Muslim99Muslim99
← Tafsir library

13. Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

سُورَةُ الرَّعۡدِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–43 of 43

41

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا نَأْتِى ٱلْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ۚ وَٱللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِۦ ۚ وَهُوَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے والا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے

آیت نمبر 41

یہ لوگ امم سابقہ سے مکاری ، تدابیر اور سیاست اور دھوکہ بازی میں زیادہ نہیں ہیں لیکن اللہ نے اس کے باوجود ان اقوام کو پکڑا کیونکہ اللہ کی قوت اور تدبیر ان سے زیادہ محکم تھی۔

42

وَقَدْ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلِلَّهِ ٱلْمَكْرُ جَمِيعًۭا ۖ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍۢ ۗ وَسَيَعْلَمُ ٱلْكُفَّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى ٱلدَّارِ

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب الله ہی کی ہے ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لیے ہے

آیت نمبر 42

سورة کا خاتمہ اس بات کی نقل سے ہوتا ہے کہ کفار نے آپ کی رسالت کا صاف صاف انکار کردیا۔ اس سورة کا آغاز آپ کی رسالت کے مضمون سے ہوا تھا۔ یوں آغاز و انجام میں سورة کا مضمون اور محور بتا دیا گیا۔ اللہ یہاں خود شہادت دے رہے ہیں کہ اے پیغمبر ، آپ کی رسالت پر میں خود گواہ ہوں اور اللہ کی گواہی کے بعد کسی کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کتاب اور وحی و رسالت کے بارے میں وہی سب سے زیادہ علیم وخبیر ہے۔

43

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَسْتَ مُرْسَلًۭا ۚ قُلْ كَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۢا بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْكِتَٰبِ

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم (خدا کے) رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہیں

آیت نمبر 43

یہ سورة ختم ہوتی ہے ، اس نے انسانی دل کو پوری کائنات کی سیر کرائی اور نفس انسانی کی دنیا میں بھی گھمایا ، اور اس پر نہایت ہی گہرے اور وسیع اثرات ڈالے اور پھر دل مومن کو اس دلیل پر لا کر کھڑا کردیا کہ قرآن جو کچھ کہہ رہا ہے اس پر اللہ گواہ ہے اور یہ اللہ کی شہادت سورة کے آغاز میں بھی لائی گئی اور اختتام پر بھی لائی گئی۔ اللہ کی شہادت کے بعد کسی دعویٰ کے ثبوت کے لئے اور کیا شہادت درکار ہوگی۔ اللہ کی شہادت پر تو بات ختم ہوجاتی ہے۔

اس سورة کے خاتمہ پر یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اس سورة میں اسلامی نظریہ حیات اور جس منہاج پر قرآن نے اس نظریہ کو پیش کیا ہے اس پر غور کرنا ضروری ہے ، حق تو یہ تھا کہ جن آیات میں اس کو بیان کیا گیا ہے ، ہم وہاں ہی یہ تفصیل دے دیتے لیکن ہم نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ آیات کی تفسیر کے درمیان میں ایک تفصیلی بحث لا کر آیات کی روانی کو ختم کردیں۔ اس لیے ہم نے مناسب سمجھا کہ اس موضوع کو سورة کے آخر تک موکر کردیں۔

اسلامی نظریہ حیات اور اس کے منہاج کی طرف آیات کے ذیل میں ہم نے اشارات بہرحال کیے ہیں۔ یہاں سورة کے اختتام کے بعد اب مناسب ہے کہ قدرے مفصل بات رکھی جائے۔ واللہ المستعان !

اس سورة کا آغاز کلام ، اس کے موضوعات ، اور اس کے اندر دی جانے والی اکثر ہدایات یہ بتاتی ہیں کہ یہ سورة مکی ہے ، اور جس طرح بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ مدنی ہے ، درحقیقت یہ مدنی نہیں ہے۔ جس طرح بعض مصاحف میں بھی اسے مدنی لکھا گیا ہے ، ان کے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة مکہ کے اس دور میں نازل ہوئی جس میں لوگ دعوت اسلامی سے سخت منہ موڑے ہوئے تھے۔ وہ جھٹلاتے تھے بلکہ دعوت اسلامی کو چیلنج دے رہے تھے۔ مثلاً یہ سورة بتاتی ہے کہ مشرکین بار بار معجزات طلب کرتے تھے ، اور یہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ ان پر جلدی نازل کیوں نہیں ہوتا۔ اس لیے اس بات کی ضرورت تھی کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں کو یہ مشورہ دیا جاتا کہ وہ گھبرائیں نہیں اور جس حق پر وہ ہیں اس پر جم جائیں۔ ان کے پاس جو دعوت ہے وہ چونکہ بلند دعوت ہے ، اس لیے اس کے ذریعہ وہ اس اعراض ، تکذیب اور اس چیلنج کا مقابلے کریں اور صرف اللہ سے دعا کریں کہ وہ ان کی مشکلات کو دور کر دے اور کھل کر اعلان کریں کہ اللہ وحدہ حاکم اور خالق ورب ہے ، اور اس موقف پر جم جائیں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ یہی حق ہے اگرچہ مشرکین اس کی تکذیب کریں۔ یہ سورة مشرکین کے سامنے یہ دلائل بھی رکھتی ہے جو اس کائنات میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں اور وہ دلائل بھی جو خود ان کے نفسوں میں ہیں۔ پھر تاریخ انسانیت اور اس کے اہم واقعات میں ہیں۔ غرض یہ اور اس قسم کے بیشمار دلائل ہیں جو اس سورة میں نہایت ہی موثر انداز میں پیش کئے گئے ہیں جن کے اثرات قلب پر گہرے پڑتے ہیں اور جن سے انسانی فکر کو بہت زیادہ غذا ملتی ہے۔

مثلاً اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب ہی حق ہے اور یہی سچائی ہے ، اگرچہ لوگ اس سے منہ موڑیں ، اس کو جھٹلائیں ، اسے چیلنج دیں ، اور اسے قبول کرنے میں دیر کریں۔ اس راہ کی مشکلات اس بات پر دلیل نہیں ہیں کہ یہ کتاب سچ نہیں ہے۔

المر تلک۔۔۔۔۔ یومنون (13 : 1) ” یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے ۔ مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے “۔

کذلک یضرب اللہ۔۔۔۔۔ الامثال ( 13 : 17) ” اسی مثال سے اللہ حق و باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے ، جو جھاگ ہے وہ اڑ جاتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لئے نافع ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے “۔

افمن یعلم۔۔۔۔۔۔۔ الالباب (13 : 19) ” بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے رب کی اس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے ، اور وہ شخص جو اس حقیقت سے اندھا ہے ، دونوں یکساں …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.