وَٱلَّذِينَ يَصِلُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوٓءَ ٱلْحِسَابِ
اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں
کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)
[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔
[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے …