Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 1–10 of 52

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ

الٓرٰ۔ (یہ) ایک (پُرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے رستے کی طرف

اب پہلے سورة کا حصہ اول۔

درس نمبر 114 تشریح آیات

1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27

آیت نمبر 1 تا 4

الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔

لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و خرافات کی تاریکیاں ، رسوم تقالید کی تاریکیاں ، ارباب متفرقہ کی بندگی اور کشاکش اور حیرت کی تاریکیاں ، جاہلی اقدار اور پیمانوں اور جاہلی خیالات و تصورات کی تاریکیوں سے تم انسانیت نکالو اور قرآن کی روشنی میں داخل کر دو ۔ ایسی روشنی جو فی الحقیقت ان تمام تاریکیوں کو دور کر دے۔ وہ عالم ضمیر کو روشن کر دے اور میدان فکر و نظر میں اجالا برپا کردے۔ زندگی کی عملی راہوں میں اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد اور اعلیٰ افکار میں اجالا برپا کر دے۔

اللہ پر ایمان لانا ایک نور ہے جس سے دل روشن ہوجاتا ہے اور جس کا دل روشن ہوجائے اس کی پوری شخصیت اور اس کا بشری ڈھانچہ بھی منور ہوجاتا ہے اور انسانی شخصیت کے دونوں پہلو ، مٹی اور روح اللہ دونوں روشن ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب انسانی شخصیت اس روشنی سے خالی ہوجائے اور جس کے اندر سے یہ چراغ بجھ جائے تو پھر انسان تاریک مٹی کا ایک ڈھیر ہوتا ہے اور خون اور گوشت کی شکل میں ایک کیچڑ ہوتا ہے۔ کیونکہ گوشت اور خون پوری طرح زمین کے مادی عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اگر یہ نور نہ ہو جو روح اللہ سے پھوٹتا ہے اور اس کے اندر ایمان اپنی شفاف صیقل شدہ صورت میں موجود ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ سیاہ مادہ شفاف اور چمکدار ہوجاتا ہے اور پھر یہ سیاہ کیچڑ ایک شفاف شیشہ ہوجاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ ایک ایسا نور ہے جس کے ساتھ نفس انسانی چمک اٹھتا ہے۔ اس کی روشنی میں انسان اپنی راہ متعین کرسکتا ہے۔ اسے اللہ کی طرف راہ بالکل واضح نظر آتی ہے۔ اس راہ میں نہ دھند ہوتی ہے اور نہ غبار۔ اوہام و خرافات کا غبار ، لالچ اور خواہشات کا غبار اور جب نفس انسانی راہ دیکھ لے اور صاف صاف نظر آنے لگے تو پھر ایسی راہ میں کوئی ٹھوکر اور کوئی اضطراب نہیں ہوتا اور نہ اس میں کوئی تردد ہوتا ہے اور نہ کوئی حیرانگی ہوتی ہے۔

پھر اللہ پر پختہ ایمان ایک ایسا نور ہے جس سے پوری زندگی چمک اٹھتی ہے۔ تمام لوگ اللہ کے مساوی بندے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ربط اور رشتہ خدائی رشتہ ہوتا ہے۔ وہ صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کرتے ہیں۔ اب ان میں آقا اور غلام کی تقسیم نہیں ہوتی۔ ان کو اس پوری کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس پوری کائنات سے بھی جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ پوری کائنات ایک ناموس الٰہی اور قانون قدرت کے ساتھ چلتی ہے اس لیے وہ اس پوری کائنات ، اس کے اندر موجود پوری مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اس لیے کہ سب کے سب اللہ کے مخلوق ہیں۔

پھر ایمان ایک نور ہے ، انصاف کی روشنی ہے ، آزادی کی روشنی ہے۔ علم و معرفت کی روشنی ہے ، اللہ کے لئے محبت کی روشنی ہے۔ اللہ کے عدل ، حکمت اور رحمت پر اعتماد کی روشنی ہے۔ خواہ مشکلات ہوں یا مسرتیں ہوں یہ ایمان مشکلات میں صبر پر آمادہ کرتا ہے اور مسرتوں میں شکر رب کی تعلیم دینا ہے اور آزمائش میں حکمت و تجربہ عطا کرتا ہے۔

صرف اللہ پر ایمان کہ وہی الٰہ اور رب ہے ، یہ ایمان ایک نظام زندگی بھی ہے۔ فقط عقیدہ اور تصور ہی نہیں ہے جو دل کو روشن کرتا ہے۔ یہ نظام زندگی صرف اللہ کی بندگی کے اصول پر قائم ہے۔ جس میں صرف اللہ کی ربوبیت کا عقیدہ …

2

ٱللَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَوَيْلٌۭ لِّلْكَٰفِرِينَ مِنْ عَذَابٍۢ شَدِيدٍ

وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے

اب پہلے سورة کا حصہ اول۔

درس نمبر 114 تشریح آیات

1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27

آیت نمبر 1 تا 4

الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔

لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و خرافات کی تاریکیاں ، رسوم تقالید کی تاریکیاں ، ارباب متفرقہ کی بندگی اور کشاکش اور حیرت کی تاریکیاں ، جاہلی اقدار اور پیمانوں اور جاہلی خیالات و تصورات کی تاریکیوں سے تم انسانیت نکالو اور قرآن کی روشنی میں داخل کر دو ۔ ایسی روشنی جو فی الحقیقت ان تمام تاریکیوں کو دور کر دے۔ وہ عالم ضمیر کو روشن کر دے اور میدان فکر و نظر میں اجالا برپا کردے۔ زندگی کی عملی راہوں میں اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد اور اعلیٰ افکار میں اجالا برپا کر دے۔

اللہ پر ایمان لانا ایک نور ہے جس سے دل روشن ہوجاتا ہے اور جس کا دل روشن ہوجائے اس کی پوری شخصیت اور اس کا بشری ڈھانچہ بھی منور ہوجاتا ہے اور انسانی شخصیت کے دونوں پہلو ، مٹی اور روح اللہ دونوں روشن ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب انسانی شخصیت اس روشنی سے خالی ہوجائے اور جس کے اندر سے یہ چراغ بجھ جائے تو پھر انسان تاریک مٹی کا ایک ڈھیر ہوتا ہے اور خون اور گوشت کی شکل میں ایک کیچڑ ہوتا ہے۔ کیونکہ گوشت اور خون پوری طرح زمین کے مادی عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اگر یہ نور نہ ہو جو روح اللہ سے پھوٹتا ہے اور اس کے اندر ایمان اپنی شفاف صیقل شدہ صورت میں موجود ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ سیاہ مادہ شفاف اور چمکدار ہوجاتا ہے اور پھر یہ سیاہ کیچڑ ایک شفاف شیشہ ہوجاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ ایک ایسا نور ہے جس کے ساتھ نفس انسانی چمک اٹھتا ہے۔ اس کی روشنی میں انسان اپنی راہ متعین کرسکتا ہے۔ اسے اللہ کی طرف راہ بالکل واضح نظر آتی ہے۔ اس راہ میں نہ دھند ہوتی ہے اور نہ غبار۔ اوہام و خرافات کا غبار ، لالچ اور خواہشات کا غبار اور جب نفس انسانی راہ دیکھ لے اور صاف صاف نظر آنے لگے تو پھر ایسی راہ میں کوئی ٹھوکر اور کوئی اضطراب نہیں ہوتا اور نہ اس میں کوئی تردد ہوتا ہے اور نہ کوئی حیرانگی ہوتی ہے۔

پھر اللہ پر پختہ ایمان ایک ایسا نور ہے جس سے پوری زندگی چمک اٹھتی ہے۔ تمام لوگ اللہ کے مساوی بندے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ربط اور رشتہ خدائی رشتہ ہوتا ہے۔ وہ صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کرتے ہیں۔ اب ان میں آقا اور غلام کی تقسیم نہیں ہوتی۔ ان کو اس پوری کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس پوری کائنات سے بھی جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ پوری کائنات ایک ناموس الٰہی اور قانون قدرت کے ساتھ چلتی ہے اس لیے وہ اس پوری کائنات ، اس کے اندر موجود پوری مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اس لیے کہ سب کے سب اللہ کے مخلوق ہیں۔

پھر ایمان ایک نور ہے ، انصاف کی روشنی ہے ، آزادی کی روشنی ہے۔ علم و معرفت کی روشنی ہے ، اللہ کے لئے محبت کی روشنی ہے۔ اللہ کے عدل ، حکمت اور رحمت پر اعتماد کی روشنی ہے۔ خواہ مشکلات ہوں یا مسرتیں ہوں یہ ایمان مشکلات میں صبر پر آمادہ کرتا ہے اور مسرتوں میں شکر رب کی تعلیم دینا ہے اور آزمائش میں حکمت و تجربہ عطا کرتا ہے۔

صرف اللہ پر ایمان کہ وہی الٰہ اور رب ہے ، یہ ایمان ایک نظام زندگی بھی ہے۔ فقط عقیدہ اور تصور ہی نہیں ہے جو دل کو روشن کرتا ہے۔ یہ نظام زندگی صرف اللہ کی بندگی کے اصول پر قائم ہے۔ جس میں صرف اللہ کی ربوبیت کا عقیدہ …

3

ٱلَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْءَاخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ضَلَٰلٍۭ بَعِيدٍۢ

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں

اب پہلے سورة کا حصہ اول۔

درس نمبر 114 تشریح آیات

1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27

آیت نمبر 1 تا 4

الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔

لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و خرافات کی تاریکیاں ، رسوم تقالید کی تاریکیاں ، ارباب متفرقہ کی بندگی اور کشاکش اور حیرت کی تاریکیاں ، جاہلی اقدار اور پیمانوں اور جاہلی خیالات و تصورات کی تاریکیوں سے تم انسانیت نکالو اور قرآن کی روشنی میں داخل کر دو ۔ ایسی روشنی جو فی الحقیقت ان تمام تاریکیوں کو دور کر دے۔ وہ عالم ضمیر کو روشن کر دے اور میدان فکر و نظر میں اجالا برپا کردے۔ زندگی کی عملی راہوں میں اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد اور اعلیٰ افکار میں اجالا برپا کر دے۔

اللہ پر ایمان لانا ایک نور ہے جس سے دل روشن ہوجاتا ہے اور جس کا دل روشن ہوجائے اس کی پوری شخصیت اور اس کا بشری ڈھانچہ بھی منور ہوجاتا ہے اور انسانی شخصیت کے دونوں پہلو ، مٹی اور روح اللہ دونوں روشن ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب انسانی شخصیت اس روشنی سے خالی ہوجائے اور جس کے اندر سے یہ چراغ بجھ جائے تو پھر انسان تاریک مٹی کا ایک ڈھیر ہوتا ہے اور خون اور گوشت کی شکل میں ایک کیچڑ ہوتا ہے۔ کیونکہ گوشت اور خون پوری طرح زمین کے مادی عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اگر یہ نور نہ ہو جو روح اللہ سے پھوٹتا ہے اور اس کے اندر ایمان اپنی شفاف صیقل شدہ صورت میں موجود ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ سیاہ مادہ شفاف اور چمکدار ہوجاتا ہے اور پھر یہ سیاہ کیچڑ ایک شفاف شیشہ ہوجاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ ایک ایسا نور ہے جس کے ساتھ نفس انسانی چمک اٹھتا ہے۔ اس کی روشنی میں انسان اپنی راہ متعین کرسکتا ہے۔ اسے اللہ کی طرف راہ بالکل واضح نظر آتی ہے۔ اس راہ میں نہ دھند ہوتی ہے اور نہ غبار۔ اوہام و خرافات کا غبار ، لالچ اور خواہشات کا غبار اور جب نفس انسانی راہ دیکھ لے اور صاف صاف نظر آنے لگے تو پھر ایسی راہ میں کوئی ٹھوکر اور کوئی اضطراب نہیں ہوتا اور نہ اس میں کوئی تردد ہوتا ہے اور نہ کوئی حیرانگی ہوتی ہے۔

پھر اللہ پر پختہ ایمان ایک ایسا نور ہے جس سے پوری زندگی چمک اٹھتی ہے۔ تمام لوگ اللہ کے مساوی بندے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ربط اور رشتہ خدائی رشتہ ہوتا ہے۔ وہ صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کرتے ہیں۔ اب ان میں آقا اور غلام کی تقسیم نہیں ہوتی۔ ان کو اس پوری کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس پوری کائنات سے بھی جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ پوری کائنات ایک ناموس الٰہی اور قانون قدرت کے ساتھ چلتی ہے اس لیے وہ اس پوری کائنات ، اس کے اندر موجود پوری مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اس لیے کہ سب کے سب اللہ کے مخلوق ہیں۔

پھر ایمان ایک نور ہے ، انصاف کی روشنی ہے ، آزادی کی روشنی ہے۔ علم و معرفت کی روشنی ہے ، اللہ کے لئے محبت کی روشنی ہے۔ اللہ کے عدل ، حکمت اور رحمت پر اعتماد کی روشنی ہے۔ خواہ مشکلات ہوں یا مسرتیں ہوں یہ ایمان مشکلات میں صبر پر آمادہ کرتا ہے اور مسرتوں میں شکر رب کی تعلیم دینا ہے اور آزمائش میں حکمت و تجربہ عطا کرتا ہے۔

صرف اللہ پر ایمان کہ وہی الٰہ اور رب ہے ، یہ ایمان ایک نظام زندگی بھی ہے۔ فقط عقیدہ اور تصور ہی نہیں ہے جو دل کو روشن کرتا ہے۔ یہ نظام زندگی صرف اللہ کی بندگی کے اصول پر قائم ہے۔ جس میں صرف اللہ کی ربوبیت کا عقیدہ …

4

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتا دے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے

اب پہلے سورة کا حصہ اول۔

درس نمبر 114 تشریح آیات

1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27

آیت نمبر 1 تا 4

الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔

لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و خرافات کی تاریکیاں ، رسوم تقالید کی تاریکیاں ، ارباب متفرقہ کی بندگی اور کشاکش اور حیرت کی تاریکیاں ، جاہلی اقدار اور پیمانوں اور جاہلی خیالات و تصورات کی تاریکیوں سے تم انسانیت نکالو اور قرآن کی روشنی میں داخل کر دو ۔ ایسی روشنی جو فی الحقیقت ان تمام تاریکیوں کو دور کر دے۔ وہ عالم ضمیر کو روشن کر دے اور میدان فکر و نظر میں اجالا برپا کردے۔ زندگی کی عملی راہوں میں اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد اور اعلیٰ افکار میں اجالا برپا کر دے۔

اللہ پر ایمان لانا ایک نور ہے جس سے دل روشن ہوجاتا ہے اور جس کا دل روشن ہوجائے اس کی پوری شخصیت اور اس کا بشری ڈھانچہ بھی منور ہوجاتا ہے اور انسانی شخصیت کے دونوں پہلو ، مٹی اور روح اللہ دونوں روشن ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب انسانی شخصیت اس روشنی سے خالی ہوجائے اور جس کے اندر سے یہ چراغ بجھ جائے تو پھر انسان تاریک مٹی کا ایک ڈھیر ہوتا ہے اور خون اور گوشت کی شکل میں ایک کیچڑ ہوتا ہے۔ کیونکہ گوشت اور خون پوری طرح زمین کے مادی عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اگر یہ نور نہ ہو جو روح اللہ سے پھوٹتا ہے اور اس کے اندر ایمان اپنی شفاف صیقل شدہ صورت میں موجود ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ سیاہ مادہ شفاف اور چمکدار ہوجاتا ہے اور پھر یہ سیاہ کیچڑ ایک شفاف شیشہ ہوجاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ ایک ایسا نور ہے جس کے ساتھ نفس انسانی چمک اٹھتا ہے۔ اس کی روشنی میں انسان اپنی راہ متعین کرسکتا ہے۔ اسے اللہ کی طرف راہ بالکل واضح نظر آتی ہے۔ اس راہ میں نہ دھند ہوتی ہے اور نہ غبار۔ اوہام و خرافات کا غبار ، لالچ اور خواہشات کا غبار اور جب نفس انسانی راہ دیکھ لے اور صاف صاف نظر آنے لگے تو پھر ایسی راہ میں کوئی ٹھوکر اور کوئی اضطراب نہیں ہوتا اور نہ اس میں کوئی تردد ہوتا ہے اور نہ کوئی حیرانگی ہوتی ہے۔

پھر اللہ پر پختہ ایمان ایک ایسا نور ہے جس سے پوری زندگی چمک اٹھتی ہے۔ تمام لوگ اللہ کے مساوی بندے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ربط اور رشتہ خدائی رشتہ ہوتا ہے۔ وہ صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کرتے ہیں۔ اب ان میں آقا اور غلام کی تقسیم نہیں ہوتی۔ ان کو اس پوری کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس پوری کائنات سے بھی جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ پوری کائنات ایک ناموس الٰہی اور قانون قدرت کے ساتھ چلتی ہے اس لیے وہ اس پوری کائنات ، اس کے اندر موجود پوری مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اس لیے کہ سب کے سب اللہ کے مخلوق ہیں۔

پھر ایمان ایک نور ہے ، انصاف کی روشنی ہے ، آزادی کی روشنی ہے۔ علم و معرفت کی روشنی ہے ، اللہ کے لئے محبت کی روشنی ہے۔ اللہ کے عدل ، حکمت اور رحمت پر اعتماد کی روشنی ہے۔ خواہ مشکلات ہوں یا مسرتیں ہوں یہ ایمان مشکلات میں صبر پر آمادہ کرتا ہے اور مسرتوں میں شکر رب کی تعلیم دینا ہے اور آزمائش میں حکمت و تجربہ عطا کرتا ہے۔

صرف اللہ پر ایمان کہ وہی الٰہ اور رب ہے ، یہ ایمان ایک نظام زندگی بھی ہے۔ فقط عقیدہ اور تصور ہی نہیں ہے جو دل کو روشن کرتا ہے۔ یہ نظام زندگی صرف اللہ کی بندگی کے اصول پر قائم ہے۔ جس میں صرف اللہ کی ربوبیت کا عقیدہ …

5

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّكُلِّ صَبَّارٍۢ شَكُورٍۢ

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر وشاکر ہیں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں

اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔

آیت نمبر 5 تا 8

حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔

لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔

ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔

حضور ﷺ کو حکم پوری انسانیت کے لئے ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم صرف ان کی قوم کے لئے تھا ۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکالو۔

وذکرھم بایم اللہ (14 : 5) ” اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کرو “۔ سب کے سب دن اللہ کے ہیں۔ لیکن یہاں ان تاریخی دنوں سے مقصد ہے جن میں اللہ کے انعامات یا اللہ کا عذاب واضح طور پر نظر آتا ہے تا کہ ان سے انسانیت یا انسانیت کی کوئی جماعت استفادہ کرے اور نصیحت حاصل کرے۔ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ اللسام نے اپنی قوم کو ایام اللہ سے ڈرایا اور اقوام کے تاریخی واقعات ، قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود اور ان کے بعد آنے والی اقوام کے بارے میں یاد دہانی کرائی۔ یہ ہیں ایام اللہ۔

ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (14 : 5) ” ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو “۔ ان ایام میں بعض آیات ، دلائل اور نشانات اقوام کی بدبختی کے ہیں تو اس سے صبر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے اور بعض آیات اللہ کی نعمتوں کی ہوتی ہیں اور ان سے شکر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص صبر کرنے والا اور شکر بجا لانے والا ہوتا ہے وہی ان نصیحتوں کا ادراک کرسکتا ہے اور ان کے اندر پائی جانے والی حکمت اور عبرت کو سمجھ سکتا ہے۔ نیز ان میں اس کے لئے تسلی اور یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔

چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں نبوت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور قوم کو نصیحت کرتے رہے۔

واذ قال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ من ربکم عظیم (14 : 6) ” یاد کرو جب موسیٰ علی السلام نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہیں۔ یہ نعمت کی اللہ نے ، ان کو سخت عذاب سے نجات دی۔ یہ عذاب ان کو آل فرعون کی طرف سے دیا جا رہا تھا اور یہ عذاب مسلسل ان پر ڈھایا جا رہا تھا۔ اس میں کوئی وقفہ یا کوئی چھٹی کا پیریڈ نہ تھا اور اس عذاب کی انتہا یہ تھی کہ وہ ان کے بچوں میں سے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان کے اندر قوت مدافعت باقی نہ رہے اور مردوں کی کمی کی وجہ سے جنگی اعتبار سے وہ ضعیف ہوجائیں تا کہ ان کو ذلیل کر کے رکھا جاسکے۔ اللہ نے ان کو غلامی اور ذلت کی اس حالت سے نکالا۔ چناچہ یہاں ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یاد دلاتے ہیں تا کہ وہ شکر بجا لائیں۔

وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (14 : 6) ” اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ پہلے تو ان کو نعمت کے ساتھ نہیں بلکہ مصیبت میں آزمایا گیا تا کہ ان کے صبر ، برداشت اور قوت مدافعت اور عزم کو آزمایا جائے کہ وہ کس قدر مخلص ہیں اور کس قدر اللہ کے احکام بجا لانے والے ہیں۔ صبر کا یہ مفہوم یہ نہیں ہے کہ کوئی انسان ذلت کو برداشت کرتے کرتے اپنے آپ کو اس کا عادی بنا …

6

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنجَىٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی وہ لوگ تمہیں بُرے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔

آیت نمبر 5 تا 8

حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔

لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔

ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔

حضور ﷺ کو حکم پوری انسانیت کے لئے ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم صرف ان کی قوم کے لئے تھا ۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکالو۔

وذکرھم بایم اللہ (14 : 5) ” اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کرو “۔ سب کے سب دن اللہ کے ہیں۔ لیکن یہاں ان تاریخی دنوں سے مقصد ہے جن میں اللہ کے انعامات یا اللہ کا عذاب واضح طور پر نظر آتا ہے تا کہ ان سے انسانیت یا انسانیت کی کوئی جماعت استفادہ کرے اور نصیحت حاصل کرے۔ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ اللسام نے اپنی قوم کو ایام اللہ سے ڈرایا اور اقوام کے تاریخی واقعات ، قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود اور ان کے بعد آنے والی اقوام کے بارے میں یاد دہانی کرائی۔ یہ ہیں ایام اللہ۔

ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (14 : 5) ” ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو “۔ ان ایام میں بعض آیات ، دلائل اور نشانات اقوام کی بدبختی کے ہیں تو اس سے صبر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے اور بعض آیات اللہ کی نعمتوں کی ہوتی ہیں اور ان سے شکر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص صبر کرنے والا اور شکر بجا لانے والا ہوتا ہے وہی ان نصیحتوں کا ادراک کرسکتا ہے اور ان کے اندر پائی جانے والی حکمت اور عبرت کو سمجھ سکتا ہے۔ نیز ان میں اس کے لئے تسلی اور یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔

چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں نبوت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور قوم کو نصیحت کرتے رہے۔

واذ قال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ من ربکم عظیم (14 : 6) ” یاد کرو جب موسیٰ علی السلام نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہیں۔ یہ نعمت کی اللہ نے ، ان کو سخت عذاب سے نجات دی۔ یہ عذاب ان کو آل فرعون کی طرف سے دیا جا رہا تھا اور یہ عذاب مسلسل ان پر ڈھایا جا رہا تھا۔ اس میں کوئی وقفہ یا کوئی چھٹی کا پیریڈ نہ تھا اور اس عذاب کی انتہا یہ تھی کہ وہ ان کے بچوں میں سے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان کے اندر قوت مدافعت باقی نہ رہے اور مردوں کی کمی کی وجہ سے جنگی اعتبار سے وہ ضعیف ہوجائیں تا کہ ان کو ذلیل کر کے رکھا جاسکے۔ اللہ نے ان کو غلامی اور ذلت کی اس حالت سے نکالا۔ چناچہ یہاں ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یاد دلاتے ہیں تا کہ وہ شکر بجا لائیں۔

وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (14 : 6) ” اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ پہلے تو ان کو نعمت کے ساتھ نہیں بلکہ مصیبت میں آزمایا گیا تا کہ ان کے صبر ، برداشت اور قوت مدافعت اور عزم کو آزمایا جائے کہ وہ کس قدر مخلص ہیں اور کس قدر اللہ کے احکام بجا لانے والے ہیں۔ صبر کا یہ مفہوم یہ نہیں ہے کہ کوئی انسان ذلت کو برداشت کرتے کرتے اپنے آپ کو اس کا عادی بنا …

7

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِى لَشَدِيدٌۭ

اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کہ) میرا عذاب بھی سخت ہے

اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔

آیت نمبر 5 تا 8

حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔

لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔

ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔

حضور ﷺ کو حکم پوری انسانیت کے لئے ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم صرف ان کی قوم کے لئے تھا ۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکالو۔

وذکرھم بایم اللہ (14 : 5) ” اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کرو “۔ سب کے سب دن اللہ کے ہیں۔ لیکن یہاں ان تاریخی دنوں سے مقصد ہے جن میں اللہ کے انعامات یا اللہ کا عذاب واضح طور پر نظر آتا ہے تا کہ ان سے انسانیت یا انسانیت کی کوئی جماعت استفادہ کرے اور نصیحت حاصل کرے۔ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ اللسام نے اپنی قوم کو ایام اللہ سے ڈرایا اور اقوام کے تاریخی واقعات ، قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود اور ان کے بعد آنے والی اقوام کے بارے میں یاد دہانی کرائی۔ یہ ہیں ایام اللہ۔

ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (14 : 5) ” ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو “۔ ان ایام میں بعض آیات ، دلائل اور نشانات اقوام کی بدبختی کے ہیں تو اس سے صبر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے اور بعض آیات اللہ کی نعمتوں کی ہوتی ہیں اور ان سے شکر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص صبر کرنے والا اور شکر بجا لانے والا ہوتا ہے وہی ان نصیحتوں کا ادراک کرسکتا ہے اور ان کے اندر پائی جانے والی حکمت اور عبرت کو سمجھ سکتا ہے۔ نیز ان میں اس کے لئے تسلی اور یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔

چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں نبوت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور قوم کو نصیحت کرتے رہے۔

واذ قال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ من ربکم عظیم (14 : 6) ” یاد کرو جب موسیٰ علی السلام نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہیں۔ یہ نعمت کی اللہ نے ، ان کو سخت عذاب سے نجات دی۔ یہ عذاب ان کو آل فرعون کی طرف سے دیا جا رہا تھا اور یہ عذاب مسلسل ان پر ڈھایا جا رہا تھا۔ اس میں کوئی وقفہ یا کوئی چھٹی کا پیریڈ نہ تھا اور اس عذاب کی انتہا یہ تھی کہ وہ ان کے بچوں میں سے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان کے اندر قوت مدافعت باقی نہ رہے اور مردوں کی کمی کی وجہ سے جنگی اعتبار سے وہ ضعیف ہوجائیں تا کہ ان کو ذلیل کر کے رکھا جاسکے۔ اللہ نے ان کو غلامی اور ذلت کی اس حالت سے نکالا۔ چناچہ یہاں ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یاد دلاتے ہیں تا کہ وہ شکر بجا لائیں۔

وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (14 : 6) ” اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ پہلے تو ان کو نعمت کے ساتھ نہیں بلکہ مصیبت میں آزمایا گیا تا کہ ان کے صبر ، برداشت اور قوت مدافعت اور عزم کو آزمایا جائے کہ وہ کس قدر مخلص ہیں اور کس قدر اللہ کے احکام بجا لانے والے ہیں۔ صبر کا یہ مفہوم یہ نہیں ہے کہ کوئی انسان ذلت کو برداشت کرتے کرتے اپنے آپ کو اس کا عادی بنا …

8

وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِن تَكْفُرُوٓا۟ أَنتُمْ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ

اور موسیٰ نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو خدا بھی بےنیاز (اور) قابل تعریف ہے

اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔

آیت نمبر 5 تا 8

حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔

لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔

ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔

حضور ﷺ کو حکم پوری انسانیت کے لئے ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم صرف ان کی قوم کے لئے تھا ۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکالو۔

وذکرھم بایم اللہ (14 : 5) ” اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کرو “۔ سب کے سب دن اللہ کے ہیں۔ لیکن یہاں ان تاریخی دنوں سے مقصد ہے جن میں اللہ کے انعامات یا اللہ کا عذاب واضح طور پر نظر آتا ہے تا کہ ان سے انسانیت یا انسانیت کی کوئی جماعت استفادہ کرے اور نصیحت حاصل کرے۔ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ اللسام نے اپنی قوم کو ایام اللہ سے ڈرایا اور اقوام کے تاریخی واقعات ، قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود اور ان کے بعد آنے والی اقوام کے بارے میں یاد دہانی کرائی۔ یہ ہیں ایام اللہ۔

ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (14 : 5) ” ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو “۔ ان ایام میں بعض آیات ، دلائل اور نشانات اقوام کی بدبختی کے ہیں تو اس سے صبر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے اور بعض آیات اللہ کی نعمتوں کی ہوتی ہیں اور ان سے شکر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص صبر کرنے والا اور شکر بجا لانے والا ہوتا ہے وہی ان نصیحتوں کا ادراک کرسکتا ہے اور ان کے اندر پائی جانے والی حکمت اور عبرت کو سمجھ سکتا ہے۔ نیز ان میں اس کے لئے تسلی اور یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔

چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں نبوت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور قوم کو نصیحت کرتے رہے۔

واذ قال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ من ربکم عظیم (14 : 6) ” یاد کرو جب موسیٰ علی السلام نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہیں۔ یہ نعمت کی اللہ نے ، ان کو سخت عذاب سے نجات دی۔ یہ عذاب ان کو آل فرعون کی طرف سے دیا جا رہا تھا اور یہ عذاب مسلسل ان پر ڈھایا جا رہا تھا۔ اس میں کوئی وقفہ یا کوئی چھٹی کا پیریڈ نہ تھا اور اس عذاب کی انتہا یہ تھی کہ وہ ان کے بچوں میں سے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان کے اندر قوت مدافعت باقی نہ رہے اور مردوں کی کمی کی وجہ سے جنگی اعتبار سے وہ ضعیف ہوجائیں تا کہ ان کو ذلیل کر کے رکھا جاسکے۔ اللہ نے ان کو غلامی اور ذلت کی اس حالت سے نکالا۔ چناچہ یہاں ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یاد دلاتے ہیں تا کہ وہ شکر بجا لائیں۔

وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (14 : 6) ” اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ پہلے تو ان کو نعمت کے ساتھ نہیں بلکہ مصیبت میں آزمایا گیا تا کہ ان کے صبر ، برداشت اور قوت مدافعت اور عزم کو آزمایا جائے کہ وہ کس قدر مخلص ہیں اور کس قدر اللہ کے احکام بجا لانے والے ہیں۔ صبر کا یہ مفہوم یہ نہیں ہے کہ کوئی انسان ذلت کو برداشت کرتے کرتے اپنے آپ کو اس کا عادی بنا …

9

أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍۢ وَعَادٍۢ وَثَمُودَ ۛ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۛ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَرَدُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فِىٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَقَالُوٓا۟ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِى شَكٍّۢ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍۢ

بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور جو ان کے بعد تھے۔ جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیئے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک میں ہیں

آیت نمبر 9 تا 11

یہ نصیحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قوم میں سے ہے لیکن سیاق کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا گیا تا کہ منظر پر رسولوں اور ان کی دعوت کا حصہ لایا جائے۔ یعنی تمام رسولوں کا اپنی اپنی بالمقابل جاہلیتوں کے ساتھ مکان و زمان کے اختلاف کے باوجود جو رویہ رہا ، اسے یکجا کر کے اس منظر میں لایا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گویا اس عظیم قصے کو پیش کرنے والے Compairor تھے۔ انہوں نے اس قصے کو بڑے کرداروں کو آمنے سامنے کردیا۔ اب وہ خود منظر پر شریک گفتگو ہیں۔ قصص کو پیش کرنے کا یہ ایک مخصوص اسلوب ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے کہ وہ ایک حکایتی اور بیانیہ انداز کلام کو زندہ کرداروں کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سب رسول اور ان کی امم موجود ہیں اور تمام رسولوں کا مقابلہ جاہلیتوں کے ساتھ ہے۔ اقوام اور رسولوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے مٹا دئیے جاتے ہیں اور واقعات کو زمان ومکان سے علیحدہ کر کے پیش کردیا جاتا ہے ، جب کہ زمان و مکان کے پردوں کے پیچھے وجود کی حقیقت ہے۔

الم یاتکم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (14 : 9) ” کیا تمہیں ان قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ، عاد ، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے ؟ “ یہ بہت سی اقوام ہیں ۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہوا۔ یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور اقوام ثمود کے درمیان۔ یہاں سیاق کلام کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان اقوام کی تفصیلات دی جائیں کیونکہ رسول بھی دراصل ایک زمرہ ہیں اور جن لوگوں کو تبلیغ کی جا رہی تھی وہ بھی ایک زمرہ کے لوگ ہیں۔

جاء تھم رسلھم ۔۔۔۔۔ الیہ مریب (14 : 9) ” تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ ” جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔

فردوا ایدیھم (14 : 9) کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی آواز کو بلند کرنے کے لئے منہ کے سامنے ہاتھ رکھتا ہے تا کہ آواز بلند ہو اور دور تک سنی جاسکے۔ اس وقت لوگ اپنے منہ کے سامنے ہتھیلی ہلاتے ہیں تا کہ ہتھیلی کے آگے پیچھے ہونے سے آواز زیادہ بلند ہو۔ اس طرح آواز میں زیادہ موجیں پیدا ہوں اور اس تموج کی وجہ سے آواز دور تک جائے۔ یہاں ان کی اس حرکت کو اس لئے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ پرزور انداز میں تکذیب کرتے تھے۔ ببانگ دہل اور توہین آمیز طریقے سے نہایت ہی کرخت اور تہذیب و آداب سے خالی طریقوں سے انہوں نے پیغمبروں کی بات کا انکار کیا۔

رسولوں کی دعوت کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اللہ ایک ہے اور وہی وحدہ الٰہ ورب ہے اور اپنے بندوں میں سے کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اس حقیقت میں شک کرنا جس کا ادراک ہر فطرت سلیمہ کرتی ہے اور اس کائنات کے اندر پھیلے ہوئے شواہد بھی ظاہرو باہر ہیں تو ایسے حالات میں عقیدۂ توحید میں شک کرنا نہایت ہی مکروہ اور قبیح حرکت ہے۔ رسولوں نے اس شک کو بےحد مکروہ سمجھا کہ زمین و آسمان کا یہ نظام شاہد عادل ہے۔

قالت رسلھم ۔۔۔۔ والارض (14 : 10) ” ان کے رسولوں نے کہا ” کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے “۔ کیا اللہ کے بارے میں شک ہے حالانکہ زمین و آسمان کا یہ نظام بآواز بلند پکار رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے یہ نظام بنایا ہے اور اسے چلایا ہے ۔ رسولوں نے یہ بات اس لیے کی کہ زمین و آسمان نہایت ہی واضح اور کھلے دلائل و نشانات ہیں۔ ان کی طرف صرف اشارہ ہی کافی ہے۔ ان کے نظام کو ہر گمراہ دیکھ کر راہ ہدایت پر آسکتا ہے۔ رسولوں نے زمین و آسمان کی طرف فقط اشارے ہی کو کافی سمجھا۔ اس کے بعد رسولوں نے بندوں پر اللہ کی نعمتوں کو گنوانا شروع کردیا کہ اللہ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور ایک وقت تک مہلت بھی دی تا کہ …

10

۞ قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِى ٱللَّهِ شَكٌّۭ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ قَالُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَٰنٍۢ مُّبِينٍۢ

ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کے لیے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا یہ منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوجتے رہے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کر دو تو (اچھا) کوئی کھلی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)

آیت نمبر 9 تا 11

یہ نصیحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قوم میں سے ہے لیکن سیاق کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا گیا تا کہ منظر پر رسولوں اور ان کی دعوت کا حصہ لایا جائے۔ یعنی تمام رسولوں کا اپنی اپنی بالمقابل جاہلیتوں کے ساتھ مکان و زمان کے اختلاف کے باوجود جو رویہ رہا ، اسے یکجا کر کے اس منظر میں لایا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گویا اس عظیم قصے کو پیش کرنے والے Compairor تھے۔ انہوں نے اس قصے کو بڑے کرداروں کو آمنے سامنے کردیا۔ اب وہ خود منظر پر شریک گفتگو ہیں۔ قصص کو پیش کرنے کا یہ ایک مخصوص اسلوب ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے کہ وہ ایک حکایتی اور بیانیہ انداز کلام کو زندہ کرداروں کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سب رسول اور ان کی امم موجود ہیں اور تمام رسولوں کا مقابلہ جاہلیتوں کے ساتھ ہے۔ اقوام اور رسولوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے مٹا دئیے جاتے ہیں اور واقعات کو زمان ومکان سے علیحدہ کر کے پیش کردیا جاتا ہے ، جب کہ زمان و مکان کے پردوں کے پیچھے وجود کی حقیقت ہے۔

الم یاتکم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (14 : 9) ” کیا تمہیں ان قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ، عاد ، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے ؟ “ یہ بہت سی اقوام ہیں ۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہوا۔ یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور اقوام ثمود کے درمیان۔ یہاں سیاق کلام کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان اقوام کی تفصیلات دی جائیں کیونکہ رسول بھی دراصل ایک زمرہ ہیں اور جن لوگوں کو تبلیغ کی جا رہی تھی وہ بھی ایک زمرہ کے لوگ ہیں۔

جاء تھم رسلھم ۔۔۔۔۔ الیہ مریب (14 : 9) ” تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ ” جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔

فردوا ایدیھم (14 : 9) کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی آواز کو بلند کرنے کے لئے منہ کے سامنے ہاتھ رکھتا ہے تا کہ آواز بلند ہو اور دور تک سنی جاسکے۔ اس وقت لوگ اپنے منہ کے سامنے ہتھیلی ہلاتے ہیں تا کہ ہتھیلی کے آگے پیچھے ہونے سے آواز زیادہ بلند ہو۔ اس طرح آواز میں زیادہ موجیں پیدا ہوں اور اس تموج کی وجہ سے آواز دور تک جائے۔ یہاں ان کی اس حرکت کو اس لئے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ پرزور انداز میں تکذیب کرتے تھے۔ ببانگ دہل اور توہین آمیز طریقے سے نہایت ہی کرخت اور تہذیب و آداب سے خالی طریقوں سے انہوں نے پیغمبروں کی بات کا انکار کیا۔

رسولوں کی دعوت کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اللہ ایک ہے اور وہی وحدہ الٰہ ورب ہے اور اپنے بندوں میں سے کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اس حقیقت میں شک کرنا جس کا ادراک ہر فطرت سلیمہ کرتی ہے اور اس کائنات کے اندر پھیلے ہوئے شواہد بھی ظاہرو باہر ہیں تو ایسے حالات میں عقیدۂ توحید میں شک کرنا نہایت ہی مکروہ اور قبیح حرکت ہے۔ رسولوں نے اس شک کو بےحد مکروہ سمجھا کہ زمین و آسمان کا یہ نظام شاہد عادل ہے۔

قالت رسلھم ۔۔۔۔ والارض (14 : 10) ” ان کے رسولوں نے کہا ” کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے “۔ کیا اللہ کے بارے میں شک ہے حالانکہ زمین و آسمان کا یہ نظام بآواز بلند پکار رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے یہ نظام بنایا ہے اور اسے چلایا ہے ۔ رسولوں نے یہ بات اس لیے کی کہ زمین و آسمان نہایت ہی واضح اور کھلے دلائل و نشانات ہیں۔ ان کی طرف صرف اشارہ ہی کافی ہے۔ ان کے نظام کو ہر گمراہ دیکھ کر راہ ہدایت پر آسکتا ہے۔ رسولوں نے زمین و آسمان کی طرف فقط اشارے ہی کو کافی سمجھا۔ اس کے بعد رسولوں نے بندوں پر اللہ کی نعمتوں کو گنوانا شروع کردیا کہ اللہ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور ایک وقت تک مہلت بھی دی تا کہ …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.