Muslim99Muslim99
← Tafsir library

13. Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

سُورَةُ الرَّعۡدِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 41–43 of 43

41

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا نَأْتِى ٱلْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ۚ وَٱللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِۦ ۚ وَهُوَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے والا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے

خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔

تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف پیغمبروں کے زمانہ میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص مصالح کی بنا پر خدا کا یہ فیصلہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ پیغمبر کے متبعین کو پیغمبر کے منکرین پر غالب کردیا گیا۔

مکی دور کے آخری زمانہ میں جب کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کا انکار کردیا تھا، عین اسی وقت یہ ہورہا تھا کہ اسلام کی دعوت دھیرے دھیرے مدینہ میں اور مکہ کے بیرونی قبائل میں پھیل رہی تھی۔ گویا اسلام کی دعوتی قوت مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی مکہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پیغمبر آخر الزماں کے لیے خدا کی سنت دعوتی فتوحات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔

یہاں دعوتی تدبیر کو خدائی تدبیر کہاگیا ہے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ قریش نے جب مکہ سے آپ کو نکالا تو انھوںنے یہ سمجھا تھا کہ انھوں نے آپ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس وقت آپ ایک ایسے شخص تھے جس کی معاشیات برباد ہوچکی تھی۔ جس کو خود اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کردیا گیا تھا۔

قریش یہ سب کرکے اپنے طورپر خوش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوںنے پیغمبر کے ’’مسئلہ‘‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ داعی کا سب سے بڑا ہتھیار دعوت ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی شخص کبھی داعی سے چھین نہیں سکتا۔ داعی کی دوسری محرومیاں اس کے داعیانہ زور کو اور بڑھا دیتی ہیں، وہ کسی طرح اس کو کم نہیں کرتیں۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ قریش اپنے خیال کے مطابق پیغمبر سے اس کا سب کچھ چھین چکے تھے، اس کی دعوت چاروں طرف عرب کے قبائل میں پھیل رہی تھی۔ لوگوں کے دل اس سے مسخر ہوتے جارہے تھے۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ مسلسل جاری تھا۔ اور فتح مکہ گویا اسی کا انتہائی نقطہ تھا — مکہ والوں نے جن لوگوں کو ’’دس سو‘‘ سمجھ کر گھر سے بے گھر کیا تھا وہ صرف چند سال میں ’’دس ہزار‘‘ بن کر دوبارہ مکہ میں اس طرح واپس آئے کہ مکہ والوں کو یہ ہمت بھی نہ تھی کہ ان کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔

حق کی دعوت سے جن لوگوں کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ اس کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں۔ مگر تمام تدبیروں کا سرا خداکے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر پورا اختیار رکھتاہے۔ خدا کی اس برتر حیثیت کا ابتدائی ظہور اسی موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس کا کامل اور انتہائی ظہور آخرت میں ہوگا جب کہ اندھے بھی اس کو دیکھ لیں اور بہرے بھی اس کو سننے لگیں۔

42

وَقَدْ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلِلَّهِ ٱلْمَكْرُ جَمِيعًۭا ۖ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍۢ ۗ وَسَيَعْلَمُ ٱلْكُفَّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى ٱلدَّارِ

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب الله ہی کی ہے ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لیے ہے

خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔

تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف پیغمبروں کے زمانہ میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص مصالح کی بنا پر خدا کا یہ فیصلہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ پیغمبر کے متبعین کو پیغمبر کے منکرین پر غالب کردیا گیا۔

مکی دور کے آخری زمانہ میں جب کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کا انکار کردیا تھا، عین اسی وقت یہ ہورہا تھا کہ اسلام کی دعوت دھیرے دھیرے مدینہ میں اور مکہ کے بیرونی قبائل میں پھیل رہی تھی۔ گویا اسلام کی دعوتی قوت مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی مکہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پیغمبر آخر الزماں کے لیے خدا کی سنت دعوتی فتوحات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔

یہاں دعوتی تدبیر کو خدائی تدبیر کہاگیا ہے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ قریش نے جب مکہ سے آپ کو نکالا تو انھوںنے یہ سمجھا تھا کہ انھوں نے آپ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس وقت آپ ایک ایسے شخص تھے جس کی معاشیات برباد ہوچکی تھی۔ جس کو خود اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کردیا گیا تھا۔

قریش یہ سب کرکے اپنے طورپر خوش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوںنے پیغمبر کے ’’مسئلہ‘‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ داعی کا سب سے بڑا ہتھیار دعوت ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی شخص کبھی داعی سے چھین نہیں سکتا۔ داعی کی دوسری محرومیاں اس کے داعیانہ زور کو اور بڑھا دیتی ہیں، وہ کسی طرح اس کو کم نہیں کرتیں۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ قریش اپنے خیال کے مطابق پیغمبر سے اس کا سب کچھ چھین چکے تھے، اس کی دعوت چاروں طرف عرب کے قبائل میں پھیل رہی تھی۔ لوگوں کے دل اس سے مسخر ہوتے جارہے تھے۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ مسلسل جاری تھا۔ اور فتح مکہ گویا اسی کا انتہائی نقطہ تھا — مکہ والوں نے جن لوگوں کو ’’دس سو‘‘ سمجھ کر گھر سے بے گھر کیا تھا وہ صرف چند سال میں ’’دس ہزار‘‘ بن کر دوبارہ مکہ میں اس طرح واپس آئے کہ مکہ والوں کو یہ ہمت بھی نہ تھی کہ ان کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔

حق کی دعوت سے جن لوگوں کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ اس کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں۔ مگر تمام تدبیروں کا سرا خداکے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر پورا اختیار رکھتاہے۔ خدا کی اس برتر حیثیت کا ابتدائی ظہور اسی موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس کا کامل اور انتہائی ظہور آخرت میں ہوگا جب کہ اندھے بھی اس کو دیکھ لیں اور بہرے بھی اس کو سننے لگیں۔

43

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَسْتَ مُرْسَلًۭا ۚ قُلْ كَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۢا بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْكِتَٰبِ

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم (خدا کے) رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہیں

ظاہر پرست لوگ جس وقت حق کے داعی میں نشانیاں نہ پاکر اس کی صداقت کے بارہ میں شبہ کررہے ہوتے ہیںعین اسی وقت معنوی نشانیاں پوری طرح اس کی تصدیق کے لیے موجود ہوتی ہیں۔ سچائی اپنی دلیل آپ ہے۔ مگر اس کو محسوس کرنا صرف اس شخص کے لیے ممکن ہے جو ظواہر سے گزر کر حقائق کو دیکھنے کی نگاہ اپنے اندر پیدا کر چکا ہو۔ ورنہ جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں وہ حق کو بے دلیل سمجھ کر اس کا انکار کردیں گے۔ حالاں کہ عین اسی وقت دلائل کا انبار اس کی تصدیق کے لیے ان کے قریب موجود ہوگا۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.