Muslim99Muslim99
← Tafsir library

13. Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

سُورَةُ الرَّعۡدِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 1–10 of 43

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓمٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ۗ وَٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ

الٓمرا۔ (اے محمد) یہ کتاب (الہیٰ) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

درس نمبر 112 تشریح آیات

1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 18

سورة کا آغاز اسلامی نظریہ حیات کے ایک بنیادی مسئلہ سے کیا جاتا ہے۔ یہ کہ یہ کتاب من جانب اللہ نازل ہوئی ہے۔ یہ جن حقائق پر مشتمل ہے ، وہ حق اور سچے ہیں۔ یہ بات اسلامی نظریہ حیات کے اساسیات میں سے ہے۔ باقی تمام نظریات و عقائد اسی نکتے پر تعمیر ہوتے ہیں۔ عقیدۂ توحید ، عقیدۂ بعث بعد الموت ، زندگی میں عمل صالح کی افادیت اور تمام اخلاقی تعلیمات اس بات پر موقوف ہیں کہ یہ سب احکام من جانب اللہ ہیں اور یہ قرآن کی شکل میں جبرائیل (علیہ السلام) خدا کی طرف سے لے کر آئے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ برحق ہیں۔ یہ ہے وہ بنیاد جس پر پورا دین تعمیر ہوا ہے۔

آیت نمبر 1

المر تلک ۔۔۔۔۔ الحق (13 : 1) ” یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں “۔ یعنی یہ آیات اس بات کی شاہد ہیں کہ یہ وحی منجانب اللہ ہے۔ کیونکہ یہ آیات انہی حروف تہجی سے مرکب ہیں۔ اور جب آج تک ان حروف سے ایسی کتاب کوئی نہیں بنا سکا تو ثابت ہوا کہ یہ وحی الٰہی ہیں۔

والذی انزل الیک من ربک الحق (13 : 1) ” اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے “۔ یہی حق ہے ، یہ ایسا خالص حق ہے جس میں باطل کی کوئی ملاوٹ نہیں ہے اور جس میں کوئی شک اور تردد نہیں ہے ۔ یہ حروف تہجی بھی اس پر دلیل ہیں کہ یہ حق ہے کیونکہ یہ اس کتاب کے من جانب اللہ ہونے پر دلیل ناطق ہیں۔ کیونکہ اللہ کی جانب سے جو آتا ہے وہ حق ہی ہوتا ہے اور اس میں شک کی گنجائش نہیں رہتی۔

ولکن اکثر الناس لا یومنون (13 : 1) ” مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے “۔ وہ اس بات پر ایمان نہیں لاتے کہ یہ قرآن مجید من جانب اللہ ہے۔ اور نہ ان نتائج کو مانتے ہیں جو اس ایمان کے بعد سامنے آتے ہیں مثلاً عقیدۂ توحید ، صرف اللہ کی مکمل اطاعت ، عقیدہ بعث بعد الموت اور عقیدۂ توحید کے ساتھ عمل صالح۔ اور پوری زندگی کی اصلاح۔

یہ ہے اس سورة کا کلمہ آغاز اور اس کے اندر پوری سورة کے مضامین کو نچوڑ کر بند کردیا گیا ہے۔ ان تمام موضوعات کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے جو اس میں موجود ہیں۔ چناچہ تفصیلات کا آغاز مناظر قدرت الٰہیہ کے بیان سے کیا جاتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق ، اس کی حرکت اور اس کے اثرات و آثار کس قدر گہری حکمت پر مبنی ہیں اور بذات خود یہ کائنات کس قدر عجیب چیز ہے ۔ جب یہ کائنات عجیب ہے ، اس کی مخلوق عجیب ہے اور اس کی حکمتیں ناقابل فہم ہیں تو انسان کی ہدایت کے لئے وحی و کتاب لابدی ہیں اور یہ کہ اس فانی دنیا کے بعد دائمی زندگی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ نیز اس کائنات کی اس پیچیدہ قدرت و حکمت کا تقاضا۔ منطقی تقاضا بھی یہ ہے کہ موت کے بعد تمام مخلوقات زندہ کر کے اٹھائی جائے۔ تمام لوگ اس کے سامنے حاضر ہوں جس نے ان کو پیدا کیا اور جس نے ان کے لئے اس کائنات کو مسخر کیا اور اس کی نعمتوں سے نوازا تا کہ وہ پوری زندگی کا جواب دیں۔ حساب و کتاب ہو ، جزاء وسزا اور عمل آزمائش مکمل ہو۔

مناظر قدرت کی عکاسی اور تصویر کشی یوں شروع ہوتی ہے کہ سب سے پہلے بڑے بڑے قدرتی مناظر کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ ایک ٹچ آسمانوں کو دیا جاتا ہے اور ایک ٹچ طویل و عریض زمین کو دیا جاتا ہے اور پھر اس زمین پر بکھری ہوئی حیات اور سا کے عجائبات سامنے آتے ہیں۔

اس کے بعد نہایت ہی تعجب سے کہا جاتا ہے کہ آخر ان لوگوں کے پاس کیا دلیل ہے کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں۔ یہ لوگ دراصل ان قدرتی شواہد کے بعد آیات و معجزات کا مقابلہ کر کے دراصل عذاب الٰہی کو دعوت دیتے ہیں۔

2

ٱللَّهُ ٱلَّذِى رَفَعَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍۢ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ ۖ كُلٌّۭ يَجْرِى لِأَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ يُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُم بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے (اس طرح) وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو

آیت نمبر 2 تا 7

آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔

یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔

لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔

یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔

ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔

یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔

پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔

پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔

کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔

یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق …

3

وَهُوَ ٱلَّذِى مَدَّ ٱلْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِىَ وَأَنْهَٰرًۭا ۖ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ ۖ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

اور وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے اور ہر طرح کے میوؤں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

آیت نمبر 2 تا 7

آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔

یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔

لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔

یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔

ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔

یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔

پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔

پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔

کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔

یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق …

4

وَفِى ٱلْأَرْضِ قِطَعٌۭ مُّتَجَٰوِرَٰتٌۭ وَجَنَّٰتٌۭ مِّنْ أَعْنَٰبٍۢ وَزَرْعٌۭ وَنَخِيلٌۭ صِنْوَانٌۭ وَغَيْرُ صِنْوَانٍۢ يُسْقَىٰ بِمَآءٍۢ وَٰحِدٍۢ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍۢ فِى ٱلْأُكُلِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ

اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں۔ ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجود یہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے۔ اور ہم بعض میوؤں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں

آیت نمبر 2 تا 7

آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔

یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔

لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔

یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔

ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔

یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔

پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔

پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔

کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔

یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق …

5

۞ وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌۭ قَوْلُهُمْ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍۢ جَدِيدٍ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ ٱلْأَغْلَٰلُ فِىٓ أَعْنَاقِهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہوں گے؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

آیت نمبر 2 تا 7

آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔

یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔

لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔

یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔

ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔

یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔

پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔

پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔

کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔

یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق …

6

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِمُ ٱلْمَثُلَٰتُ ۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍۢ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ ۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار یعنی (طالب عذاب) ہیں حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود ان کی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے۔ اور بےشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے

آیت نمبر 2 تا 7

آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔

یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔

لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔

یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔

ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔

یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔

پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔

پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔

کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔

یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق …

7

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦٓ ۗ إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرٌۭ ۖ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نازل نہیں ہوئی۔ سو (اے محمدﷺ) تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کے لیے رہنما ہوا کرتا ہے

آیت نمبر 2 تا 7

آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔

یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ وہ عظیم قوت کون ہے جو اس عظیم کائنات کی خالق ہے اور جس نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے۔ یہ اللہ ہی ہو سکتا ہے۔

لوگ ستون کے ساتھ یا بغیر ستون زمین کے کسی کونے پر ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کی تعریفیں کرتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم عمارت ہے ؟ کس قدر خوبصورت عمارت ہے ؟ لیکن وہ ان بلندیوں اور خوبصورتیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں۔ بغیر ستونوں کے کرمات اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس کائنات کے پیچھے جو قدرت کارفرما ہے اور جو عظمت پوشیدہ ہے اور پھر اس کے اندر اس قوت نے جو خوبصورتی و دیعت کی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔

یہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں میں ہے اور وہ عظیم کائنات جو ہماری نظروں سے ابھی اوجھل ہے اور جہاں کائنات کا دارالخلافہ ہے۔

ثم استوی علی العرش (13 : 2) ” پھر وہ عرش پر متمکن ہوا “۔ یہ کائنات اگر بلند ہے تو عرش الٰہی بلند تر ہے۔ اور اگر یہ کائنات عظیم ہے تو عرش الٰہی عظیم تر ہے۔ ہر استواء کا مفہوم وسعت ، عظمت اور تمکن ہے اور قرآن کریم نے لفظ استوی محض انسان کی قاصر قوت مدرکہ کو سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ انسانی قوت مدرکہ محدود اور کمزور ہے۔

یہ قدرت کے قلم معجز رقم کا ایک دوسرا ٹچ ہے۔ پہلا ٹچ تو ان بلندیوں کی بابت تھا جو انسان کو نظر آتی ہیں اور یہ دوسرا ٹچ ان بلندیوں کے بارے میں ہے جو ہماری محدود نظر کے دائرہ نظارہ سے ماوراء ہیں۔ سیاق کلام میں یہ دونوں تصاویر ایک جگہ نظر آتی ہیں۔ اب بلندی کے عمومی تصور سے نیچے آکر ، تسخیر کائنات کے مضمون کو لیا جاتا ہے۔ شمس وقمر کو اللہ نے جس فضا میں مسخر کر رکھا ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ جس قدر ہم ان کے بارے میں جان سکے ہیں ، اس میں اس نظام کی عظمت دامن فکر کو پکڑتی ہے ، اور عقل کو دعوت دیتی ہے کہ یہ عظیم قوتیں اللہ عظیم کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کے سامنے ہم نے حاضری دینی ہے۔

پھر جس منظر کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کے اندر بیشمار متقابل مناظر ہیں۔ ایک تو اس کائنات کی وہ بلندیاں ہیں جو نظر آتی ہیں لیکن اس کے بالمقابل وہ بلندیاں بھی ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ پھر ایک تو اس کائنات کی بلندی اور اس بلندی اور عظمت کے بالمقابل اس عظیم کائنات کی بےبسی اور تسخیر ہے ، شمس و قمر کا باہم مقابلہ ہے ، رات اور دن کا مقابلہ ہے اور ستاروں اور سیاروں کا باہم مقابلہ ہے۔

پھر بلندیوں اور تسخیر کائنات کے علاوہ اس کے اندر ایک ممتاز پہلو حکمت الٰہیہ کا مدبرانہ پہلو ہے۔

کل یجری لاجل مسمی (13 : 2) ” کہ ہر چیز ایک وقت مقرر تک چل رہی ہے “۔ اس کی بلندی اور چلت پھرت ایک مقرر وقت تک ہے ، اور یہ وقت ایک مقرر کردہ ناموس الٰہی میں طے شدہ ہے۔ یہ وقت شمس و قمر کے دورہ یومیہ اور مدار میں چکر دونوں میں مقرر ہے۔ کسی جگہ بھی وہ اس اجل مسمی سے منحرف نہیں ہو سکتے اور وہ وقت بھی مقرر ہے جس اس پورے نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور یہ پوری کائنات ختم کردی جائے گی۔

یدبر الامر ( 13 : 2) ” اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے “۔ یعنی اس طرح کہ شمس و قمر اپنے اوقات کے مطابق …

8

ٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ ٱلْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۖ وَكُلُّ شَىْءٍ عِندَهُۥ بِمِقْدَارٍ

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) ۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے

یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔

آیت نمبر 8 تا 11

جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ دھوپ ، چھپ کر لوگوں کی سرگرمیاں اور دن کے وقت برملا لوگوں کی جدو جہد ، ان تمام امور کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے ، اللہ کے گماشتے ان تمام سرگرمیوں کو ریکارڈ بھی کر رہے ہیں۔ انسان کی یہ حیرانی دراصل خوف الٰہی کی وجہ سے ہے جس کے نتیجے میں انسان اللہ کی پناہ لیتا ہے۔ وہ اللہ کی پناہ گاہ ہی میں پناہ لیتا ہے۔ ایک مومن اچھی طرح جانتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اللہ کا علم تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے ، لیکن اصولی طور پر اللہ کے علم کے شمول اور وسعت کا اقرار اور بات ہے اور یہاں قرآن مجید نے جس موثر انداز میں بعض جزئیات کا ذکر کیا ہے اس کی اثر انگیزی اور بات ہے۔

محض تجریدی کلیہ کا بیان کردینا اور بات ہے اور کلیہ کے تحت کسی مثالی جزئیہ کا مطالعہ اور بات ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ بعض جزئیات ، حساس جزئیات کا ذکر فرماتے ہیں۔

اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔

ہر حاملہ سے خیال کے پردے پر ہر حاملہ ، مطلق حاملہ آجاتی ہے ، اس پوری کائنات میں تمام زندہ حاملہ ، وسیع معنوں میں ہر حاملہ شہروں میں اور دیہاتوں میں۔ آبادیوں میں اور پہاڑوں میں ، جنگلوں میں دریاؤں میں ، گھروں میں اور غاروں میں ، ہر مادہ کے پیٹ میں جو کچھ پیدا ہو رہا ہے ، بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، ہر وہ قطرۂ خون جو بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

یہ تو ہے ایک مخصوص مثال اور یہ کوئی تجریدی کلیہ نہیں ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور بس ، بلکہ ایک مخصوص شعبہ علم کی بات ہے۔

سواء منکم ۔۔۔۔ امر اللہ۔ (13 : 10- 11) ” تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں۔ ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔

جب انسانی خیال پر سرگوشی کرنے والے ، ہر جہراً بات کرنے والے کے بارے میں سوچ ، اندھیروں میں چلنے والوں اور دن کی روشنی میں متحرک لوگوں کے بارے میں سوچ اور پھر اس پوری کائنات کے بارے میں سوچ اور پھر یہ سوچ کہ اللہ کا علم ان سب کا پیچھا کر رہا ہے اور اس کے گماشتے بھی لکھ رہے ہیں اور رات کے دونوں کناروں پر رپورٹ بھی بھیجتے ہیں۔ پھر ان جزئیات علم الٰہی کے انداز بیان پر بھی ذرا غور کیجئے :

اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ جب اللہ نے یہ فرمایا کہ رحم مادر میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اللہ اسے جانتا ہے تو اس کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے ہاں ہر چیز کی مقدار مقرر ہے۔ نقص و زیادتی کے ساتھ مقدار کا لفظ لانا ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ پھر اس کا تعلق اس سے قبل کی اس آیت سے بھی …

9

عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلْكَبِيرُ ٱلْمُتَعَالِ

وہ دانائے نہاں وآشکار ہے سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے

یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔

آیت نمبر 8 تا 11

جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ دھوپ ، چھپ کر لوگوں کی سرگرمیاں اور دن کے وقت برملا لوگوں کی جدو جہد ، ان تمام امور کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے ، اللہ کے گماشتے ان تمام سرگرمیوں کو ریکارڈ بھی کر رہے ہیں۔ انسان کی یہ حیرانی دراصل خوف الٰہی کی وجہ سے ہے جس کے نتیجے میں انسان اللہ کی پناہ لیتا ہے۔ وہ اللہ کی پناہ گاہ ہی میں پناہ لیتا ہے۔ ایک مومن اچھی طرح جانتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اللہ کا علم تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے ، لیکن اصولی طور پر اللہ کے علم کے شمول اور وسعت کا اقرار اور بات ہے اور یہاں قرآن مجید نے جس موثر انداز میں بعض جزئیات کا ذکر کیا ہے اس کی اثر انگیزی اور بات ہے۔

محض تجریدی کلیہ کا بیان کردینا اور بات ہے اور کلیہ کے تحت کسی مثالی جزئیہ کا مطالعہ اور بات ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ بعض جزئیات ، حساس جزئیات کا ذکر فرماتے ہیں۔

اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔

ہر حاملہ سے خیال کے پردے پر ہر حاملہ ، مطلق حاملہ آجاتی ہے ، اس پوری کائنات میں تمام زندہ حاملہ ، وسیع معنوں میں ہر حاملہ شہروں میں اور دیہاتوں میں۔ آبادیوں میں اور پہاڑوں میں ، جنگلوں میں دریاؤں میں ، گھروں میں اور غاروں میں ، ہر مادہ کے پیٹ میں جو کچھ پیدا ہو رہا ہے ، بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، ہر وہ قطرۂ خون جو بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

یہ تو ہے ایک مخصوص مثال اور یہ کوئی تجریدی کلیہ نہیں ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور بس ، بلکہ ایک مخصوص شعبہ علم کی بات ہے۔

سواء منکم ۔۔۔۔ امر اللہ۔ (13 : 10- 11) ” تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں۔ ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔

جب انسانی خیال پر سرگوشی کرنے والے ، ہر جہراً بات کرنے والے کے بارے میں سوچ ، اندھیروں میں چلنے والوں اور دن کی روشنی میں متحرک لوگوں کے بارے میں سوچ اور پھر اس پوری کائنات کے بارے میں سوچ اور پھر یہ سوچ کہ اللہ کا علم ان سب کا پیچھا کر رہا ہے اور اس کے گماشتے بھی لکھ رہے ہیں اور رات کے دونوں کناروں پر رپورٹ بھی بھیجتے ہیں۔ پھر ان جزئیات علم الٰہی کے انداز بیان پر بھی ذرا غور کیجئے :

اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ جب اللہ نے یہ فرمایا کہ رحم مادر میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اللہ اسے جانتا ہے تو اس کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے ہاں ہر چیز کی مقدار مقرر ہے۔ نقص و زیادتی کے ساتھ مقدار کا لفظ لانا ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ پھر اس کا تعلق اس سے قبل کی اس آیت سے بھی …

10

سَوَآءٌۭ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ ٱلْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِۦ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِٱلَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِٱلنَّهَارِ

کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں چھپ جائے یا دن کی روشنی میں کھلم کھلا چلے پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے

یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔

آیت نمبر 8 تا 11

جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ دھوپ ، چھپ کر لوگوں کی سرگرمیاں اور دن کے وقت برملا لوگوں کی جدو جہد ، ان تمام امور کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے ، اللہ کے گماشتے ان تمام سرگرمیوں کو ریکارڈ بھی کر رہے ہیں۔ انسان کی یہ حیرانی دراصل خوف الٰہی کی وجہ سے ہے جس کے نتیجے میں انسان اللہ کی پناہ لیتا ہے۔ وہ اللہ کی پناہ گاہ ہی میں پناہ لیتا ہے۔ ایک مومن اچھی طرح جانتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اللہ کا علم تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے ، لیکن اصولی طور پر اللہ کے علم کے شمول اور وسعت کا اقرار اور بات ہے اور یہاں قرآن مجید نے جس موثر انداز میں بعض جزئیات کا ذکر کیا ہے اس کی اثر انگیزی اور بات ہے۔

محض تجریدی کلیہ کا بیان کردینا اور بات ہے اور کلیہ کے تحت کسی مثالی جزئیہ کا مطالعہ اور بات ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ بعض جزئیات ، حساس جزئیات کا ذکر فرماتے ہیں۔

اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔

ہر حاملہ سے خیال کے پردے پر ہر حاملہ ، مطلق حاملہ آجاتی ہے ، اس پوری کائنات میں تمام زندہ حاملہ ، وسیع معنوں میں ہر حاملہ شہروں میں اور دیہاتوں میں۔ آبادیوں میں اور پہاڑوں میں ، جنگلوں میں دریاؤں میں ، گھروں میں اور غاروں میں ، ہر مادہ کے پیٹ میں جو کچھ پیدا ہو رہا ہے ، بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، ہر وہ قطرۂ خون جو بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے ، اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

یہ تو ہے ایک مخصوص مثال اور یہ کوئی تجریدی کلیہ نہیں ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور بس ، بلکہ ایک مخصوص شعبہ علم کی بات ہے۔

سواء منکم ۔۔۔۔ امر اللہ۔ (13 : 10- 11) ” تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو ، اس کے لئے سب یکساں ہیں۔ ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں “۔

جب انسانی خیال پر سرگوشی کرنے والے ، ہر جہراً بات کرنے والے کے بارے میں سوچ ، اندھیروں میں چلنے والوں اور دن کی روشنی میں متحرک لوگوں کے بارے میں سوچ اور پھر اس پوری کائنات کے بارے میں سوچ اور پھر یہ سوچ کہ اللہ کا علم ان سب کا پیچھا کر رہا ہے اور اس کے گماشتے بھی لکھ رہے ہیں اور رات کے دونوں کناروں پر رپورٹ بھی بھیجتے ہیں۔ پھر ان جزئیات علم الٰہی کے انداز بیان پر بھی ذرا غور کیجئے :

اللہ یعلم ما تحمل۔۔۔۔۔ بمقدار (13 : 8) ” اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے ، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لئے اس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے “۔ جب اللہ نے یہ فرمایا کہ رحم مادر میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اللہ اسے جانتا ہے تو اس کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے ہاں ہر چیز کی مقدار مقرر ہے۔ نقص و زیادتی کے ساتھ مقدار کا لفظ لانا ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ پھر اس کا تعلق اس سے قبل کی اس آیت سے بھی …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.