Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 11–20 of 52

11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَمَا كَانَ لَنَآ أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَٰنٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے

آیت نمبر 9 تا 11

یہ نصیحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قوم میں سے ہے لیکن سیاق کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا گیا تا کہ منظر پر رسولوں اور ان کی دعوت کا حصہ لایا جائے۔ یعنی تمام رسولوں کا اپنی اپنی بالمقابل جاہلیتوں کے ساتھ مکان و زمان کے اختلاف کے باوجود جو رویہ رہا ، اسے یکجا کر کے اس منظر میں لایا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گویا اس عظیم قصے کو پیش کرنے والے Compairor تھے۔ انہوں نے اس قصے کو بڑے کرداروں کو آمنے سامنے کردیا۔ اب وہ خود منظر پر شریک گفتگو ہیں۔ قصص کو پیش کرنے کا یہ ایک مخصوص اسلوب ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے کہ وہ ایک حکایتی اور بیانیہ انداز کلام کو زندہ کرداروں کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سب رسول اور ان کی امم موجود ہیں اور تمام رسولوں کا مقابلہ جاہلیتوں کے ساتھ ہے۔ اقوام اور رسولوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے مٹا دئیے جاتے ہیں اور واقعات کو زمان ومکان سے علیحدہ کر کے پیش کردیا جاتا ہے ، جب کہ زمان و مکان کے پردوں کے پیچھے وجود کی حقیقت ہے۔

الم یاتکم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (14 : 9) ” کیا تمہیں ان قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ، عاد ، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے ؟ “ یہ بہت سی اقوام ہیں ۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہوا۔ یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور اقوام ثمود کے درمیان۔ یہاں سیاق کلام کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان اقوام کی تفصیلات دی جائیں کیونکہ رسول بھی دراصل ایک زمرہ ہیں اور جن لوگوں کو تبلیغ کی جا رہی تھی وہ بھی ایک زمرہ کے لوگ ہیں۔

جاء تھم رسلھم ۔۔۔۔۔ الیہ مریب (14 : 9) ” تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ ” جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔

فردوا ایدیھم (14 : 9) کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی آواز کو بلند کرنے کے لئے منہ کے سامنے ہاتھ رکھتا ہے تا کہ آواز بلند ہو اور دور تک سنی جاسکے۔ اس وقت لوگ اپنے منہ کے سامنے ہتھیلی ہلاتے ہیں تا کہ ہتھیلی کے آگے پیچھے ہونے سے آواز زیادہ بلند ہو۔ اس طرح آواز میں زیادہ موجیں پیدا ہوں اور اس تموج کی وجہ سے آواز دور تک جائے۔ یہاں ان کی اس حرکت کو اس لئے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ پرزور انداز میں تکذیب کرتے تھے۔ ببانگ دہل اور توہین آمیز طریقے سے نہایت ہی کرخت اور تہذیب و آداب سے خالی طریقوں سے انہوں نے پیغمبروں کی بات کا انکار کیا۔

رسولوں کی دعوت کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اللہ ایک ہے اور وہی وحدہ الٰہ ورب ہے اور اپنے بندوں میں سے کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اس حقیقت میں شک کرنا جس کا ادراک ہر فطرت سلیمہ کرتی ہے اور اس کائنات کے اندر پھیلے ہوئے شواہد بھی ظاہرو باہر ہیں تو ایسے حالات میں عقیدۂ توحید میں شک کرنا نہایت ہی مکروہ اور قبیح حرکت ہے۔ رسولوں نے اس شک کو بےحد مکروہ سمجھا کہ زمین و آسمان کا یہ نظام شاہد عادل ہے۔

قالت رسلھم ۔۔۔۔ والارض (14 : 10) ” ان کے رسولوں نے کہا ” کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے “۔ کیا اللہ کے بارے میں شک ہے حالانکہ زمین و آسمان کا یہ نظام بآواز بلند پکار رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے یہ نظام بنایا ہے اور اسے چلایا ہے ۔ رسولوں نے یہ بات اس لیے کی کہ زمین و آسمان نہایت ہی واضح اور کھلے دلائل و نشانات ہیں۔ ان کی طرف صرف اشارہ ہی کافی ہے۔ ان کے نظام کو ہر گمراہ دیکھ کر راہ ہدایت پر آسکتا ہے۔ رسولوں نے زمین و آسمان کی طرف فقط اشارے ہی کو کافی سمجھا۔ اس کے بعد رسولوں نے بندوں پر اللہ کی نعمتوں کو گنوانا شروع کردیا کہ اللہ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور ایک وقت تک مہلت بھی دی تا کہ …

12

وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَآ ءَاذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ

اور ہم کیونکر خدا پر بھروسہ نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) رستے بتائے ہیں۔ جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

آیت نمبر 12

وما لنا۔۔۔۔۔۔۔ ھدنا سبلنا (14 : 12) ” اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟ “ یہ اس شخص کی بات ہے جسے اپنے موقف اور اپنے طریقہ کار پر پختہ یقین ہو اور وہ اپنے منہاج پر مطمئن ہو۔ اس کا دامن اپنے حقیقی ولی اور ناصر کے اعتماد سے بھرا ہوا ہو ، اور وہ یقین رکھتا کہ جو ذات ہدایت دیتی ہے وہ اس کی معین و مددگار ہوگی۔ اگر ایک راہ رو صحیح راہ پر جا رہا ہو تو اسے کیا پرواہ ہے کہ وہ منزل تک پہنچتا ہے یا نہیں۔ اصل فکر تو اس بات کی ہونا چاہئے کہ راہ رو جس راہ پر سفر کر رہا ہے وہ راہ دعوت ہے یا نہیں۔

جو شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ دست قدرت اس کی رہنمائی کر رہا ہے اور اپنے قدم بقدم چلا رہا ہے ، تو وہ ایک ایسا شخص ہے جس کا شعور اللہ کے وجود اور اس کی قدرت قاہرہ کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسے شخص کا دل اللہ تک پہنچا ہوا ہوتا ہے۔ جس شخص کو یہ شعور حاصل ہو وہ اپنی راہ پر چلنے میں پھر کوئی تردد نہیں کرتا اگرچہ راستے میں مشکلات ہوں ، اور اگرچہ راستے میں بڑی سے بڑی طاغوتی قوتیں بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں انبیاء (علیہم السلام) کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ یہ یقین رکھیں کہ اللہ ان کا ہادی و ناصر ہے اور وہ طاغوتی قوتوں کو خاطر نہیں نہ لا کر اپنی راہ پر بےدھڑک چلیں۔ اور اللہ پر بھروسہ کریں اور طاغوتی قوتوں کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لا آگے ہی بڑھیں۔

اس عظیم حقیقت تک صرف وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جو کسی موجود اور مستحکم مقتدر اعلیٰ طاغوتی نظام کے خلاف عملاً اسلامی تحریک کو لے کر اٹھتے ہیں۔ صرف ایسے عملی لوگوں کے دل میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ اللہ خود ان کی راہنمائی کر رہا ہے۔ وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور ان کے دل ایمان ویقین سے بھر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دل محسوس کرتے ہیں کہ ان کے لئے روشنی کی کھڑکیاں کھل گئی ہیں اور ان کھڑکیوں اور روشن دانوں سے ان پر روشنی آتی ہے ، جو ایمان کی روشنی ہوتی ہے۔ اس رابطے کے ذریعہ ایمان کی تازہ ہوا کے جھونکے بھی آتے رہتے ہیں اور ایسے دل اللہ کے ساتھ نہایت انس اور قرب محسوس کرتے ہیں۔ تحریک اسلامی کے جن کارکنوں کے دلوں میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے وہ پھر اس زمین پر پائے جانے والی مقتدر طاغوتی قوتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ ان کو نہ کوئی دھوکہ دے سکتا ہے اور نہ کوئی دھمکا سکتا ہے۔ ایسے کارکن پھر ایسی طاغوتی قوت کی قوت اور اقتدار کو نہایت ہی حقارت سے دیکھتے ہیں اس لیے کہ ان کے قلوب اللہ تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور ان حقیر لوگوں کی سازشوں اور مظالم کو پھر وہ خاطر ہی میں نہیں لاتے۔

وما لنا الا۔۔۔۔۔۔۔۔ ما اذیتمونا ” اور ہم کیوں اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟ “ اور جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو ان پر ہم صبر کریں گے “۔ ہم صبر سے کام لیں گے اور انشاء اللہ ہمارے پاؤں ہرگز نہ ڈگمگائیں گے ، ہم کمزوری نہ دکھائیں گے اور ہمارے قدم متزلزل نہ ہوں گے اور وھن ہمارے قریب نہ آئے گا اور نہ ہم الٹے پاؤں پھریں گے۔ ہم اس راہ سے ہرگز ادھر ادھر نہ ہوں گے ۔ نہ جدو جہد میں کمی کریں گے اور نہ ہی ہم شک میں گرفتار ہوں گے۔ اور یہ اس لیے کہ :

وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون (14 : 12) ” اور بھروسہ کرنے والے ، اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ اب سرکش طاغوتی قوتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں ، یہ قوتیں ، مجادلہ اور مباحثہ ترک کردیتی ہیں ، غوروفکر چھوڑ دیتی ہیں کیونکہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ یہ لوگ لوہے کے چنے ہیں۔ ان کو نہیں چبایا جاسکتا۔ نظریات کے مقابلے میں ان قوتوں کو شکست ہوجاتی ہے ۔ اب یہ لوگ تشدد کے اوچھے ہتھیار لے کر سامنے آتے ہیں کیونکہ طاغوتی سرکش قوتوں کے پاس اس کے سوا ہوتا گیا ہے۔

13

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُم مِّنْ أَرْضِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰٓ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا ہمارے مذہب میں داخل ہو جاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دیں گے

آیت نمبر 13 تا 14

اس مقام پر اسلام اور جاہلیت کے معرکے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ دراصل کوئی جاہلی نظام اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اسلام کا کوئی مستقل اقتدار اعلیٰ ہو ، اور وہ جاہلیت کے انتداب سے باہر ہو۔ نہ جاہلیت اس بات کو برداشت کرتی ہے کہ اس کے مستحکم نظام سے باہر کوئی اسلامی نظام ہو ، اگرچہ اسلام کی یہ مقتدر اعلیٰ قوت جاہلیت کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصول پر چلنے کے لئے راضی ہو۔ اس لیے کہ جاہلیت کو پتہ ہے کہ اسلام ایک مستقل متحرک سوسائٹی کی شکل اختیار کرتا ہے جس کی اپنی قیادت ہوتی ہے ، جس کا اپنا دائرہ دوستاں ہوتا ہے ، جبکہ یہی وہ بات ہے جسے کوئی نظام جاہلیت کبھی گوارا نہیں کرتا۔ چناچہ یہاں جاہلیت رسولان کرام سے فقط یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ وہ اپنی دعوتی سرگرمیاں بند کردیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ تم ہماری ملت اور ہماری پارٹی میں واپس آجاؤ، اور ہماری جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ، بلکہ ہماری کان میں پگھل جاؤ، اس طرح کہ تمہارا کوئی مستقل وجود نہ رہے۔ یہی تو وہ بات ہے جسے اسلامی نظام کا مزاج قبول ہی نہیں کرتا اور نہ اس بات سے رسول۔۔۔۔ دستبردار ہوتے ہیں۔ چناچہ وہ انکار کردیتے ہیں اس لئے کہ ایک مسلم جو جاہلی سوسائٹی سے کٹ کر باہر آتا ہے کس طرح وہ دوبارہ اس سوسائٹی میں گھل مل سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر جاہلی سوسائٹی ، ایسے عناصر سے مرکب ہوتی ہے جو اپنے طبعی مزاج کے اعتبار سے کسی اسلامی عنصر کو قبول ہی نہیں کرتی الا یہ کہ کوئی مسلمان اپنی پوری تحریکی اور عملی قوتیں اس جاہلی سوسائٹی کے استحکام ہی کے لئے خرچ کر رہا ہو ، اور جاہلیت کی بنیادیں مضبوط کر رہا ہو۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ وہ جاہلیت میں گھس کر اور جاہلیت کے نظام کے اندر پگھل کر اور اس کا کل پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ دراصل اسلامی سوسائٹی کے عضویاتی عناصر ترکیبی اور اس کے مزاج ہی سے واقف نہیں ہیں اور نہ جاہلی معاشرے کے مزاج سے یہ لوگ واقف ہیں۔ ہر معاشرہ دراصل اپنے اندر صرف انہی اجزاء کو قبول کرتا ہے جو اس معاشرے کے لئے کام کر رہے ہوں۔ اس کے مقام اور نظام کو مستحکم کر رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولان کرام اعلانیہ انکار کردیتے ہیں کہ ہم اب تمہاری ملت اور سوسائٹی میں واپس نہیں آسکتے۔ اس مقام پر اللہ کی قوت قاہرہ پھر جاہلیت پر ضرب لگاتی ہے۔ یہ ایسی ضرب ہوتی ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ یہ ضرب نہایت ہی عظیم قوت کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس ضرب کو پھر بڑے بڑے سرکش اور ڈکٹیٹر بھی نہیں سہہ سکتے۔

یہ بات جان لینا چاہئے کہ اللہ کی عظیم قوت تحریکی معاملات میں تب مداخلت کرتی ہے جب رسول اپنی قوم سے مکمل علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں اس جاہلیت سے نجات دے دی ہے ، اس لیے اب وہ دوبارہ اس نظام جاہلیت میں واپس نہیں جاسکتے۔ جب تک وہ اپنی امتیازی شان پر اصرار نہیں کرتے۔ جب تک وہ اپنے دینی نظریہ پر مصر نہیں ہوتے اور اپنی قیادت کی ماتحتی میں اپنی الگ سوسائٹی کی تشکیل نہیں کرتے۔ اور جب تک یہ تحریک اور قیادت نظریاتی بنیادوں پر اپنی قوم کو منقسم نہیں کردیتی۔ غرض جب تک یہ صورت نہیں ہوتی کہ ایک قوم دو ملتوں کی شکل میں منقسم ہوجائے ، جن کا نظریہ ، جن کا طریق زندگی ، جن کی سوسائٹی اور جن کی قیادت علیحدہ ہوجائے تو اس وقت تک اللہ کی عظیم قوت مداخلت نہیں کرتی۔ جب اسلامی تحریک یہ پوزیشن اختیار کرلیتی ہے تو پھر اللہ کی عظیم قوت جاہلیت پر فیصلہ کن ضرب لگاتی ہے۔ اب پھر کیا ہوتا ہے ، وہ تمام طاغوتی قوتیں پاش پاش کردی جاتی ہیں جو تحریک اسلامی کے لئے خطرہ ہوتی ہیں اور پھر ایسے لوگوں کو اللہ کی عظیم قوت زمین میں مستحکم کر کے بٹھا دیتی ہے اور تب جا کر اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے جو رسولوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ان کے بعد داعیان حق کے ساتھ …

14

وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِى وَخَافَ وَعِيدِ

اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب سے خوف کرے

آیت نمبر 13 تا 14

اس مقام پر اسلام اور جاہلیت کے معرکے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ دراصل کوئی جاہلی نظام اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اسلام کا کوئی مستقل اقتدار اعلیٰ ہو ، اور وہ جاہلیت کے انتداب سے باہر ہو۔ نہ جاہلیت اس بات کو برداشت کرتی ہے کہ اس کے مستحکم نظام سے باہر کوئی اسلامی نظام ہو ، اگرچہ اسلام کی یہ مقتدر اعلیٰ قوت جاہلیت کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصول پر چلنے کے لئے راضی ہو۔ اس لیے کہ جاہلیت کو پتہ ہے کہ اسلام ایک مستقل متحرک سوسائٹی کی شکل اختیار کرتا ہے جس کی اپنی قیادت ہوتی ہے ، جس کا اپنا دائرہ دوستاں ہوتا ہے ، جبکہ یہی وہ بات ہے جسے کوئی نظام جاہلیت کبھی گوارا نہیں کرتا۔ چناچہ یہاں جاہلیت رسولان کرام سے فقط یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ وہ اپنی دعوتی سرگرمیاں بند کردیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ تم ہماری ملت اور ہماری پارٹی میں واپس آجاؤ، اور ہماری جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ، بلکہ ہماری کان میں پگھل جاؤ، اس طرح کہ تمہارا کوئی مستقل وجود نہ رہے۔ یہی تو وہ بات ہے جسے اسلامی نظام کا مزاج قبول ہی نہیں کرتا اور نہ اس بات سے رسول۔۔۔۔ دستبردار ہوتے ہیں۔ چناچہ وہ انکار کردیتے ہیں اس لئے کہ ایک مسلم جو جاہلی سوسائٹی سے کٹ کر باہر آتا ہے کس طرح وہ دوبارہ اس سوسائٹی میں گھل مل سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر جاہلی سوسائٹی ، ایسے عناصر سے مرکب ہوتی ہے جو اپنے طبعی مزاج کے اعتبار سے کسی اسلامی عنصر کو قبول ہی نہیں کرتی الا یہ کہ کوئی مسلمان اپنی پوری تحریکی اور عملی قوتیں اس جاہلی سوسائٹی کے استحکام ہی کے لئے خرچ کر رہا ہو ، اور جاہلیت کی بنیادیں مضبوط کر رہا ہو۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ وہ جاہلیت میں گھس کر اور جاہلیت کے نظام کے اندر پگھل کر اور اس کا کل پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ دراصل اسلامی سوسائٹی کے عضویاتی عناصر ترکیبی اور اس کے مزاج ہی سے واقف نہیں ہیں اور نہ جاہلی معاشرے کے مزاج سے یہ لوگ واقف ہیں۔ ہر معاشرہ دراصل اپنے اندر صرف انہی اجزاء کو قبول کرتا ہے جو اس معاشرے کے لئے کام کر رہے ہوں۔ اس کے مقام اور نظام کو مستحکم کر رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولان کرام اعلانیہ انکار کردیتے ہیں کہ ہم اب تمہاری ملت اور سوسائٹی میں واپس نہیں آسکتے۔ اس مقام پر اللہ کی قوت قاہرہ پھر جاہلیت پر ضرب لگاتی ہے۔ یہ ایسی ضرب ہوتی ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ یہ ضرب نہایت ہی عظیم قوت کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس ضرب کو پھر بڑے بڑے سرکش اور ڈکٹیٹر بھی نہیں سہہ سکتے۔

یہ بات جان لینا چاہئے کہ اللہ کی عظیم قوت تحریکی معاملات میں تب مداخلت کرتی ہے جب رسول اپنی قوم سے مکمل علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں اس جاہلیت سے نجات دے دی ہے ، اس لیے اب وہ دوبارہ اس نظام جاہلیت میں واپس نہیں جاسکتے۔ جب تک وہ اپنی امتیازی شان پر اصرار نہیں کرتے۔ جب تک وہ اپنے دینی نظریہ پر مصر نہیں ہوتے اور اپنی قیادت کی ماتحتی میں اپنی الگ سوسائٹی کی تشکیل نہیں کرتے۔ اور جب تک یہ تحریک اور قیادت نظریاتی بنیادوں پر اپنی قوم کو منقسم نہیں کردیتی۔ غرض جب تک یہ صورت نہیں ہوتی کہ ایک قوم دو ملتوں کی شکل میں منقسم ہوجائے ، جن کا نظریہ ، جن کا طریق زندگی ، جن کی سوسائٹی اور جن کی قیادت علیحدہ ہوجائے تو اس وقت تک اللہ کی عظیم قوت مداخلت نہیں کرتی۔ جب اسلامی تحریک یہ پوزیشن اختیار کرلیتی ہے تو پھر اللہ کی عظیم قوت جاہلیت پر فیصلہ کن ضرب لگاتی ہے۔ اب پھر کیا ہوتا ہے ، وہ تمام طاغوتی قوتیں پاش پاش کردی جاتی ہیں جو تحریک اسلامی کے لئے خطرہ ہوتی ہیں اور پھر ایسے لوگوں کو اللہ کی عظیم قوت زمین میں مستحکم کر کے بٹھا دیتی ہے اور تب جا کر اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے جو رسولوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ان کے بعد داعیان حق کے ساتھ …

15

وَٱسْتَفْتَحُوا۟ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍۢ

اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو ہر سرکش ضدی نامراد رہ گیا

آیت نمبر 15 تا 17

یہ ایک عجیب منظر ہے ، اس میں ہر سرکش ڈکٹیٹر تباہ حال ہوتا ہے ، اس دنیا کے میدان جنگ میں یہ شکست کھاتا ہے ، لیکن یہ منظر اسے کھڑا کر کے ایک دوسرا تخیلاتی منظر اسکرین پر بولا جاتا ہے۔ اب یہ آخرت میں جہنم کے اندر ہے ، اس جہنم میں یہ شدید پیاساے اور اس کو انسانی زخموں سے بہنے والا سیال مادہ پلایا جا رہا ہے ، یہ اسے نہیں پینا چاہتا مگر اسے یہ مشروب بجبر پلایا جاتا ہے۔ یہ اس کے حلق سے نہیں اتر رہا کیونکہ یہ تو تلخ اور بدمزہ ہے۔ گندہ اور مکروہ مشروب ۔ اس ڈکٹیٹر کی طرف سے اظہار کراہیت اور تکلیف الفاظ کی اسکرین پر صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ صورت یہ ہے کہ ہر طرف سے اس پر آنے والا عذاب اس قدر شدید ہے کہ شاید ابھی مرجائے مگر اسے مرنے کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔ شدید عذاب پر عذاب اس پر آرہا ہے ، اسی لئے تو نہیں مرتا۔

یہ ایک عجیب منظر ہے۔ اس میں ایک شکست خوردہ جبار اور ڈکٹیٹر کی تصویر کشی کی گئی ہے اور اس تصویر کے پس منظر میں دکھائی جاتی ہے جس طرح کسی منظر کے درمیان میں تخیل آتا ہے۔

16

مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِن مَّآءٍۢ صَدِيدٍۢ

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا

آیت نمبر 15 تا 17

یہ ایک عجیب منظر ہے ، اس میں ہر سرکش ڈکٹیٹر تباہ حال ہوتا ہے ، اس دنیا کے میدان جنگ میں یہ شکست کھاتا ہے ، لیکن یہ منظر اسے کھڑا کر کے ایک دوسرا تخیلاتی منظر اسکرین پر بولا جاتا ہے۔ اب یہ آخرت میں جہنم کے اندر ہے ، اس جہنم میں یہ شدید پیاساے اور اس کو انسانی زخموں سے بہنے والا سیال مادہ پلایا جا رہا ہے ، یہ اسے نہیں پینا چاہتا مگر اسے یہ مشروب بجبر پلایا جاتا ہے۔ یہ اس کے حلق سے نہیں اتر رہا کیونکہ یہ تو تلخ اور بدمزہ ہے۔ گندہ اور مکروہ مشروب ۔ اس ڈکٹیٹر کی طرف سے اظہار کراہیت اور تکلیف الفاظ کی اسکرین پر صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ صورت یہ ہے کہ ہر طرف سے اس پر آنے والا عذاب اس قدر شدید ہے کہ شاید ابھی مرجائے مگر اسے مرنے کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔ شدید عذاب پر عذاب اس پر آرہا ہے ، اسی لئے تو نہیں مرتا۔

یہ ایک عجیب منظر ہے۔ اس میں ایک شکست خوردہ جبار اور ڈکٹیٹر کی تصویر کشی کی گئی ہے اور اس تصویر کے پس منظر میں دکھائی جاتی ہے جس طرح کسی منظر کے درمیان میں تخیل آتا ہے۔

17

يَتَجَرَّعُهُۥ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ وَيَأْتِيهِ ٱلْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍۢ ۖ وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٌۭ

وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا

آیت نمبر 15 تا 17

یہ ایک عجیب منظر ہے ، اس میں ہر سرکش ڈکٹیٹر تباہ حال ہوتا ہے ، اس دنیا کے میدان جنگ میں یہ شکست کھاتا ہے ، لیکن یہ منظر اسے کھڑا کر کے ایک دوسرا تخیلاتی منظر اسکرین پر بولا جاتا ہے۔ اب یہ آخرت میں جہنم کے اندر ہے ، اس جہنم میں یہ شدید پیاساے اور اس کو انسانی زخموں سے بہنے والا سیال مادہ پلایا جا رہا ہے ، یہ اسے نہیں پینا چاہتا مگر اسے یہ مشروب بجبر پلایا جاتا ہے۔ یہ اس کے حلق سے نہیں اتر رہا کیونکہ یہ تو تلخ اور بدمزہ ہے۔ گندہ اور مکروہ مشروب ۔ اس ڈکٹیٹر کی طرف سے اظہار کراہیت اور تکلیف الفاظ کی اسکرین پر صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ صورت یہ ہے کہ ہر طرف سے اس پر آنے والا عذاب اس قدر شدید ہے کہ شاید ابھی مرجائے مگر اسے مرنے کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔ شدید عذاب پر عذاب اس پر آرہا ہے ، اسی لئے تو نہیں مرتا۔

یہ ایک عجیب منظر ہے۔ اس میں ایک شکست خوردہ جبار اور ڈکٹیٹر کی تصویر کشی کی گئی ہے اور اس تصویر کے پس منظر میں دکھائی جاتی ہے جس طرح کسی منظر کے درمیان میں تخیل آتا ہے۔

18

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ ۖ أَعْمَٰلُهُمْ كَرَمَادٍ ٱشْتَدَّتْ بِهِ ٱلرِّيحُ فِى يَوْمٍ عَاصِفٍۢ ۖ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا۟ عَلَىٰ شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلْبَعِيدُ

جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے جائے (اس طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی۔ یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے

آیت نمبر 18

یہ منظر کہ سخت طوفانی ہوا کے دن راکھ اڑرہی ہے ، پیش آتا رہتا ہے اور ہر کسی کے ذہن میں ہے۔ یہاں اس منظر سے قرآن کریم یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ کوئی چیز کسی طرح مجسم طور پر ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا مالک اس کے یوں ضائع ہونے کو کسی طرح نہیں روک سکتا اور نہ ایسی ضائع شدہ چیز سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے اس طوفانی منظر میں اس مفہوم کو مجسم کر کے پیش کیا جاتا ہے اور یہ منظر انسانی شعور کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے ، ضیاع اعمال کی تعبیر اگر مجرد ذہنی اور فلسفیانہ انداز میں کی گئی ہوتی تو اس کا اس قد اثر ہرگز نہ ہوتا۔ اس سے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجاتی ہے کہ یہ اعمال پوری طرح اکارت گئے۔

یہ منظر کفار کے اعمال کی بساط لپیٹ کر رکھ دیتا ہے جو اعمال ایمان کی مضبوط بنیاد پر قائم نہیں ہوتے اور جو اپنے حقیقی اسباب کے ساتھ مضبوط رسی سے باندھے ہوئے نہیں اور جن کا باعث اور سبب تعلق باللہ نہیں ہوتا۔ وہ اسی طرح اڑ جاتے ہیں جس طرح سخت آندھی میں راکھ اڑ جاتی ہے اور ایسے اعمال نہ مضبوطی سے قائم ہو سکتے اور نہ منظم ہو سکتے ہیں ، کیونکہ اصل بات عمل نہیں ہوتا بلکہ وہ داعیہ ہوتا ہے جس کی اساس پر عمل کا ظہور ہوتا ہے اس لیے کہ عمل ایک آلاتی حرکت ہے ، جس طرح مشین حرکت کرتی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ عمل کے پیچھے محرک ہو اور اس عمل کا کوئی متعین مقصد ہو۔

اس منظر میں ایک گہر معنوی حقیقت اور ظاہری تصور کے درمیان مکمل مطابقت ہے اور یہ منظر اس مفہوم کو نہایت موثر ، اشاراتی اور دلچسپ اسلوب میں ظاہر کرتا ہے اور پھر جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ اس مفہوم پر فٹ آتا ہے۔

ذلک ھو الضلل البعید (14 : 18) “ یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے ”۔ یہ نتیجہ جس قدر تاریک ہے وہ راکھ کی اڑان کی تاریکی کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہے ، کافر خود اپنے اعمال کے غبار میں گم گشتہ راہ نظر آتا ہے۔

پھر ایک دوسری جھلکی جو اگلی آیت میں آرہی ہے ، وہ بھی اس منظر کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس میں سیاق کلام میں اہل قریش کو یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اقوام سابقہ کے مکذبین والا انجام تمہارے انتظار ہیں ہے۔ اگر تم درست نہ ہوئے تو اللہ تمہیں مٹا کر کسی دوسری قوم کو میدان میں اتار دے گا۔

19

أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍۢ جَدِيدٍۢ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے

آیت نمبر 19 تا 20

ایمان اور کفر کے موضوع سے اور رسولوں اور جاہلیتوں کے مقابلے کے مضمون سے اب بات زمین و آسمان کے مناظر کی طرف آجاتی ہے۔ قرآن کے اسلوب کے مطابق اس انداز میں روئے سخن کا پھرجانا ایک طبیعی امر ہے اور انسانی شعور میں بھی یہ تبدیلی یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اسلامی نظام حیات اور قرآنی اسلوب ایک ایمانی اور خدائی اسلوب ہے اس لیے کہ فطرت انسانی اور روح کائنات کے درمیان ایک خاص زبان کے ذریعہ پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے ۔ انسانی فطرت ، خلوت کائنات کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہے ، انسان جونہی اس کائنات کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ اس سے اثرات اور پیغامات وصول کرنا شروع کردیتا ہے۔

وہ لوگ جو اس کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر بھی ان کی فطرت ، فطرت کائنات کے اشارات اور پیغامات اخذ نہیں کرتی ، ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی فطرت کی مشین بگڑ گئی ہے اور اس مشین کا ریسیور خراب ہوگیا ہے ، ان کے باطنی حواس خراب ہوگئے ہیں۔ اس طرح جس طرح آنکھ اندھی ہوجاتی ہے ، کان بہرے ہوجاتے ہیں ، زبان گونگی ہوجاتی ہے ، پرزے موجود ہیں مگر کام نہیں کرتے۔ ایسے افراد جن کی فطرت کے اہم پرزے خراب ہوگئے ہوں وہ اس دنیا کی قیادت کے بہرحال اہل نہیں رہتے۔ وہ تمام لوگ اس کیٹگری میں آتے ہیں جن کی سوچ پر مادیت چھا گئی ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو سائنس دان کہتے ہیں ۔ اور اپنے اوپر دانشوری کا غلط اطلاق کرتے ہوں۔ اس لیے کہ علم و دانش انسانی فطرت کو معطل نہیں کرتے۔ اور انسان کو روح کائنات سے کاٹتے نہیں بلکہ جوڑتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو قرآن اندھا ، گونگا اور بہرہ کہتا ہے اور انسانی زندگی کی قیادت اگر اندھوں کے ہاتھ میں ہو تو وہ کبھی درست نہیں ہو سکتی۔

زمین و آسمان کی تخلیق میں عظیم قدرت اور مضبوط نظم کے اشارات ہیں۔ سچائی اور حق نہایت مضبوط ہے۔ اپنے مفہوم میں بھی اور لفظ “ حق ” کے تلفظ میں بھی قوت ہے۔ یہ حق چٹان کی طرح ٹھوس نظر آتا ہے جس طرح طوفانی ہوا میں اڑنے والی باطل کی راکھ نظر آتی ہے۔ جو دور تک صحراؤں میں اڑتی نظر آتی ہے اور ناپید ہوجاتی ہے۔

تحریک اسلامی کے معاندین کو اس فضا میں سخت دھمکی دی جاتی ہے۔

ان یشا یذھبکم ویات بخلق جدید (14 : 19) “ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے ”۔ اور جو ذات زمین و آسمان پیدا کرسکتی ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتی ہے کہ انسانوں کے مقابلے میں کوئی دوسری ہی مخلوق لے آئے۔ یا کسی ایک قوم کو زمین کی قیادت سے ہٹا کر کسی دوسری قوم کو لے آئے۔ اقوام کا منصہ شہود سے یوں غائب ہوتے چلے جانے کے معانی اس منظر کے ساتھ پوری طرح متفق ہیں جس میں کفار کے اعمال راکھ کی طرح آندھی میں دوڑتے نظر آتے ہیں اور نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں۔

وما ذلک علی اللہ بعزیز (14 : 20) “ ایسا کرنا اس اللہ پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ” اور اس پر زمین و آسمان کی تخلیق شاہد ہے۔ پھر انسانی تاریخ میں اقوام جس طرح مٹتی رہی ہیں اور ایک کا زوال اور دوسری کا عروج سامنے آتا رہا ہے۔ یہ بھی اس پر گواہ ہے ۔ جس طرح ایک طوفان آسانی سے راکھ کو اڑا دیتا ہے ، یہ کام اس سے بھی اللہ کے لئے آسان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کیا ہی اعجاز ہے ، قرآن کریم کا جس میں مناظر اور تصاویر اور معانی ہم آہنگ ہیں اور کلام نہایت ہی متناسب ہے۔ الفاظ ، معانی اور مناظر کے اعتبار سے۔

اب ہم فنی تصویر ، خوبصورت طرز ادا اور متناسب اسلوب اظہار کے ایک دوسرے افق کے سامنے آجاتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے تو ہماری آنکھ جباروں اور ڈکٹیٹروں کی بربادی کا منظر دیکھ رہی تھی۔ اس دنیا ہی میں ہر ڈکٹیٹر ذلیل ہو کر رہا۔ اس کا منظر اسکرین پر تھا کہ اس کے پیچھے ایک خیال بھی منظر پر آگیا جس میں قیامت میں اس کا حشر دکھایا گیا تھا۔ حالانکہ وہ ابھی دنیا ہی میں ذلیل ہو رہا تھا۔ اب ہمارے سامنے ان ڈکٹیٹروں کا حشر میدان حشر میں نظر آرہا ہے۔ ان کا یہ …

20

وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٍۢ

اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں

آیت نمبر 19 تا 20

ایمان اور کفر کے موضوع سے اور رسولوں اور جاہلیتوں کے مقابلے کے مضمون سے اب بات زمین و آسمان کے مناظر کی طرف آجاتی ہے۔ قرآن کے اسلوب کے مطابق اس انداز میں روئے سخن کا پھرجانا ایک طبیعی امر ہے اور انسانی شعور میں بھی یہ تبدیلی یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اسلامی نظام حیات اور قرآنی اسلوب ایک ایمانی اور خدائی اسلوب ہے اس لیے کہ فطرت انسانی اور روح کائنات کے درمیان ایک خاص زبان کے ذریعہ پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے ۔ انسانی فطرت ، خلوت کائنات کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہے ، انسان جونہی اس کائنات کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ اس سے اثرات اور پیغامات وصول کرنا شروع کردیتا ہے۔

وہ لوگ جو اس کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر بھی ان کی فطرت ، فطرت کائنات کے اشارات اور پیغامات اخذ نہیں کرتی ، ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی فطرت کی مشین بگڑ گئی ہے اور اس مشین کا ریسیور خراب ہوگیا ہے ، ان کے باطنی حواس خراب ہوگئے ہیں۔ اس طرح جس طرح آنکھ اندھی ہوجاتی ہے ، کان بہرے ہوجاتے ہیں ، زبان گونگی ہوجاتی ہے ، پرزے موجود ہیں مگر کام نہیں کرتے۔ ایسے افراد جن کی فطرت کے اہم پرزے خراب ہوگئے ہوں وہ اس دنیا کی قیادت کے بہرحال اہل نہیں رہتے۔ وہ تمام لوگ اس کیٹگری میں آتے ہیں جن کی سوچ پر مادیت چھا گئی ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو سائنس دان کہتے ہیں ۔ اور اپنے اوپر دانشوری کا غلط اطلاق کرتے ہوں۔ اس لیے کہ علم و دانش انسانی فطرت کو معطل نہیں کرتے۔ اور انسان کو روح کائنات سے کاٹتے نہیں بلکہ جوڑتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو قرآن اندھا ، گونگا اور بہرہ کہتا ہے اور انسانی زندگی کی قیادت اگر اندھوں کے ہاتھ میں ہو تو وہ کبھی درست نہیں ہو سکتی۔

زمین و آسمان کی تخلیق میں عظیم قدرت اور مضبوط نظم کے اشارات ہیں۔ سچائی اور حق نہایت مضبوط ہے۔ اپنے مفہوم میں بھی اور لفظ “ حق ” کے تلفظ میں بھی قوت ہے۔ یہ حق چٹان کی طرح ٹھوس نظر آتا ہے جس طرح طوفانی ہوا میں اڑنے والی باطل کی راکھ نظر آتی ہے۔ جو دور تک صحراؤں میں اڑتی نظر آتی ہے اور ناپید ہوجاتی ہے۔

تحریک اسلامی کے معاندین کو اس فضا میں سخت دھمکی دی جاتی ہے۔

ان یشا یذھبکم ویات بخلق جدید (14 : 19) “ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے ”۔ اور جو ذات زمین و آسمان پیدا کرسکتی ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتی ہے کہ انسانوں کے مقابلے میں کوئی دوسری ہی مخلوق لے آئے۔ یا کسی ایک قوم کو زمین کی قیادت سے ہٹا کر کسی دوسری قوم کو لے آئے۔ اقوام کا منصہ شہود سے یوں غائب ہوتے چلے جانے کے معانی اس منظر کے ساتھ پوری طرح متفق ہیں جس میں کفار کے اعمال راکھ کی طرح آندھی میں دوڑتے نظر آتے ہیں اور نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں۔

وما ذلک علی اللہ بعزیز (14 : 20) “ ایسا کرنا اس اللہ پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ” اور اس پر زمین و آسمان کی تخلیق شاہد ہے۔ پھر انسانی تاریخ میں اقوام جس طرح مٹتی رہی ہیں اور ایک کا زوال اور دوسری کا عروج سامنے آتا رہا ہے۔ یہ بھی اس پر گواہ ہے ۔ جس طرح ایک طوفان آسانی سے راکھ کو اڑا دیتا ہے ، یہ کام اس سے بھی اللہ کے لئے آسان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کیا ہی اعجاز ہے ، قرآن کریم کا جس میں مناظر اور تصاویر اور معانی ہم آہنگ ہیں اور کلام نہایت ہی متناسب ہے۔ الفاظ ، معانی اور مناظر کے اعتبار سے۔

اب ہم فنی تصویر ، خوبصورت طرز ادا اور متناسب اسلوب اظہار کے ایک دوسرے افق کے سامنے آجاتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے تو ہماری آنکھ جباروں اور ڈکٹیٹروں کی بربادی کا منظر دیکھ رہی تھی۔ اس دنیا ہی میں ہر ڈکٹیٹر ذلیل ہو کر رہا۔ اس کا منظر اسکرین پر تھا کہ اس کے پیچھے ایک خیال بھی منظر پر آگیا جس میں قیامت میں اس کا حشر دکھایا گیا تھا۔ حالانکہ وہ ابھی دنیا ہی میں ذلیل ہو رہا تھا۔ اب ہمارے سامنے ان ڈکٹیٹروں کا حشر میدان حشر میں نظر آرہا ہے۔ ان کا یہ …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.