وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَمِيعًۭا فَقَالَ ٱلضُّعَفَٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًۭا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيْنَٰكُمْ ۖ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍۢ
اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے
آیت نمبر 21 تا 22
دعوت اسلامی اور داعیان حق کی یہ داستان ، اور جھٹلانے والوں اور ڈکٹیٹروں کی یہ کہانی اب اس دنیا کے اسٹیج سے آخرت کے اسٹیج پر منتقل ہوگئی ہے اور نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔
وبرزوا للہ جمیعاً ( 14 : 21) “ اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بےنقاب ہوں گے ”۔ یہ سرکش ڈکٹیٹر بھی کھڑے ہیں۔ اللہ کے سامنے اور ان کے کمزور کردار والے متبعین بھی کھڑے ہیں جنہوں نے ذلت اور کمزور کا کردار پسند کرلیا تھا ۔ شیطان بھی ایک طرف کھڑا ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ بھی کھڑے ہیں جو رسولوں پر ایمان لائے تھے اور نیک کام کرتے تھے ۔ یہ سب اب ایک میدان قیامت میں ہیں ، کھلے میدان میں ۔ اللہ کے لئے تو یہ پہلے بھی ظاہر و باہر تھے لیکن آج وہ خود اپنے احساس و شعور میں اپنے آپ کو ننگا اور بےحجاب محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ میدان حشر میں کوئی پردہ اور اوٹ نہیں ہے۔ یہ میدان بھرا ہوا ہے ، پردہ اٹھتا ہے اور مکالمہ شروع ہوتا ہے۔
فقال الضعفوا ۔۔۔۔۔۔ من شییء (14 : 21) “ اس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے ، وہ ان لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے “ دنیا میں تم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لئے بھی کچھ کرسکتے ہو ؟” بودے کردار کے کمزور لوگ بہرحال کمزور ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس اعلیٰ انسانی دولت سے دستبردار ہوجاتے ہیں جو اللہ نے ہر انسان کو دی ہے۔ وہ آزادی کی دولت ہے ، آزادی رائے ہے ، آزادی دین اور نظریہ اور حریت عمل ہے۔ ان لوگوں نے اپنی مرضی سے اپنی آزادی کو ترک کر کے غلامی اختیار کرلی ہے اور سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے غلام بن گئے ہیں ۔ یہ غیر اللہ کے بندے اور غلام بن گئے ہیں اور اللہ کی غلامی کی بجائے انہوں نے انسانوں کی غلامی اختیار کرلی ہے ، لیکن اسلام میں ضعیفی کوئی معقول عذر نہیں ہے بلکہ ضعیفی ایک جرم ہے ، اللہ کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی کا غلام بن جائے وہ تو انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ باعزت زندگی اختیار کرو ، میری عزت کرو ، میری پناہ میں آجاؤ۔ اللہ نے ہر انسان کو آزاد اور مکرم بنایا ہے اور اسے یہ اجازت نہیں ہے کہ اپنی آزادی کو بیچ دے ، یا کسی بڑی سے بڑی مادی قوت کے سامنے سپر انداز ہوجائے چاہے وہ بہت بڑی قوت کیوں نہ ہو۔ کسی بھی قوت کو اللہ یہ حق نہیں دیتا کہ وہ دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بنا کے رکھے۔ اسلام میں ہر انسان کی آزادی اور عزت کا احترا ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی مادی قوت بھی صرف انسانی جان اور جسم کا تعلق ختم کرسکتی ہے۔ تشدد اور اذیت دے سکتی ہے لیکن کسی کی آزاد سلب نہیں کرسکتی۔ انسانی ضمیر ، انسانی روح اور انسانی عقل پر کوئی ڈکٹیٹر حکومت نہیں کرسکتا ، نہ عقل ، روح اور ضمیر کو کوئی قید کرسکتا ہے ، ضمیر اور روح ، اور عقل اور حریت سے ایک انسان خود دستبردار ہوا کرتا ہے۔ پھر وہ ذلیل ہو کر مستضعفین میں داخل ہوجاتا ہے۔
اپنے عقائد ، نظریات ، افکار اور طرز عمل میں کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو کوئی انسان سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے تابع نہیں بنا سکتا۔ کوئی شخص بھی کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ کسی سرکش اور ڈکٹیٹرکا دین قبول کرلے ، کیونکہ اللہ خالق و رازق موجود ہے جو سب کا کفیل و ذمہ دار ہے۔ صرف ضعیف لوگ خود اپنی خوشی سے یہ کام کرتے ہیں ، یہ خود ضعیف بن گئے ، ان کی قوت اور کسی سرکش اور ڈکٹیٹر کی قوت برابر ہے۔ جاہ و مرتبہ اور مال و منال کے اعتبار سے یہ مستضعفین ڈکٹیٹر کے برابر ہوتے ہیں۔ کسی ڈکٹیٹر کا مرتبہ اور منصب کسی کو ضعیف نہیں بنا سکتا بلکہ یہ ذہنی طور پر بودے کردار کے لوگ ہوتے ہیں ، اپنے ایمان اور روح کے اعتبار سے یہ کمزور لوگ ہوتے ہیں ، بےعزت اور آبرو باختہ لوگ ہوتے ہیں اور اپنی آزادی اور عزت کو معمولی مفادات کے لئے بیچ دینے والے لوگ ہوتے ہیں جو جھکتے ہیں حالانکہ عزت و آبرو اور آزادی انسان کا نہایت قیمتی …