Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 11–20 of 52

11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَمَا كَانَ لَنَآ أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَٰنٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے

9: یعنی اگر تم اس بات کو نہیں مانتے اور ایمان لانے والوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہو تو مومن کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ اس کا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔

12

وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَآ ءَاذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ

اور ہم کیونکر خدا پر بھروسہ نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) رستے بتائے ہیں۔ جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

Explained together with ayah 11

13

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُم مِّنْ أَرْضِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰٓ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا ہمارے مذہب میں داخل ہو جاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دیں گے

Explained together with ayah 11

14

وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِى وَخَافَ وَعِيدِ

اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب سے خوف کرے

Explained together with ayah 11

15

وَٱسْتَفْتَحُوا۟ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍۢ

اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو ہر سرکش ضدی نامراد رہ گیا

10: یعنی پیغمبروں سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ تعالیٰ سے کہہ کر ایسا عذاب ہم پر بھجوا دو جس سے حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے۔ یہ بات کہہ کر وہ در اصل پیغمبروں کا متکبرانہ انداز میں مذاق اڑاتے تھے۔

16

مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِن مَّآءٍۢ صَدِيدٍۢ

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا

Explained together with ayah 15

17

يَتَجَرَّعُهُۥ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ وَيَأْتِيهِ ٱلْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍۢ ۖ وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٌۭ

وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا

11: یہ ترجمہ اِمام رازی رحمۃ اﷲ علیہ کی بیان فرمائی ہوئی ایک تفسیر پر مبنی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں محسوس یہ ہوگا کہ وہ اس پانی کو حلق سے اُتار نہیں سکیں گے، لیکن گھونٹ گھونٹ کر کے بڑی مشکل سے اور بڑی دیر میں وہ حلق سے اُترے گا۔

12: ہر طرف سے موت آنے کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کی جو مختلف صورتیں سامنے آئیں گی، وہ ایسی ہوں گی جو دُنیا میں جان لیوا اور موت کا سبب ہوتی ہیں، مگر وہاں ان کی وجہ سے انہیں موت نہیں آئے گی۔

13: یعنی ہر عذاب کے بعد ایک دوسرا سخت عذاب آنے والا ہوگا، تاکہ ایک ہی قسم کا عذاب سہہ سہہ کر اِنسان اُس کا عادی نہ ہوجائے۔ والعیاذ باﷲ تعالیٰ۔

18

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ ۖ أَعْمَٰلُهُمْ كَرَمَادٍ ٱشْتَدَّتْ بِهِ ٱلرِّيحُ فِى يَوْمٍ عَاصِفٍۢ ۖ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا۟ عَلَىٰ شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلْبَعِيدُ

جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے جائے (اس طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی۔ یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے

14: کافر لوگ دنیا میں کچھ اچھے کام بھی کرتے ہیں۔ مثلاً غریبوں کی امداد وغیرہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ ان کے ایسے اچھے کاموں کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے۔ آخرت میں ان کا کوئی ثواب نہیں ملتا، کیونکہ وہاں ثواب ملنے کے لیے ایمان شرط ہے۔ لہذا آخرت میں وہ اعمال ان کے کچھ کام نہیں آتے۔ اس کی مثال یہ دی گئی ہے کہ جس طرح راکھ کو آندھی اڑا لے جائے تو اس کا کوئی پتہ نشان نہیں ملتا۔ اسی طرح کافروں کے ان اعمال کو ان کا کفر کا لعدم کردے گا۔ اور ان اعمال کا کوئی فائدہ ان کو آخرت میں نہیں ملے گا۔

19

أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍۢ جَدِيدٍۢ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے

15: اِس آیتِ کریمہ میں آخرت کی زندگی کا ضروری ہونا بھی بیان فرمایا گیا ہے، اور اس پر کافروں کو جو شبہہ ہوتا ہے، اُس کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا گیا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق ایک برحق مقصد کے لئے کی گئی ہے۔ اور وہ مقصد یہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے فرماں برداروں کو اِنعام دیا جائے، اور نافرمانوں اور ظالموں کو سزا ملے۔ اگر آخرت کی زندگی نہ ہوتی تو نیک اور بد سب برابر ہوجاتے۔ لہٰذا انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس دُنیا کے بعد ایک دوسری زندگی ہو جس میں ہر اِنسان کو اُس کے مناسب بدلہ دیا جا سکے۔ رہا کافروں کا یہ اعتراض کہ مر کر مٹی میں مل جانے کے بعد اِنسان کس طرح دوبارہ زندہ ہوں گے؟ تو اس کا جواب اگلے جملے میں یہ دیا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت میں تو یہ بھی ہے کہ تم سب کو فنا کر کے ایک نئی مخلوق پیدا کردے۔ اور ظاہر ہے کہ ایک مخلوق بالکل عدم سے وجود میں لانا زیادہ مشکل کام ہے اور جو مخلوق ایک مرتبہ وجود میں آچکی ہو، اُس پر موت طاری کر کے اُسے زِندہ کردینا اُس کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ پہلے مشکل کام پر قادر ہے تو اس دوسرے کام کی تو یقینا قدرت رکھتا ہے۔

20

وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٍۢ

اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں

Explained together with ayah 19

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.