سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :39
یعنی اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتے ہیں ، اپنے جذبات اور میلانات کو حدود کا پابند بناتے ہیں ، خدا کی نافرمانی میں جن جن فائدوں اور لذتوں کا لالچ نظر آتا ہے انہیں دیکھ کر پھسل نہیں جاتے ، اور خدا کی فرمانبرداری میں جن جن نقصانات اور تکلیفوں کا اندیشہ ہوتا ہے انہیں برداشت کرتے جاتے ہیں ۔ اس لحاظ سے مومن کی پوری زندگی درحقیقت صبر کی زندگی ہے ، کیونکہ وہ رضائے الہی کی امید پر اور آخرت کے پائدار نتائج کی توقع پر اس دنیا میں ضبط نفس سے کام لیتا ہے اور گناہ کی جانب نفس کے ہر میلان کا صبر کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے ۔
سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :40
یعنی وہ بدی کے مقابلے میں بدی نہیں بلکہ نیکی کرتے ہیں ۔ وہ شر کا مقابلہ شر سے نہیں بلکہ خیر ہی سے کرتے ہیں ۔ کوئی ان پر خواہ کتنا ہی ظلم کرے ، وہ جواب میں ظلم نہیں بلکہ انصاف ہی کرتے ہیں ۔ کوئی ان کے خلاف کتنا ہی جھوٹ بولے ، وہ جواب میں سچ ہی بولتے ہیں ۔ کوئی ان سے خواہ کتنی ہی خیانت کرے ، وہ جواب میں دیانت ہی سے کام لیتے ہیں ۔ اسی معنی میں ہے وہ حدیث جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
لا تکونو ا امعۃ تقولون ان احسن الناس احسنا و ان ظلمونا ظلمنا ۔ و لٰکن وطّنوا انفسکم ، ان احسن الناس ان تحسنوا و ان اساؤا فلا تظلموا ۔
”تم اپنے طرز عمل کو لوگوں کے طرز عمل کا تابع بنا کر نہ رکھو ۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھلائی کریں گے اور لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے ۔ تم اپنے نفس کو ایک قاعدے کا پابند بناؤ ۔ اگر لوگ نیکی کریں تو نیکی کرو ۔ اور اگر لوگ تم سے بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو ۔ “
اس معنی میں ہے وہ حدیث جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے نو باتوں کا حکم دیا ہے ۔ اور ان میں سے چار باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائیں کہ میں خواہ کسی سے خوش ہوں یا ناراض ہر حالت میں انصاف کی بات کہوں ، جو میرا حق مارے میں اس کا حق ادا کروں ، جو مجھے محروم کرے میں اس کو عطا کروں ، اور جو مجھ پر ظلم کرے میں اس کو معاف کر دوں ۔ اور اس معنی میں ہے وہ حدیث جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لا تخن من خانک ” جو تجھ سے خیانت کرے تو اس سے خیانت نہ کر“ ۔ اور اسی معنی میں ہے حضرت عمر رضی للہ عنہ کا یہ قول کہ ” جو شخص تیرے ساتھ معاملہ کرنے میں خدا سے نہیں ڈرتا اس کی سزا دینے کی بہترین صورت یہ ہے کہ تو اس کے ساتھ خدا سے ڈرتے ہوئے معاملہ کر“ ۔