Muslim99Muslim99
← Tafsir library

13. Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

سُورَةُ الرَّعۡدِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 11–20 of 43

11

لَهُۥ مُعَقِّبَٰتٌۭ مِّنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ يَحْفَظُونَهُۥ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوْمٍۢ سُوٓءًۭا فَلَا مَرَدَّ لَهُۥ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ

اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار ہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔ اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا

یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔

آیت نمبر 8 تا 11

جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ دھوپ ، چھپ کر لوگوں کی سرگرمیاں اور دن کے وقت برملا لوگوں کی جدو جہد ، ان تمام امور کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے ، اللہ کے گماشتے ان تمام سرگرمیوں کو ریکارڈ بھی کر رہے ہیں۔ انسان کی یہ حیرانی دراصل خوف الٰہی کی وجہ سے ہے جس کے نتیجے میں انسان اللہ کی پناہ لیتا ہے۔ وہ اللہ کی پناہ گاہ ہی میں پناہ لیتا ہے۔ ایک مومن اچھی طرح جانتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اللہ کا علم تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے ، لیکن اصولی طور پر اللہ کے علم کے شمول اور وسعت کا اقرار اور بات ہے اور یہاں قرآن مجید نے جس موثر انداز میں بعض جزئیات کا ذکر کیا ہے اس کی اثر انگیزی اور بات ہے۔

محض تجریدی کلیہ کا بیان کردینا اور بات ہے اور کلیہ کے تحت کسی مثالی جزئیہ کا مطالعہ اور بات ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ بعض جزئیات ، حساس جزئیات کا ذکر فرماتے ہیں۔

اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔

ہر حاملہ سے خیال کے پردے پر ہر حاملہ ، مطلق حاملہ آجاتی ہے ، اس پوری کائنات میں تمام زندہ حاملہ ، وسیع معنوں میں ہر حاملہ شہروں میں اور دیہاتوں میں۔ آبادیوں میں اور پہاڑوں میں ، جنگلوں میں دریاؤں میں ، گھروں میں اور غاروں میں ، ہر مادہ کے پیٹ میں جو کچھ پیدا ہو رہا ہے ، بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، ہر وہ قطرۂ خون جو بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

یہ تو ہے ایک مخصوص مثال اور یہ کوئی تجریدی کلیہ نہیں ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور بس ، بلکہ ایک مخصوص شعبہ علم کی بات ہے۔

سواء منکم ۔۔۔۔ امر اللہ۔ (13 : 10- 11) ” تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں۔ ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔

جب انسانی خیال پر سرگوشی کرنے والے ، ہر جہراً بات کرنے والے کے بارے میں سوچ ، اندھیروں میں چلنے والوں اور دن کی روشنی میں متحرک لوگوں کے بارے میں سوچ اور پھر اس پوری کائنات کے بارے میں سوچ اور پھر یہ سوچ کہ اللہ کا علم ان سب کا پیچھا کر رہا ہے اور اس کے گماشتے بھی لکھ رہے ہیں اور رات کے دونوں کناروں پر رپورٹ بھی بھیجتے ہیں۔ پھر ان جزئیات علم الٰہی کے انداز بیان پر بھی ذرا غور کیجئے :

اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ جب اللہ نے یہ فرمایا کہ رحم مادر میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اللہ اسے جانتا ہے تو اس کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے ہاں ہر چیز کی مقدار مقرر ہے۔ نقص و زیادتی کے ساتھ مقدار کا لفظ لانا ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ پھر اس کا تعلق اس سے قبل کی اس آیت سے بھی …

12

هُوَ ٱلَّذِى يُرِيكُمُ ٱلْبَرْقَ خَوْفًۭا وَطَمَعًۭا وَيُنشِئُ ٱلسَّحَابَ ٱلثِّقَالَ

اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے

اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔

آیت 12 تا 16

چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن مجید ان کو پیش کرتے ہوئے ، ان کے ساتھ ملائکہ ، تسبیح ، سجود ، خوف ، طمع اور ان مشاہد کے سائے کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس بات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ سچی پکار کیا ہے اور باطل اور ناحق پکار کیا ہے۔ ان مناظر میں ایک دوسرے شخص کی شکل یوں پیش کی جاتی ہے جو پانی پینا چاہتا ہے لیکن اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا ، بلکہ ہاتھ کھول کر اور منہ کھولے ہوئے یہ تمنا کرتا ہے کہ پانی خودبخود اس کے منہ میں پڑجائے ، جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ، ایک قطرہ بھی۔

یہ تمام مناظر ، مثالیں اور اشیاء اس آیت میں محض اتفاقاً اور بےمقصد جمع نہیں کردی گئی ، ان سب چیزوں کا دراصل مدعا سے تعلق ہے۔ بلکہ یہ مناظر انسان کو ڈرانے ، امید ،۔۔۔ پیہم اور طمع اور خوف اور نفع و نقصان کی امید دلانے اور اللہ کے ساتھ انسانوں نے جو دوسرے شریک ٹھہرا رکھے ان کی قوت کی نفی کے لئے لائے گئے ہیں۔

ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ وطمعا (13 : 12) ” وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں “۔ اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں یہ تکوینی مظاہر دکھاتا ہے۔ یہ اس کائنات کے طبیعی اور موسمی مظاہر ہیں جسے اس نے پیدا کیا ہے اور اس خاص انداز پر اس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور یہ خواص ان اشیاء کے اندر پیدا کئے ہیں۔ وہ بجلی جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے ، یہ اس کے قانون قدرت کے مطابق کام کرتی ہے۔ تم اس سے ڈر بھی جاتے ہو کیونکہ اس کی ماہیت ہی ایسی ہے جو اعصاب کو ہلا مارتے ہے۔ کبھی کبھی یہ بجلی برق بن کر بھی گرتی ہے اور خوفناک شکل میں تباہی بھی مچاتی ہے۔ جیسا کہ بارہا تم کو ۔۔۔ بھی ہوا ہوگا۔ تم اس چمک اور بجلی کے بعد باراں رحمت کے امیدوار بھی ہوتے ہو ، کیونکہ اس چمک اور گرج کے بعد بعض اوقات موسلا دھار بارش ہوتی اور مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔

وینشیء السحاب الثقال (13 : 12) ” وہی ہے جو بارش سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے “۔ بادلوں کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ سحاب۔۔۔۔ اس جنس کا واحد سحابہ ہے جو بادل کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ ثقال سے مراد وہ بادل ہیں جو بارش کی وجہ سے بوجھل ہیں۔ یہ بادل اللہ کے پیدا کردہ ناموس فطرت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں اور موسلا دھار بارشیں برساتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ قانون قدرت اس طرح نہ وضع کرتا تو نہ بادل ہوتے اور نہ یوں بارشیں ہوتیں۔ یہ کہہ کر کہ بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور بارشیں کس طرح برستی ہیں ، ان کی علمی اور سائنسی کیفیت معلوم ہونے سے ان کی خوبصورتی اور سحر آفرینی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ نہ اس سے اس مفہوم میں فرق پڑتا ہے جو قرآن کریم نے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام کام اور عمل صرف اللہ کے پیدا کردہ تکوینی نظام کے مطابق ہوتا ہے ، اس میں کسی انسان کی صنعت کاری کا کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ انسانوں کا اس پورے نظام میں کوئی دخل و عمل ہے۔ یہ تکوینی اور طبیعی قواعد جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے نہ خود کائنات نے پیدا کئے ہیں اور نہ خود بخود چل پڑے ہیں ، اس میں جو کچھ بھی چل رہا ہے ایک خالق مطلق کی وجہ سے چل رہا ہے۔

رعد ، باد ، باران کے مناظر میں ایک خاص منظر ہوتا ہے ۔ یہ طویل …

13

وَيُسَبِّحُ ٱلرَّعْدُ بِحَمْدِهِۦ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِۦ وَيُرْسِلُ ٱلصَّوَٰعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَن يَشَآءُ وَهُمْ يُجَٰدِلُونَ فِى ٱللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ ٱلْمِحَالِ

اور رعد اور فرشتے سب اس کے خوف سے اس کی تسبیح و تحمید کرتے رہتے ہیں اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے

اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔

آیت 12 تا 16

چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن مجید ان کو پیش کرتے ہوئے ، ان کے ساتھ ملائکہ ، تسبیح ، سجود ، خوف ، طمع اور ان مشاہد کے سائے کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس بات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ سچی پکار کیا ہے اور باطل اور ناحق پکار کیا ہے۔ ان مناظر میں ایک دوسرے شخص کی شکل یوں پیش کی جاتی ہے جو پانی پینا چاہتا ہے لیکن اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا ، بلکہ ہاتھ کھول کر اور منہ کھولے ہوئے یہ تمنا کرتا ہے کہ پانی خودبخود اس کے منہ میں پڑجائے ، جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ، ایک قطرہ بھی۔

یہ تمام مناظر ، مثالیں اور اشیاء اس آیت میں محض اتفاقاً اور بےمقصد جمع نہیں کردی گئی ، ان سب چیزوں کا دراصل مدعا سے تعلق ہے۔ بلکہ یہ مناظر انسان کو ڈرانے ، امید ،۔۔۔ پیہم اور طمع اور خوف اور نفع و نقصان کی امید دلانے اور اللہ کے ساتھ انسانوں نے جو دوسرے شریک ٹھہرا رکھے ان کی قوت کی نفی کے لئے لائے گئے ہیں۔

ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ وطمعا (13 : 12) ” وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں “۔ اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں یہ تکوینی مظاہر دکھاتا ہے۔ یہ اس کائنات کے طبیعی اور موسمی مظاہر ہیں جسے اس نے پیدا کیا ہے اور اس خاص انداز پر اس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور یہ خواص ان اشیاء کے اندر پیدا کئے ہیں۔ وہ بجلی جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے ، یہ اس کے قانون قدرت کے مطابق کام کرتی ہے۔ تم اس سے ڈر بھی جاتے ہو کیونکہ اس کی ماہیت ہی ایسی ہے جو اعصاب کو ہلا مارتے ہے۔ کبھی کبھی یہ بجلی برق بن کر بھی گرتی ہے اور خوفناک شکل میں تباہی بھی مچاتی ہے۔ جیسا کہ بارہا تم کو ۔۔۔ بھی ہوا ہوگا۔ تم اس چمک اور بجلی کے بعد باراں رحمت کے امیدوار بھی ہوتے ہو ، کیونکہ اس چمک اور گرج کے بعد بعض اوقات موسلا دھار بارش ہوتی اور مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔

وینشیء السحاب الثقال (13 : 12) ” وہی ہے جو بارش سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے “۔ بادلوں کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ سحاب۔۔۔۔ اس جنس کا واحد سحابہ ہے جو بادل کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ ثقال سے مراد وہ بادل ہیں جو بارش کی وجہ سے بوجھل ہیں۔ یہ بادل اللہ کے پیدا کردہ ناموس فطرت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں اور موسلا دھار بارشیں برساتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ قانون قدرت اس طرح نہ وضع کرتا تو نہ بادل ہوتے اور نہ یوں بارشیں ہوتیں۔ یہ کہہ کر کہ بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور بارشیں کس طرح برستی ہیں ، ان کی علمی اور سائنسی کیفیت معلوم ہونے سے ان کی خوبصورتی اور سحر آفرینی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ نہ اس سے اس مفہوم میں فرق پڑتا ہے جو قرآن کریم نے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام کام اور عمل صرف اللہ کے پیدا کردہ تکوینی نظام کے مطابق ہوتا ہے ، اس میں کسی انسان کی صنعت کاری کا کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ انسانوں کا اس پورے نظام میں کوئی دخل و عمل ہے۔ یہ تکوینی اور طبیعی قواعد جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے نہ خود کائنات نے پیدا کئے ہیں اور نہ خود بخود چل پڑے ہیں ، اس میں جو کچھ بھی چل رہا ہے ایک خالق مطلق کی وجہ سے چل رہا ہے۔

رعد ، باد ، باران کے مناظر میں ایک خاص منظر ہوتا ہے ۔ یہ طویل …

14

لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَىْءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦ ۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَٰلٍۢ

سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے

اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔

آیت 12 تا 16

چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن مجید ان کو پیش کرتے ہوئے ، ان کے ساتھ ملائکہ ، تسبیح ، سجود ، خوف ، طمع اور ان مشاہد کے سائے کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس بات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ سچی پکار کیا ہے اور باطل اور ناحق پکار کیا ہے۔ ان مناظر میں ایک دوسرے شخص کی شکل یوں پیش کی جاتی ہے جو پانی پینا چاہتا ہے لیکن اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا ، بلکہ ہاتھ کھول کر اور منہ کھولے ہوئے یہ تمنا کرتا ہے کہ پانی خودبخود اس کے منہ میں پڑجائے ، جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ، ایک قطرہ بھی۔

یہ تمام مناظر ، مثالیں اور اشیاء اس آیت میں محض اتفاقاً اور بےمقصد جمع نہیں کردی گئی ، ان سب چیزوں کا دراصل مدعا سے تعلق ہے۔ بلکہ یہ مناظر انسان کو ڈرانے ، امید ،۔۔۔ پیہم اور طمع اور خوف اور نفع و نقصان کی امید دلانے اور اللہ کے ساتھ انسانوں نے جو دوسرے شریک ٹھہرا رکھے ان کی قوت کی نفی کے لئے لائے گئے ہیں۔

ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ وطمعا (13 : 12) ” وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں “۔ اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں یہ تکوینی مظاہر دکھاتا ہے۔ یہ اس کائنات کے طبیعی اور موسمی مظاہر ہیں جسے اس نے پیدا کیا ہے اور اس خاص انداز پر اس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور یہ خواص ان اشیاء کے اندر پیدا کئے ہیں۔ وہ بجلی جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے ، یہ اس کے قانون قدرت کے مطابق کام کرتی ہے۔ تم اس سے ڈر بھی جاتے ہو کیونکہ اس کی ماہیت ہی ایسی ہے جو اعصاب کو ہلا مارتے ہے۔ کبھی کبھی یہ بجلی برق بن کر بھی گرتی ہے اور خوفناک شکل میں تباہی بھی مچاتی ہے۔ جیسا کہ بارہا تم کو ۔۔۔ بھی ہوا ہوگا۔ تم اس چمک اور بجلی کے بعد باراں رحمت کے امیدوار بھی ہوتے ہو ، کیونکہ اس چمک اور گرج کے بعد بعض اوقات موسلا دھار بارش ہوتی اور مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔

وینشیء السحاب الثقال (13 : 12) ” وہی ہے جو بارش سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے “۔ بادلوں کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ سحاب۔۔۔۔ اس جنس کا واحد سحابہ ہے جو بادل کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ ثقال سے مراد وہ بادل ہیں جو بارش کی وجہ سے بوجھل ہیں۔ یہ بادل اللہ کے پیدا کردہ ناموس فطرت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں اور موسلا دھار بارشیں برساتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ قانون قدرت اس طرح نہ وضع کرتا تو نہ بادل ہوتے اور نہ یوں بارشیں ہوتیں۔ یہ کہہ کر کہ بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور بارشیں کس طرح برستی ہیں ، ان کی علمی اور سائنسی کیفیت معلوم ہونے سے ان کی خوبصورتی اور سحر آفرینی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ نہ اس سے اس مفہوم میں فرق پڑتا ہے جو قرآن کریم نے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام کام اور عمل صرف اللہ کے پیدا کردہ تکوینی نظام کے مطابق ہوتا ہے ، اس میں کسی انسان کی صنعت کاری کا کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ انسانوں کا اس پورے نظام میں کوئی دخل و عمل ہے۔ یہ تکوینی اور طبیعی قواعد جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے نہ خود کائنات نے پیدا کئے ہیں اور نہ خود بخود چل پڑے ہیں ، اس میں جو کچھ بھی چل رہا ہے ایک خالق مطلق کی وجہ سے چل رہا ہے۔

رعد ، باد ، باران کے مناظر میں ایک خاص منظر ہوتا ہے ۔ یہ طویل …

15

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ طَوْعًۭا وَكَرْهًۭا وَظِلَٰلُهُم بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْءَاصَالِ ۩

اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام (سجدے کرتے ہیں)

اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔

آیت 12 تا 16

چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن مجید ان کو پیش کرتے ہوئے ، ان کے ساتھ ملائکہ ، تسبیح ، سجود ، خوف ، طمع اور ان مشاہد کے سائے کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس بات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ سچی پکار کیا ہے اور باطل اور ناحق پکار کیا ہے۔ ان مناظر میں ایک دوسرے شخص کی شکل یوں پیش کی جاتی ہے جو پانی پینا چاہتا ہے لیکن اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا ، بلکہ ہاتھ کھول کر اور منہ کھولے ہوئے یہ تمنا کرتا ہے کہ پانی خودبخود اس کے منہ میں پڑجائے ، جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ، ایک قطرہ بھی۔

یہ تمام مناظر ، مثالیں اور اشیاء اس آیت میں محض اتفاقاً اور بےمقصد جمع نہیں کردی گئی ، ان سب چیزوں کا دراصل مدعا سے تعلق ہے۔ بلکہ یہ مناظر انسان کو ڈرانے ، امید ،۔۔۔ پیہم اور طمع اور خوف اور نفع و نقصان کی امید دلانے اور اللہ کے ساتھ انسانوں نے جو دوسرے شریک ٹھہرا رکھے ان کی قوت کی نفی کے لئے لائے گئے ہیں۔

ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ وطمعا (13 : 12) ” وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں “۔ اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں یہ تکوینی مظاہر دکھاتا ہے۔ یہ اس کائنات کے طبیعی اور موسمی مظاہر ہیں جسے اس نے پیدا کیا ہے اور اس خاص انداز پر اس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور یہ خواص ان اشیاء کے اندر پیدا کئے ہیں۔ وہ بجلی جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے ، یہ اس کے قانون قدرت کے مطابق کام کرتی ہے۔ تم اس سے ڈر بھی جاتے ہو کیونکہ اس کی ماہیت ہی ایسی ہے جو اعصاب کو ہلا مارتے ہے۔ کبھی کبھی یہ بجلی برق بن کر بھی گرتی ہے اور خوفناک شکل میں تباہی بھی مچاتی ہے۔ جیسا کہ بارہا تم کو ۔۔۔ بھی ہوا ہوگا۔ تم اس چمک اور بجلی کے بعد باراں رحمت کے امیدوار بھی ہوتے ہو ، کیونکہ اس چمک اور گرج کے بعد بعض اوقات موسلا دھار بارش ہوتی اور مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔

وینشیء السحاب الثقال (13 : 12) ” وہی ہے جو بارش سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے “۔ بادلوں کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ سحاب۔۔۔۔ اس جنس کا واحد سحابہ ہے جو بادل کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ ثقال سے مراد وہ بادل ہیں جو بارش کی وجہ سے بوجھل ہیں۔ یہ بادل اللہ کے پیدا کردہ ناموس فطرت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں اور موسلا دھار بارشیں برساتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ قانون قدرت اس طرح نہ وضع کرتا تو نہ بادل ہوتے اور نہ یوں بارشیں ہوتیں۔ یہ کہہ کر کہ بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور بارشیں کس طرح برستی ہیں ، ان کی علمی اور سائنسی کیفیت معلوم ہونے سے ان کی خوبصورتی اور سحر آفرینی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ نہ اس سے اس مفہوم میں فرق پڑتا ہے جو قرآن کریم نے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام کام اور عمل صرف اللہ کے پیدا کردہ تکوینی نظام کے مطابق ہوتا ہے ، اس میں کسی انسان کی صنعت کاری کا کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ انسانوں کا اس پورے نظام میں کوئی دخل و عمل ہے۔ یہ تکوینی اور طبیعی قواعد جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے نہ خود کائنات نے پیدا کئے ہیں اور نہ خود بخود چل پڑے ہیں ، اس میں جو کچھ بھی چل رہا ہے ایک خالق مطلق کی وجہ سے چل رہا ہے۔

رعد ، باد ، باران کے مناظر میں ایک خاص منظر ہوتا ہے ۔ یہ طویل …

16

قُلْ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ قُلِ ٱللَّهُ ۚ قُلْ أَفَٱتَّخَذْتُم مِّن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّۭا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِى ٱلظُّلُمَٰتُ وَٱلنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوا۟ كَخَلْقِهِۦ فَتَشَٰبَهَ ٱلْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُوَ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّٰرُ

ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے

اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔

آیت 12 تا 16

چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن مجید ان کو پیش کرتے ہوئے ، ان کے ساتھ ملائکہ ، تسبیح ، سجود ، خوف ، طمع اور ان مشاہد کے سائے کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس بات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ سچی پکار کیا ہے اور باطل اور ناحق پکار کیا ہے۔ ان مناظر میں ایک دوسرے شخص کی شکل یوں پیش کی جاتی ہے جو پانی پینا چاہتا ہے لیکن اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا ، بلکہ ہاتھ کھول کر اور منہ کھولے ہوئے یہ تمنا کرتا ہے کہ پانی خودبخود اس کے منہ میں پڑجائے ، جبکہ وہ پڑنے والا نہیں ، ایک قطرہ بھی۔

یہ تمام مناظر ، مثالیں اور اشیاء اس آیت میں محض اتفاقاً اور بےمقصد جمع نہیں کردی گئی ، ان سب چیزوں کا دراصل مدعا سے تعلق ہے۔ بلکہ یہ مناظر انسان کو ڈرانے ، امید ،۔۔۔ پیہم اور طمع اور خوف اور نفع و نقصان کی امید دلانے اور اللہ کے ساتھ انسانوں نے جو دوسرے شریک ٹھہرا رکھے ان کی قوت کی نفی کے لئے لائے گئے ہیں۔

ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ وطمعا (13 : 12) ” وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں “۔ اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں یہ تکوینی مظاہر دکھاتا ہے۔ یہ اس کائنات کے طبیعی اور موسمی مظاہر ہیں جسے اس نے پیدا کیا ہے اور اس خاص انداز پر اس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور یہ خواص ان اشیاء کے اندر پیدا کئے ہیں۔ وہ بجلی جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے ، یہ اس کے قانون قدرت کے مطابق کام کرتی ہے۔ تم اس سے ڈر بھی جاتے ہو کیونکہ اس کی ماہیت ہی ایسی ہے جو اعصاب کو ہلا مارتے ہے۔ کبھی کبھی یہ بجلی برق بن کر بھی گرتی ہے اور خوفناک شکل میں تباہی بھی مچاتی ہے۔ جیسا کہ بارہا تم کو ۔۔۔ بھی ہوا ہوگا۔ تم اس چمک اور بجلی کے بعد باراں رحمت کے امیدوار بھی ہوتے ہو ، کیونکہ اس چمک اور گرج کے بعد بعض اوقات موسلا دھار بارش ہوتی اور مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔

وینشیء السحاب الثقال (13 : 12) ” وہی ہے جو بارش سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے “۔ بادلوں کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ سحاب۔۔۔۔ اس جنس کا واحد سحابہ ہے جو بادل کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ ثقال سے مراد وہ بادل ہیں جو بارش کی وجہ سے بوجھل ہیں۔ یہ بادل اللہ کے پیدا کردہ ناموس فطرت کے مطابق پیدا ہوتے ہیں اور موسلا دھار بارشیں برساتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ قانون قدرت اس طرح نہ وضع کرتا تو نہ بادل ہوتے اور نہ یوں بارشیں ہوتیں۔ یہ کہہ کر کہ بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور بارشیں کس طرح برستی ہیں ، ان کی علمی اور سائنسی کیفیت معلوم ہونے سے ان کی خوبصورتی اور سحر آفرینی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ نہ اس سے اس مفہوم میں فرق پڑتا ہے جو قرآن کریم نے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام کام اور عمل صرف اللہ کے پیدا کردہ تکوینی نظام کے مطابق ہوتا ہے ، اس میں کسی انسان کی صنعت کاری کا کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ انسانوں کا اس پورے نظام میں کوئی دخل و عمل ہے۔ یہ تکوینی اور طبیعی قواعد جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے نہ خود کائنات نے پیدا کئے ہیں اور نہ خود بخود چل پڑے ہیں ، اس میں جو کچھ بھی چل رہا ہے ایک خالق مطلق کی وجہ سے چل رہا ہے۔

رعد ، باد ، باران کے مناظر میں ایک خاص منظر ہوتا ہے ۔ یہ طویل …

17

أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَٱحْتَمَلَ ٱلسَّيْلُ زَبَدًۭا رَّابِيًۭا ۚ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِى ٱلنَّارِ ٱبْتِغَآءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَٰعٍۢ زَبَدٌۭ مِّثْلُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ وَٱلْبَٰطِلَ ۚ فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءًۭ ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ

اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)

آیت نمبر 17

پانی کا نزول اور ندی نالوں کا اس کے ساتھ بہہ نکلنا ایک ایسا مفہوم ہے جو برق اور رعد اور بادلوں کے ساتھ ہم معنی و ہم جنس ہے۔ سابق منظر میں رعد و برق اور سحاب ثقال کا ذکر تھا۔ دونوں اس کائنات کے عام مناظر فطرت کا حصہ ہیں۔ اس سورة کا پیشتر موضوع اور مضمون انہی کے گرد گھومتا ہے۔ اور ان مناظر سے اللہ واحد اور قہار کی قدرت ، غلبے اور گرفت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ ندی نالے اپنی مقدار کے مطابق بہہ نکلتے ہیں ، ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق ۔

اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک مقدار مقرر کر رکھی ہے ۔ ہر نالے اور ندی کے لیے بھی پانی کی مقدار مقرر ہے ۔ یہ اللہ کی شان مدبرانہ ہے ، جو اس سورة کا موضوع خاص ہے۔ تمثیل کا یہ دائرہ اور موضوع اور منظر وہی ہے جو پیش پا افتادہ ہے اور جس کو رات اور دن لوگ دیکھتے رہتے ہیں یہ منظر ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے لیکن یہ اندھوں کی طرح اس پر کوئی غور نہیں کرتے اور نہ یہ مناظر ان کے دامن کش ہوتے ہیں۔

ہماری نظروں کے سامنے پانی برستا رہتا ہے ، ندی اور نالے بہتے رہتے ہیں اور اس دنیا کے خس و خاشاک کو ساتھ بہا کرلے جاتے رہتے ہیں۔ ان ندی نالوں پر جھاگ بھی اٹھتی رہتی ہے ، اس قدر کہ بعض اوقات پانی چھپ جاتا ہے۔ اور جھاگ کے پہاڑ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس جھاگ کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ، اس کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ اور پانی جو جھاگ کے نیچے قائم رہتا ہے اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے ۔ نہایت سکون کے ساتھ لگا بندھا ۔ پھر یہ پانی اپنے اندر ایک افادیت رکھتا ہے۔ خیر ہی خیر اور زندگی اور شادابی۔ یہی صورت ان دھاتوں اور خزانوں کی ہوتی ہے جنہیں پگھلایا جاتا ہے۔ اس سے مصنوعات بنتی ہے ، آلات بنتے ہیں اور انسانوں کی حیات کے لئے ممد ثابت ہوتے ہیں مثلاً لوہا ، تانبا اور سیسہ وغیرہ ۔ ان پر بھی جھاگ اٹھتی ہے جو بیکار ہوتی ہے اور جسے پھینک دیا جاتا ہے اور جو صافی چیز ہوتی ہے وہ نیچے رہ جاتی ہے۔ جب جھاگ اٹھ جاتی ہے تو اصل چیز نیچے سے نمودار ہوتی ہے۔

دنیا کی زندگی میں حق و باطل کی یہ مثال ہے۔ باطل کا یہ مظہر اور منظر بسا اوقات سامنے آتا ہے وہ بلند ہوتا ہے ، پھولتا ہے ، دوڑتا بھاگتا ہے۔ اس کا بہت فلو نظر آتا ہے۔ لیکن یہ باطل جھاگ کی طرح ہوتا ہے یا گندے اور خبیث مادے کی طرح ہوتا اور فضلے کی طرح پھینک دیا جاتا ہے یا ختم ہوجاتا ہے اور اس کی نہ ٹھوس حقیقت ہوتی ہے اور نہ اس کے اندر ٹھہراؤ اور جماؤ ہوتا ہے جبکہ حق ہمیشہ پروقار ، ٹھہرا ہوا اور جما ہوا ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس پر شبہ ہوتا ہے کہ یہ جم گیا ہے ، اس میں جمود ہے ، بلکہ یہ ختم ہوگیا ہے۔ اس کا سکون موت کی علامت ہے۔ لیکن حق ہمیشہ دنیا میں باقی رہتا ہے جس طرح پانی باقی رہتا ہے اور جھاگ ختم ہوجاتی ہے اور جس طرح پگھلا ہوا مواد اپنی اصل حالت میں باقی رہتا ہے اور لوگوں کو نفع دیتا ہے اور اس کی جھاگ یا فضلہ ختم ہوجاتا ہے اسی طرح حق قائم رہتا ہے۔

کذلک یضرب اللہ الامثال (13 : 17) “ اسی طرح اللہ مثالیں دیتا ہے ”۔ اسی طرح اللہ ہر دعوت اور ہر تحریک کا انجام مقرر کرتا ہے ، ہر نظریہ اور اس کے احیاء کی جدو جہد کا یہی انجام ہوتا ہے۔ اللہ لوگوں کے اعمال و اقوال کے ساتھ یہی سلوک کرتا ہے۔ وہ مدبر کائنات ہے۔ واحد حاکم اور قہار ہے۔ وہ حق و باطل کی کشمکش کا بھی مدبر ہے اور اس نے یہ قانون قدرت وضع کیا ہے کہ آخر کار باطل نے زائل ہونا ہے اور حق نے غالب آنا ہے۔

لہٰذا یہ بات پلے باندھ رکھو کہ جن لوگوں نے حق پر لبیک کہا ان کا انجام اچھا ہوگا۔ اور جن لوگوں نے دعوت حق کا انکار کردیا وہ ایک نہایت ہی خوفناک اور ہولناک انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ ان کی حالت یہ ہوگی کہ اگر ان میں سے کوئی پوری زمین اور آسمانوں کا مالک ہو تو وہ اس دن کے عذاب سے اپنے آپ کو چھڑانے کے لئے بالکل تیار ہوگا ، لیکن اس کے پاس زمین و …

18

لِلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِرَبِّهِمُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَٱلَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَهُۥ لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفْتَدَوْا۟ بِهِۦٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ سُوٓءُ ٱلْحِسَابِ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں صرف کرڈالیں (مگر نجات کہاں؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے

آیت نمبر 18

یہاں دعوت حق کو قبول کرنے والوں کے مقابلے ہیں وہ لوگ ہیں جو قبول نہیں کرتے اور حسنہ کے مقابلے میں سوء الحساب ہے۔ اور جنت کے مقابلے میں بئس المھاد ہے۔ اور یہ تقابلی انداز کلام اس پورہ سورة میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔

19

۞ أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰٓ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں

درس نمبر 113 ایک نظر میں

اس سورة کے حصہ اول میں موضوع تھا اس کائنات کے آفاق اور عالم غیب کی گہرائیاں اور نفس انسانی کے عجائبات اور گہری انسانی نفسیات اور ان پر غور۔ اس دوسرے حصے میں انسانی وجدان کے محسوسات ، انسانی عقل کے اخذ کردہ نتائج اور نہایت ہی لطیف اور گہری سوچ ، خصوصاً رسالت ، منصب رسالت اور وحی الٰہی کے بارے میں حقائق ، عقیدۂ توحید اور رد شرک ، لوگوں کی نادانی اور معجزات کا مطالبہ اور وقوع قیامت میں جلدی۔ مسائل وہی ہیں جو پہلے حصے میں تھے ، البتہ سفر ایک دوسری وادی میں ہے یعنی وادی عقل وخرد میں۔

اس حصے میں سفر کا آغاز وادی کفرو ایمان میں ہوتا ہے۔ کفر کی وادی میں اندھیری رات جیسی تاریکی ہے جبکہ وادی ایمان میں روز روشن کی طرح روشنی ہے۔ ایک میں علم ہے اور دوسری میں تاریکی اور جہالت ہے۔ اس کے بعد روئے سخن کافرین کی خصوصیات و علامات اور مومنین کی صفات اور مزاج کی طرف پھرجاتا ہے اور پھر مشاہد قیامت میں سے ایک منظر سامنے آتا ہے جس میں اہل جنت کے انعامات اور اہل جہنم کے عذاب کا ذکر ہے۔ درمیان میں رزق کی کشادگی اور رزق کی تنگی کے موضوع پر بھی بات ہوتی ہے اور دونوں حالات کسی کو اللہ کی مشیت کے مطابق پیش آتے ہیں۔ ایک محفل ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جن کے دل ذکر الٰہی کے ساتھ مطمئن ہیں۔ پھر قرآن کریم کے اوصاف اور اس کی قوت کا ذکر ، قریب ہے کہ اس سے متاثر ہو کر پہاڑ چل پڑیں ، قریب ہے کہ زمین مارے خوف کے پھٹ پڑے اور قریب ہے کہ مردے بھی بات کرنے لگیں۔ پھر وہ عذاب اور مصائب جو کفار کو درپیش ہوتے ہیں یا ان کے علاقوں کے قریب ہی دوسری اقوام پر نازل ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ عبرت نہیں لیتے۔ پھر مزاحیہ انداز کلام ان کے الہوں کے بارے میں ، پھر قدرے ان اقوام کی وادی میں سیر جن کو ہلاک کیا گیا اور جن کے مقامات اور مصارع ان کے پاس ہی ہیں۔ آخر میں ان کو اس انجام سے ڈرایا جاتا ہے جو ان کے لئے بےچینی سے انتظار کر رہا ہے کیونکہ وہ رسول برحق کی تکذیب کر رہے ہیں۔ اچھا چلو اس انجام معلوم کی طرف اگر نہیں مانتے۔

اس سے معلوم ہوا کہ حصہ اول میں عقل وخرد کو جھنجھوڑنے کے لئے جو ضربات لگائی گئی تھیں ، گویا اس دوسرے حصے میں اس کا خاطر خواہ اثر ہوا اور اب عقل نے سوچنا شروع کردیا ہے۔ انسانی عقل کے دروازے قدرے کھل گئے ہیں اور انسان نے دعوت اسلامی کے بارے میں سوچنا شروع کردیا۔ لہٰذا سورة کے ان دونوں حصوں میں باہم ربط ہے۔ یعنی اس سورة کے دونوں حصے انسانی عقل و کرد کی تاروں کو چھیڑ رہے ہیں تا کہ انسانی احساس اور عقل کام کریں ۔

اس حصے میں پہلا مسئلہ ، مسئلہ وحی الٰہی ہے۔ اس سورة کے آغاز میں بھی اسے چھیڑا گیا تھا۔ یہاں دوبارہ اس پر غور کیا جاتا ہے ، نہایت ہی جدید انداز میں۔

آیت نمبر 19

یہاں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اس بات پر یقین کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ نازل ہوتا ہے وہ حق ہے اور ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جو یقین نہیں کرتے جو جانتے نہیں بلکہ ان کے بالمقابل جو لوگ ہیں وہ اندھے ہیں۔ قرآن کریم کا یہ نہایت ہی پیارا ، موثر اور دل میں بیٹھ جانے والا انداز ہے کہ وہ کسی شخص یا کردار یا رویے کو مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور یہ حجیم اور تمثیل بجائے خود حقیقت ، سچی اور بلا مبالغہ بھی ہوتی ہے مثلاً یہاں مخالفین کو اندھا کہا گیا ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ اس واضح اور ظاہر و باطن حقیقت کو جو شخص نہیں دیکھتا وہ اندھا ہی ہو سکتا ہے۔ اس حقیقت کے سامنے اس کے حوالے سے لوگوں کی دو اقسام ہیں ۔ ایک گروہ دیکھنے والا ہے تو وہ سمجھتا ہے۔ دوسرا اندھوں کا گروہ ہے اور وہ جاہل ہے۔ بعض اندھے پن سے مراد آنکھوں کا اندھا نہیں ہے بلکہ دل کا اندھا ہے۔ مطلب اس شخص سے ہے جس کی قوائے مدرکہ بجھ گئی ہوں ، جن کے دلوں پر تالے پڑگئے ہوں اور جن کی روح آتش معرفت سے محروم ہوگئی ہو اور ان کے دلوں میں …

20

ٱلَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَلَا يَنقُضُونَ ٱلْمِيثَٰقَ

جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے

آیت نمبر 20

اللہ کا عہد مطلق ہے ، اس سے وہ تمام عہد مراد ہیں جو اللہ کے ہیں اور میثاق بھی مطلق ہے اور اس سے مراد بھی وہ تمام میثاق ہیں جو اللہ کے ساتھ کئے گئے۔ سب سے بڑا عہد ، عہد ایمانی ہے کیونکہ دوسرے تمام عہد اس کا نتیجہ اور اس کے تقاضے ہیں۔ سب سے بڑا میثاق یہ کہ ہم ایمان کے تقاضے پورے کریں گے۔

عہد ایمان قدیم بھی ہے اور جدید بھی ہے۔ قدیم عہد وہ ہے جو فطرت انسانی کے ساتھ مربوط ہے اور اس کا تعلق ناموس کائنات سے ہے ، جس کے مطابق یہ پوری کائنات چلتی ہے اور فطرت انسانی براہ راست اس واحد ارادے کا ادراک کرلیتی ہے جس سے یہ کائنات پیدا ہوئی اور اس بات کا یقین کرتی ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے اور وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی بندگی کی جائے۔ یہ فطری میثاق وہ ہے جو تمام انسانوں سے لیا گیا ہے جبکہ وہ آدم کی پشت میں تھے ، اپنے محل پر ہم نے عہد الست کی یہی تفسیر پسند کی ہے۔ پھر اس عہد کی تجدید رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہوتی ہے جن کو اللہ نے امتوں کے لئے بھیجا اس لیے نہیں کہ وہ کوئی جدید عہد لیں بلکہ اس لیے کہ وہ یاددہانی کرائیں اسی عہد الست کی اور اس کی تفسیر اور تشریح لوگوں کے سامنے کریں ۔ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اس عہد کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اللہ کے سوا تمام دوسروں کی بندگی کا جوا اپنی گردن سے اتار پھینکیں اور علم صالح اور راہ راست پر چلنے کا مضبوط رویہ اختیار کریں۔ ہر معاملے میں اللہ وحدہ کی طرف رجوع کریں جس کے ساتھ انسانوں نے اصل عہد کیا ہوا ہے۔

اس عطیم عہد الٰہی کے حکم ہی میں بعد میں آنے والے عہد ہیں ، خواہ وہ عہد و میثاق انسانوں کے ساتھ ہو۔ رسولوں کے ساتھ ہو ، عوام الناس کے ساتھ ہو ، قریب کے رشتہ داروں کے ساتھ ہو ، امراء کے ساتھ ہو یا جماعتوں کے ساتھ ہو۔ چناچہ جو شخص عہد اول اور میثاق اول کی فکر کرے گا وہ تمام دوسرے مواثیق کی رعایت کرے گا کیونکہ تمام عہودو مواثیق پر عمل کرنا ایک فریضہ ہے۔ جو شخص عہد اول کا پاس رکھتا ہے وہ دوسرے عہود کا بھی پاس رکھے گا کیونکہ یہ تمام عہد اسی کے ذیل میں آتے ہیں۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.