Muslim99Muslim99
← Tafsir library

13. Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

سُورَةُ الرَّعۡدِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 21–30 of 43

21

وَٱلَّذِينَ يَصِلُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوٓءَ ٱلْحِسَابِ

اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں

کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)

[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔

[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے …

22

وَٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ سِرًّۭا وَعَلَانِيَةًۭ وَيَدْرَءُونَ بِٱلْحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى ٱلدَّارِ

اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے عاقبت کا گھر ہے

کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)

[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔

[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے …

23

جَنَّٰتُ عَدْنٍۢ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَٰجِهِمْ وَذُرِّيَّٰتِهِمْ ۖ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍۢ

(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے ان کے پاس آئیں گے

کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)

[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔

[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے …

24

سَلَٰمٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى ٱلدَّارِ

(اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے

کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)

[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔

[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے …

25

وَٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَٰقِهِۦ وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوٓءُ ٱلدَّارِ

اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اس کو توڑ ڈالتے اور (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کر دیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں۔ ایسوں پر لعنت ہے اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے

اور وہ لوگ جو توڑتے ہیں عہد اللہ کا بعد پختہ کرنے کے اس کواور قطع کرتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے) اور وہ فساد کرتے ہیں زمین میں ، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے لعنت اورواسطے انھی کے بہت برا گھر ہے (آخرت کا)(25)

[25] اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے ایسے احوال بیان فرمائے ہیں جو اہل جنت کے اوصاف کے برعکس ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۢۡ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کو مضبوط کرنے کے بعد‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس عہد کو مؤکد اور پکا کرنے کے بعد انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا اور اطاعت و تسلیم سے اس عہد کو پورا نہ کیا بلکہ اس سے روگردانی کرتے ہوئے اس کو توڑ دیا۔ ﴿ وَيَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ پس انھوں نے ایمان و عمل کے ذریعے سے اپنے اور اپنے رب کے مابین تعلق کو قائم کیا، نہ انھوں نے صلہ رحمی کی اور نہ انھوں نے حقوق ادا کیے بلکہ اس کے برعکس انھوں نے کفرومعاصی کا ارتکاب کرکے، لوگوں کو اللہ کے راستے سے روک کر اور اس کے راستے کو ٹیڑھا کرنے کی کوششوں کے ذریعے سے، زمین میں فساد پھیلایا۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ اللَّعۡنَةُ ﴾ ’’ایسوں پر لعنت ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور اس کے فرشتوں اور اس کے مومن بندوں کی طرف سے مذمت ہے ﴿ وَلَهُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴾ ’’اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے۔‘‘ اس سے مراد جہنم ہے کیونکہ اس میں ان کے لیے المناک عذاب ہو گا۔

26

ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ وَفَرِحُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا فِى ٱلْءَاخِرَةِ إِلَّا مَتَٰعٌۭ

خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اور کافر لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے

اللہ کشادہ کرتا ہے رزق واسطے جس کے چاہے اور تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہے) اور وہ کافر اتراتے ہیں ساتھ زندگانی دنیا کے اور نہیں ہے زندگانی دنیا آخرت (کے مقابلے) میں مگر متاع (حقیر)(26)

[26] یعنی وہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہے۔ رزق وسیع کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے اسے کشادہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے نپاتلا رزق عطا کر کے اس پر رزق کو تنگ کردیتا ہے ﴿ وَفَرِحُوۡا ﴾ ’’اور وہ خوش ہورہے ہیں ۔‘‘ یعنی کفار خوش ہیں ﴿ بِالۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کی زندگی پر‘‘ انھیں ایسی خوشی ہے جو ان کے لیے دنیا پر اطمینان اور آخرت سے غفلت کی موجب ہے اور یہ ان کی کم عقلی ہے۔ ﴿ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور نہیں ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں مگر حقیر سامان‘‘ یعنی دنیا کی زندگی ایک حقیر سی چیز ہے جس سے بہت کم فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور جو فائدہ اٹھانے والے دنیا داروں سے جدا ہو جائے گی اور اپنے پیچھے ایک طویل ہلاکت چھوڑ جائے گی۔

27

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ

اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو (اس کی طرف) رجوع ہوتا ہے اس کو اپنی طرف کا رستہ دکھاتا ہے

اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں نازل کی گئی آپ پر کوئی (بڑی) نشانی آپ کے رب کی طرف سے؟ کہہ دیجیے، بے شک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس شخص کو جو (اس کی طرف) رجوع کرے (27) وہ لوگ جو ایمان لائے اور مطمئن ہوتے ہیں دل ان کے ساتھ اللہ کے ذکر کے، آگاہ رہو! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی مطمئن ہوتے ہیں دل (28)وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، راحت و فرحت ہے ان کے لیے اور اچھا ٹھکانا ہے (29)

[27] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ، اللہ کے رسول سے بطریق تلبیس بے سوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی ان کے زعم کے مطابق، اگر ان کے پاس معجزہ آ گیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ اَنَابَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ اسے آیات و معجزات پر موقوف قرار دیں ۔ بایں ہمہ وہ سخت جھوٹے ہیں ۔ اگر ہم ان پر فرشتے نازل کر دیں ، ان کے ساتھ مردے ہم کلام ہوں اور ان کے سامنے ہر چیز اکٹھی کر دیں تب بھی یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔یہ لازم نہیں کہ رسول ان کے پاس وہی متعین معجزہ لے کر آئے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں بلکہ وہ جو نشانی لے کر آئے جس سے حق واضح ہو جائے تو کافی ہے اور اس سے مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور ان کے لیے ان کے متعین معجزات کے طلب کرنے سے زیادہ نفع مند ہے۔ کیونکہ اگر ان کے مطالبے کے مطابق نشانی آ جائے اور وہ اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیں تو بہت جلد ان کو اللہ تعالیٰ کا عذاب آ لے گا۔

[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کی علامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَىِٕنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کا قلق اور اضطراب دور ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ فرحت اور لذت آ جاتی ہے۔ فرمایا ﴿اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَىِٕنُّ الۡقُلُوۡبُ﴾ ’’سنو! اللہ کے ذکر سے ہی دل چین پاتے ہیں ‘‘ دلوں کے لائق اور سزا وار بھی یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی چیز سے مطمئن نہ ہوں کیونکہ دلوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے انس اور اس کی معرفت سے بڑھ کر کوئی چیز لذیذ اور شیریں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی مقدار کے مطابق دل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ اس قول کے مطابق یہاں ذکر سے مراد بندے کا اپنے رب کا ذکر کرنا ہے ، مثلاً: تسبیح اور تکبیر و تہلیل وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یاد دہانی کے لیے نازل فرمائی ہے۔ تب ذکر الٰہی کے ذریعے سے اطمینان قلب کے معنی یہ ہوں گے کہ دل جب قرآن کے معانی اور اس کے احکام کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں تو اس پرمطمئن ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن کے معانی حق مبین پر دلالت کرتے ہیں اور دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس پر دل مطمئن ہوتے ہیں کیونکہ علم اور یقین کے بغیر دلوں کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور کتاب اللہ کامل ترین وجوہ کے ساتھ علم اور یقین کو متضمن ہے۔ کتاب اللہ کے سوا دیگر کتب علم و یقین کی طرف راجع نہیں ہوتیں اس لیے دل ان پر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس وہ، دلائل کے تعارض اور احکام کے تضاد کی بنا پر ہمیشہ قلق …

28

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ ٱللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ ٱللَّهِ تَطْمَئِنُّ ٱلْقُلُوبُ

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (ان کو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں نازل کی گئی آپ پر کوئی (بڑی) نشانی آپ کے رب کی طرف سے؟ کہہ دیجیے، بے شک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس شخص کو جو (اس کی طرف) رجوع کرے (27) وہ لوگ جو ایمان لائے اور مطمئن ہوتے ہیں دل ان کے ساتھ اللہ کے ذکر کے، آگاہ رہو! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی مطمئن ہوتے ہیں دل (28)وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، راحت و فرحت ہے ان کے لیے اور اچھا ٹھکانا ہے (29)

[27] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ، اللہ کے رسول سے بطریق تلبیس بے سوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی ان کے زعم کے مطابق، اگر ان کے پاس معجزہ آ گیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ اَنَابَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ اسے آیات و معجزات پر موقوف قرار دیں ۔ بایں ہمہ وہ سخت جھوٹے ہیں ۔ اگر ہم ان پر فرشتے نازل کر دیں ، ان کے ساتھ مردے ہم کلام ہوں اور ان کے سامنے ہر چیز اکٹھی کر دیں تب بھی یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔یہ لازم نہیں کہ رسول ان کے پاس وہی متعین معجزہ لے کر آئے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں بلکہ وہ جو نشانی لے کر آئے جس سے حق واضح ہو جائے تو کافی ہے اور اس سے مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور ان کے لیے ان کے متعین معجزات کے طلب کرنے سے زیادہ نفع مند ہے۔ کیونکہ اگر ان کے مطالبے کے مطابق نشانی آ جائے اور وہ اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیں تو بہت جلد ان کو اللہ تعالیٰ کا عذاب آ لے گا۔

[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کی علامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَىِٕنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کا قلق اور اضطراب دور ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ فرحت اور لذت آ جاتی ہے۔ فرمایا ﴿اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَىِٕنُّ الۡقُلُوۡبُ﴾ ’’سنو! اللہ کے ذکر سے ہی دل چین پاتے ہیں ‘‘ دلوں کے لائق اور سزا وار بھی یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی چیز سے مطمئن نہ ہوں کیونکہ دلوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے انس اور اس کی معرفت سے بڑھ کر کوئی چیز لذیذ اور شیریں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی مقدار کے مطابق دل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ اس قول کے مطابق یہاں ذکر سے مراد بندے کا اپنے رب کا ذکر کرنا ہے ، مثلاً: تسبیح اور تکبیر و تہلیل وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یاد دہانی کے لیے نازل فرمائی ہے۔ تب ذکر الٰہی کے ذریعے سے اطمینان قلب کے معنی یہ ہوں گے کہ دل جب قرآن کے معانی اور اس کے احکام کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں تو اس پرمطمئن ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن کے معانی حق مبین پر دلالت کرتے ہیں اور دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس پر دل مطمئن ہوتے ہیں کیونکہ علم اور یقین کے بغیر دلوں کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور کتاب اللہ کامل ترین وجوہ کے ساتھ علم اور یقین کو متضمن ہے۔ کتاب اللہ کے سوا دیگر کتب علم و یقین کی طرف راجع نہیں ہوتیں اس لیے دل ان پر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس وہ، دلائل کے تعارض اور احکام کے تضاد کی بنا پر ہمیشہ قلق …

29

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَـَٔابٍۢ

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لیے خوشحالی اور عمدہ ٹھکانہ ہے

اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں نازل کی گئی آپ پر کوئی (بڑی) نشانی آپ کے رب کی طرف سے؟ کہہ دیجیے، بے شک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس شخص کو جو (اس کی طرف) رجوع کرے (27) وہ لوگ جو ایمان لائے اور مطمئن ہوتے ہیں دل ان کے ساتھ اللہ کے ذکر کے، آگاہ رہو! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی مطمئن ہوتے ہیں دل (28)وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، راحت و فرحت ہے ان کے لیے اور اچھا ٹھکانا ہے (29)

[27] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ، اللہ کے رسول سے بطریق تلبیس بے سوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی ان کے زعم کے مطابق، اگر ان کے پاس معجزہ آ گیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ اَنَابَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ اسے آیات و معجزات پر موقوف قرار دیں ۔ بایں ہمہ وہ سخت جھوٹے ہیں ۔ اگر ہم ان پر فرشتے نازل کر دیں ، ان کے ساتھ مردے ہم کلام ہوں اور ان کے سامنے ہر چیز اکٹھی کر دیں تب بھی یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔یہ لازم نہیں کہ رسول ان کے پاس وہی متعین معجزہ لے کر آئے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں بلکہ وہ جو نشانی لے کر آئے جس سے حق واضح ہو جائے تو کافی ہے اور اس سے مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور ان کے لیے ان کے متعین معجزات کے طلب کرنے سے زیادہ نفع مند ہے۔ کیونکہ اگر ان کے مطالبے کے مطابق نشانی آ جائے اور وہ اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیں تو بہت جلد ان کو اللہ تعالیٰ کا عذاب آ لے گا۔

[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کی علامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَىِٕنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کا قلق اور اضطراب دور ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ فرحت اور لذت آ جاتی ہے۔ فرمایا ﴿اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَىِٕنُّ الۡقُلُوۡبُ﴾ ’’سنو! اللہ کے ذکر سے ہی دل چین پاتے ہیں ‘‘ دلوں کے لائق اور سزا وار بھی یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی چیز سے مطمئن نہ ہوں کیونکہ دلوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے انس اور اس کی معرفت سے بڑھ کر کوئی چیز لذیذ اور شیریں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی مقدار کے مطابق دل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ اس قول کے مطابق یہاں ذکر سے مراد بندے کا اپنے رب کا ذکر کرنا ہے ، مثلاً: تسبیح اور تکبیر و تہلیل وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یاد دہانی کے لیے نازل فرمائی ہے۔ تب ذکر الٰہی کے ذریعے سے اطمینان قلب کے معنی یہ ہوں گے کہ دل جب قرآن کے معانی اور اس کے احکام کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں تو اس پرمطمئن ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن کے معانی حق مبین پر دلالت کرتے ہیں اور دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس پر دل مطمئن ہوتے ہیں کیونکہ علم اور یقین کے بغیر دلوں کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور کتاب اللہ کامل ترین وجوہ کے ساتھ علم اور یقین کو متضمن ہے۔ کتاب اللہ کے سوا دیگر کتب علم و یقین کی طرف راجع نہیں ہوتیں اس لیے دل ان پر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس وہ، دلائل کے تعارض اور احکام کے تضاد کی بنا پر ہمیشہ قلق …

30

كَذَٰلِكَ أَرْسَلْنَٰكَ فِىٓ أُمَّةٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَآ أُمَمٌۭ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ ٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِٱلرَّحْمَٰنِ ۚ قُلْ هُوَ رَبِّى لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ

(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ تم ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو اور یہ لوگ رحمٰن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

(جیسے پہلے رسول بھیجے تھے) اسی طرح بھیجا ہم نے آپ کو ایسی امت میں کہ گزر چکی ہیں پہلے اس سے کئی امتیں تاکہ آپ پڑھیں اوپر ان کے وہ (قرآن) جو وحی کیا ہم نے آپ کی طرف اور وہ کفر کرتے ہیں ساتھ رحمن کے، کہہ دیجیے وہ میرا رب ہے، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر وہی، اسی پر بھروسہ کیا میں نے اور اسی کی طرف ہے لوٹنا میرا (30)

[30] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمدﷺ سے فرماتا ہے ﴿كَذٰلِكَ اَرۡسَلۡنٰكَ﴾ ’’اسی طرح ہم نے آپ کوبھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے آپﷺ کو آپ کی قوم کی طرف مبعوث کیا تاکہ آپ ان کو ہدایت کی طرف دعوت دیں ﴿فِيۡۤ اُمَّةٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهَاۤ اُمَمٌ ﴾ ’’ایک امت میں کہ اس سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں ‘‘ جن کے اندر ہم نے اپنے رسول بھیجے، لہٰذا آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں کہ وہ آپ کی رسالت کو اوپرا سمجھیں اور نہ آپ اپنی طرف سے کوئی بات کرتے ہیں ۔ بلکہ آپ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی ہیں جو دلوں کی تطہیر اور نفوس کا تزکیہ کرتی ہیں اور آپ کی قوم کا حال یہ ہے کہ وہ رحمان کا انکار کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت اور احسان سے نوازا اور سب سے بڑی رحمت یہ ہے کہ ہم نے آپ کو ان کی طرف مبعوث فرمایا اور ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی مگر انھوں نے شکر گزاری کے ساتھ اس کو قبول کرنے کی بجائے اس کا انکار کر کے اسے ٹھکرا دیا۔ پس انھوں نے تکذیب کرنے والی ان قوموں سے عبرت حاصل نہ کی جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں ، کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔ ﴿ قُلۡ هُوَ رَبِّيۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’کہہ دیجیے! وہ میرا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘ یہ آیت کریمہ دو قسم کی توحید کو متضمن ہے توحید الوہیت اور توحید ربوبیت۔ پس وہ میرا رب ہے اور جب سے وہ مجھے وجود میں لایا ہے اس وقت سے میری پرورش کر رہا ہے اور وہی میرا معبود ہے ﴿ عَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام امور میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں ﴿ وَاِلَيۡهِ مَتَابِ ﴾ ’’اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنی تمام عبادات اور حاجات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.