لَهُۥ مُعَقِّبَٰتٌۭ مِّنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ يَحْفَظُونَهُۥ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوْمٍۢ سُوٓءًۭا فَلَا مَرَدَّ لَهُۥ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ
اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار ہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔ اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا
سب پہ محیط علم ٭٭
اللہ کا علم تمام مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔ «وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى» [20-طه:7] ” کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں، پست اور بلند ہر آواز وہ سنتا ہے چھپا کھلا سب جانتا ہے “۔ «وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ» [27-النمل:25] ” تم چھپاؤ یا کھولو اس سے مخفی نہیں “۔
صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں وہ اللہ پاک ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیرا ہوا ہے، قسم اللہ کی اپنے خاوند کی شکایت لے کر آنے والی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کانا پھوسی کی کہ میں پاس ہی گھر میں بیٹھی ہوئی تھی لیکن میں پوری طرح نہ سن سکی لیکن اللہ تعالیٰ نے آیتیں «قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» [58-المجادلہ:1] اتاریں یعنی ” اس عورت کی یہ تمام سرگوشی اللہ تعالیٰ سن رہا تھا “ ۔ [صحیح بخاری:7386قبل الحدیث]
وہ سمیع وبصیر ہے، جو اپنے گھر کے تہ خانے میں راتوں کے اندھیرے میں چھپا ہوا ہو وہ اور جو دن کے وقت کھلم کھلا آباد راستوں میں چلا جا رہا ہو وہ علم اللہ میں برابر ہیں۔ جیسے آیت «اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» [11-ھود:5] میں فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر4127
اور آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» [10-یونس:61] میں ارشاد ہوا ہے کہ ” تمہارے کسی کام کے وقت ہم ادھر ادھر نہیں ہوتے، کوئی ذرہ ہماری معلومات سے خارج نہیں “۔
اللہ کے فرشتے بطور نگہبان اور چوکیدار کے بندوں کے اردگرد مقرر ہیں، جو انہیں آفتوں سے اور تکلیفوں سے بچاتے رہتے ہیں جیسے کہ اعمال پر نگہبان فرشتوں کی اور جماعت ہے، جو باری باری پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے الگ دن کے الگ۔ اور جیسے کہ دو فرشتے انسان کے دائیں بائیں اعمال لکھنے پر مقرر ہیں، داہنے والا نیکیاں لکھتا ہے بائیں جانب والا بدیاں لکھتا ہے۔ اسی طرح دو فرشتے اس کے آگے پیچھے ہیں جو اس کی حفاظت وحراست کرتے رہتے ہیں۔ پس ہر انسان ہر وقت چار فرشتوں میں رہتا ہے، دو کاتب اعمال دائیں بائیں دو نگہبانی کرنے والے آگے پیچھے، پھر رات کے الگ دن کے الگ۔ چنانچہ حدیث میں ہے تم میں فرشتے پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے اور دن کے ان کا میل صبح اور عصر کی نماز میں ہوتا ہے رات گزارنے والے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔ باوجود علم کے اللہ تبارک وتعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم گئے تو انہیں نماز میں پایا اور آئے تو نماز میں چھوڑ آئے ۔ [صحیح بخاری:555]
اور حدیث میں ہے تمہارے ساتھ وہ ہیں جو سوا پاخانے اور جماع کے وقت کے تم سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ پس تمہیں ان کا لحاظ، ان کی شرم، ان کا اکرام اور ان کی عزت کرنی چاہیئے ۔ [سنن ترمذي:2800،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر4128
پس جب اللہ کو کوئی نقصان بندے کو پہنچانا منظور ہوتا ہے، بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما محافظ فرشتے اس کام کو ہو جانے دیتے ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ہر بندے کے ساتھ اللہ کی طرف سے موکل ہے جو اسے سوتے جاگتے جنات سے انسان سے زہریلے جانوروں اور تمام آفتوں سے بچاتا رہتا ہے ہر چیز کو روک دیتا ہے مگر وہ جسے اللہ پہنچانا چاہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دنیا کے بادشاہوں امیروں وغیرہ کا ذکر ہے جو پہرے چوکی میں رہتے ہیں۔“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سلطان اللہ کی …