Muslim99Muslim99
← Tafsir library

13. Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

سُورَةُ الرَّعۡدِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 1–10 of 43

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓمٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ۗ وَٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ

الٓمرا۔ (اے محمد) یہ کتاب (الہیٰ) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

قرآن ایک خداکو ماننے کی دعوت دیتاہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ خدا اگر ہے تو ہم کو دکھائی کیوں نہیں دیتا۔ مگر ہماری معلوم کائنات بتاتی ہے کہ کسی چیز کا دکھائی نہ دینا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اس کا کوئی وجود بھی نہیں۔ اس کی ایک مثال قوتِ کشش ہے۔ خلا میں بے شمار الگ الگ ستارے اور سیارے ہیں۔ انسانی علم کہتاہے کہ ان اجرام سماوی کے درمیان ایک غیر مرئی قوت کشش ہے جو وسیع خلا میں ان کو سنبھالے ہوئے ہے۔ پھر انسان جب غیر مرئی ہونے کے باوجود قوت کشش کی موجودگی کا اقرار کررہا ہے تو غیر مرئی ہونے کی وجہ سے خدا کے وجود کا انکار کرنے میں وہ کیوں کر حق بجانب ہوگا۔

یہی معاملہ وحی ورسالت کا ہے۔ کائنات کا طالب علم جب کائنات کا مطالعہ کرتاہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں ہر چیز ایک نظام کی پابند ہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ تمام چیزیں کسی خاص حکم میں جکڑی ہوئی ہیں۔ یہ ’’حکم‘‘ خود ان چیزوں کے اندر موجود نہیں ہے۔ یقیناً وہ خارج سے آتاہے۔ گویا تمام دنیا اپنے عمل کے لیے ’’خارج‘‘ سے ہدایات لے رہی ہے۔ انسان کے علاوہ بقیہ دنیا میں اس خارجی ہدایت کا نام قانون فطرت ہے، اور انسان کی دنیا میں اس کا نام وحی والہام ۔ وحی دراصل اسی خارجی رہنمائی کی انسانی دنیا تک توسیع ہے جس کو بقیہ دنیا میں قانونِ فطرت کہاجاتا ہے۔

کائنات گویا ایک مشین ہے اور قرآن اس کی گائڈ بک۔ اوّل الذکر خدا کی تدبیر امر کی مثال ہے۔ اور ثانی الذکر خدا کی تفصیل آیات کی مثال۔ ان دونوں کے درمیان کامل مطابقت ہے۔ جو کچھ کائنات میں عملاً نظر آتاہے وہ قرآن میں لفظی طورپر موجود ہے۔ یہ مطابقت بیک وقت دو باتیں ثابت کرتی ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور دوسرے یہ کہ قرآن اسی خالق کی کتاب ہے، نہ کہ محدود انسانی دماغ کی تخلیق۔

2

ٱللَّهُ ٱلَّذِى رَفَعَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍۢ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ ۖ كُلٌّۭ يَجْرِى لِأَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ يُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُم بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے (اس طرح) وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو

قرآن ایک خداکو ماننے کی دعوت دیتاہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ خدا اگر ہے تو ہم کو دکھائی کیوں نہیں دیتا۔ مگر ہماری معلوم کائنات بتاتی ہے کہ کسی چیز کا دکھائی نہ دینا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اس کا کوئی وجود بھی نہیں۔ اس کی ایک مثال قوتِ کشش ہے۔ خلا میں بے شمار الگ الگ ستارے اور سیارے ہیں۔ انسانی علم کہتاہے کہ ان اجرام سماوی کے درمیان ایک غیر مرئی قوت کشش ہے جو وسیع خلا میں ان کو سنبھالے ہوئے ہے۔ پھر انسان جب غیر مرئی ہونے کے باوجود قوت کشش کی موجودگی کا اقرار کررہا ہے تو غیر مرئی ہونے کی وجہ سے خدا کے وجود کا انکار کرنے میں وہ کیوں کر حق بجانب ہوگا۔

یہی معاملہ وحی ورسالت کا ہے۔ کائنات کا طالب علم جب کائنات کا مطالعہ کرتاہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں ہر چیز ایک نظام کی پابند ہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ تمام چیزیں کسی خاص حکم میں جکڑی ہوئی ہیں۔ یہ ’’حکم‘‘ خود ان چیزوں کے اندر موجود نہیں ہے۔ یقیناً وہ خارج سے آتاہے۔ گویا تمام دنیا اپنے عمل کے لیے ’’خارج‘‘ سے ہدایات لے رہی ہے۔ انسان کے علاوہ بقیہ دنیا میں اس خارجی ہدایت کا نام قانون فطرت ہے، اور انسان کی دنیا میں اس کا نام وحی والہام ۔ وحی دراصل اسی خارجی رہنمائی کی انسانی دنیا تک توسیع ہے جس کو بقیہ دنیا میں قانونِ فطرت کہاجاتا ہے۔

کائنات گویا ایک مشین ہے اور قرآن اس کی گائڈ بک۔ اوّل الذکر خدا کی تدبیر امر کی مثال ہے۔ اور ثانی الذکر خدا کی تفصیل آیات کی مثال۔ ان دونوں کے درمیان کامل مطابقت ہے۔ جو کچھ کائنات میں عملاً نظر آتاہے وہ قرآن میں لفظی طورپر موجود ہے۔ یہ مطابقت بیک وقت دو باتیں ثابت کرتی ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور دوسرے یہ کہ قرآن اسی خالق کی کتاب ہے، نہ کہ محدود انسانی دماغ کی تخلیق۔

3

وَهُوَ ٱلَّذِى مَدَّ ٱلْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِىَ وَأَنْهَٰرًۭا ۖ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ ۖ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

اور وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے اور ہر طرح کے میوؤں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

آسمان کی نشانیوں کے بعد جب زمین کے حالات پر غور کیا جائے تو وہ انسان کی رہائش کے لیے انتہائی بامعنی طورپر موزوں نظر آتی ہے۔

زمین ایک قدرتی فرش کی مانند آدمی کے قدموں کے نیچے پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں ایک طرف انسان کی ضرورت کے لیے سمندر کی گہرائیاں ہیں تو دوسری طرف پہاڑوں کی بلندیاں بھی ہیں تاکہ دونوں مل کر زمین کا توازن برقرار رکھیں۔ درخت ایک دوسرے سے الگ الگ بھی ہوسکتے تھے مگران میں جوڑے ہیں جن کے درمیان تزویج کے عمل سے دانے اور پھل پیداہوتے ہیں۔ زمین کا یہ حال ہے کہ سورج کے چاروں طرف اپنی سالانہ دوری گردش کے ساتھ اپنے محور پر بھی مسلسل گردش کرتی ہے جس کا دور 24 گھنٹہ میں پورا ہوتا ہے اور جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔

اس قسم کی نشانیوں پر جو شخص بھی سنجیدگی سے غور کرے گا وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ یہ دنیا ایک بااختیار مالک کے تحت ہے اور اس نے اپنے ارادہ کے تحت اس کی ایک با مقصد منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ با شعور منصوبہ بندی کے بغیر زمین پر یہ معنویت ہر گز ممکن نہ تھی۔

4

وَفِى ٱلْأَرْضِ قِطَعٌۭ مُّتَجَٰوِرَٰتٌۭ وَجَنَّٰتٌۭ مِّنْ أَعْنَٰبٍۢ وَزَرْعٌۭ وَنَخِيلٌۭ صِنْوَانٌۭ وَغَيْرُ صِنْوَانٍۢ يُسْقَىٰ بِمَآءٍۢ وَٰحِدٍۢ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍۢ فِى ٱلْأُكُلِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ

اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں۔ ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجود یہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے۔ اور ہم بعض میوؤں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓنے فرمایا کہ کوئی اچھی زمین ہے اور کوئی بنجر زمین۔ ایک اگتی ہے اور اسی کے پاس دوسری نہیں اگتی (أَرْضٌ طَيِّبَةٌ وَأَرْضٌ سَبِخَةٌ، نَبَتَتْ هَذِهِ، وَهَذِهِ إِلَى جَنْبِهَا لَا تَنْبُتُ) البحر المحيط لأبی حيان الأندلسی، جلد6، صفحہ 348 ۔مجاہد نے کہا کہ یہی معاملہ بنی آدم کا ہے۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی، حالانکہ سب کی اصل ایک ہے (كَمَثَلِ بَنِيَ آدَمَ صَالِحِهِمْ وَخَبِيثِهِمْ وَأَبُوهُمْ وَاحِدٌ) حسن بصری نے کہاکہ یہ ایک مثال ہے جو اللہ نے بنی آدم کے دلوں کے لیے دی ہے (هَذَا مَثَلٌ ضَرَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِقُلُوبِ بَنِي آدَم) تفسیر البغوی، جلد3، صفحہ7۔

زمین میں ایک عجیب نشانی یہ ہے کہ ایک ہی مٹی ہے۔ ایک ہی پانی سے اس کو سیراب کیا جاتا ہے مگر ایک جگہ سے ایک درخت نکلتا ہے اور اسی کے پاس دوسری جگہ سے دوسرا درخت۔ ایک میں میٹھا پھل ہے اور دوسرے میں کھٹا پھل۔ کوئی زیادہ پیداوار دیتاہے اور کوئی کم پیدوار۔

یہ انسانی واقعہ کی زمینی تمثیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اگر چہ تمام انسان بظاہر یکساں ہیں اور ان سب کے پاس ایک ہی ہدایت آتی ہے۔ مگر ہدایت سے استفادہ کے معاملہ میں ایک انسان اور دوسرے انسان میں بہت زیادہ فرق ہوجاتا ہے۔ کوئی اس سے رہنمائی حاصل کرتاہے اور کوئی اس کا منکر بن جاتاہے۔ کوئی تھوڑی ہدایت لیتاہے اورکسی کی زندگی ہدایت سے مالا مال ہوجاتی ہے۔ گویا جیسی زمین ویسی پیداوار کااصول یہاں بھی ہے اور وہاں بھی۔

5

۞ وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌۭ قَوْلُهُمْ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍۢ جَدِيدٍ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ ٱلْأَغْلَٰلُ فِىٓ أَعْنَاقِهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہوں گے؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

دوسری زندگی کے منکرین کا کیس نہایت عجیب ہے۔ وہ جس واقعہ کے ظہور کو ایک بار مان رہے ہیں اسی واقعہ کے دوبارہ ظہور کا انکار کردیتے ہیں۔

جو لوگ دوسری زندگی کے وقوع کو نہیں مانتے وہ دوسری زندگی کا عقیدہ رکھنے والوں پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہوتاہے کہ دوسری زندگی کو ماننا ایک غیر علمی بات کو ماننا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کیوںکہ کوئی منکر جس چیز کا انکار کرسکتاہے، وہ صرف دوسری زندگی ہے۔ جہاں تک پہلی زندگی کا تعلق ہے اس کاانکار کرنا کسی شخص کے لیے ممکن نہیں۔ کیونکہ وہ تو ایک زندہ واقعہ کے طورپر ہر آدمی کے سامنے موجود ہے۔ پھر جب پہلی زندگی کا وجود میں آنا ممکن ہے تو دوسری زندگی کا وجود میںآنا ناممکن کیوں ہو۔

ایسے لوگ ہمیشہ بہت کم پائے گئے ہیں جو خدا کے منکرہوں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک خالق کو مانتے ہیں مگر وہ آخرت کو نہیں مانتے۔ مگر آخرت کے انکار کے بعد خالق کے اقرار کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔ خدا اس کائنات کا خالق ہی نہیں وہ بذاتِ خود حق بھی ہے۔ خدا کا سراپا حق اور عدل ہونا لازمی طور پر تقاضا کرتاہے کہ وہ جو کچھ کرے حق اور عدل کے مطابق کرے۔ آخرت دراصل خدا کی صفت عدل کا ظہور ہے۔ خداکا ماننا وہی ماننا ہے جب کہ اس کے ساتھ آخرت کو بھی مانا جائے۔ آخرت کو مانے بغیر خدا کا عقیدہ مکمل نہیںہوتا۔

جو لوگ حق کے سیدھے اور سچے پیغام کو نہیں مانتے اس کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ جمود اور تعصب اور اَنانیت کے شکار ہوتے ہیں۔ان سے بات کیجيے تو ایسا معلوم ہوگا کہ وہ خود اپنے خیالات کے قیدی بنے ہوئے ہیں۔ اس سے نکل کر وہ آزادانہ طورپر کسی خارجی حقیقت پر غور نہیں کرسکتے۔ اسی حالت کو ’’گردن میں طوق پڑنا‘‘ فرمایا۔ کیوں کہ گردن میں طوق ہونا غلامی کی علامت ہے۔ گویا کہ یہ لوگ خود اپنے خیالات کے غلام ہیں۔ جو لوگ اس طرح اپنے آپ کو دنیا میں قیدی بنالیں، آخرت میں بھی ان کے حصے میں قید ہی آئے گی۔

6

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِمُ ٱلْمَثُلَٰتُ ۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍۢ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ ۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار یعنی (طالب عذاب) ہیں حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود ان کی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے۔ اور بےشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لوگوں سے کہتے تھے کہ خدا کی ہدایت کو مانو ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔ اس کے جواب میں انھوںنے کہا ’’خدایا، محمدجو کچھ پیش کررہے ہیں اگر وہ حق ہے تو تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا‘‘۔ یہ دعا بظاہر خدا سے تھی مگر حقیقۃً اس کا رخ رسول کی طرف تھا۔ آپ اس وقت مکہ کے لوگوں کو بالکل بے وزن معلوم ہوتے تھے۔ ان کو یقین نہیںآتا تھا کہ ایسے معمولی آدمی کے انکار پر خدا ہمیں سزا دے گا۔ ’’محمد‘‘ کے انکار پر عذاب آنا ان کو اتنا بعید از وقوع نظر آتا تھاکہ وہ بطور استہزا کہتے تھے کہ تم جس خدائی عذاب کی دھمکی دے رہے ہو، ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے اوپر آجائے۔

فرمایا کہ تمھارے انکارِ حق کے سبب سے تمھارے اوپر خدا کا عذاب تو آنے ہی والا ہے۔ یہ صرف تمھاری بدبختی ہے کہ تم اس کو جلد بلانا چاہتے ہو۔ حالاں کہ تم کو چاہیے تھا کہ اس وقفہ کو دعوتِ قرآن پر غور وفکر اوراس کی قبولیت میںاستعمال کرو نہ کہ عذاب کو قبل از وقت بلانے میں۔

لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں پھر اس کو مانیں۔ مگر یہ صرف اندھے پن کا مطالبہ ہے۔ اگر ان کے پاس آنکھیں ہوں تو جو کچھ دوسروں کے ساتھ پیش آیا وہی ان کے سبق کے لیے کافی ہے۔ ان سے پہلے کتنی قومیں گذر چکی ہیں جنھوںنے انھیں کی طرح اپنے زمانے کے پیغمبروں کو جھٹلایا اور بالآخر انھیں اس کی سزا بھگتنی پڑی۔

خداکا قانون یہ ہے کہ وہ انسان کو عمل کی مہلت دیتاہے۔ یہی قانون مہلت ہے جس نے لوگوں کو سرکش بنا رکھا ہے۔ مگر مہلت کی ایک حد ہے۔ اس حد کے بعد جو چیز ان کا انتظار کررہی ہے وہ صرف دردناک عذاب ہے جس سے وہ اپنے آپ کو بچا نہ سکیں گے۔

7

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦٓ ۗ إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرٌۭ ۖ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نازل نہیں ہوئی۔ سو (اے محمدﷺ) تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کے لیے رہنما ہوا کرتا ہے

آج ساری دنیا میں ایک ارب سے بھی زیادہ انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول مانتے ہیں۔ مگر آپ کی زندگی میں مکہ والوں کی سمجھ میں نہ آسکا کہ آپ کو خدا نے اپنا رسول بنایاہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنی تاریخ کے ابتدائی دو رمیں آپ کی نبوت ایک نزاعي(controversial)نبوت تھي۔ مگر اب اپني تاريخ كے انتهائي دور ميں آپ كي نبوت ايك ثابت شدہ (established) نبوت بن چکی ہے۔ نزاعی دور میں پیغمبر کو پہچاننا جتنا مشکل ہے، اثباتی دور میں اس کو پہچاننا اتنا ہی آسان ہوجاتاہے۔

مکہ کے لوگوں کے پاس جو پیمانہ تھا وہ دولت، اقتدار، اور مقبولیتِ عوام کا پیمانہ تھا۔ اس اعتبار سے آپ ان کو غیر معمولی نظر نہ آتے تھے۔ اس لیے انھوںنے چاہا کہ آپ کے ساتھ کوئی غیر معمولی نشانی ہو جو ان کے لیے آپ کے پیغمبر ہونے کا قطعی ثبوت بن جائے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایسی چیز مانگ رہے ہیں جو خدائی منصوبہ کے مطابق نہیں، اس لیے وہ کسی کو ملنے والی بھی نہیں۔

موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں ہدایت ایسی صریح نشانیوں کے ساتھ نہیں آسکتی کہ اس کے بعد آدمی کے لیے شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ کیوں کہ ایسی حالت میں امتحان کی مصلحت فوت ہوجاتی ہے۔ یہاں بہر حال یہی ہوگا کہ آدمی کو ’’خبر‘‘ کی سطح پر جانچ کر اس کا یقین کرنا پڑے گا۔ جو شخص اس امتحان میں پورا نہ اترے، اس کے حصہ میں ہدایت بھی کبھی نہیں آسکتی۔

خدا ہر قوم میں اس کے اپنے اندر کے ایک آدمی کو کھڑا کرتاہے تاکہ وہ اس کی مانوس زبان میں اس کو خدا کا پیغام دے۔ یہ انتظام قوموں کی آسانی کے لیے تھا۔ مگر اکثر ایسا ہوا کہ قوموں نے اس سے الٹا اثر لے کر خداکے پیغمبروں کا انکار کردیا۔ ان کی نگاہیں پیغام رساں کے معمولی پن پر اٹک کر رہ گئیں، وہ پیغام کے غیر معمولی پن کو نہ دیکھ سکیں۔

8

ٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ ٱلْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۖ وَكُلُّ شَىْءٍ عِندَهُۥ بِمِقْدَارٍ

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) ۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے

ماں کا پیٹ ایک حیرت انگیز فیکٹری ہے۔ اس خدائی فیکٹری میں جو انسانی پیداوار تیار ہوتی ہے اس کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ ’’مقرر مقدار‘‘ کے مطابق عمل کرتی ہے۔ آج کل کی زبان میں گویا ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان مسلسل ایک توازن برقرار رہتا ہے۔

مثلاً یہ فیکٹری ہزاروں سال سے کام کررہی ہے۔ اس سے مرد بھی پیدا ہورہے ہیں اور عورتیں بھی۔ مگر دونوں جنسوں کی تعداد کے درمیان ہمیشہ ایک تناسب قائم رہتاہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس فیکٹری سے سب مرد ہی مرد پیدا ہوجائیں یا سب عورتیں ہی عورتیں پیدا ہونے لگیں۔ جنگ جیسا کوئی حادثہ مقامی طورپر کبھی اس تناسب کو برہم کردیتاہے۔ مگر حیرت انگیز طورپر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہی یہ قدرتی کارخانہ اس تناسب کو دوبارہ قائم کردیتاہے۔

یہی معاملہ اس فیکٹری سے نکلنے والے مردوعورت کے درمیان صلاحیتوں کے توازن کا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ پیدا ہونے والے مرد وعورت سب یکساں استعداد کے نہیں ہوتے۔ ان کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ تنوع (diversity)ہے۔ اس تنوع کی غیر معمولی تمدنی اہمیت ہے۔ کیوں کہ تمدن کے کاروبار کو چلانے کے لیے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے انسان درکار ہیں۔ ماں کی فیکٹری نہایت خاموشی سے ہر قسم کی استعداد والے انسان اس طرح کامیابی کے ساتھ تیار کررہی ہے جیسے اس کو باہر سے ’’آرڈر‘‘ موصول ہوتے ہوں۔ اور وہ پیٹ کے اندر اس کے مطابق انسانوں کی تشکیل کررہی ہو۔ اگر انسانی پیداوار میں یہ تنوع نہ ہو تو تمدن کا سارا نظام سرد پڑ جائے اور تمام ترقیاں ماند ہو کر رہ جائیں۔

ماں کے پیٹ کے عمل میں اس منصوبہ بندی کا ہونا صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز ہے۔ بالارادہ منصوبہ بندی کے بغیر اس قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ایسی ہستی ہے جس کو نہ صرف کھلے کی خبر ہے بلکہ وہ چھپے کو بھی جانتا ہے۔ رحم کے اندر اور ماں کے پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بظاہر ایک مخفی چیز ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتاہے کہ خدا کو اس کی مکمل خبر ہے۔ پھر جو ہستی ایک کے چھپے اور کھلے کو جانتی ہے وہ دوسرے کے چھپے اور کھلے کو کیوں نہیں جانے گی۔ فرشتوں کا عقیدہ بھی اسی سے ثابت ہوتاہے۔ کیوںکہ وہ ’’نگرانی‘‘ کے موجودہ نظام کی گویا توسیع ہے۔

9

عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلْكَبِيرُ ٱلْمُتَعَالِ

وہ دانائے نہاں وآشکار ہے سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے

ماں کا پیٹ ایک حیرت انگیز فیکٹری ہے۔ اس خدائی فیکٹری میں جو انسانی پیداوار تیار ہوتی ہے اس کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ ’’مقرر مقدار‘‘ کے مطابق عمل کرتی ہے۔ آج کل کی زبان میں گویا ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان مسلسل ایک توازن برقرار رہتا ہے۔

مثلاً یہ فیکٹری ہزاروں سال سے کام کررہی ہے۔ اس سے مرد بھی پیدا ہورہے ہیں اور عورتیں بھی۔ مگر دونوں جنسوں کی تعداد کے درمیان ہمیشہ ایک تناسب قائم رہتاہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس فیکٹری سے سب مرد ہی مرد پیدا ہوجائیں یا سب عورتیں ہی عورتیں پیدا ہونے لگیں۔ جنگ جیسا کوئی حادثہ مقامی طورپر کبھی اس تناسب کو برہم کردیتاہے۔ مگر حیرت انگیز طورپر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہی یہ قدرتی کارخانہ اس تناسب کو دوبارہ قائم کردیتاہے۔

یہی معاملہ اس فیکٹری سے نکلنے والے مردوعورت کے درمیان صلاحیتوں کے توازن کا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ پیدا ہونے والے مرد وعورت سب یکساں استعداد کے نہیں ہوتے۔ ان کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ تنوع (diversity)ہے۔ اس تنوع کی غیر معمولی تمدنی اہمیت ہے۔ کیوں کہ تمدن کے کاروبار کو چلانے کے لیے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے انسان درکار ہیں۔ ماں کی فیکٹری نہایت خاموشی سے ہر قسم کی استعداد والے انسان اس طرح کامیابی کے ساتھ تیار کررہی ہے جیسے اس کو باہر سے ’’آرڈر‘‘ موصول ہوتے ہوں۔ اور وہ پیٹ کے اندر اس کے مطابق انسانوں کی تشکیل کررہی ہو۔ اگر انسانی پیداوار میں یہ تنوع نہ ہو تو تمدن کا سارا نظام سرد پڑ جائے اور تمام ترقیاں ماند ہو کر رہ جائیں۔

ماں کے پیٹ کے عمل میں اس منصوبہ بندی کا ہونا صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز ہے۔ بالارادہ منصوبہ بندی کے بغیر اس قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ایسی ہستی ہے جس کو نہ صرف کھلے کی خبر ہے بلکہ وہ چھپے کو بھی جانتا ہے۔ رحم کے اندر اور ماں کے پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بظاہر ایک مخفی چیز ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتاہے کہ خدا کو اس کی مکمل خبر ہے۔ پھر جو ہستی ایک کے چھپے اور کھلے کو جانتی ہے وہ دوسرے کے چھپے اور کھلے کو کیوں نہیں جانے گی۔ فرشتوں کا عقیدہ بھی اسی سے ثابت ہوتاہے۔ کیوںکہ وہ ’’نگرانی‘‘ کے موجودہ نظام کی گویا توسیع ہے۔

10

سَوَآءٌۭ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ ٱلْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِۦ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِٱلَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِٱلنَّهَارِ

کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں چھپ جائے یا دن کی روشنی میں کھلم کھلا چلے پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے

ماں کا پیٹ ایک حیرت انگیز فیکٹری ہے۔ اس خدائی فیکٹری میں جو انسانی پیداوار تیار ہوتی ہے اس کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ ’’مقرر مقدار‘‘ کے مطابق عمل کرتی ہے۔ آج کل کی زبان میں گویا ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان مسلسل ایک توازن برقرار رہتا ہے۔

مثلاً یہ فیکٹری ہزاروں سال سے کام کررہی ہے۔ اس سے مرد بھی پیدا ہورہے ہیں اور عورتیں بھی۔ مگر دونوں جنسوں کی تعداد کے درمیان ہمیشہ ایک تناسب قائم رہتاہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس فیکٹری سے سب مرد ہی مرد پیدا ہوجائیں یا سب عورتیں ہی عورتیں پیدا ہونے لگیں۔ جنگ جیسا کوئی حادثہ مقامی طورپر کبھی اس تناسب کو برہم کردیتاہے۔ مگر حیرت انگیز طورپر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہی یہ قدرتی کارخانہ اس تناسب کو دوبارہ قائم کردیتاہے۔

یہی معاملہ اس فیکٹری سے نکلنے والے مردوعورت کے درمیان صلاحیتوں کے توازن کا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ پیدا ہونے والے مرد وعورت سب یکساں استعداد کے نہیں ہوتے۔ ان کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ تنوع (diversity)ہے۔ اس تنوع کی غیر معمولی تمدنی اہمیت ہے۔ کیوں کہ تمدن کے کاروبار کو چلانے کے لیے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے انسان درکار ہیں۔ ماں کی فیکٹری نہایت خاموشی سے ہر قسم کی استعداد والے انسان اس طرح کامیابی کے ساتھ تیار کررہی ہے جیسے اس کو باہر سے ’’آرڈر‘‘ موصول ہوتے ہوں۔ اور وہ پیٹ کے اندر اس کے مطابق انسانوں کی تشکیل کررہی ہو۔ اگر انسانی پیداوار میں یہ تنوع نہ ہو تو تمدن کا سارا نظام سرد پڑ جائے اور تمام ترقیاں ماند ہو کر رہ جائیں۔

ماں کے پیٹ کے عمل میں اس منصوبہ بندی کا ہونا صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز ہے۔ بالارادہ منصوبہ بندی کے بغیر اس قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ایسی ہستی ہے جس کو نہ صرف کھلے کی خبر ہے بلکہ وہ چھپے کو بھی جانتا ہے۔ رحم کے اندر اور ماں کے پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بظاہر ایک مخفی چیز ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتاہے کہ خدا کو اس کی مکمل خبر ہے۔ پھر جو ہستی ایک کے چھپے اور کھلے کو جانتی ہے وہ دوسرے کے چھپے اور کھلے کو کیوں نہیں جانے گی۔ فرشتوں کا عقیدہ بھی اسی سے ثابت ہوتاہے۔ کیوںکہ وہ ’’نگرانی‘‘ کے موجودہ نظام کی گویا توسیع ہے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.