Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi

Ayahs 21–30 of 52

21

وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَمِيعًۭا فَقَالَ ٱلضُّعَفَٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًۭا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيْنَٰكُمْ ۖ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍۢ

اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :28

برزوا کے معنی محض نکل کر سامنے آنے اور پیش ہونے ہی کے نہیں ہیں بلکہ اس میں ظاہر ہونے اور کھل جانے کا مفہوم بھی شامل ہے ۔ اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ بے نقاب ہو کر سامنے آجانا کیا ہے ۔ حقیقت کے اعتبار سے تو بندے ہر وقت اپنے رب کے سامنے بے نقاب ہیں ۔ مگر آخرت کی پیشی کے دن جب وہ سب کے سب اللہ کی عدالت میں حاضر ہوں گے تو انہیں خود بھی معلوم ہوگا کہ ہم اس احکم الحاکمین اور مالک یوم الدین کے سامنے بالکل بے نقاب ہیں ، ہمارا کوئی کام بلکہ کوئی خیال اور دل کے گوشوں میں چھپا ہوا کوئی ارادہ تک اس سے مخفی نہیں ہے ۔

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :29

یہ تنبیہ ہے ان سب لوگوں کے لیے جو دنیا میں آنکھیں بند کر کے دوسروں کے پیچھے چلتے ہیں یا اپنی کمزوری کو حجت بنا کر طاقتور ظالموں کی اطاعت کرتے ہیں ۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ آج جو تمہارے لیڈر اور پیشوا اور افسر اور حاکم بنے ہوئے ہیں ، کل ان میں سے کوئی بھی تمہیں خدا کے عذاب سے ذرہ برابر بھی نہ بچا سکے گا ۔ لہٰذا آج ہی سوچ لو کہ تم جس کےپیچھے چل رہے ہو یا جس کا حکم مان رہے ہو وہ خود کہاں جا رہا ہے اور تمہیں کہاں پہنچا کر چھوڑے گا ۔

22

وَقَالَ ٱلشَّيْطَٰنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلْأَمْرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُمْ فَٱسْتَجَبْتُمْ لِى ۖ فَلَا تَلُومُونِى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُم ۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ أَنتُم بِمُصْرِخِىَّ ۖ إِنِّى كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :30

یعنی تمہارے تمام گلے شکوے اس حد تک تو بالکل صحیح ہیں کہ اللہ سچا تھا اور میں جھوٹا تھا ۔ اس واقعے سے مجھے ہرگز انکار نہیں ہے ۔ اللہ کے وعدے اور اس کی وعیدیں ، تم دیکھ ہی رہے ہو کہ ان میں سے ہر بات جوں کی توں سچی نکلی ۔ اور میں خود مانتا ہوں کہ جو بھروسے میں نے تمہیں دلائے ، جن فائدوں کے لالچ تمہیں دیے ، جن خوشنما توقعات کے جال میں تم کو پھانسا اور سب سے بڑھ کر یہ یقین جو تمہیں دلایا کہ اول تو آخرت واخرت کچھ بھی نہیں ہے ، سب محض ڈھکوسلا ہے ، اور اگر ہوئی بھی تو فلاں حضرت کے تصدق سے تم صاف بچ نکلو گے ، بس ان کی خدمت میں نذر و نیاز کی رشوت پیش کرتے رہو اور پھر جو چاہو کرتے پھرو ، نجات کا ذمہ ان کا ، یہ ساری باتیں جو میں تم سے کہتا رہا اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے کہلواتا رہا ، یہ سب محض دھوکا تھا ۔

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :31

یعنی اگر آپ حضرات ایسا کوئی ثبوت رکھتے ہو کہ آپ خود راہ راست پر چلنا چاہتے تھے اور میں نے زبردستی آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو غلط راستے پر کھینچ لیا ، تو ضرور اسے پیش فرمائیے ، جو چور کی سزا سو میری ۔ لیکن آپ خود مانیں گے کہ واقعہ یہ نہیں ہے ۔ میں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ دعوت حق کے مقابلے میں اپنی دعوت باطل آپ کے سامنے پیش کی ، سچائی کے مقابلہ میں جھوٹ کی طرف آپ کو بلایا ، نیکی کے مقابلہ میں بدی کی طرف آپ کو پکارا ۔ ماننے اور نہ ماننے کے جملہ اختیارات آپ ہی حضرات کو حاصل تھے ۔ میرے پاس آپ کو مجبور کرنے کی کوئی طاقت نہ تھی ۔ اب اپنی اس دعوت کا ذمہ دار تو بلا شبہہ تو میں خود ہوں اور اس کی سزا بھی پا رہا ہوں ۔ مگر آپ نے جو اس پر لبیک کہا اس کی ذمہ داری آپ مجھ پر کہاں ڈالنے چلے ہیں ۔ اپنے غلط انتخاب اور اپنے اختیار کے غلط استعمال کی ذمہ داری تو آپ کو خود ہی اٹھانی چاہیے ۔

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :32

”یہاں پھر شرک اعتقادی کے مقابلہ میں شرک کی ایک مستقل نوع یعنی شرک عملی کے وجود کا ایک ثبوت ملتا ہے ۔ ظاہر بات ہے کہ شیطان کو اعتقادی حیثیت سے تو کوئی بھی نہ خدائی میں شریک ٹھیراتا ہے اور نہ اس کی پرستش کرتا ہے ۔ سب اس پر لعنت ہی بھیجتے ہیں ۔ البتہ اس کی اطاعت اور غلامی اور اس کے طریقے کی اندھی یا آنکھوں دیکھے پیروی ضرور کی جا رہی ہے ، اور اسی کو یہاں شرک کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ممکن ہے کوئی صاحب جواب میں فرمائیں کہ یہ تو شیطان کا قول ہے جسے اللہ تعالی نے نقل فرمایا ہے ۔ لیکن ہم عرض کریں گے کہ اول تو اس کے قول کی اللہ تعالی خود تردید فرما دیتا اگر وہ غلط ہوتا ۔ دوسرے شرک عملی کا صرف یہی ایک ثبوت قرآن میں نہیں ہے بلکہ اس کی متعدد ثبوت پچھلی سورتوں میں گزر چکے ہیں اور آگے آ رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر یہودیوں اور عیسائیوں کو یہ الزام کہ وہ اپنے احبار اور رہبان کو ارباب من دون اللہ بنائے ہوئے ہیں ( التوبہ ۔ آیت ۱۳۷ ) ۔ خواہشات نفس کی بندگی کرنے والوں کے متعلق یہ فرمانا کہ انہوں نے اپنی خواہش نفس کو خدا بنا لیا ہے ( الفرقان ۔ آیت نمبر ٤۳ ) ۔ نافرمان بندوں کے متعلق یہ ارشاد کہ وہ شیطان کی عبادت کرتے رہے ہیں ( یٰسین ۔ آیت ٦۰ ) ۔ انسانی ساخت کے قوانین پر چلنے والوں کو ان الفاظ میں ملامت کہ اذن خداوندی کے بغیر جن لوگوں نے تمہارے لیے شریعت بنائی ہے وہ تمہارے ”شریک“ ہیں ( الشوریٰ ۔ آیت نمبر ۲۱ ) ۔ یہ سب کیا اسی شرک عملی کی نظیریں نہیں ہیں جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے؟ ان نظیروں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی صرف یہی ایک صورت نہیں ہے کہ کوئی شخص عقیدۃ کسی غیر اللہ کو خدائی میں شریک ٹھیرائے ۔ اس کی ایک دوسری صورت یہ بھی ہے کہ وہ خدائی سند کے بغیر ، یا احکام خداوندی کے علی الرغم ، اس کی …

23

وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌ

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :33

تَحیّہ کے لغوی معنی ہیں دعائے درازی عمر ۔ مگر اصطلاحا عربی زبان میں یہ لفظ اس کلمہ خیر مقدم یا کلمہ استقبال کے لیے بولا جاتا ہے جو لوگ آمنا سامنا ہونے پر سب سے پہلے ایک دوسرے سے کہتے ہیں ۔ اردو میں اس کا ہم معنی لفظ یا تو ”سلام“ ہے ، یا پھر علیک سلیک ۔ لیکن پہلا لفظ استعمال کرنے سے ترجمہ ٹھیک نہیں ہوتا اور دوسرا لفظ مبتذل ہے ، اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ ”استقبال “ کیا ہے ۔

تَحِیَّتُھُمْ کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کے درمیان آپس میں ایک دوسرے کے استقبال کا طریقہ یہ ہوگا ، اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کا اس طرح استقبال ہوگا ۔ نیز سلامٌ میں دعائے سلامتی کا مفہوم بھی ہے اور سلامتی کی مبارکباد کا بھی ۔ ہم نے موقع کی مناسبت کا لحاظ کرتے ہوئے وہ مفہوم اختیار کیا ہے جو ترجمہ میں درج ہے ۔

24

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا كَلِمَةًۭ طَيِّبَةًۭ كَشَجَرَةٍۢ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌۭ وَفَرْعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :34

کلمہ طیبہ کے لفظی معنی ” پاکیزہ بات “ کے ہیں ، مگر اس سے مراد وہ قول حق اور عقیدہ صالحہ جو سراسر حقیقت اور راستی پر مبنی ہو ۔ یہ قول اور عقیدہ قرآن مجید کی رو سے لازما وہی ہو سکتا ہے جس میں توحید کا اقرار ، انبیاء علیہم السلام اور کتب آسمانی کا اقرار ، اور آخرت کا اقرار ہو ، کیونکہ قرآن انہی امور کو بنیادی صداقتوں کی حیثیت سے پیش کرتا ہے ۔

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :35

دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین سے لے کر آسمان تک چونکہ سارا نظام کائنات اسی حقیقت پر مبنی ہے جس کا اقرار ایک مومن اپنے کلمہ طیبہ میں کرتا ہے ، اس لیے کسی گوشے میں بھی قانون فطرت اس سے نہیں ٹکراتا ، کسی شے کی بھی اصل اور جبلت اس سے اِبا نہیں کرتی ، کہیں کوئی حقیقت اور صداقت اس سے متصادم نہیں ہوتی ۔ اسی لیے زمین اور اس کا پورا نظام اس سے تعاون کرتا ہے ، اور آسمان اور اس کا پورا عالم اس کا خیر مقدم کرتا ہے ۔

25

تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍۭ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :36

یعنی وہ ایسا بار آور اور نتیجہ خیز کلمہ ہے کہ جو شخص یا قوم اسے بنیاد بنا کر اپنی زندگی کا نظام اس پر تعمیر کرے ، اس کو ہر آن اس کے مفید نتائج حاصل ہوتے رہتے ہیں ۔ وہ فکر میں سلجھاؤ ، طبیعت میں سلامت ، مزاج میں اعتدال ، سیرت میں مضبوطی ، اخلاق میں پاکیزگی ، روح میں لطافت ، جسم میں طہارت و نظافت ، برتاؤ میں خوشگواری ، معاملات میں راست بازی ، کلام میں صداقت شعاری ، قول و قرار میں پختگی ، معاشرت میں حسن سلوک ، تہذیب میں فضیلت ، تمدن میں توازن ، معیشت میں عدل و مواساۃ ، سیاست میں دیانت ، جنگ میں شرافت ، صلح میں خلوص اور عہدوپیمان میں وثوق پیدا کرتا ہے ، وہ ایک ایسا پارس ہے جس کی تاثیر اگر کوئی ٹھیک ٹھیک قبول کر لے تو کندن بن جائے ۔

26

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍۢ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍۢ

اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا اس کو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :37

” یہ لفظ کلمہ طیبہ کی ضد ہے جس کا اطلاق اگرچہ ہر خلاف حقیقت اور مبنی بر غلط قول پر ہو سکتا ہے ، مگر یہاں اس سے مراد ہر وہ باطل عقیدہ ہے جس کو انسان اپنے نظام زندگی کی بنیاد بنائے ، عام اس سے کہ وہ دہریت ہو ، الحاد و زندقہ ہو ، شرک و بت پرستی ہو ، یا کوئی اور ایسا تخیل جو انبیاء علیہم السلام کے واسطے سے نہ آیا ہو ۔

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :38

دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ عقیدہ باطل چونکہ حقیقت کے خلاف ہے اس لیے قانون فطرت کہیں بھی اس سے موافقت نہیں کرتا ۔ کائنات کا ہر ذرہ اس کی تکذیب کرتا ہے ۔ زمین و آسمان کی ہر شے اس کی تردید کرتی ہے ۔ زمین میں اس کا بیج بونے کی کوشش کی جائے تو ہر وقت وہ اسے اگلنے کے لیے تیار رہتی ہے ۔ آسمان کی طرف اس کی شاخیں بڑھنا چاہیں تو وہ انہیں نیچے دھکیلتا ہے ۔ انسان کو اگر امتحان کی خاطر انتخاب کی آزادی اور عمل کی مہلت نہ دی گئی ہوتی تو یہ بدذات درخت کہیں اگنے ہی نہ پاتا ۔ مگر چونکہ اللہ تعالی نے ابن آدم کو اپنے رحجان کے مطابق کام کرنے کا موقع عطا کیا ہے ، اس لیے جو نادان لوگ قانون فطرت سے لڑ بھڑ کر یہ درخت لگانے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کے زور مارنے سے زمین اسے تھوڑی بہت جگہ دے دیتی ہے ، ہوا اور پانی سے کچھ نہ کچھ غذا بھی اسے مل جاتی ہے ، اور فضا بھی اس کی شاخوں کے پھیلنے کے لیے بادل ناخواستہ کچھ موقع دینے پر آمادہ ہو جاتی ہے ۔ لیکن جب تک یہ درخت قائم رہتا ہے کڑوے ، کسیلے ، زہریلے پھل دیتا رہتا ہے ، اور حالات کے بدلتے ہی حوادث کا ایک جھٹکا اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے ۔

کلمہ طیبہ اور کلمات خبیثہ کے اس فرق کو ہر وہ شخص بآسانی محسوس کر سکتا ہے جو دنیا کی مذہبی ، اخلاقی ، فکری اور تمدنی تاریخ کا مطالعہ کرے ۔ وہ دیکھے گا کہ آغاز تاریخ سے آج تک کلمہ طیبہ تو ایک ہی رہا ہے ، مگر کلمات خبیثہ بے شمار پیدا ہو چکے ہیں ۔ کلمہ طیبہ کبھی جڑ سے نہ اکھاڑا جا سکا ، مگر کلمات خبیثہ کی فہرست ہزاروں مردہ کلمات کے ناموں سے بھری پڑی ہے ، حتی کہ ان میں سے بہتوں کا حال یہ ہے کہ آج تاریخ کے صفحات کے سوا کہیں ان کا نام و نشان تک نہیں پایا جاتا ۔ اپنے زمانے میں جن کلمات کا بڑا زور و شور رہا ہے آج ان کا ذکر کیا جائے تو لوگ حیران رہ جائیں کہ کبھی انسان ایسی ایسی حماقتوں کا بھی قائل رہ چکا ہے ۔

پھر کلمہ طیبہ کو جب ، جہاں ، جس شخص یا قوم نے بھی صحیح معنوں میں اپنایا اس کی خوشبو سے اس کا ماحول معطر ہوگیا اور اس کی برکتوں سے صرف اسی شخص یا قوم نے فائدہ نہیں اٹھایا ، بلکہ اس کے گردوپیش کی دنیا بھی ان سے مالا مال ہوگئی ۔ مگر کسی کلمہ خبیث نے جہاں جس انفرادی یا اجتماعی زندگی میں بھی جڑ پکڑی اس کی سڑاند سے سارا ماحول متعفن ہو گیا ۔ اور اس کے کانٹوں کی چبھن سے نہ اس کا ماننے والا امن میں رہا ، نہ کوئی ایسا شخص جس کو اس سے سابقہ پیش آیا ہو ۔

اس سلسلہ میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ یہاں تمثیل کے پیرایہ میں اسی مضمون کو سمجھایا گیا ہے جو آیت ۱۸ میں یوں بیان ہوا تھا کہ ” اپنے رب سے کفر کرنے والوں کے اعمال کی مثال اس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو “ ۔ اور یہی مضمون اس سے پہلے سورہ رعد آیت ۱۷ میں ایک دوسرے انداز سیلاب اور پگھلائی ہوئی دھاتوں کی تمثیل میں بیان ہوچکا ہے ۔

27

يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْقَوْلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّٰلِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ

خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :39

یعنی دنیا میں ان کو اس کلمہ کی وجہ سے ایک پائدار نقطہ نظر ، ایک مستحکم نظام فکر ، اور ایک جامع نظریہ ملتا ہے جو ہر عُقدے کو حل کر نے اور ہر گُتھی کو سلجھانے کے لیے شاہ کلید کا حکم رکھتا ہے ۔ سیرت کی مضبوطی اور اخلاق کی استواری نصیب ہوتی ہے جسے زمانہ کی گردشیں متزلزل نہیں کر سکتیں ۔ زندگی کے ایسے ٹھوس اصول ملتے ہیں جو ایک طرف ان کے قلب کو سکون اور دماغ کو اطمینان بخشتے ہیں اور دوسری طرف انہیں سعی و عمل کی راہوں میں بھٹکنے ، ٹھوکریں کھانے ، اور تلون کا شکار ہونے سے بچاتے ہیں ۔ پھر جب وہ موت کی سرحد پار کر کے عالم آخرت کے حدود میں قدم رکھتے ہیں تو وہاں کسی قسم کی حیرانی اور سراسیمگی و پریشانی ان کو لاحق نہیں ہوتی ۔ کیونکہ وہاں سب کچھ ان کی توقعات کے عین مطابق ہوتا ہے ۔ وہ اس عالم میں اس طرح داخل ہوتے ہیں گویا اس کی راہ و رسم سے پہلے ہی واقف تھے ۔ وہاں کوئی مرحلہ ایسا پیش نہیں آتا جس کی انہیں پہلے خبر نہ دے دی گئی ہو اور جس کے لیے انہوں نے قبل از وقت تیاری نہ کر رکھی ہو ۔ اس لیے وہاں ہر منزل سے وہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ گزرتے ہیں ۔ ان کا حال وہاں اس کافر سے بالکل مختلف ہوتا ہے جسے مرتے ہی اپنی توقعات کے سراسر خلاف ایک دوسری ہی صورت حال سے اچانک سابقہ پیش آتا ہے ۔

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :40

یعنی جو ظالم کلمہ طیبہ کو چھوڑ کر کسی کلمہ خبیثہ کی پیروی کرتے ہیں ، اللہ تعالی ان کے ذہن کو پراگندہ اور ان کی مساعی کو پریشان کر دیتا ہے ۔ وہ کسی پہلو سے بھی فکر و عمل کی صحیح راہ نہیں پاسکتے ۔ ان کا کوئی تیر بھی نشانے پر نہیں بیٹھتا ۔

28

۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ كُفْرًۭا وَأَحَلُّوا۟ قَوْمَهُمْ دَارَ ٱلْبَوَارِ

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا

Explained together with ayah 27

29

جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ

(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے

Explained together with ayah 27

30

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًۭا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦ ۗ قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى ٱلنَّارِ

اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھا لو آخرکار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے

Explained together with ayah 27

Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.