبیث کلمہ (گندی بات) سے مراد کفر و شرک کی بات ہے۔ اس کی مثال اس بےکار پودے کی ہے جسے جڑ سے اکھیڑ پھینک دیا گیا ہو اور وہ اتنا کمزور ہو کہ اس کی جڑ زمین میں قائم ہی نہ رہ سکتی ہو۔ معمولی سا ہوا کا جھونکا ہی اسے اکھیڑ پھینکنے کے لیے کافی ہو۔ اسی طرح کلمہ کفر دنیا یا آخرت میں ہر طرح بےکار ہے، کسی کام نہیں آئے گا۔ انس (رض) نے اس سے مراد حنظل (تماں، اندرائن) لیا ہے۔ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة إبراہیم : ٣١١٩ ] البتہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انس (رض) کی یہ روایت مرفوعاً ثابت نہیں۔ [ ضعیف سنن الترمذی للألبانی : ٣١١٩ ] طنطاوی نے فرمایا، یہ صرف بطور مثال ایک فرضی پودا ہے جس کا حقیقت میں وجود نہیں، صرف سمجھانے کے لیے اسے بیان کیا گیا ہے۔ تفسیر طبری میں ابن عباس (رض) سے یہ قول مذکور ہے، مگر اس میں قابوس بن ابی ظبیان ایک راوی ضعیف ہے۔ کیونکہ تماں ہو یا اور کوئی پودا بہرحال اس کے پھر بھی کچھ نہ کچھ غذائی نہ سہی دوائی فائدے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی بےکار فرضی پودے والا حال شرک و کفر کا ہے جس کی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے نہ دل پر اس کا اثر ہوتا ہے، نہ اس کے ساتھ کوئی عمل قبول ہوتا ہے۔ بودا اتنا ہوتا ہے کہ ذرا سے غور و فکر سے اس کا بےحقیقت ہونا واضح ہوجاتا ہے۔ کافر کا کوئی عمل نہ آسمان کی طرف چڑھتا ہے نہ اللہ کے ہاں قبول ہوتا ہے۔ یہ تفسیر مناسب حال معلوم ہوتی ہے، کیونکہ کفر و شرک کا حقیقی وجود ہے ہی نہیں، بلکہ یہ صرف وہم و گمان کی پیروی کا نام ہے، اس لیے اس کی مثال بھی ایسے ہی پودے سے مناسب ہے جس کا وجود فرضی ہو۔

27

يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْقَوْلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّٰلِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ

خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : قول ثابت سے مراد کلمہ شہادت اور عقیدۂ توحید ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا میں سخت سے سخت آزمائشوں اور سزاؤں میں بھی اسلام پر قائم رکھتا ہے۔ اصحاب الاخدود کو دیکھ لیجیے، ان انبیاء و شہداء کو دیکھ لیجیے جو اللہ کی راہ میں قتل کردیے گئے، مگر انھوں نے اسلام کا دامن نہیں چھوڑا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ میں پھینکے جانے کو دیکھ لیجیے، ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) مثلاً بلال، عمار، یاسر، خباب، سمیہ، خبیب وغیرہم (رض) پر آنے والی تنگیوں اور تکلیفوں کو دیکھ لیجیے۔ اس آیت میں فرمایا کہ ان لوگوں کا کلمہ شہادت پر قائم رہنا اللہ تعالیٰ کے ثابت رکھنے سے ہے، وہی ان میں اس قدر عزم و ہمت اور استقامت پیدا کردیتا ہے کہ وہ سخت سے سخت حالات ہوں یا دنیاوی آسائشوں کی آزمائش ہو، ہر حال میں پختہ بات (کلمہ اسلام) پر خوب قائم رہتے ہیں۔ ” يُثَبِّتُ “ کا ترجمہ باب تفعیل کی وجہ سے ” خوب قائم رکھتا ہے “ کیا ہے۔- وَفِي الْاٰخِرَةِ : اس سے مراد قبر میں سوال و جواب ہے۔ براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِيْ قَبْرِہِ أُتِيَ ثُمَّ شَھِدَ أَنْ لَا إِلٰٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ ، فَذٰلِکَ قَوْلُہُ : (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ ) [ إبراہیم : ٢٧ ] ” جب مومن کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں، پھر وہ شہادت دیتا ہے : ” أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحََمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ “ چناچہ اللہ کے اس فرمان : (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ ) کا یہی مطلب ہے۔ “ [ بخاري، الجنائز، باب ما جاء فی عذاب القبر : ١٣٦٩ ] صحیح بخاری ہی میں اس کے بعد والی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں اتری۔ - وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ : انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِيْ قَبْرِہِ وَتَوَلَّی عَنْہُ أَصْحَابُہُ ، وَإِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ ، أَتَاہُ مَلَکَانِ فَیُقْعِدَانِہِ فَیَقُوْلاَنِ مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ ھٰذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَقُوْلُ أَشْھَدُ أَنَّہُ عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ ، فَیُقَالُ لَہُ انْظُرْ إِلٰی مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارٍ قَدْ أَبْدَلَکَ اللّٰہُ بِہِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّۃِ ، فَیَرَاھُمَا جَمِیْعًا، أَنَّہُ یُفْسَحُ لَہُ فِيْ قَبْرِہِ ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَیُقَالُ لَہُ مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ ھٰذَا الرَّجُلِ ؟ فَیَقُوْلُ لاَ أَدْرِيْ ، کُنْتُ أَقُوْلُ مَا یَقُوْلُہُ النَّاسُ ، فَیُقَالُ لَادَرَیْتَ وَلَا تَلَیْتَ ، وَیُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِیْدٍ ضَرْبَۃً فَیَصِیْحُ صَیْحَۃً یَسْمَعُھَا مَنْ یَلِیْہِ غَیْرَ الثَّقَلَیْنِ ) [ بخاري، الجنائز، باب ما جاء فی عذاب القبر : ١٣٧٤ ] ” بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس چل پڑتے ہیں اور وہ اپنے ساتھیوں کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے، تو اس کے پاس دو فرشتے آجاتے ہیں، وہ اسے بٹھا دیتے ہیں اور کہتے ہیں : ” تو اس آدمی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کیا کہتا تھا ؟ “ اگر وہ مومن ہے تو کہتا ہے : ” میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ آگ میں اپنی جگہ دیکھ، اللہ تعالیٰ نے اسے بدل کر تجھے جنت میں جگہ دے دی ہے۔ چناچہ وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے، تو اس کے لیے اس کی قبر کو …

28

۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ كُفْرًۭا وَأَحَلُّوا۟ قَوْمَهُمْ دَارَ ٱلْبَوَارِ

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا ۔۔ :” الْبَوَارِ “ یہ ” بَارَ یَبُوْرُ “ (ن) کا مصدر ہے، معنی ہے :” فَرْطُ الْکَسَادِ “ یعنی انتہائی بےقدر و قیمت ہونا، پھر ہلاکت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ (راغب)- 3 انسان کو اپنے وجود کی نعمت سب سے پہلے مفت ملی، اس نے اس کا شکر اپنے خالق کی اطاعت کے بجائے کفر، یعنی ناشکری اور اس کے وجود یا اطاعت و عبادت سے انکار کے ساتھ کیا اور جو شخص جس قدر سرداری اور نعمت سے بہرہ ور تھا اس نے اتنا ہی اپنی قوم کو غلط راستے پر لگا کر جہنم میں پہنچایا۔ اس لحاظ سے آیت عام ہے مگر سیاق وسباق اور مفسرین کے مطابق یہاں مراد کفار قریش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں پیدا فرما کر اپنے مقدس گھر کا متولی بنادیا۔ امن و اطمینان اور دنیا کا ہر پھل اور نعمت مہیا فرمائی، انھوں نے اس کا بدلہ توحید اور اطاعتِ الٰہی کے بجائے عین کعبہ میں اور اس کے اردگرد تین سو ساٹھ بت رکھ کر اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں اتار کردیا، فرمایا : ( ۭ اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ ) [ القصص : ٥٧ ] ” اور کیا ہم نے انھیں ایک باامن حرم میں جگہ نہیں دی ؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔ “ اور دیکھیے سورة قریش۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان میں مبعوث فرما کر دنیا اور آخرت میں سرداری کی نعمت حاصل کرنے کا موقع دیا، مگر انھوں نے آپ پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے کے بجائے کفر کو اختیار کیا اور آپ کو ہر ایذا دی، حتیٰ کہ آپ کو حرم میں قتل کردینے کا منصوبہ بنا لیا، جس کے نتیجے میں ان کے پیروکاروں کو دنیا میں جنگوں، خصوصاً بدر وغیرہ اور آخر میں فتح مکہ کی صورت میں رسوائی اور بربادی ملی، شدید قحط اور مکہ میں قافلوں کی آمد رک جانے کی صورت میں آمدنی ختم ہونے سے انھیں بھوک اور خوف نے گھیر لیا اور آخرت میں جہنم میں جانے کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ چناچہ فرمایا : (وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ ١١٢؁ وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ ) [ النحل : ١١٢، ١١٣ ] ” اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے اور بلاشبہ یقیناً ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو انھیں عذاب نے اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ ظالم تھے۔ “- اَلَمْ تَرَ : اس کے اولین مخاطب اگرچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں مگر ہر وہ شخص اس کا مخاطب ہے جو مخاطب ہونے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے ساتھ انسان خصوصاً کفار قریش کی نعمت کے مقابلے میں ناشکری اور کفر پر تعجب کا اظہار فرمایا ہے۔

29

جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ

(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے

Explained together with ayah 28

30

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًۭا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦ ۗ قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى ٱلنَّارِ

اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھا لو آخرکار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے

وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا۔۔ : ” اَنْدَادًا “ ” نِدٌّ“ کی جمع ہے۔ راغب نے لکھا ہے : ” نَدِیْدُ الشَّیْءِ مُشَارِکُہُ فِیْ جَوْھَرِہِ “ کہ جو کسی چیز کے اصل میں شریک ہو، جبکہ مثل کا لفظ ہر مشارک پر بولا جاتا ہے، چناچہ ہر ” ند “ مثل ہے مگر ہر مثل ” ند “ نہیں۔ (اس لیے اس کا ترجمہ شریک کیا جاتا ہے) یعنی وہ ان کی پوجا کرنے لگے اور دکھ درد میں انھیں پکارنے لگے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کا جرم شرک کا ارتکاب اور لوگوں میں اس کی اشاعت کے ذریعے سے انھیں اسلام سے روکنا اور گمراہ کرنا قرار دیا ہے۔ ” تَمَتُّعٌ“ کچھ وقت تک فائدہ اٹھانے کو کہتے ہیں۔ قرآن میں جہاں بھی یہ لفظ ” تمتع “ یا ” تَمَتَّعُوْا “ (یعنی فائدہ اٹھاؤ) آیا ہے، اس کا مطلب اس کی اجازت دینا نہیں بلکہ اس پر ڈانٹنا اور ڈرانا ہے، یعنی اچھا اگر تم باز نہیں آتے تو چند روز کے مزے اڑا لو، مگر کب تک ؟ آخر کار تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.