قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَمَا كَانَ لَنَآ أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَٰنٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ
پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے
کیا نہیں آئی تمھارے پاس خبر ان لوگوں کی جو تم سے پہلے تھے (یعنی ) قوم نوح اور عاد اور ثمود کی اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے، نہیں جانتا انھیں (کوئی بھی) سوائے اللہ کے، آئے تھے ان کے پاس رسول ان کے واضح دلیلوں کے ساتھ، پس لوٹائے انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں اور کہا، بے شک ہم نہیں مانتے اس چیز کو کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کےاور بے شک ہم تو البتہ ایسے شک میں ہیں اس سے کہ تم بلاتے ہو ہمیں اس کی طرف، جو اضطراب میں ڈالنے والا ہے (9) کہا ان کے رسولوں نے، کیا اس اللہ کی بابت شک ہے (تمھیں ) جو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا؟ وہ بلاتا ہے تمھیں تاکہ وہ بخش دے تمھارے لیے تمھارے گناہ اور (تاکہ) مہلت دے تمھیں ایک وقت مقرر (موت) تک، انھوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہم جیسے ہی، تم چاہتے ہو یہ کہ روک دو ہمیں ان (معبودوں ) سے کہ تھے (ان کی) عبادت کرتے باپ دادا ہمارے، پس لے آؤ تم ہمارے پاس کوئی دلیل واضح (10)کہا ان سے ان کے رسولوں نے نہیں ہیں ہم مگر بشر تم جیسے ہی لیکن اللہ احسان کرتا ہے اوپر جس کے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور نہیں ہے (اختیار) واسطے ہمارے یہ کہ ہم لے آئیں تمھارے پاس کوئی معجزہ بغیر حکم اللہ کےاور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں مومن (11) او ر کیا (عذر) ہے ہمارے لیے کہ نہ بھروسہ کریں ہم اوپر اللہ کے جبکہ اس نے دکھائیں ہمیں ہماری (ہدایت کی) راہیں ؟ اور البتہ ہم ضرور صبر کریں گے اوپر اس کے جو اذیت دیتے ہو تم ہمیں اور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (12)
[9] جھٹلانے والی قوموں کے پاس جب ان کے رسول آئے اور انھوں نے ان کو جھٹلایا تو ان قوموں پر عذاب نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں ان کو جو سزا دے دی یہ عذاب لوگوں نے دیکھا اور سنا، پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس عذاب سے ڈراتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَبَؤُا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا تمھارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، قوم نوح، عاد اور ثمود‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت بسط و تفصیل سے ان کے واقعات ذکر فرمائے ہیں ۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ١ۛؕ لَا يَعۡلَمُهُمۡ اِلَّا اللّٰهُ﴾ ’’اور جو ان کے بعد ہوئے، جن کو صرف اللہ جانتا ہے‘‘ ان کی کثرت اور ان کی تاریخ مٹ جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا ﴿ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی ان کے رسول ان کے پاس ایسے دلائل لے کر آئے جو ان کی تعلیمات کی صداقت پر دلالت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی رسول مبعوث فرمایا اس کو ایسی آیات عطا فرمائیں جو انسان کے بس میں نہ تھیں ۔ جب ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آئے تو انھوں نے ان دلائل کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا بلکہ انھوں نے نہایت تکبر کے ساتھ ان کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَرَدُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فِيۡۤ اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’پس لوٹائے انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں ‘‘ یعنی وہ اس وحی پر ایمان نہ لائے جو رسول لے کر آئے تھے انھوں نے کوئی ایسی بات نہ کہی جو ان کے ایمان پر دلالت کرتی ہو۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿يَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَهُمۡ فِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ﴾(البقرۃ: 2؍19) ’’تو یہ بجلی کی کڑک سے ڈر کر موت کے خوف سے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں ۔‘‘﴿ وَقَالُوۡۤا ﴾ اور صراحت کے ساتھ اپنے رسولوں سے انھوں نے کہا ﴿ اِنَّا كَفَرۡنَا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ ﴾ ’’ہم نے انکار کیا اس چیز کا جس کے ساتھ تمھیں بھیجا گیا اور بے شک ہمیں اس دعوت میں شک ہے جس کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو، خلجان میں …