Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 21–30 of 52

21

وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَمِيعًۭا فَقَالَ ٱلضُّعَفَٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًۭا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيْنَٰكُمْ ۖ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍۢ

اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے

آیت نمبر 21 تا 22

دعوت اسلامی اور داعیان حق کی یہ داستان ، اور جھٹلانے والوں اور ڈکٹیٹروں کی یہ کہانی اب اس دنیا کے اسٹیج سے آخرت کے اسٹیج پر منتقل ہوگئی ہے اور نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔

وبرزوا للہ جمیعاً ( 14 : 21) “ اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بےنقاب ہوں گے ”۔ یہ سرکش ڈکٹیٹر بھی کھڑے ہیں۔ اللہ کے سامنے اور ان کے کمزور کردار والے متبعین بھی کھڑے ہیں جنہوں نے ذلت اور کمزور کا کردار پسند کرلیا تھا ۔ شیطان بھی ایک طرف کھڑا ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ بھی کھڑے ہیں جو رسولوں پر ایمان لائے تھے اور نیک کام کرتے تھے ۔ یہ سب اب ایک میدان قیامت میں ہیں ، کھلے میدان میں ۔ اللہ کے لئے تو یہ پہلے بھی ظاہر و باہر تھے لیکن آج وہ خود اپنے احساس و شعور میں اپنے آپ کو ننگا اور بےحجاب محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ میدان حشر میں کوئی پردہ اور اوٹ نہیں ہے۔ یہ میدان بھرا ہوا ہے ، پردہ اٹھتا ہے اور مکالمہ شروع ہوتا ہے۔

فقال الضعفوا ۔۔۔۔۔۔ من شییء (14 : 21) “ اس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے ، وہ ان لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے “ دنیا میں تم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لئے بھی کچھ کرسکتے ہو ؟” بودے کردار کے کمزور لوگ بہرحال کمزور ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس اعلیٰ انسانی دولت سے دستبردار ہوجاتے ہیں جو اللہ نے ہر انسان کو دی ہے۔ وہ آزادی کی دولت ہے ، آزادی رائے ہے ، آزادی دین اور نظریہ اور حریت عمل ہے۔ ان لوگوں نے اپنی مرضی سے اپنی آزادی کو ترک کر کے غلامی اختیار کرلی ہے اور سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے غلام بن گئے ہیں ۔ یہ غیر اللہ کے بندے اور غلام بن گئے ہیں اور اللہ کی غلامی کی بجائے انہوں نے انسانوں کی غلامی اختیار کرلی ہے ، لیکن اسلام میں ضعیفی کوئی معقول عذر نہیں ہے بلکہ ضعیفی ایک جرم ہے ، اللہ کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی کا غلام بن جائے وہ تو انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ باعزت زندگی اختیار کرو ، میری عزت کرو ، میری پناہ میں آجاؤ۔ اللہ نے ہر انسان کو آزاد اور مکرم بنایا ہے اور اسے یہ اجازت نہیں ہے کہ اپنی آزادی کو بیچ دے ، یا کسی بڑی سے بڑی مادی قوت کے سامنے سپر انداز ہوجائے چاہے وہ بہت بڑی قوت کیوں نہ ہو۔ کسی بھی قوت کو اللہ یہ حق نہیں دیتا کہ وہ دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بنا کے رکھے۔ اسلام میں ہر انسان کی آزادی اور عزت کا احترا ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی مادی قوت بھی صرف انسانی جان اور جسم کا تعلق ختم کرسکتی ہے۔ تشدد اور اذیت دے سکتی ہے لیکن کسی کی آزاد سلب نہیں کرسکتی۔ انسانی ضمیر ، انسانی روح اور انسانی عقل پر کوئی ڈکٹیٹر حکومت نہیں کرسکتا ، نہ عقل ، روح اور ضمیر کو کوئی قید کرسکتا ہے ، ضمیر اور روح ، اور عقل اور حریت سے ایک انسان خود دستبردار ہوا کرتا ہے۔ پھر وہ ذلیل ہو کر مستضعفین میں داخل ہوجاتا ہے۔

اپنے عقائد ، نظریات ، افکار اور طرز عمل میں کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو کوئی انسان سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے تابع نہیں بنا سکتا۔ کوئی شخص بھی کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ کسی سرکش اور ڈکٹیٹرکا دین قبول کرلے ، کیونکہ اللہ خالق و رازق موجود ہے جو سب کا کفیل و ذمہ دار ہے۔ صرف ضعیف لوگ خود اپنی خوشی سے یہ کام کرتے ہیں ، یہ خود ضعیف بن گئے ، ان کی قوت اور کسی سرکش اور ڈکٹیٹر کی قوت برابر ہے۔ جاہ و مرتبہ اور مال و منال کے اعتبار سے یہ مستضعفین ڈکٹیٹر کے برابر ہوتے ہیں۔ کسی ڈکٹیٹر کا مرتبہ اور منصب کسی کو ضعیف نہیں بنا سکتا بلکہ یہ ذہنی طور پر بودے کردار کے لوگ ہوتے ہیں ، اپنے ایمان اور روح کے اعتبار سے یہ کمزور لوگ ہوتے ہیں ، بےعزت اور آبرو باختہ لوگ ہوتے ہیں اور اپنی آزادی اور عزت کو معمولی مفادات کے لئے بیچ دینے والے لوگ ہوتے ہیں جو جھکتے ہیں حالانکہ عزت و آبرو اور آزادی انسان کا نہایت قیمتی …

22

وَقَالَ ٱلشَّيْطَٰنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلْأَمْرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُمْ فَٱسْتَجَبْتُمْ لِى ۖ فَلَا تَلُومُونِى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُم ۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ أَنتُم بِمُصْرِخِىَّ ۖ إِنِّى كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے

آیت نمبر 21 تا 22

دعوت اسلامی اور داعیان حق کی یہ داستان ، اور جھٹلانے والوں اور ڈکٹیٹروں کی یہ کہانی اب اس دنیا کے اسٹیج سے آخرت کے اسٹیج پر منتقل ہوگئی ہے اور نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔

وبرزوا للہ جمیعاً ( 14 : 21) “ اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بےنقاب ہوں گے ”۔ یہ سرکش ڈکٹیٹر بھی کھڑے ہیں۔ اللہ کے سامنے اور ان کے کمزور کردار والے متبعین بھی کھڑے ہیں جنہوں نے ذلت اور کمزور کا کردار پسند کرلیا تھا ۔ شیطان بھی ایک طرف کھڑا ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ بھی کھڑے ہیں جو رسولوں پر ایمان لائے تھے اور نیک کام کرتے تھے ۔ یہ سب اب ایک میدان قیامت میں ہیں ، کھلے میدان میں ۔ اللہ کے لئے تو یہ پہلے بھی ظاہر و باہر تھے لیکن آج وہ خود اپنے احساس و شعور میں اپنے آپ کو ننگا اور بےحجاب محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ میدان حشر میں کوئی پردہ اور اوٹ نہیں ہے۔ یہ میدان بھرا ہوا ہے ، پردہ اٹھتا ہے اور مکالمہ شروع ہوتا ہے۔

فقال الضعفوا ۔۔۔۔۔۔ من شییء (14 : 21) “ اس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے ، وہ ان لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے “ دنیا میں تم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لئے بھی کچھ کرسکتے ہو ؟” بودے کردار کے کمزور لوگ بہرحال کمزور ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس اعلیٰ انسانی دولت سے دستبردار ہوجاتے ہیں جو اللہ نے ہر انسان کو دی ہے۔ وہ آزادی کی دولت ہے ، آزادی رائے ہے ، آزادی دین اور نظریہ اور حریت عمل ہے۔ ان لوگوں نے اپنی مرضی سے اپنی آزادی کو ترک کر کے غلامی اختیار کرلی ہے اور سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے غلام بن گئے ہیں ۔ یہ غیر اللہ کے بندے اور غلام بن گئے ہیں اور اللہ کی غلامی کی بجائے انہوں نے انسانوں کی غلامی اختیار کرلی ہے ، لیکن اسلام میں ضعیفی کوئی معقول عذر نہیں ہے بلکہ ضعیفی ایک جرم ہے ، اللہ کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی کا غلام بن جائے وہ تو انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ باعزت زندگی اختیار کرو ، میری عزت کرو ، میری پناہ میں آجاؤ۔ اللہ نے ہر انسان کو آزاد اور مکرم بنایا ہے اور اسے یہ اجازت نہیں ہے کہ اپنی آزادی کو بیچ دے ، یا کسی بڑی سے بڑی مادی قوت کے سامنے سپر انداز ہوجائے چاہے وہ بہت بڑی قوت کیوں نہ ہو۔ کسی بھی قوت کو اللہ یہ حق نہیں دیتا کہ وہ دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بنا کے رکھے۔ اسلام میں ہر انسان کی آزادی اور عزت کا احترا ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی مادی قوت بھی صرف انسانی جان اور جسم کا تعلق ختم کرسکتی ہے۔ تشدد اور اذیت دے سکتی ہے لیکن کسی کی آزاد سلب نہیں کرسکتی۔ انسانی ضمیر ، انسانی روح اور انسانی عقل پر کوئی ڈکٹیٹر حکومت نہیں کرسکتا ، نہ عقل ، روح اور ضمیر کو کوئی قید کرسکتا ہے ، ضمیر اور روح ، اور عقل اور حریت سے ایک انسان خود دستبردار ہوا کرتا ہے۔ پھر وہ ذلیل ہو کر مستضعفین میں داخل ہوجاتا ہے۔

اپنے عقائد ، نظریات ، افکار اور طرز عمل میں کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو کوئی انسان سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے تابع نہیں بنا سکتا۔ کوئی شخص بھی کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ کسی سرکش اور ڈکٹیٹرکا دین قبول کرلے ، کیونکہ اللہ خالق و رازق موجود ہے جو سب کا کفیل و ذمہ دار ہے۔ صرف ضعیف لوگ خود اپنی خوشی سے یہ کام کرتے ہیں ، یہ خود ضعیف بن گئے ، ان کی قوت اور کسی سرکش اور ڈکٹیٹر کی قوت برابر ہے۔ جاہ و مرتبہ اور مال و منال کے اعتبار سے یہ مستضعفین ڈکٹیٹر کے برابر ہوتے ہیں۔ کسی ڈکٹیٹر کا مرتبہ اور منصب کسی کو ضعیف نہیں بنا سکتا بلکہ یہ ذہنی طور پر بودے کردار کے لوگ ہوتے ہیں ، اپنے ایمان اور روح کے اعتبار سے یہ کمزور لوگ ہوتے ہیں ، بےعزت اور آبرو باختہ لوگ ہوتے ہیں اور اپنی آزادی اور عزت کو معمولی مفادات کے لئے بیچ دینے والے لوگ ہوتے ہیں جو جھکتے ہیں حالانکہ عزت و آبرو اور آزادی انسان کا نہایت قیمتی …

23

وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌ

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا

آیت نمبر 23

اب پردہ گرتا ہے۔۔۔ کیا ہی خوبصورت منظر ہے۔ دعوت اسلامی اور داعیوں اور جھٹلانے والوں اور سرکش ڈکٹیٹروں کی یہ کیا ہی خوبصورت کہانی ہے۔

ذرا پیچھے اس کہانی کے تمام مناظر پر دوبارہ نگاہ ڈالیں اور اس فضا کو ذہن میں رکھیں۔ پہلے منظر میں تحریک اسلامی اور جاہلیت کا مقابلہ اس کرۂ ارض پر دکھایا گیا۔ رسولان کرام کا گروہ سرکشوں کے مقابلے میں کھڑا تھا۔

واستفتحوا ۔۔۔۔۔ جبار عنید (15) من ورائہ ۔۔۔۔۔ صدید (16) یتجرعہ ولا۔۔۔۔۔۔ عذاب غلیظ (17) ( 14 : 15 تا 17) “ انہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں ان کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی ، پھر اس کے بعد آگے اس کے لئے جہنم ہے۔ وہاں اسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا۔ موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا ”۔

پھر آخرت کے اسٹیج پر بھی ہم نے ابھی ابھی وہ انوکھا منظر دیکھ لیا ہے۔ یہ سرکش ڈکٹیٹروں ، جابر بٹے ہوئے لوگوں اور خود شیطان کے عجیب مکالمے پر مشتمل تھا۔ اس بہترین قصے کی فضا میں اور نیک لوگوں کے اچھے انجام اور برے لوگوں کے برے انجام کے ان مناظر کے بعد اب اللہ تعالیٰ اچھی باتوں اور صحیح نظریہ حیات اور بری باتوں اور برے فلسفوں کی مثال دیتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں نیک و بد اور طیب و خبیث کی کشمکش انسان کی پوری زندگی میں جاری رہتی ہے۔ گویا ایک قصے کے خاتمے اور پردہ گرجانے کے بعد اب اس پوری کہانی پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔

24

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا كَلِمَةًۭ طَيِّبَةًۭ كَشَجَرَةٍۢ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌۭ وَفَرْعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں

آیت نمبر 24 تا 27

کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی نہ کسی دور میں کوئی نہ کوئی نبی آیا ہے اور وہ اصلاح ، دعوت اور ایمان کا پھل دیتا رہا ہے جس میں بھلائی اور اچھی زندگی کا سامان فراہم ہوتا رہا ہے۔

لیکن یہ تمثیل اس سورة کی فضا اور اس قصے کی فضا کے ساتھ متناسب ہونے کے ساتھ ساتھ مطالب و معانی کا نہایت وسیع آفاق رکھتی ہے اور اس کے اندر گہرے حقائق ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ حق ہے ، جو ایک مفید اور اصل دار درخت کی طرح ہوتا ہے ، یہ حق مستحکم ، ٹھوس اور مفید ہوتا ہے۔ زمانے گزر جاتے ہیں لیکن یہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ باطل کی طوفانی ہوائیں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں اور ظلم و سرکشی کے کدال اسے اکھاڑ نہیں پھینک سکتے۔ اگرچہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ظلم اور سرکشی کے سخت طوفان اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ یہ درخت نہایت بلند ہوتے ہیں اور ان کی شاخیں فضاؤں میں بڑی دور تک جاتی ہیں۔ یہ سرکشی اور ظلم پر بڑی بلندی سے حقارت آمیز نظر ڈالتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ شر اس کا بلند فضاؤں میں بھی مقابلے کر رہا ہے لیکن اس درخت کا پھل آتا ہی رہتا ہے ، پھر اس درخت کی تخم ریزی صالح انسانوں کے دلوں میں ہوتی اور اس کی پود لگتی ہی رہتی ہے اور یہ نسلاً بعد نسل بڑھتا ہی رہتا ہے۔

باطل جو کلمہ خبیثہ ہوتا ہے۔ یہ بےکار جھاڑی اور بوٹی کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ جھاڑیاں بھی بہار دکھاتی ہیں اور گھنے جنگلات کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور بعض لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل کا درخت حق سے بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کی جڑیں نہیں ہوتیں۔ معمولی طاقت صرف کرنے سے اسے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ جس طرح فصل سے جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھے لوگ اسے اکھاڑ پھینکتے ہیں اس لیے وہ قرار و بقا سے محروم ہوتا ہے کیونکہ ہوتا ہی خبیث ہے۔

یہ محض ایک مثال یا ضرب المثل ہی نہیں ہے ، نہ کوئی ایسی بات ہے جس کے ذریعہ نیک لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ، بلکہ یہ تمثیل زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اس حقیقت کے ظاہر ہونے میں دیر لگتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سچائی اور بھلائی کو کبھی بیخ دین سے نہیں اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا اور نہ یہ سچائی کبھی مرتی یا نابود ہوتی ہے اگرچہ شر کی گرفت سخت ہو اور شر اس کی راہ روک رہا ہو۔ اسی طرح خالص شر بھی دنیا میں پھلتا پھولتا نہیں۔ دراصل وہ اپنے ساتھ خیر کا کوئی حصہ ملاتا ہے ، اور جب اس شر کے ساتھ ملائے ہوئے خیر کے عناصر ختم ہوجاتے ہیں تو پھر شر اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بڑی قوت اور عظیم طاقت نظر آتا ہے ہو۔ بہرحال اصل حقیقت یہ ہے کہ خیر ہی خیرت سے ہوتا ہے اور شر ہمیشہ مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔

ویضرب اللہ الامثال للناس لعلھم یتذکرون (14 : 25) “ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں ”۔ یہ ایسی مثالیں ہیں جو زمین پر حقیقت کی شکل میں موجود ہیں۔ لوگ ان پر نظر نہیں ڈالتے ، قرآن صرف لوگوں کو متوجہ کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ تذکرہ ہے۔

شجرۂ ثابتہ اور اس مستحکم درخت کی تعبیر میں حق کے ثبات کی تصویر کشی بھی ہے ، یوں کہ حق کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اور وہ آسمان تک بلند شاخیں …

25

تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍۭ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

آیت نمبر 24 تا 27

کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی نہ کسی دور میں کوئی نہ کوئی نبی آیا ہے اور وہ اصلاح ، دعوت اور ایمان کا پھل دیتا رہا ہے جس میں بھلائی اور اچھی زندگی کا سامان فراہم ہوتا رہا ہے۔

لیکن یہ تمثیل اس سورة کی فضا اور اس قصے کی فضا کے ساتھ متناسب ہونے کے ساتھ ساتھ مطالب و معانی کا نہایت وسیع آفاق رکھتی ہے اور اس کے اندر گہرے حقائق ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ حق ہے ، جو ایک مفید اور اصل دار درخت کی طرح ہوتا ہے ، یہ حق مستحکم ، ٹھوس اور مفید ہوتا ہے۔ زمانے گزر جاتے ہیں لیکن یہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ باطل کی طوفانی ہوائیں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں اور ظلم و سرکشی کے کدال اسے اکھاڑ نہیں پھینک سکتے۔ اگرچہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ظلم اور سرکشی کے سخت طوفان اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ یہ درخت نہایت بلند ہوتے ہیں اور ان کی شاخیں فضاؤں میں بڑی دور تک جاتی ہیں۔ یہ سرکشی اور ظلم پر بڑی بلندی سے حقارت آمیز نظر ڈالتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ شر اس کا بلند فضاؤں میں بھی مقابلے کر رہا ہے لیکن اس درخت کا پھل آتا ہی رہتا ہے ، پھر اس درخت کی تخم ریزی صالح انسانوں کے دلوں میں ہوتی اور اس کی پود لگتی ہی رہتی ہے اور یہ نسلاً بعد نسل بڑھتا ہی رہتا ہے۔

باطل جو کلمہ خبیثہ ہوتا ہے۔ یہ بےکار جھاڑی اور بوٹی کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ جھاڑیاں بھی بہار دکھاتی ہیں اور گھنے جنگلات کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور بعض لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل کا درخت حق سے بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کی جڑیں نہیں ہوتیں۔ معمولی طاقت صرف کرنے سے اسے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ جس طرح فصل سے جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھے لوگ اسے اکھاڑ پھینکتے ہیں اس لیے وہ قرار و بقا سے محروم ہوتا ہے کیونکہ ہوتا ہی خبیث ہے۔

یہ محض ایک مثال یا ضرب المثل ہی نہیں ہے ، نہ کوئی ایسی بات ہے جس کے ذریعہ نیک لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ، بلکہ یہ تمثیل زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اس حقیقت کے ظاہر ہونے میں دیر لگتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سچائی اور بھلائی کو کبھی بیخ دین سے نہیں اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا اور نہ یہ سچائی کبھی مرتی یا نابود ہوتی ہے اگرچہ شر کی گرفت سخت ہو اور شر اس کی راہ روک رہا ہو۔ اسی طرح خالص شر بھی دنیا میں پھلتا پھولتا نہیں۔ دراصل وہ اپنے ساتھ خیر کا کوئی حصہ ملاتا ہے ، اور جب اس شر کے ساتھ ملائے ہوئے خیر کے عناصر ختم ہوجاتے ہیں تو پھر شر اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بڑی قوت اور عظیم طاقت نظر آتا ہے ہو۔ بہرحال اصل حقیقت یہ ہے کہ خیر ہی خیرت سے ہوتا ہے اور شر ہمیشہ مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔

ویضرب اللہ الامثال للناس لعلھم یتذکرون (14 : 25) “ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں ”۔ یہ ایسی مثالیں ہیں جو زمین پر حقیقت کی شکل میں موجود ہیں۔ لوگ ان پر نظر نہیں ڈالتے ، قرآن صرف لوگوں کو متوجہ کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ تذکرہ ہے۔

شجرۂ ثابتہ اور اس مستحکم درخت کی تعبیر میں حق کے ثبات کی تصویر کشی بھی ہے ، یوں کہ حق کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اور وہ آسمان تک بلند شاخیں …

26

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍۢ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍۢ

اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا اس کو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں

آیت نمبر 24 تا 27

کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی نہ کسی دور میں کوئی نہ کوئی نبی آیا ہے اور وہ اصلاح ، دعوت اور ایمان کا پھل دیتا رہا ہے جس میں بھلائی اور اچھی زندگی کا سامان فراہم ہوتا رہا ہے۔

لیکن یہ تمثیل اس سورة کی فضا اور اس قصے کی فضا کے ساتھ متناسب ہونے کے ساتھ ساتھ مطالب و معانی کا نہایت وسیع آفاق رکھتی ہے اور اس کے اندر گہرے حقائق ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ حق ہے ، جو ایک مفید اور اصل دار درخت کی طرح ہوتا ہے ، یہ حق مستحکم ، ٹھوس اور مفید ہوتا ہے۔ زمانے گزر جاتے ہیں لیکن یہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ باطل کی طوفانی ہوائیں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں اور ظلم و سرکشی کے کدال اسے اکھاڑ نہیں پھینک سکتے۔ اگرچہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ظلم اور سرکشی کے سخت طوفان اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ یہ درخت نہایت بلند ہوتے ہیں اور ان کی شاخیں فضاؤں میں بڑی دور تک جاتی ہیں۔ یہ سرکشی اور ظلم پر بڑی بلندی سے حقارت آمیز نظر ڈالتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ شر اس کا بلند فضاؤں میں بھی مقابلے کر رہا ہے لیکن اس درخت کا پھل آتا ہی رہتا ہے ، پھر اس درخت کی تخم ریزی صالح انسانوں کے دلوں میں ہوتی اور اس کی پود لگتی ہی رہتی ہے اور یہ نسلاً بعد نسل بڑھتا ہی رہتا ہے۔

باطل جو کلمہ خبیثہ ہوتا ہے۔ یہ بےکار جھاڑی اور بوٹی کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ جھاڑیاں بھی بہار دکھاتی ہیں اور گھنے جنگلات کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور بعض لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل کا درخت حق سے بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کی جڑیں نہیں ہوتیں۔ معمولی طاقت صرف کرنے سے اسے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ جس طرح فصل سے جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھے لوگ اسے اکھاڑ پھینکتے ہیں اس لیے وہ قرار و بقا سے محروم ہوتا ہے کیونکہ ہوتا ہی خبیث ہے۔

یہ محض ایک مثال یا ضرب المثل ہی نہیں ہے ، نہ کوئی ایسی بات ہے جس کے ذریعہ نیک لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ، بلکہ یہ تمثیل زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اس حقیقت کے ظاہر ہونے میں دیر لگتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سچائی اور بھلائی کو کبھی بیخ دین سے نہیں اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا اور نہ یہ سچائی کبھی مرتی یا نابود ہوتی ہے اگرچہ شر کی گرفت سخت ہو اور شر اس کی راہ روک رہا ہو۔ اسی طرح خالص شر بھی دنیا میں پھلتا پھولتا نہیں۔ دراصل وہ اپنے ساتھ خیر کا کوئی حصہ ملاتا ہے ، اور جب اس شر کے ساتھ ملائے ہوئے خیر کے عناصر ختم ہوجاتے ہیں تو پھر شر اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بڑی قوت اور عظیم طاقت نظر آتا ہے ہو۔ بہرحال اصل حقیقت یہ ہے کہ خیر ہی خیرت سے ہوتا ہے اور شر ہمیشہ مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔

ویضرب اللہ الامثال للناس لعلھم یتذکرون (14 : 25) “ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں ”۔ یہ ایسی مثالیں ہیں جو زمین پر حقیقت کی شکل میں موجود ہیں۔ لوگ ان پر نظر نہیں ڈالتے ، قرآن صرف لوگوں کو متوجہ کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ تذکرہ ہے۔

شجرۂ ثابتہ اور اس مستحکم درخت کی تعبیر میں حق کے ثبات کی تصویر کشی بھی ہے ، یوں کہ حق کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اور وہ آسمان تک بلند شاخیں …

27

يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْقَوْلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّٰلِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ

خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

آیت نمبر 24 تا 27

کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی نہ کسی دور میں کوئی نہ کوئی نبی آیا ہے اور وہ اصلاح ، دعوت اور ایمان کا پھل دیتا رہا ہے جس میں بھلائی اور اچھی زندگی کا سامان فراہم ہوتا رہا ہے۔

لیکن یہ تمثیل اس سورة کی فضا اور اس قصے کی فضا کے ساتھ متناسب ہونے کے ساتھ ساتھ مطالب و معانی کا نہایت وسیع آفاق رکھتی ہے اور اس کے اندر گہرے حقائق ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ حق ہے ، جو ایک مفید اور اصل دار درخت کی طرح ہوتا ہے ، یہ حق مستحکم ، ٹھوس اور مفید ہوتا ہے۔ زمانے گزر جاتے ہیں لیکن یہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ باطل کی طوفانی ہوائیں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں اور ظلم و سرکشی کے کدال اسے اکھاڑ نہیں پھینک سکتے۔ اگرچہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ظلم اور سرکشی کے سخت طوفان اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ یہ درخت نہایت بلند ہوتے ہیں اور ان کی شاخیں فضاؤں میں بڑی دور تک جاتی ہیں۔ یہ سرکشی اور ظلم پر بڑی بلندی سے حقارت آمیز نظر ڈالتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ شر اس کا بلند فضاؤں میں بھی مقابلے کر رہا ہے لیکن اس درخت کا پھل آتا ہی رہتا ہے ، پھر اس درخت کی تخم ریزی صالح انسانوں کے دلوں میں ہوتی اور اس کی پود لگتی ہی رہتی ہے اور یہ نسلاً بعد نسل بڑھتا ہی رہتا ہے۔

باطل جو کلمہ خبیثہ ہوتا ہے۔ یہ بےکار جھاڑی اور بوٹی کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ جھاڑیاں بھی بہار دکھاتی ہیں اور گھنے جنگلات کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور بعض لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل کا درخت حق سے بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کی جڑیں نہیں ہوتیں۔ معمولی طاقت صرف کرنے سے اسے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ جس طرح فصل سے جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھے لوگ اسے اکھاڑ پھینکتے ہیں اس لیے وہ قرار و بقا سے محروم ہوتا ہے کیونکہ ہوتا ہی خبیث ہے۔

یہ محض ایک مثال یا ضرب المثل ہی نہیں ہے ، نہ کوئی ایسی بات ہے جس کے ذریعہ نیک لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ، بلکہ یہ تمثیل زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اس حقیقت کے ظاہر ہونے میں دیر لگتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سچائی اور بھلائی کو کبھی بیخ دین سے نہیں اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا اور نہ یہ سچائی کبھی مرتی یا نابود ہوتی ہے اگرچہ شر کی گرفت سخت ہو اور شر اس کی راہ روک رہا ہو۔ اسی طرح خالص شر بھی دنیا میں پھلتا پھولتا نہیں۔ دراصل وہ اپنے ساتھ خیر کا کوئی حصہ ملاتا ہے ، اور جب اس شر کے ساتھ ملائے ہوئے خیر کے عناصر ختم ہوجاتے ہیں تو پھر شر اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بڑی قوت اور عظیم طاقت نظر آتا ہے ہو۔ بہرحال اصل حقیقت یہ ہے کہ خیر ہی خیرت سے ہوتا ہے اور شر ہمیشہ مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔

ویضرب اللہ الامثال للناس لعلھم یتذکرون (14 : 25) “ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں ”۔ یہ ایسی مثالیں ہیں جو زمین پر حقیقت کی شکل میں موجود ہیں۔ لوگ ان پر نظر نہیں ڈالتے ، قرآن صرف لوگوں کو متوجہ کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ تذکرہ ہے۔

شجرۂ ثابتہ اور اس مستحکم درخت کی تعبیر میں حق کے ثبات کی تصویر کشی بھی ہے ، یوں کہ حق کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اور وہ آسمان تک بلند شاخیں …

28

۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ كُفْرًۭا وَأَحَلُّوا۟ قَوْمَهُمْ دَارَ ٱلْبَوَارِ

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا

درس نمبر 115 تشریح آیات

28 ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 52

سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب سخت ہے۔ اس کے نبیوں کے حالات اور ان کی تکذیب کرنے والے سرکشوں کا انجام دیا گیا ہے۔ یہ قصہ شروع ہوا اور پھر سیاق سے غائب ہوگیا۔ اس کی مختلف کڑیاں آتی رہیں اور مختلف مناظر بھی آتے رہے۔ یہاں تک کہ کافر قیامت کے میدان تک پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے شیطان کا وعظ سنا لیکن یہ بعد از وقت تھا۔ قیامت میں وعظ چہ معنی وارد۔

رسولان کرام کی یہ طویل کہانی اسٹیج کرنے کے بعد اب بات حضرت محمد ﷺ اور آپ کی قوم تک آپہنچتی ہے کہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا کہ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنیوں میں داخل کرے اور یہ اللہ کا بہت بڑا انعام تھا اور رسول اللہ تمہیں بلاتے ہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے گا مگر تمہارا رد عمل بھی یہی ہے کہ تم اس نعمت کی ناشکری کرتے ہو اس دعوت کا انکار کرتے ہو اور کفر کو اختیار کرتے ہو اور تم رسول اللہ ﷺ اور اس کی دعوت پر کفر اور نا شکری کو ترجیح دیتے ہو۔

اس کے بعد پوری انسانیت پر اللہ کے انعامات و اکرامات گنوائے جاتے ہیں۔ اور اس پر کھلے کائناتی مناظر سے مثالیں دی جاتی ہیں اور اللہ کی نعمت کے شکر کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرو ، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ مالی فوائد ہوں گے اور نہ خریدو فروخت ہوگی اور وہ دوستی یاری ہوگی۔

سوال یہ تھا کہ اللہ ان کافروں کو پکڑتا کیوں نہیں ؟ اللہ نے ان کے معاملے کو نہ یونہی مہمل چھوڑ دیا ہے اور نہ اللہ غافل ہے بلکہ اللہ ان کے معاملے کو اس دن کے عذاب کے لئے مؤخر کر رہا ہے جس میں نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے رسولان کرام کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہنے والا ہے اگرچہ کفار مکر کریں اور اگرچہ ان کا مکر اس قدر عظیم ہو کہ بڑے بڑے پہاڑوں کو بلا مارنے والا ہو۔ یوں یہ دوسرا حصہ بھی پہلے حصے سے مربوط اور مسلسل ہوجاتا ہے۔

آیت نمبر 28 تا 30

کیا ہی عجیب صورت حال ہے ، کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی صورت میں کسی قوم کو ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ یہ رسول ایک عظیم دعوت کا حامل ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری قوم فلاح و مغفرت حاصل کرسکتی ہے اور جنت میں داخل ہو سکتی ہے ، لیکن قوم ہے کہ ان نعمت کو ہاتھوں ہاتھ لینے کے بجائے کفر کو لے رہی ہے ، اور اس قوم کے قائد جن کے ہاتھ میں جاہل عوام کی باگ ڈور ہے وہ قوم کی قیادت جنت کے بجائے ہلاکت کے گڑھے کی طرف کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم کی حالت یہی ہوتی ہے ۔ اس کے اٹھانے والے اور اس کے گرانے والے قائدین ہی ہوتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی قوم کے قائدین بھی لوگوں کو جہنم کے دہانے تک پہنچانے کے بعد اس میں گرانے اور ٹھہرانے کا انتظام کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے انبیاء کے مخالف جاہلیت زدہ قائدین نے اپنی قوم کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ جس طرح ان لوگوں نے اپنی اقوام کا برا حشر کیا ، اسی طرح اہل مکہ بھی یہی کر رہے ہیں۔

کسی قوم کے قائدین کا یہ عجیب فعل ہوتا ہے ، حالانکہ انہوں نے زمانہ ما قبل کی اقوام کی …

29

جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ

(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے

درس نمبر 115 تشریح آیات

28 ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 52

سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب سخت ہے۔ اس کے نبیوں کے حالات اور ان کی تکذیب کرنے والے سرکشوں کا انجام دیا گیا ہے۔ یہ قصہ شروع ہوا اور پھر سیاق سے غائب ہوگیا۔ اس کی مختلف کڑیاں آتی رہیں اور مختلف مناظر بھی آتے رہے۔ یہاں تک کہ کافر قیامت کے میدان تک پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے شیطان کا وعظ سنا لیکن یہ بعد از وقت تھا۔ قیامت میں وعظ چہ معنی وارد۔

رسولان کرام کی یہ طویل کہانی اسٹیج کرنے کے بعد اب بات حضرت محمد ﷺ اور آپ کی قوم تک آپہنچتی ہے کہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا کہ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنیوں میں داخل کرے اور یہ اللہ کا بہت بڑا انعام تھا اور رسول اللہ تمہیں بلاتے ہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے گا مگر تمہارا رد عمل بھی یہی ہے کہ تم اس نعمت کی ناشکری کرتے ہو اس دعوت کا انکار کرتے ہو اور کفر کو اختیار کرتے ہو اور تم رسول اللہ ﷺ اور اس کی دعوت پر کفر اور نا شکری کو ترجیح دیتے ہو۔

اس کے بعد پوری انسانیت پر اللہ کے انعامات و اکرامات گنوائے جاتے ہیں۔ اور اس پر کھلے کائناتی مناظر سے مثالیں دی جاتی ہیں اور اللہ کی نعمت کے شکر کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرو ، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ مالی فوائد ہوں گے اور نہ خریدو فروخت ہوگی اور وہ دوستی یاری ہوگی۔

سوال یہ تھا کہ اللہ ان کافروں کو پکڑتا کیوں نہیں ؟ اللہ نے ان کے معاملے کو نہ یونہی مہمل چھوڑ دیا ہے اور نہ اللہ غافل ہے بلکہ اللہ ان کے معاملے کو اس دن کے عذاب کے لئے مؤخر کر رہا ہے جس میں نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے رسولان کرام کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہنے والا ہے اگرچہ کفار مکر کریں اور اگرچہ ان کا مکر اس قدر عظیم ہو کہ بڑے بڑے پہاڑوں کو بلا مارنے والا ہو۔ یوں یہ دوسرا حصہ بھی پہلے حصے سے مربوط اور مسلسل ہوجاتا ہے۔

آیت نمبر 28 تا 30

کیا ہی عجیب صورت حال ہے ، کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی صورت میں کسی قوم کو ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ یہ رسول ایک عظیم دعوت کا حامل ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری قوم فلاح و مغفرت حاصل کرسکتی ہے اور جنت میں داخل ہو سکتی ہے ، لیکن قوم ہے کہ ان نعمت کو ہاتھوں ہاتھ لینے کے بجائے کفر کو لے رہی ہے ، اور اس قوم کے قائد جن کے ہاتھ میں جاہل عوام کی باگ ڈور ہے وہ قوم کی قیادت جنت کے بجائے ہلاکت کے گڑھے کی طرف کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم کی حالت یہی ہوتی ہے ۔ اس کے اٹھانے والے اور اس کے گرانے والے قائدین ہی ہوتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی قوم کے قائدین بھی لوگوں کو جہنم کے دہانے تک پہنچانے کے بعد اس میں گرانے اور ٹھہرانے کا انتظام کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے انبیاء کے مخالف جاہلیت زدہ قائدین نے اپنی قوم کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ جس طرح ان لوگوں نے اپنی اقوام کا برا حشر کیا ، اسی طرح اہل مکہ بھی یہی کر رہے ہیں۔

کسی قوم کے قائدین کا یہ عجیب فعل ہوتا ہے ، حالانکہ انہوں نے زمانہ ما قبل کی اقوام کی …

30

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًۭا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦ ۗ قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى ٱلنَّارِ

اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھا لو آخرکار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے

درس نمبر 115 تشریح آیات

28 ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 52

سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب سخت ہے۔ اس کے نبیوں کے حالات اور ان کی تکذیب کرنے والے سرکشوں کا انجام دیا گیا ہے۔ یہ قصہ شروع ہوا اور پھر سیاق سے غائب ہوگیا۔ اس کی مختلف کڑیاں آتی رہیں اور مختلف مناظر بھی آتے رہے۔ یہاں تک کہ کافر قیامت کے میدان تک پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے شیطان کا وعظ سنا لیکن یہ بعد از وقت تھا۔ قیامت میں وعظ چہ معنی وارد۔

رسولان کرام کی یہ طویل کہانی اسٹیج کرنے کے بعد اب بات حضرت محمد ﷺ اور آپ کی قوم تک آپہنچتی ہے کہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا کہ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنیوں میں داخل کرے اور یہ اللہ کا بہت بڑا انعام تھا اور رسول اللہ تمہیں بلاتے ہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے گا مگر تمہارا رد عمل بھی یہی ہے کہ تم اس نعمت کی ناشکری کرتے ہو اس دعوت کا انکار کرتے ہو اور کفر کو اختیار کرتے ہو اور تم رسول اللہ ﷺ اور اس کی دعوت پر کفر اور نا شکری کو ترجیح دیتے ہو۔

اس کے بعد پوری انسانیت پر اللہ کے انعامات و اکرامات گنوائے جاتے ہیں۔ اور اس پر کھلے کائناتی مناظر سے مثالیں دی جاتی ہیں اور اللہ کی نعمت کے شکر کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرو ، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ مالی فوائد ہوں گے اور نہ خریدو فروخت ہوگی اور وہ دوستی یاری ہوگی۔

سوال یہ تھا کہ اللہ ان کافروں کو پکڑتا کیوں نہیں ؟ اللہ نے ان کے معاملے کو نہ یونہی مہمل چھوڑ دیا ہے اور نہ اللہ غافل ہے بلکہ اللہ ان کے معاملے کو اس دن کے عذاب کے لئے مؤخر کر رہا ہے جس میں نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے رسولان کرام کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہنے والا ہے اگرچہ کفار مکر کریں اور اگرچہ ان کا مکر اس قدر عظیم ہو کہ بڑے بڑے پہاڑوں کو بلا مارنے والا ہو۔ یوں یہ دوسرا حصہ بھی پہلے حصے سے مربوط اور مسلسل ہوجاتا ہے۔

آیت نمبر 28 تا 30

کیا ہی عجیب صورت حال ہے ، کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی صورت میں کسی قوم کو ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ یہ رسول ایک عظیم دعوت کا حامل ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری قوم فلاح و مغفرت حاصل کرسکتی ہے اور جنت میں داخل ہو سکتی ہے ، لیکن قوم ہے کہ ان نعمت کو ہاتھوں ہاتھ لینے کے بجائے کفر کو لے رہی ہے ، اور اس قوم کے قائد جن کے ہاتھ میں جاہل عوام کی باگ ڈور ہے وہ قوم کی قیادت جنت کے بجائے ہلاکت کے گڑھے کی طرف کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم کی حالت یہی ہوتی ہے ۔ اس کے اٹھانے والے اور اس کے گرانے والے قائدین ہی ہوتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی قوم کے قائدین بھی لوگوں کو جہنم کے دہانے تک پہنچانے کے بعد اس میں گرانے اور ٹھہرانے کا انتظام کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے انبیاء کے مخالف جاہلیت زدہ قائدین نے اپنی قوم کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ جس طرح ان لوگوں نے اپنی اقوام کا برا حشر کیا ، اسی طرح اہل مکہ بھی یہی کر رہے ہیں۔

کسی قوم کے قائدین کا یہ عجیب فعل ہوتا ہے ، حالانکہ انہوں نے زمانہ ما قبل کی اقوام کی …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.