Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 11–20 of 52

11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَمَا كَانَ لَنَآ أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَٰنٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ ۔۔ : معلوم ہوا دلیل دیکھنے سے ایمان نہیں آتا، اللہ تعالیٰ کے عطا کرنے سے آتا ہے۔ (موضح)- اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت سراسر وہبی، یعنی اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ اس کے لائق افراد کا انتخاب وہ خود کرتا ہے، فرمایا : (وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِھٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ) [ آل عمران : ١٧٩ ] ” اور لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ “ نبوت کسی کو محنت اور ریاضت سے حاصل نہیں ہوتی، جیسا کہ بعض گمراہ لوگوں کا خیال ہے، جن میں قادیانی دجال بھی شامل ہے۔ - وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ ۔۔ : یعنی معجزات ہمارے اختیار میں نہیں، وہ اللہ کے حکم کے بغیر ظاہر نہیں ہوتے، اس لیے ہمارا بھروسا اللہ ہی پر ہے اور تمام اہل ایمان کو اسی پر بھروسا لازم ہے۔

12

وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَآ ءَاذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ

اور ہم کیونکر خدا پر بھروسہ نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) رستے بتائے ہیں۔ جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللّٰهِ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں ہدایت دے دی تو اس کے بعد ہمارے پاس کیا عذر ہے کہ ہم اس کے بھروسے پر استقامت اختیار نہ کریں۔ رہا تمہارا ہمیں ایذا دینا تو ہم ہر حال میں اس پر صبر کریں گے اور اپنے رب پر بھروسا رکھیں گے، کیونکہ بھروسا رکھنے والوں کو اسی پر بھروسا رکھنا لازم ہے۔

13

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُم مِّنْ أَرْضِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰٓ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا ہمارے مذہب میں داخل ہو جاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دیں گے

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ : کفار نے اپنی کثرت اور اہل ایمان کی قلت دیکھ کر اپنے رسولوں کو یہ دھمکی دی کہ تمہارے سامنے صرف دو راستے ہیں یا تو ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے، یا پھر تم اسلام چھوڑ کر واپس آجاؤ گے، جیسا کہ اس وقت ہند کے کافر مسلمانوں کو قتل یا ارتداد یا نکل جانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ - اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا : ” یا تم ہماری ملت میں واپس آؤ گے “ کفار کا یہ کہنا ان کے اپنے گمان کے مطابق تھا، ورنہ یہ مطلب نہیں کہ انبیاء ( علیہ السلام) نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوم کے دین کی پیروی کرتے تھے، بلکہ بات یہ تھی کہ نبوت سے پہلے انبیاء ( علیہ السلام) ان کے بتوں کے معاملہ میں خاموش رہتے تھے، جس پر انھوں نے بطور خود یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ ان کے مذہب پر ہیں، یا اس ” اَوْ لَتَعُوْدُنَّ “ کا معنی ” لَتَصِیْرُنَّ “ ہے، یعنی تم ہماری ملت میں آجاؤ گے۔ (دیکھیے اعراف : ٨٨) یا خطاب ان لوگوں سے ہے جو کفر کو چھوڑ کر پیغمبروں پر ایمان لے آئے تھے۔ (رازی)

14

وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِى وَخَافَ وَعِيدِ

اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب سے خوف کرے

وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے انھیں حوصلہ دیا کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کریں گے اور اس سرزمین پر تمہیں آباد کریں گے۔ انبیاء کے پیروکاروں کا آخر کار کفار کے علاقوں پر قابض ہونا بھی درحقیقت انبیاء ہی کا غلبہ ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے ایک مدت بعد شام اور مصر وغیرہ پر قابض ہوئے، فرمایا : (ۙكَذٰلِكَ ۭ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ) [ الشعراء : ٥٩ ] ” ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔ “ اور مسلمان اگرچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی ہی میں جزیرۂ عرب پر قابض ہوگئے تھے، جیسا کہ یہود کے متعلق فرمایا : (ۚوَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَـــطَـــــُٔـوْهَا ۭ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا) [ الأحزاب : ٢٧ ] ” اور (اے مسلمانو ) تمہیں ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ “ مگر زمین کے مشارق و مغارب کی فتوحات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ہوئیں اور یہ بھی درحقیقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی فتوحات تھیں، کیونکہ ان کے دین اور ان کے پیروکاروں کی فتوحات تھیں۔ ” وَعِيْدِ “ اصل میں ” وَعِیْدِيْ “ تھا، ” میری وعید “ آیات کے آخری حصوں کی موافقت کے لیے یاء حذف کرکے کسرہ باقی رکھا گیا۔

15

وَٱسْتَفْتَحُوا۟ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍۢ

اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو ہر سرکش ضدی نامراد رہ گیا

وَاسْتَفْتَحُوْا ۔۔ : فتح کا معنی قرآن مجید میں ” فتح و نصرت “ بھی آیا ہے اور ” فیصلہ “ بھی۔ ” َاسْتَفْتَحُوْا “ کا معنی انھوں نے فتح و نصرت مانگی، یا انھوں نے فیصلہ مانگا اور اس کا فاعل پیغمبر بھی ہوسکتے ہیں اور کفار بھی۔ اگر معنی فتح و نصرت ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ پیغمبروں نے بیشمار آزمائشیں آنے پر اپنے رب سے فتح و نصرت کی دعا کی جو قبول ہوئی، فرمایا : ( حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ ) [ البقرۃ : ٢١٤ ] ” یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے کہہ اٹھے، اللہ کی مدد کب ہوگی ؟ سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔ “ اگر ” َاسْتَفْتَحُوْا “ کا فاعل کفار ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ ” کافروں نے اپنے داتاؤں اور دستگیروں سے فتح و نصرت کی دعا مانگی مگر وہ ناکام ہوئے۔ “ اگر فتح کا معنی فیصلہ ہو تو مطلب ہوگا کہ پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، فرمایا : (رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ ) [ الأعراف : ٨٩ ] ” اے ہمارے رب تو ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔ “ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر سرکش و سخت عناد رکھنے والا ناکام و نامراد ہوا۔ یا مطلب یہ ہے کہ کفار نے اللہ تعالیٰ سے فیصلے کی دعا کی، فرمایا : (وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) [ الأنفال : ٣٢ ] ” اور جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔ “ ” َاسْتَفْتَحُوْا “ کے ان چاروں معنوں میں سے جو معنی بھی کریں وہ درست ہے اور قرآن مجید کے مختلف مقامات پر چاروں معانی موجود ہیں۔ قرآن کا اعجاز دیکھیے کہ ایک ہی لفظ ایسا بولا جو چاروں پر صادق آتا ہے۔ غرض دنیا میں نتیجہ یہ نکلا کہ ہر سرکش اور سخت عناد رکھنے والا کافر ناکام اور نامراد ہوا۔ رہا آخرت کا انجام تو وہ آئندہ آیت میں مذکور ہے۔

16

مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِن مَّآءٍۢ صَدِيدٍۢ

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا

مِّنْ وَّرَاۗىِٕهٖ جَهَنَّمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّاۗءٍ صَدِيْدٍ : ” وَرَآءٌ“ کے متعدد معانی آئے ہیں : 1 پیچھے یا بعد، جیسے فرمایا : (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ ) [ ھود : ٧١ ] ” اور اسحاق کے بعد یعقوب کی بشارت دی۔ “ 2 غیر یعنی سوا، جیسے فرمایا : (فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ ) [ المؤمنون : ٧ ] ” پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ “ 3 آگے، جیسا کہ سورة کہف (٧٩) میں ” وَكَانَ وَرَاۗءَهُمْ مَّلِكٌ“ کا معنی ” ان کے آگے ایک بادشاہ تھا “ کیا گیا ہے۔ یہاں مراد بعد بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کی ناکامی کے بعد اس کے لیے جہنم ہے اور آگے بھی کہ آئندہ جہنم اس کے انتظار میں ہے۔ ” صَدِيْدٍ “ وہ رقیق پانی جو زخم سے نکلتا ہے، مراد اہل جہنم کے جلنے سے ان کے جسموں سے نکلنے والی پیپ، خون اور رطوبت ہے۔ مزید دیکھیے سورة صٓ (٥٧، ٥٨) ، محمد (١٥) اور کہف (٢٩) ” مَّاۗءٍ صَدِيْدٍ “ مبدل منہ اور بدل ہے، یعنی ایسا پانی جو ” صدید “ ہوگا۔

17

يَتَجَرَّعُهُۥ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ وَيَأْتِيهِ ٱلْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍۢ ۖ وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٌۭ

وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا

يَّتَجَرَّعُهٗ : یہ باب تفعل سے ہے، جس میں تکلف کا معنی ہوتا ہے، یعنی مشکل سے ایک ایک گھونٹ کرکے اسے پیے گا اور وہ اتنا کڑوا، بدذائقہ، بدبو دار اور گرم ہوگا کہ قریب نہیں کہ گلے سے اتار سکے، مگر پیاس کا عذاب اسے پینے پر مجبور کرے گا اور اندر جا کر وہ ان کی انتڑیاں کاٹ دے گا۔ دیکھیے سورة محمد (١٥) ۔- وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ ۔۔ : اور ہر جگہ سے اسے موت آتی دکھائی دے گی، کیونکہ جہنم کی ایک ایک چیز موت کے لیے کافی ہے، مگر وہ کسی صورت مرنے والا نہیں، کیونکہ وہاں موت ہوگی ہی نہیں۔ ” بِمَيِّتٍ “ کی باء سے نفی کی تاکید ہوئی، اس لیے ترجمہ میں ” کسی صورت “ کا اضافہ ہوگیا۔ دیکھیے سورة فاطر (٣٦) اور سورة اعلیٰ (١٣) ۔- وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ : یعنی اس کے بعد اور سخت عذاب ہے۔ اب اس کی مختلف صورتیں تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، جن میں سے بہت سی چیزیں قرآن و حدیث میں مذکور ہیں، البتہ عذاب کے طور پر مسلط ہونے والی بھوک اور زقوم کے کھانے کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے، فرمایا : (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43؀ۙ طَعَامُ الْاَثِيْمِ 44؀ٻ كَالْمُهْلِ ڔ يَغْلِيْ فِي الْبُطُوْنِ 45؀ۙكَغَلْيِ الْحَمِيْمِ 46؀ خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَاۗءِ الْجَحِيْمِ 47؀ ڰ ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيْمِ 48؀ۭذُقْ ڌ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ ) [ الدخان : ٤٣ تا ٤٩ ] ” بیشک زقوم کا درخت۔ گناہ گار کا کھانا ہے۔ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح، پیٹوں میں کھولتا ہے۔ گرم پانی کے کھولنے کی طرح۔ اسے پکڑو، پھر اسے بھڑکتی آگ کے درمیان تک دھکیل کرلے جاؤ۔ پھر کھولتے پانی کا کچھ عذاب اس کے سر پر انڈیلو۔ چکھ، بیشک تو ہی وہ شخص ہے جو بڑا زبردست، بہت باعزت ہے۔ “ - جہنم کے سخت عذاب کا اندازہ دنیا میں کسی طرح نہیں ہوسکتا جس کی آگ ہی یہاں کی آگ سے ستر (٧٠) گنا گرم ہے، البتہ جہنم کے سب سے کم عذاب کا بیان جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے، اس سے سخت عذاب کا کچھ نہ کچھ اندازہ کرلیں، حقیقی علم تو ممکن ہی نہیں، نہ وہ بیان میں آسکتا ہے۔ نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ أَہْوَنَ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَہُ نَعْلاَن وَ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ ، یَغْلِيْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ ، کَمَا یَغْلِي الْمِرْجَلُ مَا یَرَی أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْہُ عَذَابًا، وَ إِنَّہُ لَأَہْوَنُہُمْ عَذَابًا ) [ مسلم، الإیمان، باب أھون أھل النار عذابا : ٣٦٤؍٢١٣ ]” اہل نار میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہوگا جس کے لیے آگ کے دو جوتے اور دو تسمے ہوں گے، ان دونوں سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا ہوگا جیسے ہانڈی ابلتی ہے، وہ نہیں خیال کرے گا کہ اس سے زیادہ بھی کسی کو عذاب ہو رہا ہے، حالانکہ وہ ان سب سے کم عذاب والا ہوگا۔ “ [ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ جَمِیْعِ عَذَاب الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ]

18

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ ۖ أَعْمَٰلُهُمْ كَرَمَادٍ ٱشْتَدَّتْ بِهِ ٱلرِّيحُ فِى يَوْمٍ عَاصِفٍۢ ۖ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا۟ عَلَىٰ شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلْبَعِيدُ

جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے جائے (اس طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی۔ یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے

مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ ۔۔ : کفار دنیا میں جو بھی اچھے کام کرتے ہیں، مثلاً کمزوروں کی مدد اور صدقہ وغیرہ، وہ آخرت میں ان کے کسی کام نہیں آئیں گے، کیونکہ ان کا بدلا انھیں دنیا ہی میں دیا جا چکا ہوگا۔ (دیکھیے الاحقاف : ٢٠) ” عَاصِفٍ “ ” عَصَفَ یَعْصِفُ “ سے ہے، بمعنی توڑنا۔ ” کَعَصْفٍ مَّأْکُوْلٍ “ کا معنی ہے ریزہ شدہ بھس، یعنی تیز و تند ہوا جو ہر چیز کو توڑتی جائے۔ اس آیت میں قیامت کے دن کفار کے اعمال کے بےکار ہونے کی مثال دی ہے کہ ایک تند و تیز ہوا والے دن میں کسی راکھ پر بہت سخت ہوا چلے تو اس ہوا میں راکھ کا ایک ذرہ بھی ہاتھ میں آنا مشکل ہے، اسی طرح کفار کے اعمال صالحہ اس دن بےکار ہوں گے، کیونکہ ان کا کوئی عمل اس دن کے لیے تھا ہی نہیں، نہ اس دن پر ان کا ایمان تھا۔ مزید دیکھیے سورة فرقان (٢٣) ، کہف (١٠٣ تا ١٠٦) اور آل عمران (١١٧) ۔

19

أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍۢ جَدِيدٍۢ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ ۔۔ :” اَلَمْ تَرَ “ کا معنی ” اَلَمْ تَعْلَمْ “ ہے، یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، یعنی اس صحیح اندازے کے مطابق جس کے مطابق اسے ہونا چاہیے تھا اور جو اپنے خالق کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی کسی چیز میں کوئی نہ نقص نکال سکتا ہے نہ کوئی ایسی صورت پیش کرسکتا ہے جو اس سے بہتر ہو۔ ہاں وہ خود اس سے بھی بہتر بنانے پر پوری طرح قادر ہے۔ - وَّمَا ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ : اس کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں ہے، وہ چاہے تو ایسے کروڑوں عالم دم بھر میں مٹا کر نئے پیدا کر دے۔ ” وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ “ کا ایک معنی بعض اہل علم نے یہ بھی کیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو تم سب کو دفعتاً ختم کرکے تمہیں دوبارہ نئے سرے سے پیدا کر دے۔ آگے آنے والی آیات جو حشر اور قیامت کے واقعات پر مشتمل ہیں اس معنی کی تائید کرتی ہیں۔

20

وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٍۢ

اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں

Explained together with ayah 19

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.