Muslim99Muslim99
← Tafsir library

13. Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

سُورَةُ الرَّعۡدِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 43

31

وَلَوْ أَنَّ قُرْءَانًۭا سُيِّرَتْ بِهِ ٱلْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ ٱلْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ ٱلْمَوْتَىٰ ۗ بَل لِّلَّهِ ٱلْأَمْرُ جَمِيعًا ۗ أَفَلَمْ يَا۟يْـَٔسِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن لَّوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَهَدَى ٱلنَّاسَ جَمِيعًۭا ۗ وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ تُصِيبُهُم بِمَا صَنَعُوا۟ قَارِعَةٌ أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًۭا مِّن دَارِهِمْ حَتَّىٰ يَأْتِىَ وَعْدُ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے رستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بےشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا

آیت نمبر 27 تا 32

ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔

قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔

لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کی طرف میلان اور انابت نہیں رکھتے وہی گمراہ ہوتے ہیں ، لہٰذا اللہ بھی ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ لہٰذا دلوں کے اندر ہدایت کی استعداد اور پھر طلب ہدایت اور اس راہ میں سعی کرنے سے ہدایت ملتی ہے۔ لیکن جو دل اللہ کی ہدایت کی استعداد ہی سے محروم ہوتے ہیں اور جو اس سمت میں حرکت ہی نہیں کرتے وہ اللہ سے اور ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں۔

اس کے بعد مومن دلوں کی ایک نہایت ہی شفاف تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کشی نہایت ہی اطمینان وقرار ، انس و محبت اور مسرت اور بشاشت کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔

الذین امنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ (13 : 28) ” وہ جنہوں نے نبی کی دعوت کو مان لیا ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے “۔ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے متعلق ہیں۔ وہ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں اور اللہ کے ہاں مامون اور محفوظ ہیں۔ وہ تنہائی کی مشکلات سے بھی مطمئن ہوتے ہیں ، راہ حق کی پریشانیوں میں بھی مطمئن ہوتے ہیں۔ اور وہ تخلیق کائنات ، اس کے آغاز اور انجام کے بارے میں بھی شفاف سوچ رکھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں ، وہ ہر ظلم ، ہر شر اور ہر زیادتی سے اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں الایہ کہ اللہ کی مشیت سے کوئی مصیبت آجائے تو وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں اور اسے ابتلا سمجھ کر اس پر صبر کرتے ہیں۔ ہدایت ، رزق ، دنیا و آخرت کی پردہ پوشی کے بارے میں بھی ان کو اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اس لیے وہ مطمئن ہوتے ہیں۔

الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” بیشک اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے “۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کے ذکر سے جو اطمینان پیدا ہوتا ہے اس کا صحیح علم صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے دلوں میں ایمان کی بشاشت اور مٹھاس پیدا ہوجائے اور ان کو اللہ کا فضل حاصل ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگ اس ایمانی بشاشت اور طمانیت کو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو الفاظ کے ذریعہ دوسرے لوگوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ایسے لوگوں تک جن کو یہ معرفت حاصل نہ ہو کیونکہ یہ حقائق الفاظ کی گرفت سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اطمینان دلوں میں سرایت کرتا ہے۔ ان کو سکون اور فرحت دیتا ہے ، ہمت دیتا ہے۔ وہ امن و سلامتی کا شعور پاتے ہیں۔ ایسے اہل معرفت محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ، ان کو ایک پورا ماحول اپنا دوست اور یار نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کے اردگرد اللہ کی صنعت کاریاں ہوتی ہیں جبکہ خود صاحب معرفت اللہ ہی کی حمایت میں ہوتا ہے۔

ان لوگوں سے بڑا بد بخت اس روئے زمین پر کوئی نہیں ہے جو تعلق باللہ کی وجہ سے اور ذکر الٰہی کی وجہ سے پیدا ہونے والے انس و محبت سے بیخبر ہوں۔ اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں ہے کہ وہ اس کرۂ ارض کے اوپر چلے پھرے اور اسے اپنے کائناتی ماحول سے کوئی انس و محبت نہ ہو۔ اس سے بڑا کوئی بدبخت نہ ہوگا جو اس دنیا میں چلے پھرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وہ کیوں آیا ہے اور کدھر جا رہا ہے ؟ اور اس کے اوپر زندگی کا یہ بوجھ کیوں ڈالا گیا ہے ؟ اور اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو اس کرۂ ارض …

32

وَلَقَدِ ٱسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا

آیت نمبر 27 تا 32

ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔

قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔

لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کی طرف میلان اور انابت نہیں رکھتے وہی گمراہ ہوتے ہیں ، لہٰذا اللہ بھی ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ لہٰذا دلوں کے اندر ہدایت کی استعداد اور پھر طلب ہدایت اور اس راہ میں سعی کرنے سے ہدایت ملتی ہے۔ لیکن جو دل اللہ کی ہدایت کی استعداد ہی سے محروم ہوتے ہیں اور جو اس سمت میں حرکت ہی نہیں کرتے وہ اللہ سے اور ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں۔

اس کے بعد مومن دلوں کی ایک نہایت ہی شفاف تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کشی نہایت ہی اطمینان وقرار ، انس و محبت اور مسرت اور بشاشت کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔

الذین امنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ (13 : 28) ” وہ جنہوں نے نبی کی دعوت کو مان لیا ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے “۔ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے متعلق ہیں۔ وہ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں اور اللہ کے ہاں مامون اور محفوظ ہیں۔ وہ تنہائی کی مشکلات سے بھی مطمئن ہوتے ہیں ، راہ حق کی پریشانیوں میں بھی مطمئن ہوتے ہیں۔ اور وہ تخلیق کائنات ، اس کے آغاز اور انجام کے بارے میں بھی شفاف سوچ رکھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں ، وہ ہر ظلم ، ہر شر اور ہر زیادتی سے اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں الایہ کہ اللہ کی مشیت سے کوئی مصیبت آجائے تو وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں اور اسے ابتلا سمجھ کر اس پر صبر کرتے ہیں۔ ہدایت ، رزق ، دنیا و آخرت کی پردہ پوشی کے بارے میں بھی ان کو اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اس لیے وہ مطمئن ہوتے ہیں۔

الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” بیشک اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے “۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کے ذکر سے جو اطمینان پیدا ہوتا ہے اس کا صحیح علم صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے دلوں میں ایمان کی بشاشت اور مٹھاس پیدا ہوجائے اور ان کو اللہ کا فضل حاصل ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگ اس ایمانی بشاشت اور طمانیت کو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو الفاظ کے ذریعہ دوسرے لوگوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ایسے لوگوں تک جن کو یہ معرفت حاصل نہ ہو کیونکہ یہ حقائق الفاظ کی گرفت سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اطمینان دلوں میں سرایت کرتا ہے۔ ان کو سکون اور فرحت دیتا ہے ، ہمت دیتا ہے۔ وہ امن و سلامتی کا شعور پاتے ہیں۔ ایسے اہل معرفت محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ، ان کو ایک پورا ماحول اپنا دوست اور یار نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کے اردگرد اللہ کی صنعت کاریاں ہوتی ہیں جبکہ خود صاحب معرفت اللہ ہی کی حمایت میں ہوتا ہے۔

ان لوگوں سے بڑا بد بخت اس روئے زمین پر کوئی نہیں ہے جو تعلق باللہ کی وجہ سے اور ذکر الٰہی کی وجہ سے پیدا ہونے والے انس و محبت سے بیخبر ہوں۔ اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں ہے کہ وہ اس کرۂ ارض کے اوپر چلے پھرے اور اسے اپنے کائناتی ماحول سے کوئی انس و محبت نہ ہو۔ اس سے بڑا کوئی بدبخت نہ ہوگا جو اس دنیا میں چلے پھرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وہ کیوں آیا ہے اور کدھر جا رہا ہے ؟ اور اس کے اوپر زندگی کا یہ بوجھ کیوں ڈالا گیا ہے ؟ اور اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو اس کرۂ ارض …

33

أَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ ۗ وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ قُلْ سَمُّوهُمْ ۚ أَمْ تُنَبِّـُٔونَهُۥ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلْأَرْضِ أَم بِظَٰهِرٍۢ مِّنَ ٱلْقَوْلِ ۗ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا۟ عَنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍۢ

تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہباں) ہے (وہ بتوں کی طرح بےعلم وبےخبر ہوسکتا ہے) اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) ان کے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو) اصل یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) رستے سے روک لیے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں

آیت نمبر 33 تا 35

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔

افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا حساب کر رہا ہے ۔ کون ؟ اللہ۔ اب کون ہے جو مارے خوف کے کانپ نہیں اٹھتا جبکہ یہ تصور ہو بھی حقیقت نفس الامری۔ قرآن انسان قوائے مدرکہ کے سامنے اس معنوی مفہوم کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کرتا ہے ، کیونکہ انسان مجرد مفہومات کے مقابلے میں محسوس مناظر سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

جب صورت حالات یہ ہو تو پھر بھی یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ان لوگوں کی یہ حرکت اس منظر کی روشنی میں نہایت ہی مکروہ اور گھناؤنی نظر آتی ہے۔ اس منظر کو دیکھنے والا ہر شخص ایسے لوگوں کے رویے پر تعجب کرنے لگتا ہے۔

وجعلوا للہ شرکاء (13 : 33) ” لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا رکھے ہیں “۔ حالانکہ اللہ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر شخص کی کمائی اس کی نظروں میں ہے ، کوئی چیز اللہ سے چھوٹ نہیں سکتی۔

قل سموھم (13 : 33) ” کہو ، ذرا نام لو ان کے “۔ کیونکہ ان شریکوں کے جو نام بولے جاتے ہیں وہ نکرے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض بتوں اور شریکوں کے نام بھی ہوں لیکن انداز بیان محض تحکم اور حقارت کے انداز میں ان کو مجہول شخصیات تصور کر کے پوچھتا ہے کہ ذرا ان کے اصل نام تو لو۔

ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض (13 : 33) ” کیا تم اللہ کو ایک نئی خبر دیتے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے یعنی تم انسان ہو کر بھی ایک ایسی خبر رکھتے ہو جس کا علم اللہ کو اپنی مملکت میں نہیں۔ عجیب سوچ ہے یہ تمہاری۔ تم تو جانتے ہو کہ اللہ کے سوا اور الٰہ بھی ہیں اور اللہ کو اس کا پتہ نہیں ؟ جبکہ اس قسم کے دعویٰ کرنے کی جسارت یہ کفار بھی نہ کرتے تھے لیکن لسان الحال سے ان کا دعویٰ یہی تھا کہ اللہ تو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں فلاں بھی الٰہ ہیں۔

ام بظاھر من القوم (13 : 33) ” یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے ، کہہ ڈالتے ہو “۔ تم لوگ دوسرے الہوں کے وجود کے قول محض سطحی بات کے طور پر کردیتے ہو اور اس بات کا کوئی مفہوم اور معنی نہیں ہوتا جبکہ مسئلہ الوہیت کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ محض سطحی باتوں سے ہوجائے اگر گپ شپ میں الوہیت اور توحید و شرک کے مسائل حل ہوجائیں۔

یہاں تک تو مذاقیہ جواب تھا۔ اب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر بات کی جاتی ہے۔

بل زین للذین۔۔۔۔۔ من ھاد (13 : 33) ” حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لئے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے “۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے کفر کیا۔ اپنے آپ سے دلائل ایمان کو چھپایا ، اپنے دل و دماغ کو دلائل ایمان و ہدایت سے مستور رکھا۔ اس لیے ان پر سنت الٰہیہ کا اطلاق برحق ہوگیا۔ ان کے نفوس نے ان کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ حق پر ہیں۔ اور یہ باور کرایا کہ ان کی مکاریاں اور حق کے خلاف ان کی تدابیر بہت اچھی اور کامیاب ہیں۔ اس طرح ان کے اس طرز عمل نے انہیں راہ حق سے روک دیا۔ جس شخص کو اللہ کے سنن ہدایت و ضلالت کے تحت گمراہ قرار دے دیا جائے تو اس کے لئے پھر کوئی بھی …

34

لَّهُمْ عَذَابٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ ٱلْءَاخِرَةِ أَشَقُّ ۖ وَمَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٍۢ

ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں

آیت نمبر 33 تا 35

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔

افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا حساب کر رہا ہے ۔ کون ؟ اللہ۔ اب کون ہے جو مارے خوف کے کانپ نہیں اٹھتا جبکہ یہ تصور ہو بھی حقیقت نفس الامری۔ قرآن انسان قوائے مدرکہ کے سامنے اس معنوی مفہوم کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کرتا ہے ، کیونکہ انسان مجرد مفہومات کے مقابلے میں محسوس مناظر سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

جب صورت حالات یہ ہو تو پھر بھی یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ان لوگوں کی یہ حرکت اس منظر کی روشنی میں نہایت ہی مکروہ اور گھناؤنی نظر آتی ہے۔ اس منظر کو دیکھنے والا ہر شخص ایسے لوگوں کے رویے پر تعجب کرنے لگتا ہے۔

وجعلوا للہ شرکاء (13 : 33) ” لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا رکھے ہیں “۔ حالانکہ اللہ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر شخص کی کمائی اس کی نظروں میں ہے ، کوئی چیز اللہ سے چھوٹ نہیں سکتی۔

قل سموھم (13 : 33) ” کہو ، ذرا نام لو ان کے “۔ کیونکہ ان شریکوں کے جو نام بولے جاتے ہیں وہ نکرے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض بتوں اور شریکوں کے نام بھی ہوں لیکن انداز بیان محض تحکم اور حقارت کے انداز میں ان کو مجہول شخصیات تصور کر کے پوچھتا ہے کہ ذرا ان کے اصل نام تو لو۔

ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض (13 : 33) ” کیا تم اللہ کو ایک نئی خبر دیتے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے یعنی تم انسان ہو کر بھی ایک ایسی خبر رکھتے ہو جس کا علم اللہ کو اپنی مملکت میں نہیں۔ عجیب سوچ ہے یہ تمہاری۔ تم تو جانتے ہو کہ اللہ کے سوا اور الٰہ بھی ہیں اور اللہ کو اس کا پتہ نہیں ؟ جبکہ اس قسم کے دعویٰ کرنے کی جسارت یہ کفار بھی نہ کرتے تھے لیکن لسان الحال سے ان کا دعویٰ یہی تھا کہ اللہ تو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں فلاں بھی الٰہ ہیں۔

ام بظاھر من القوم (13 : 33) ” یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے ، کہہ ڈالتے ہو “۔ تم لوگ دوسرے الہوں کے وجود کے قول محض سطحی بات کے طور پر کردیتے ہو اور اس بات کا کوئی مفہوم اور معنی نہیں ہوتا جبکہ مسئلہ الوہیت کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ محض سطحی باتوں سے ہوجائے اگر گپ شپ میں الوہیت اور توحید و شرک کے مسائل حل ہوجائیں۔

یہاں تک تو مذاقیہ جواب تھا۔ اب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر بات کی جاتی ہے۔

بل زین للذین۔۔۔۔۔ من ھاد (13 : 33) ” حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لئے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے “۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے کفر کیا۔ اپنے آپ سے دلائل ایمان کو چھپایا ، اپنے دل و دماغ کو دلائل ایمان و ہدایت سے مستور رکھا۔ اس لیے ان پر سنت الٰہیہ کا اطلاق برحق ہوگیا۔ ان کے نفوس نے ان کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ حق پر ہیں۔ اور یہ باور کرایا کہ ان کی مکاریاں اور حق کے خلاف ان کی تدابیر بہت اچھی اور کامیاب ہیں۔ اس طرح ان کے اس طرز عمل نے انہیں راہ حق سے روک دیا۔ جس شخص کو اللہ کے سنن ہدایت و ضلالت کے تحت گمراہ قرار دے دیا جائے تو اس کے لئے پھر کوئی بھی …

35

۞ مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ أُكُلُهَا دَآئِمٌۭ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ ۖ وَّعُقْبَى ٱلْكَٰفِرِينَ ٱلنَّارُ

جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں۔ اور کافروں کا انجام دوزخ ہے

آیت نمبر 33 تا 35

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔

افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا حساب کر رہا ہے ۔ کون ؟ اللہ۔ اب کون ہے جو مارے خوف کے کانپ نہیں اٹھتا جبکہ یہ تصور ہو بھی حقیقت نفس الامری۔ قرآن انسان قوائے مدرکہ کے سامنے اس معنوی مفہوم کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کرتا ہے ، کیونکہ انسان مجرد مفہومات کے مقابلے میں محسوس مناظر سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

جب صورت حالات یہ ہو تو پھر بھی یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ان لوگوں کی یہ حرکت اس منظر کی روشنی میں نہایت ہی مکروہ اور گھناؤنی نظر آتی ہے۔ اس منظر کو دیکھنے والا ہر شخص ایسے لوگوں کے رویے پر تعجب کرنے لگتا ہے۔

وجعلوا للہ شرکاء (13 : 33) ” لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا رکھے ہیں “۔ حالانکہ اللہ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر شخص کی کمائی اس کی نظروں میں ہے ، کوئی چیز اللہ سے چھوٹ نہیں سکتی۔

قل سموھم (13 : 33) ” کہو ، ذرا نام لو ان کے “۔ کیونکہ ان شریکوں کے جو نام بولے جاتے ہیں وہ نکرے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض بتوں اور شریکوں کے نام بھی ہوں لیکن انداز بیان محض تحکم اور حقارت کے انداز میں ان کو مجہول شخصیات تصور کر کے پوچھتا ہے کہ ذرا ان کے اصل نام تو لو۔

ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض (13 : 33) ” کیا تم اللہ کو ایک نئی خبر دیتے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے یعنی تم انسان ہو کر بھی ایک ایسی خبر رکھتے ہو جس کا علم اللہ کو اپنی مملکت میں نہیں۔ عجیب سوچ ہے یہ تمہاری۔ تم تو جانتے ہو کہ اللہ کے سوا اور الٰہ بھی ہیں اور اللہ کو اس کا پتہ نہیں ؟ جبکہ اس قسم کے دعویٰ کرنے کی جسارت یہ کفار بھی نہ کرتے تھے لیکن لسان الحال سے ان کا دعویٰ یہی تھا کہ اللہ تو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں فلاں بھی الٰہ ہیں۔

ام بظاھر من القوم (13 : 33) ” یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے ، کہہ ڈالتے ہو “۔ تم لوگ دوسرے الہوں کے وجود کے قول محض سطحی بات کے طور پر کردیتے ہو اور اس بات کا کوئی مفہوم اور معنی نہیں ہوتا جبکہ مسئلہ الوہیت کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ محض سطحی باتوں سے ہوجائے اگر گپ شپ میں الوہیت اور توحید و شرک کے مسائل حل ہوجائیں۔

یہاں تک تو مذاقیہ جواب تھا۔ اب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر بات کی جاتی ہے۔

بل زین للذین۔۔۔۔۔ من ھاد (13 : 33) ” حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لئے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے “۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے کفر کیا۔ اپنے آپ سے دلائل ایمان کو چھپایا ، اپنے دل و دماغ کو دلائل ایمان و ہدایت سے مستور رکھا۔ اس لیے ان پر سنت الٰہیہ کا اطلاق برحق ہوگیا۔ ان کے نفوس نے ان کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ حق پر ہیں۔ اور یہ باور کرایا کہ ان کی مکاریاں اور حق کے خلاف ان کی تدابیر بہت اچھی اور کامیاب ہیں۔ اس طرح ان کے اس طرز عمل نے انہیں راہ حق سے روک دیا۔ جس شخص کو اللہ کے سنن ہدایت و ضلالت کے تحت گمراہ قرار دے دیا جائے تو اس کے لئے پھر کوئی بھی …

36

وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ ۖ وَمِنَ ٱلْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُۥ ۚ قُلْ إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشْرِكَ بِهِۦٓ ۚ إِلَيْهِ أَدْعُوا۟ وَإِلَيْهِ مَـَٔابِ

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے جو تم پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے۔ کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے

آیت نمبر 33 تا 35

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔

افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا حساب کر رہا ہے ۔ کون ؟ اللہ۔ اب کون ہے جو مارے خوف کے کانپ نہیں اٹھتا جبکہ یہ تصور ہو بھی حقیقت نفس الامری۔ قرآن انسان قوائے مدرکہ کے سامنے اس معنوی مفہوم کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کرتا ہے ، کیونکہ انسان مجرد مفہومات کے مقابلے میں محسوس مناظر سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

جب صورت حالات یہ ہو تو پھر بھی یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ان لوگوں کی یہ حرکت اس منظر کی روشنی میں نہایت ہی مکروہ اور گھناؤنی نظر آتی ہے۔ اس منظر کو دیکھنے والا ہر شخص ایسے لوگوں کے رویے پر تعجب کرنے لگتا ہے۔

وجعلوا للہ شرکاء (13 : 33) ” لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا رکھے ہیں “۔ حالانکہ اللہ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر شخص کی کمائی اس کی نظروں میں ہے ، کوئی چیز اللہ سے چھوٹ نہیں سکتی۔

قل سموھم (13 : 33) ” کہو ، ذرا نام لو ان کے “۔ کیونکہ ان شریکوں کے جو نام بولے جاتے ہیں وہ نکرے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض بتوں اور شریکوں کے نام بھی ہوں لیکن انداز بیان محض تحکم اور حقارت کے انداز میں ان کو مجہول شخصیات تصور کر کے پوچھتا ہے کہ ذرا ان کے اصل نام تو لو۔

ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض (13 : 33) ” کیا تم اللہ کو ایک نئی خبر دیتے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے یعنی تم انسان ہو کر بھی ایک ایسی خبر رکھتے ہو جس کا علم اللہ کو اپنی مملکت میں نہیں۔ عجیب سوچ ہے یہ تمہاری۔ تم تو جانتے ہو کہ اللہ کے سوا اور الٰہ بھی ہیں اور اللہ کو اس کا پتہ نہیں ؟ جبکہ اس قسم کے دعویٰ کرنے کی جسارت یہ کفار بھی نہ کرتے تھے لیکن لسان الحال سے ان کا دعویٰ یہی تھا کہ اللہ تو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں فلاں بھی الٰہ ہیں۔

ام بظاھر من القوم (13 : 33) ” یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے ، کہہ ڈالتے ہو “۔ تم لوگ دوسرے الہوں کے وجود کے قول محض سطحی بات کے طور پر کردیتے ہو اور اس بات کا کوئی مفہوم اور معنی نہیں ہوتا جبکہ مسئلہ الوہیت کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ محض سطحی باتوں سے ہوجائے اگر گپ شپ میں الوہیت اور توحید و شرک کے مسائل حل ہوجائیں۔

یہاں تک تو مذاقیہ جواب تھا۔ اب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر بات کی جاتی ہے۔

بل زین للذین۔۔۔۔۔ من ھاد (13 : 33) ” حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لئے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے “۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے کفر کیا۔ اپنے آپ سے دلائل ایمان کو چھپایا ، اپنے دل و دماغ کو دلائل ایمان و ہدایت سے مستور رکھا۔ اس لیے ان پر سنت الٰہیہ کا اطلاق برحق ہوگیا۔ ان کے نفوس نے ان کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ حق پر ہیں۔ اور یہ باور کرایا کہ ان کی مکاریاں اور حق کے خلاف ان کی تدابیر بہت اچھی اور کامیاب ہیں۔ اس طرح ان کے اس طرز عمل نے انہیں راہ حق سے روک دیا۔ جس شخص کو اللہ کے سنن ہدایت و ضلالت کے تحت گمراہ قرار دے دیا جائے تو اس کے لئے پھر کوئی بھی …

37

وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّۭا ۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم بَعْدَمَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا وَاقٍۢ

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا

اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا موقف ہے اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں خصوصاً اہل کتاب کی۔ نہ کسی چھوٹے معاملے میں اور نہ کسی بڑے معاملے میں۔ رہے وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں تو انہیں صاف صاف کہہ دو کہ میری ڈیوٹی دعوت پہنچانا ہے۔ جب معجزات کی ضرورت ہو تو اللہ کے اذن سے ان کا ظہور و صدور ہوتا ہے۔

آیت نمبر 36 تا 40

اہل کتاب میں سے جو سچے لوگ ہیں جو دین عیسیٰ کی بنیادی تعلیمات پر کاربند ہیں ، وہ جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو قرآن کی تعلیمات کو اپنی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ پاتے ہیں۔ مثلاً عقیدۂ توحید وغیرہ میں۔ نیز وہ دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید تمام ادیان سماوی اور تمام کتب سماوی کی حقانیت کا قائل ہے ، ان سب کا ذکر نہایت ہی احترام سے کرتا ہے اور یہ تصور دیتا ہے کہ تمام اہل ایمان خواہ نبی آخر الزمان کے مومن ہوں یا انبیائے سابقین کے مومن ہوں وہ ایک ہی جماعت اور ایک ہی امت ہیں اور ذات باری ان کا آمرہ ہے۔ ایسے لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں ۔ یہاں ایسے لوگوں کی کیفیت قلبی کو فرحت سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ جب کوئی شخص سچائی پاتا ہے تو اسے بہت ہی خوشی ہوتی ہے اور وہ اپنے خیالات کی تصدیق جب قرآن میں پاتے ہیں تو ان کو عقیدہ اور بھی پختہ ہوجاتا ہے اور وہ قرآن پر ایمان لا کر اس تحریک کے حامی بن جاتے ہیں۔

ومن الاحزاب من ینکر بعضہ (13 : 36) ” اور مختلف گروہوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے “۔ یعنی ان سے مراد اہل کتاب اور مشرکین کی بعض جماعتیں ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ کیونکہ مقصد صرف یہ ہے کہ یہاں منکرین کا ذکر کر کے ان کا رد کردیا جائے۔

قل انما امرت۔۔۔۔۔ ماب (13 : 36) ” تم صاف کہہ دو کہ مجھے صاف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤں لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے “۔ یعنی بندگی بھی اسی کی ہے۔ دعوت بھی اللہ کی طرف ہے اور رجوع بھی صرف اللہ ہی کی طرف ہے۔

حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف واضح کردیں جو قرآنی تعلیمات میں سے بعض چیزوں کے منکر ہیں۔ یہ کہ وہ پوری کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے جو ان پر نازل ہوئی ہے چاہے اس پر اہل کتاب خوش ہوں یا ان میں سے کچھ لوگ ناراض ہوں کیونکہ جو کچھ ان پر نازل ہوا ہے وہ حکم اخیر ہے۔ سابقہ احکام منسوخ ہوگئے ہیں اور یہ کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی ہے اور اس کا مفہوم بھی واضح اور مکمل ہے کیونکہ اب یہ اللہ کا آخری پیغام ہے۔ اس لیے ہم نے اب اپنے تمام نظریات اس سے اخذ کرتے ہیں۔

وکذلک انزلنہ حکماً عربیاً (13 : 37) ” اس طرح ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے “۔

ولئن اتبعت۔۔۔۔ واق (13 : 37) ” اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے “۔ کیونکہ تمہارے پاس جو علم آرہا ہے وہ علم الیقین ہے ، اور دوسرے گروہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، علم و یقین پر …

38

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًۭا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَٰجًۭا وَذُرِّيَّةًۭ ۚ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِىَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ لِكُلِّ أَجَلٍۢ كِتَابٌۭ

اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے۔ اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی ۔اور کسی پیغمبر کے اختیار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضا (کتاب میں) مرقوم ہے

اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا موقف ہے اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں خصوصاً اہل کتاب کی۔ نہ کسی چھوٹے معاملے میں اور نہ کسی بڑے معاملے میں۔ رہے وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں تو انہیں صاف صاف کہہ دو کہ میری ڈیوٹی دعوت پہنچانا ہے۔ جب معجزات کی ضرورت ہو تو اللہ کے اذن سے ان کا ظہور و صدور ہوتا ہے۔

آیت نمبر 36 تا 40

اہل کتاب میں سے جو سچے لوگ ہیں جو دین عیسیٰ کی بنیادی تعلیمات پر کاربند ہیں ، وہ جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو قرآن کی تعلیمات کو اپنی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ پاتے ہیں۔ مثلاً عقیدۂ توحید وغیرہ میں۔ نیز وہ دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید تمام ادیان سماوی اور تمام کتب سماوی کی حقانیت کا قائل ہے ، ان سب کا ذکر نہایت ہی احترام سے کرتا ہے اور یہ تصور دیتا ہے کہ تمام اہل ایمان خواہ نبی آخر الزمان کے مومن ہوں یا انبیائے سابقین کے مومن ہوں وہ ایک ہی جماعت اور ایک ہی امت ہیں اور ذات باری ان کا آمرہ ہے۔ ایسے لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں ۔ یہاں ایسے لوگوں کی کیفیت قلبی کو فرحت سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ جب کوئی شخص سچائی پاتا ہے تو اسے بہت ہی خوشی ہوتی ہے اور وہ اپنے خیالات کی تصدیق جب قرآن میں پاتے ہیں تو ان کو عقیدہ اور بھی پختہ ہوجاتا ہے اور وہ قرآن پر ایمان لا کر اس تحریک کے حامی بن جاتے ہیں۔

ومن الاحزاب من ینکر بعضہ (13 : 36) ” اور مختلف گروہوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے “۔ یعنی ان سے مراد اہل کتاب اور مشرکین کی بعض جماعتیں ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ کیونکہ مقصد صرف یہ ہے کہ یہاں منکرین کا ذکر کر کے ان کا رد کردیا جائے۔

قل انما امرت۔۔۔۔۔ ماب (13 : 36) ” تم صاف کہہ دو کہ مجھے صاف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤں لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے “۔ یعنی بندگی بھی اسی کی ہے۔ دعوت بھی اللہ کی طرف ہے اور رجوع بھی صرف اللہ ہی کی طرف ہے۔

حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف واضح کردیں جو قرآنی تعلیمات میں سے بعض چیزوں کے منکر ہیں۔ یہ کہ وہ پوری کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے جو ان پر نازل ہوئی ہے چاہے اس پر اہل کتاب خوش ہوں یا ان میں سے کچھ لوگ ناراض ہوں کیونکہ جو کچھ ان پر نازل ہوا ہے وہ حکم اخیر ہے۔ سابقہ احکام منسوخ ہوگئے ہیں اور یہ کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی ہے اور اس کا مفہوم بھی واضح اور مکمل ہے کیونکہ اب یہ اللہ کا آخری پیغام ہے۔ اس لیے ہم نے اب اپنے تمام نظریات اس سے اخذ کرتے ہیں۔

وکذلک انزلنہ حکماً عربیاً (13 : 37) ” اس طرح ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے “۔

ولئن اتبعت۔۔۔۔ واق (13 : 37) ” اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے “۔ کیونکہ تمہارے پاس جو علم آرہا ہے وہ علم الیقین ہے ، اور دوسرے گروہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، علم و یقین پر …

39

يَمْحُوا۟ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلْكِتَٰبِ

خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے

اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا موقف ہے اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں خصوصاً اہل کتاب کی۔ نہ کسی چھوٹے معاملے میں اور نہ کسی بڑے معاملے میں۔ رہے وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں تو انہیں صاف صاف کہہ دو کہ میری ڈیوٹی دعوت پہنچانا ہے۔ جب معجزات کی ضرورت ہو تو اللہ کے اذن سے ان کا ظہور و صدور ہوتا ہے۔

آیت نمبر 36 تا 40

اہل کتاب میں سے جو سچے لوگ ہیں جو دین عیسیٰ کی بنیادی تعلیمات پر کاربند ہیں ، وہ جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو قرآن کی تعلیمات کو اپنی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ پاتے ہیں۔ مثلاً عقیدۂ توحید وغیرہ میں۔ نیز وہ دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید تمام ادیان سماوی اور تمام کتب سماوی کی حقانیت کا قائل ہے ، ان سب کا ذکر نہایت ہی احترام سے کرتا ہے اور یہ تصور دیتا ہے کہ تمام اہل ایمان خواہ نبی آخر الزمان کے مومن ہوں یا انبیائے سابقین کے مومن ہوں وہ ایک ہی جماعت اور ایک ہی امت ہیں اور ذات باری ان کا آمرہ ہے۔ ایسے لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں ۔ یہاں ایسے لوگوں کی کیفیت قلبی کو فرحت سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ جب کوئی شخص سچائی پاتا ہے تو اسے بہت ہی خوشی ہوتی ہے اور وہ اپنے خیالات کی تصدیق جب قرآن میں پاتے ہیں تو ان کو عقیدہ اور بھی پختہ ہوجاتا ہے اور وہ قرآن پر ایمان لا کر اس تحریک کے حامی بن جاتے ہیں۔

ومن الاحزاب من ینکر بعضہ (13 : 36) ” اور مختلف گروہوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے “۔ یعنی ان سے مراد اہل کتاب اور مشرکین کی بعض جماعتیں ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ کیونکہ مقصد صرف یہ ہے کہ یہاں منکرین کا ذکر کر کے ان کا رد کردیا جائے۔

قل انما امرت۔۔۔۔۔ ماب (13 : 36) ” تم صاف کہہ دو کہ مجھے صاف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤں لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے “۔ یعنی بندگی بھی اسی کی ہے۔ دعوت بھی اللہ کی طرف ہے اور رجوع بھی صرف اللہ ہی کی طرف ہے۔

حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف واضح کردیں جو قرآنی تعلیمات میں سے بعض چیزوں کے منکر ہیں۔ یہ کہ وہ پوری کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے جو ان پر نازل ہوئی ہے چاہے اس پر اہل کتاب خوش ہوں یا ان میں سے کچھ لوگ ناراض ہوں کیونکہ جو کچھ ان پر نازل ہوا ہے وہ حکم اخیر ہے۔ سابقہ احکام منسوخ ہوگئے ہیں اور یہ کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی ہے اور اس کا مفہوم بھی واضح اور مکمل ہے کیونکہ اب یہ اللہ کا آخری پیغام ہے۔ اس لیے ہم نے اب اپنے تمام نظریات اس سے اخذ کرتے ہیں۔

وکذلک انزلنہ حکماً عربیاً (13 : 37) ” اس طرح ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے “۔

ولئن اتبعت۔۔۔۔ واق (13 : 37) ” اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے “۔ کیونکہ تمہارے پاس جو علم آرہا ہے وہ علم الیقین ہے ، اور دوسرے گروہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، علم و یقین پر …

40

وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ وَعَلَيْنَا ٱلْحِسَابُ

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو ان پر نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے

اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا موقف ہے اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں خصوصاً اہل کتاب کی۔ نہ کسی چھوٹے معاملے میں اور نہ کسی بڑے معاملے میں۔ رہے وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں تو انہیں صاف صاف کہہ دو کہ میری ڈیوٹی دعوت پہنچانا ہے۔ جب معجزات کی ضرورت ہو تو اللہ کے اذن سے ان کا ظہور و صدور ہوتا ہے۔

آیت نمبر 36 تا 40

اہل کتاب میں سے جو سچے لوگ ہیں جو دین عیسیٰ کی بنیادی تعلیمات پر کاربند ہیں ، وہ جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو قرآن کی تعلیمات کو اپنی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ پاتے ہیں۔ مثلاً عقیدۂ توحید وغیرہ میں۔ نیز وہ دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید تمام ادیان سماوی اور تمام کتب سماوی کی حقانیت کا قائل ہے ، ان سب کا ذکر نہایت ہی احترام سے کرتا ہے اور یہ تصور دیتا ہے کہ تمام اہل ایمان خواہ نبی آخر الزمان کے مومن ہوں یا انبیائے سابقین کے مومن ہوں وہ ایک ہی جماعت اور ایک ہی امت ہیں اور ذات باری ان کا آمرہ ہے۔ ایسے لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں ۔ یہاں ایسے لوگوں کی کیفیت قلبی کو فرحت سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ جب کوئی شخص سچائی پاتا ہے تو اسے بہت ہی خوشی ہوتی ہے اور وہ اپنے خیالات کی تصدیق جب قرآن میں پاتے ہیں تو ان کو عقیدہ اور بھی پختہ ہوجاتا ہے اور وہ قرآن پر ایمان لا کر اس تحریک کے حامی بن جاتے ہیں۔

ومن الاحزاب من ینکر بعضہ (13 : 36) ” اور مختلف گروہوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے “۔ یعنی ان سے مراد اہل کتاب اور مشرکین کی بعض جماعتیں ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ کیونکہ مقصد صرف یہ ہے کہ یہاں منکرین کا ذکر کر کے ان کا رد کردیا جائے۔

قل انما امرت۔۔۔۔۔ ماب (13 : 36) ” تم صاف کہہ دو کہ مجھے صاف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤں لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے “۔ یعنی بندگی بھی اسی کی ہے۔ دعوت بھی اللہ کی طرف ہے اور رجوع بھی صرف اللہ ہی کی طرف ہے۔

حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف واضح کردیں جو قرآنی تعلیمات میں سے بعض چیزوں کے منکر ہیں۔ یہ کہ وہ پوری کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے جو ان پر نازل ہوئی ہے چاہے اس پر اہل کتاب خوش ہوں یا ان میں سے کچھ لوگ ناراض ہوں کیونکہ جو کچھ ان پر نازل ہوا ہے وہ حکم اخیر ہے۔ سابقہ احکام منسوخ ہوگئے ہیں اور یہ کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی ہے اور اس کا مفہوم بھی واضح اور مکمل ہے کیونکہ اب یہ اللہ کا آخری پیغام ہے۔ اس لیے ہم نے اب اپنے تمام نظریات اس سے اخذ کرتے ہیں۔

وکذلک انزلنہ حکماً عربیاً (13 : 37) ” اس طرح ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے “۔

ولئن اتبعت۔۔۔۔ واق (13 : 37) ” اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے “۔ کیونکہ تمہارے پاس جو علم آرہا ہے وہ علم الیقین ہے ، اور دوسرے گروہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، علم و یقین پر …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.