Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 31–40 of 111

31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًۭٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍۢ مِّنْهُنَّ سِكِّينًۭا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٌۭ كَرِيمٌۭ

جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے

اور کہا عورتوں نے شہر (مصر) میں کہ عزیز مصر کی بیوی نے پھسلایا (ورغلایا) اپنے غلام کو اس کے نفس سے، تحقیق غالب آگیا ہے یوسف اس پر ازروئے محبت کے، بے شک ہم البتہ دیکھتی ہیں اسے گمراہی ظاہر میں (30) پس جب اس عورت نے سنی ملامت ان کی تو اس نے (پیغام) بھیجا ان کی طرف (بلانے کو) اور تیار کیں ان کے لیے نشست گاہیں اور دی اس نے ہر ایک عورت کو ان میں سے ایک چھری اور کہا (یوسف سے) نکل ان پر، پس جب ان عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو بہت بڑا جانا اسے اور کاٹ لیے اپنے ہاتھ اور بولیں ، حاشاللہ! (پاکیزگی اللہ کی)، نہیں ہے یہ بشر، نہیں ہے یہ مگر فرشتہ نہایت معزز(31) اس نے کہا، پس یہی تو ہے وہ شخص کہ ملامت کی تم نے مجھے اس کے بارے میں اور البتہ تحقیق ورغلایا تھا میں نے اسے اس کے نفس سے، پس وہ بچ گیا اور البتہ اگر نہ کیا اس نے جو حکم دیتی ہوں میں اسے تو ضرور قید کیا جائے گا اور یقینا ہو گا بے عزت ہونے والوں میں سے (32) یوسف نے کہا، اے رب! قید خانہ زیادہ پسند ہے مجھے اس سے کہ بلاتی ہیں یہ عورتیں مجھے اس کی طرف اور اگر نہ پھیرے گا تو مجھ سے ان کا مکر تو مائل ہو جاؤں گا میں طرف ان کی اور ہو جاؤں گا میں جاہلوں میں سے (33) پس قبول کر لی (دعا) اس کی اس کے رب نے، سو پھیر دیا اس نے اس سے مکران عورتوں کا، بے شک وہی ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (34) پھر ظاہر ہو اواسطے ان کے بعد اس کے کہ دیکھ لیں انھوں نے نشانیاں کہ بہر صورت قید کریں وہ لوگ اس (یوسف) کو کچھ وقت تک (35)

[30] یعنی اس واقعے کی خبر مشہور ہوگئی اور تمام شہر میں پھیل گئی اور اس بارے میں عورتوں نے چہ میگوئیاں کیں اور عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کرنے لگیں اور کہنے لگیں : ﴿ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’عزیز کی بیوی، پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے، اس کا دل اس کی محبت میں فریفتہ ہو گیا ہے‘‘ یہ کام بہت برا ہے۔ عورت ایک انتہائی معزز شخص کی معزز بیوی ہے، بایں ہمہ وہ اپنے غلام پر ڈورے ڈالتی رہی جو زیردست اور اس کی خدمت پر مامور تھا، اس عورت کے دل میں اس غلام کی محبت جاگزیں ہوگئی ﴿ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّا ﴾ ’’اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی۔‘‘ یعنی یوسفu کی محبت عورت کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محبت کا انتہائی درجہ ہے۔ ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىهَا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یقینا ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں ‘‘ یہ عورت اس حالت کو پہنچ گئی ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں ، یہ حالت لوگوں کے ہاں اس کی قدر و قیمت گھٹا دے گی۔

[31] ان عورتوں کا اس قول سے مجرد ملامت اور محض لعن طعن مقصود نہیں تھا بلکہ یہ ان کی ایک چال تھی۔ وہ درحقیقت یہ بات کہہ کر جناب یوسفu تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھیں جن کی وجہ سے عزیز مصر کی بیوی فتنے میں پڑ گئی… تاکہ یہ بات سن کر عزیز مصر کی بیوی غصے میں آئے اور ان کے سامنے آپ کو معذور ظاہر کرنے کے لیے یوسفu کا دیدار کروا دے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر قرار دیا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَؔكۡرِهِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَيۡهِنَّ ﴾ ’’جب اس نے ان کا فریب سنا تو ان کو بلوا بھیجا‘‘ ان کو اپنے گھر ایک ضیافت پر بلایا ﴿ وَاَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَاً ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک مجلس تیار کی‘‘ ان کے لیے ایک ایسی جگہ تیار کی جہاں مختلف اقسام کے فرش بچھے ہوئے تھے جن پر تکیے لگے ہوئے تھے اور کھانے سجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں اس ضیافت میں عزیز مصر کی بیوی نے کچھ ایسے کھانے بھی پیش کیے جن میں چھری کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً:لیموں وغیرہ۔ ﴿ وَّاٰتَتۡ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنۡهُنَّ سِكِّيۡنًا ﴾ ’’اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دی‘‘ تاکہ اس چھری سے وہ مخصوص کھانا کاٹ سکیں۔ ﴿ وَّقَالَتِ ﴾ اور یوسفu سے بولی: ﴿ اخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّ﴾ ’’ان کے سامنے نکل آؤ‘‘ اپنے پورے جمال اور …

32

قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًۭا مِّنَ ٱلصَّٰغِرِينَ

تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا

اور کہا عورتوں نے شہر (مصر) میں کہ عزیز مصر کی بیوی نے پھسلایا (ورغلایا) اپنے غلام کو اس کے نفس سے، تحقیق غالب آگیا ہے یوسف اس پر ازروئے محبت کے، بے شک ہم البتہ دیکھتی ہیں اسے گمراہی ظاہر میں (30) پس جب اس عورت نے سنی ملامت ان کی تو اس نے (پیغام) بھیجا ان کی طرف (بلانے کو) اور تیار کیں ان کے لیے نشست گاہیں اور دی اس نے ہر ایک عورت کو ان میں سے ایک چھری اور کہا (یوسف سے) نکل ان پر، پس جب ان عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو بہت بڑا جانا اسے اور کاٹ لیے اپنے ہاتھ اور بولیں ، حاشاللہ! (پاکیزگی اللہ کی)، نہیں ہے یہ بشر، نہیں ہے یہ مگر فرشتہ نہایت معزز(31) اس نے کہا، پس یہی تو ہے وہ شخص کہ ملامت کی تم نے مجھے اس کے بارے میں اور البتہ تحقیق ورغلایا تھا میں نے اسے اس کے نفس سے، پس وہ بچ گیا اور البتہ اگر نہ کیا اس نے جو حکم دیتی ہوں میں اسے تو ضرور قید کیا جائے گا اور یقینا ہو گا بے عزت ہونے والوں میں سے (32) یوسف نے کہا، اے رب! قید خانہ زیادہ پسند ہے مجھے اس سے کہ بلاتی ہیں یہ عورتیں مجھے اس کی طرف اور اگر نہ پھیرے گا تو مجھ سے ان کا مکر تو مائل ہو جاؤں گا میں طرف ان کی اور ہو جاؤں گا میں جاہلوں میں سے (33) پس قبول کر لی (دعا) اس کی اس کے رب نے، سو پھیر دیا اس نے اس سے مکران عورتوں کا، بے شک وہی ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (34) پھر ظاہر ہو اواسطے ان کے بعد اس کے کہ دیکھ لیں انھوں نے نشانیاں کہ بہر صورت قید کریں وہ لوگ اس (یوسف) کو کچھ وقت تک (35)

[30] یعنی اس واقعے کی خبر مشہور ہوگئی اور تمام شہر میں پھیل گئی اور اس بارے میں عورتوں نے چہ میگوئیاں کیں اور عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کرنے لگیں اور کہنے لگیں : ﴿ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’عزیز کی بیوی، پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے، اس کا دل اس کی محبت میں فریفتہ ہو گیا ہے‘‘ یہ کام بہت برا ہے۔ عورت ایک انتہائی معزز شخص کی معزز بیوی ہے، بایں ہمہ وہ اپنے غلام پر ڈورے ڈالتی رہی جو زیردست اور اس کی خدمت پر مامور تھا، اس عورت کے دل میں اس غلام کی محبت جاگزیں ہوگئی ﴿ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّا ﴾ ’’اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی۔‘‘ یعنی یوسفu کی محبت عورت کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محبت کا انتہائی درجہ ہے۔ ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىهَا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یقینا ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں ‘‘ یہ عورت اس حالت کو پہنچ گئی ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں ، یہ حالت لوگوں کے ہاں اس کی قدر و قیمت گھٹا دے گی۔

[31] ان عورتوں کا اس قول سے مجرد ملامت اور محض لعن طعن مقصود نہیں تھا بلکہ یہ ان کی ایک چال تھی۔ وہ درحقیقت یہ بات کہہ کر جناب یوسفu تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھیں جن کی وجہ سے عزیز مصر کی بیوی فتنے میں پڑ گئی… تاکہ یہ بات سن کر عزیز مصر کی بیوی غصے میں آئے اور ان کے سامنے آپ کو معذور ظاہر کرنے کے لیے یوسفu کا دیدار کروا دے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر قرار دیا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَؔكۡرِهِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَيۡهِنَّ ﴾ ’’جب اس نے ان کا فریب سنا تو ان کو بلوا بھیجا‘‘ ان کو اپنے گھر ایک ضیافت پر بلایا ﴿ وَاَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَاً ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک مجلس تیار کی‘‘ ان کے لیے ایک ایسی جگہ تیار کی جہاں مختلف اقسام کے فرش بچھے ہوئے تھے جن پر تکیے لگے ہوئے تھے اور کھانے سجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں اس ضیافت میں عزیز مصر کی بیوی نے کچھ ایسے کھانے بھی پیش کیے جن میں چھری کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً:لیموں وغیرہ۔ ﴿ وَّاٰتَتۡ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنۡهُنَّ سِكِّيۡنًا ﴾ ’’اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دی‘‘ تاکہ اس چھری سے وہ مخصوص کھانا کاٹ سکیں۔ ﴿ وَّقَالَتِ ﴾ اور یوسفu سے بولی: ﴿ اخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّ﴾ ’’ان کے سامنے نکل آؤ‘‘ اپنے پورے جمال اور …

33

قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا

اور کہا عورتوں نے شہر (مصر) میں کہ عزیز مصر کی بیوی نے پھسلایا (ورغلایا) اپنے غلام کو اس کے نفس سے، تحقیق غالب آگیا ہے یوسف اس پر ازروئے محبت کے، بے شک ہم البتہ دیکھتی ہیں اسے گمراہی ظاہر میں (30) پس جب اس عورت نے سنی ملامت ان کی تو اس نے (پیغام) بھیجا ان کی طرف (بلانے کو) اور تیار کیں ان کے لیے نشست گاہیں اور دی اس نے ہر ایک عورت کو ان میں سے ایک چھری اور کہا (یوسف سے) نکل ان پر، پس جب ان عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو بہت بڑا جانا اسے اور کاٹ لیے اپنے ہاتھ اور بولیں ، حاشاللہ! (پاکیزگی اللہ کی)، نہیں ہے یہ بشر، نہیں ہے یہ مگر فرشتہ نہایت معزز(31) اس نے کہا، پس یہی تو ہے وہ شخص کہ ملامت کی تم نے مجھے اس کے بارے میں اور البتہ تحقیق ورغلایا تھا میں نے اسے اس کے نفس سے، پس وہ بچ گیا اور البتہ اگر نہ کیا اس نے جو حکم دیتی ہوں میں اسے تو ضرور قید کیا جائے گا اور یقینا ہو گا بے عزت ہونے والوں میں سے (32) یوسف نے کہا، اے رب! قید خانہ زیادہ پسند ہے مجھے اس سے کہ بلاتی ہیں یہ عورتیں مجھے اس کی طرف اور اگر نہ پھیرے گا تو مجھ سے ان کا مکر تو مائل ہو جاؤں گا میں طرف ان کی اور ہو جاؤں گا میں جاہلوں میں سے (33) پس قبول کر لی (دعا) اس کی اس کے رب نے، سو پھیر دیا اس نے اس سے مکران عورتوں کا، بے شک وہی ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (34) پھر ظاہر ہو اواسطے ان کے بعد اس کے کہ دیکھ لیں انھوں نے نشانیاں کہ بہر صورت قید کریں وہ لوگ اس (یوسف) کو کچھ وقت تک (35)

[30] یعنی اس واقعے کی خبر مشہور ہوگئی اور تمام شہر میں پھیل گئی اور اس بارے میں عورتوں نے چہ میگوئیاں کیں اور عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کرنے لگیں اور کہنے لگیں : ﴿ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’عزیز کی بیوی، پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے، اس کا دل اس کی محبت میں فریفتہ ہو گیا ہے‘‘ یہ کام بہت برا ہے۔ عورت ایک انتہائی معزز شخص کی معزز بیوی ہے، بایں ہمہ وہ اپنے غلام پر ڈورے ڈالتی رہی جو زیردست اور اس کی خدمت پر مامور تھا، اس عورت کے دل میں اس غلام کی محبت جاگزیں ہوگئی ﴿ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّا ﴾ ’’اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی۔‘‘ یعنی یوسفu کی محبت عورت کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محبت کا انتہائی درجہ ہے۔ ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىهَا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یقینا ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں ‘‘ یہ عورت اس حالت کو پہنچ گئی ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں ، یہ حالت لوگوں کے ہاں اس کی قدر و قیمت گھٹا دے گی۔

[31] ان عورتوں کا اس قول سے مجرد ملامت اور محض لعن طعن مقصود نہیں تھا بلکہ یہ ان کی ایک چال تھی۔ وہ درحقیقت یہ بات کہہ کر جناب یوسفu تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھیں جن کی وجہ سے عزیز مصر کی بیوی فتنے میں پڑ گئی… تاکہ یہ بات سن کر عزیز مصر کی بیوی غصے میں آئے اور ان کے سامنے آپ کو معذور ظاہر کرنے کے لیے یوسفu کا دیدار کروا دے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر قرار دیا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَؔكۡرِهِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَيۡهِنَّ ﴾ ’’جب اس نے ان کا فریب سنا تو ان کو بلوا بھیجا‘‘ ان کو اپنے گھر ایک ضیافت پر بلایا ﴿ وَاَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَاً ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک مجلس تیار کی‘‘ ان کے لیے ایک ایسی جگہ تیار کی جہاں مختلف اقسام کے فرش بچھے ہوئے تھے جن پر تکیے لگے ہوئے تھے اور کھانے سجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں اس ضیافت میں عزیز مصر کی بیوی نے کچھ ایسے کھانے بھی پیش کیے جن میں چھری کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً:لیموں وغیرہ۔ ﴿ وَّاٰتَتۡ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنۡهُنَّ سِكِّيۡنًا ﴾ ’’اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دی‘‘ تاکہ اس چھری سے وہ مخصوص کھانا کاٹ سکیں۔ ﴿ وَّقَالَتِ ﴾ اور یوسفu سے بولی: ﴿ اخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّ﴾ ’’ان کے سامنے نکل آؤ‘‘ اپنے پورے جمال اور …

34

فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

تو خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بےشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے

اور کہا عورتوں نے شہر (مصر) میں کہ عزیز مصر کی بیوی نے پھسلایا (ورغلایا) اپنے غلام کو اس کے نفس سے، تحقیق غالب آگیا ہے یوسف اس پر ازروئے محبت کے، بے شک ہم البتہ دیکھتی ہیں اسے گمراہی ظاہر میں (30) پس جب اس عورت نے سنی ملامت ان کی تو اس نے (پیغام) بھیجا ان کی طرف (بلانے کو) اور تیار کیں ان کے لیے نشست گاہیں اور دی اس نے ہر ایک عورت کو ان میں سے ایک چھری اور کہا (یوسف سے) نکل ان پر، پس جب ان عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو بہت بڑا جانا اسے اور کاٹ لیے اپنے ہاتھ اور بولیں ، حاشاللہ! (پاکیزگی اللہ کی)، نہیں ہے یہ بشر، نہیں ہے یہ مگر فرشتہ نہایت معزز(31) اس نے کہا، پس یہی تو ہے وہ شخص کہ ملامت کی تم نے مجھے اس کے بارے میں اور البتہ تحقیق ورغلایا تھا میں نے اسے اس کے نفس سے، پس وہ بچ گیا اور البتہ اگر نہ کیا اس نے جو حکم دیتی ہوں میں اسے تو ضرور قید کیا جائے گا اور یقینا ہو گا بے عزت ہونے والوں میں سے (32) یوسف نے کہا، اے رب! قید خانہ زیادہ پسند ہے مجھے اس سے کہ بلاتی ہیں یہ عورتیں مجھے اس کی طرف اور اگر نہ پھیرے گا تو مجھ سے ان کا مکر تو مائل ہو جاؤں گا میں طرف ان کی اور ہو جاؤں گا میں جاہلوں میں سے (33) پس قبول کر لی (دعا) اس کی اس کے رب نے، سو پھیر دیا اس نے اس سے مکران عورتوں کا، بے شک وہی ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (34) پھر ظاہر ہو اواسطے ان کے بعد اس کے کہ دیکھ لیں انھوں نے نشانیاں کہ بہر صورت قید کریں وہ لوگ اس (یوسف) کو کچھ وقت تک (35)

[30] یعنی اس واقعے کی خبر مشہور ہوگئی اور تمام شہر میں پھیل گئی اور اس بارے میں عورتوں نے چہ میگوئیاں کیں اور عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کرنے لگیں اور کہنے لگیں : ﴿ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’عزیز کی بیوی، پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے، اس کا دل اس کی محبت میں فریفتہ ہو گیا ہے‘‘ یہ کام بہت برا ہے۔ عورت ایک انتہائی معزز شخص کی معزز بیوی ہے، بایں ہمہ وہ اپنے غلام پر ڈورے ڈالتی رہی جو زیردست اور اس کی خدمت پر مامور تھا، اس عورت کے دل میں اس غلام کی محبت جاگزیں ہوگئی ﴿ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّا ﴾ ’’اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی۔‘‘ یعنی یوسفu کی محبت عورت کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محبت کا انتہائی درجہ ہے۔ ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىهَا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یقینا ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں ‘‘ یہ عورت اس حالت کو پہنچ گئی ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں ، یہ حالت لوگوں کے ہاں اس کی قدر و قیمت گھٹا دے گی۔

[31] ان عورتوں کا اس قول سے مجرد ملامت اور محض لعن طعن مقصود نہیں تھا بلکہ یہ ان کی ایک چال تھی۔ وہ درحقیقت یہ بات کہہ کر جناب یوسفu تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھیں جن کی وجہ سے عزیز مصر کی بیوی فتنے میں پڑ گئی… تاکہ یہ بات سن کر عزیز مصر کی بیوی غصے میں آئے اور ان کے سامنے آپ کو معذور ظاہر کرنے کے لیے یوسفu کا دیدار کروا دے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر قرار دیا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَؔكۡرِهِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَيۡهِنَّ ﴾ ’’جب اس نے ان کا فریب سنا تو ان کو بلوا بھیجا‘‘ ان کو اپنے گھر ایک ضیافت پر بلایا ﴿ وَاَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَاً ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک مجلس تیار کی‘‘ ان کے لیے ایک ایسی جگہ تیار کی جہاں مختلف اقسام کے فرش بچھے ہوئے تھے جن پر تکیے لگے ہوئے تھے اور کھانے سجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں اس ضیافت میں عزیز مصر کی بیوی نے کچھ ایسے کھانے بھی پیش کیے جن میں چھری کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً:لیموں وغیرہ۔ ﴿ وَّاٰتَتۡ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنۡهُنَّ سِكِّيۡنًا ﴾ ’’اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دی‘‘ تاکہ اس چھری سے وہ مخصوص کھانا کاٹ سکیں۔ ﴿ وَّقَالَتِ ﴾ اور یوسفu سے بولی: ﴿ اخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّ﴾ ’’ان کے سامنے نکل آؤ‘‘ اپنے پورے جمال اور …

35

ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْءَايَٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍۢ

پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں

اور کہا عورتوں نے شہر (مصر) میں کہ عزیز مصر کی بیوی نے پھسلایا (ورغلایا) اپنے غلام کو اس کے نفس سے، تحقیق غالب آگیا ہے یوسف اس پر ازروئے محبت کے، بے شک ہم البتہ دیکھتی ہیں اسے گمراہی ظاہر میں (30) پس جب اس عورت نے سنی ملامت ان کی تو اس نے (پیغام) بھیجا ان کی طرف (بلانے کو) اور تیار کیں ان کے لیے نشست گاہیں اور دی اس نے ہر ایک عورت کو ان میں سے ایک چھری اور کہا (یوسف سے) نکل ان پر، پس جب ان عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو بہت بڑا جانا اسے اور کاٹ لیے اپنے ہاتھ اور بولیں ، حاشاللہ! (پاکیزگی اللہ کی)، نہیں ہے یہ بشر، نہیں ہے یہ مگر فرشتہ نہایت معزز(31) اس نے کہا، پس یہی تو ہے وہ شخص کہ ملامت کی تم نے مجھے اس کے بارے میں اور البتہ تحقیق ورغلایا تھا میں نے اسے اس کے نفس سے، پس وہ بچ گیا اور البتہ اگر نہ کیا اس نے جو حکم دیتی ہوں میں اسے تو ضرور قید کیا جائے گا اور یقینا ہو گا بے عزت ہونے والوں میں سے (32) یوسف نے کہا، اے رب! قید خانہ زیادہ پسند ہے مجھے اس سے کہ بلاتی ہیں یہ عورتیں مجھے اس کی طرف اور اگر نہ پھیرے گا تو مجھ سے ان کا مکر تو مائل ہو جاؤں گا میں طرف ان کی اور ہو جاؤں گا میں جاہلوں میں سے (33) پس قبول کر لی (دعا) اس کی اس کے رب نے، سو پھیر دیا اس نے اس سے مکران عورتوں کا، بے شک وہی ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (34) پھر ظاہر ہو اواسطے ان کے بعد اس کے کہ دیکھ لیں انھوں نے نشانیاں کہ بہر صورت قید کریں وہ لوگ اس (یوسف) کو کچھ وقت تک (35)

[30] یعنی اس واقعے کی خبر مشہور ہوگئی اور تمام شہر میں پھیل گئی اور اس بارے میں عورتوں نے چہ میگوئیاں کیں اور عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کرنے لگیں اور کہنے لگیں : ﴿ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’عزیز کی بیوی، پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے، اس کا دل اس کی محبت میں فریفتہ ہو گیا ہے‘‘ یہ کام بہت برا ہے۔ عورت ایک انتہائی معزز شخص کی معزز بیوی ہے، بایں ہمہ وہ اپنے غلام پر ڈورے ڈالتی رہی جو زیردست اور اس کی خدمت پر مامور تھا، اس عورت کے دل میں اس غلام کی محبت جاگزیں ہوگئی ﴿ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّا ﴾ ’’اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی۔‘‘ یعنی یوسفu کی محبت عورت کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محبت کا انتہائی درجہ ہے۔ ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىهَا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یقینا ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں ‘‘ یہ عورت اس حالت کو پہنچ گئی ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں ، یہ حالت لوگوں کے ہاں اس کی قدر و قیمت گھٹا دے گی۔

[31] ان عورتوں کا اس قول سے مجرد ملامت اور محض لعن طعن مقصود نہیں تھا بلکہ یہ ان کی ایک چال تھی۔ وہ درحقیقت یہ بات کہہ کر جناب یوسفu تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھیں جن کی وجہ سے عزیز مصر کی بیوی فتنے میں پڑ گئی… تاکہ یہ بات سن کر عزیز مصر کی بیوی غصے میں آئے اور ان کے سامنے آپ کو معذور ظاہر کرنے کے لیے یوسفu کا دیدار کروا دے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر قرار دیا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَؔكۡرِهِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَيۡهِنَّ ﴾ ’’جب اس نے ان کا فریب سنا تو ان کو بلوا بھیجا‘‘ ان کو اپنے گھر ایک ضیافت پر بلایا ﴿ وَاَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَاً ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک مجلس تیار کی‘‘ ان کے لیے ایک ایسی جگہ تیار کی جہاں مختلف اقسام کے فرش بچھے ہوئے تھے جن پر تکیے لگے ہوئے تھے اور کھانے سجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں اس ضیافت میں عزیز مصر کی بیوی نے کچھ ایسے کھانے بھی پیش کیے جن میں چھری کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً:لیموں وغیرہ۔ ﴿ وَّاٰتَتۡ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنۡهُنَّ سِكِّيۡنًا ﴾ ’’اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دی‘‘ تاکہ اس چھری سے وہ مخصوص کھانا کاٹ سکیں۔ ﴿ وَّقَالَتِ ﴾ اور یوسفu سے بولی: ﴿ اخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّ﴾ ’’ان کے سامنے نکل آؤ‘‘ اپنے پورے جمال اور …

36

وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ ۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًۭا ۖ وَقَالَ ٱلْءَاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًۭا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ ۖ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں

اور داخل ہوئے اس کے ساتھ قید خانے میں دو جوان، ان میں سے ایک نے کہا، بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو کہ نچوڑ رہا ہوں میں شراب،اورکہا دوسرے نے بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو اٹھا رہا ہوں میں اوپر اپنے سر کے روٹی، کھا رہے ہیں پرندے اس میں سے ، بتلا تو ہمیں تعبیر اس کی، بے شک ہم دیکھتے ہیں تجھے احسان کرنے والوں میں سے (36) یوسف نے کہا، نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس کھانا جو دیے جاتے ہو تم وہ مگر بتلا دوں گا میں تمھیں تعبیر اس کی پہلے اس سے کہ وہ آئے تمھارے پاس، یہ ان چیزوں میں سے ہے جو سکھائیں مجھے میرے رب نے، یقینا میں نے چھوڑ دیا دین ان لوگوں کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ کے ساتھ اور وہ ساتھ آخرت کے بھی کفر کرنے والے ہیں (37) اور میں نے پیروی کی دین کی اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کے، نہیں جائز واسطے ہمارے یہ کہ شریک ٹھہرائیں ہم ساتھ اللہ کے کسی چیز کو، یہ ہے فضل سے اللہ کے اوپر ہمارے اور اوپر تمام لوگوں کے لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (38) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! کیا معبود متفرق بہتر ہیں یا اللہ ایک نہایت غالب؟(39) نہیں عبادت کرتے تم سوائے اس کے مگر چند ناموں کی جو نام رکھے ہیں خود ہی تم نے وہ، تم نے اور تمھارے باپ دادا نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اس نے حکم دیا یہ کہ نہ عبادت کروتم مگر صرف اسی کی، یہی ہے دین سیدھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (40) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! لیکن ایک تو تم دونوں میں سے پس وہ پلائے گا اپنے مالک کو شراب اور لیکن دوسرا، سو وہ سولی دیا جائے گا اورکھائیں گے پرندے اس کے سر میں سے، فیصلہ کیا گیا ہے اس معاملے کا، وہ جس کی بابت تم مجھ سے پوچھتے تھے (41)

[36]﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ﴾ ’’اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔‘‘ جب یوسفu قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کیے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انھوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسفu کو سنایا ﴿ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا١ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِيۡ خُبۡزًا﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں ‘‘ اور یہ روٹی ﴿ تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ﴾ ’’پرندے کھا رہے ہیں ۔‘‘ ﴿ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ﴾ ’’ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجیے۔‘‘ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ اس خواب کا انجام کیا ہوگا۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے کہا: ﴿ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم آپ کو بھلائی کرنے والا دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی آپ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہیں ۔ آپ ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا کر ہم پر احسان کیجیے جیسا کہ آپ نے دوسرے لوگوں پر احسان کیا ہے۔ انھوں نے یوسفu کے احسان کو وسیلہ بنایا۔

[37]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا﴾ ’’جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتادوں گا۔‘‘ یعنی تمھیں دلی اطمینان ہونا چاہیے کہ میں تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمھارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر بتادوں گا۔شاید یوسفu یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں ، جبکہ ان قیدیوں نے حضرت یوسفu کی حاجت محسوس کی وہ ان قیدیوں کو ایمان کی دعوت دیں تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لیے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو، پھر یوسفu سے فرمایا:﴿ذٰلِكُمَا﴾ یعنی یہ تعبیر جو میں تم دونوں …

37

قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌۭ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ ۚ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍۢ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلْءَاخِرَةِ هُمْ كَٰفِرُونَ

یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں

اور داخل ہوئے اس کے ساتھ قید خانے میں دو جوان، ان میں سے ایک نے کہا، بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو کہ نچوڑ رہا ہوں میں شراب،اورکہا دوسرے نے بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو اٹھا رہا ہوں میں اوپر اپنے سر کے روٹی، کھا رہے ہیں پرندے اس میں سے ، بتلا تو ہمیں تعبیر اس کی، بے شک ہم دیکھتے ہیں تجھے احسان کرنے والوں میں سے (36) یوسف نے کہا، نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس کھانا جو دیے جاتے ہو تم وہ مگر بتلا دوں گا میں تمھیں تعبیر اس کی پہلے اس سے کہ وہ آئے تمھارے پاس، یہ ان چیزوں میں سے ہے جو سکھائیں مجھے میرے رب نے، یقینا میں نے چھوڑ دیا دین ان لوگوں کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ کے ساتھ اور وہ ساتھ آخرت کے بھی کفر کرنے والے ہیں (37) اور میں نے پیروی کی دین کی اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کے، نہیں جائز واسطے ہمارے یہ کہ شریک ٹھہرائیں ہم ساتھ اللہ کے کسی چیز کو، یہ ہے فضل سے اللہ کے اوپر ہمارے اور اوپر تمام لوگوں کے لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (38) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! کیا معبود متفرق بہتر ہیں یا اللہ ایک نہایت غالب؟(39) نہیں عبادت کرتے تم سوائے اس کے مگر چند ناموں کی جو نام رکھے ہیں خود ہی تم نے وہ، تم نے اور تمھارے باپ دادا نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اس نے حکم دیا یہ کہ نہ عبادت کروتم مگر صرف اسی کی، یہی ہے دین سیدھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (40) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! لیکن ایک تو تم دونوں میں سے پس وہ پلائے گا اپنے مالک کو شراب اور لیکن دوسرا، سو وہ سولی دیا جائے گا اورکھائیں گے پرندے اس کے سر میں سے، فیصلہ کیا گیا ہے اس معاملے کا، وہ جس کی بابت تم مجھ سے پوچھتے تھے (41)

[36]﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ﴾ ’’اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔‘‘ جب یوسفu قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کیے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انھوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسفu کو سنایا ﴿ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا١ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِيۡ خُبۡزًا﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں ‘‘ اور یہ روٹی ﴿ تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ﴾ ’’پرندے کھا رہے ہیں ۔‘‘ ﴿ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ﴾ ’’ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجیے۔‘‘ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ اس خواب کا انجام کیا ہوگا۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے کہا: ﴿ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم آپ کو بھلائی کرنے والا دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی آپ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہیں ۔ آپ ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا کر ہم پر احسان کیجیے جیسا کہ آپ نے دوسرے لوگوں پر احسان کیا ہے۔ انھوں نے یوسفu کے احسان کو وسیلہ بنایا۔

[37]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا﴾ ’’جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتادوں گا۔‘‘ یعنی تمھیں دلی اطمینان ہونا چاہیے کہ میں تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمھارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر بتادوں گا۔شاید یوسفu یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں ، جبکہ ان قیدیوں نے حضرت یوسفu کی حاجت محسوس کی وہ ان قیدیوں کو ایمان کی دعوت دیں تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لیے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو، پھر یوسفu سے فرمایا:﴿ذٰلِكُمَا﴾ یعنی یہ تعبیر جو میں تم دونوں …

38

وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ

اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

اور داخل ہوئے اس کے ساتھ قید خانے میں دو جوان، ان میں سے ایک نے کہا، بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو کہ نچوڑ رہا ہوں میں شراب،اورکہا دوسرے نے بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو اٹھا رہا ہوں میں اوپر اپنے سر کے روٹی، کھا رہے ہیں پرندے اس میں سے ، بتلا تو ہمیں تعبیر اس کی، بے شک ہم دیکھتے ہیں تجھے احسان کرنے والوں میں سے (36) یوسف نے کہا، نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس کھانا جو دیے جاتے ہو تم وہ مگر بتلا دوں گا میں تمھیں تعبیر اس کی پہلے اس سے کہ وہ آئے تمھارے پاس، یہ ان چیزوں میں سے ہے جو سکھائیں مجھے میرے رب نے، یقینا میں نے چھوڑ دیا دین ان لوگوں کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ کے ساتھ اور وہ ساتھ آخرت کے بھی کفر کرنے والے ہیں (37) اور میں نے پیروی کی دین کی اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کے، نہیں جائز واسطے ہمارے یہ کہ شریک ٹھہرائیں ہم ساتھ اللہ کے کسی چیز کو، یہ ہے فضل سے اللہ کے اوپر ہمارے اور اوپر تمام لوگوں کے لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (38) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! کیا معبود متفرق بہتر ہیں یا اللہ ایک نہایت غالب؟(39) نہیں عبادت کرتے تم سوائے اس کے مگر چند ناموں کی جو نام رکھے ہیں خود ہی تم نے وہ، تم نے اور تمھارے باپ دادا نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اس نے حکم دیا یہ کہ نہ عبادت کروتم مگر صرف اسی کی، یہی ہے دین سیدھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (40) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! لیکن ایک تو تم دونوں میں سے پس وہ پلائے گا اپنے مالک کو شراب اور لیکن دوسرا، سو وہ سولی دیا جائے گا اورکھائیں گے پرندے اس کے سر میں سے، فیصلہ کیا گیا ہے اس معاملے کا، وہ جس کی بابت تم مجھ سے پوچھتے تھے (41)

[36]﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ﴾ ’’اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔‘‘ جب یوسفu قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کیے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انھوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسفu کو سنایا ﴿ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا١ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِيۡ خُبۡزًا﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں ‘‘ اور یہ روٹی ﴿ تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ﴾ ’’پرندے کھا رہے ہیں ۔‘‘ ﴿ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ﴾ ’’ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجیے۔‘‘ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ اس خواب کا انجام کیا ہوگا۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے کہا: ﴿ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم آپ کو بھلائی کرنے والا دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی آپ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہیں ۔ آپ ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا کر ہم پر احسان کیجیے جیسا کہ آپ نے دوسرے لوگوں پر احسان کیا ہے۔ انھوں نے یوسفu کے احسان کو وسیلہ بنایا۔

[37]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا﴾ ’’جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتادوں گا۔‘‘ یعنی تمھیں دلی اطمینان ہونا چاہیے کہ میں تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمھارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر بتادوں گا۔شاید یوسفu یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں ، جبکہ ان قیدیوں نے حضرت یوسفu کی حاجت محسوس کی وہ ان قیدیوں کو ایمان کی دعوت دیں تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لیے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو، پھر یوسفu سے فرمایا:﴿ذٰلِكُمَا﴾ یعنی یہ تعبیر جو میں تم دونوں …

39

يَٰصَىٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌۭ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ

میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟

اور داخل ہوئے اس کے ساتھ قید خانے میں دو جوان، ان میں سے ایک نے کہا، بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو کہ نچوڑ رہا ہوں میں شراب،اورکہا دوسرے نے بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو اٹھا رہا ہوں میں اوپر اپنے سر کے روٹی، کھا رہے ہیں پرندے اس میں سے ، بتلا تو ہمیں تعبیر اس کی، بے شک ہم دیکھتے ہیں تجھے احسان کرنے والوں میں سے (36) یوسف نے کہا، نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس کھانا جو دیے جاتے ہو تم وہ مگر بتلا دوں گا میں تمھیں تعبیر اس کی پہلے اس سے کہ وہ آئے تمھارے پاس، یہ ان چیزوں میں سے ہے جو سکھائیں مجھے میرے رب نے، یقینا میں نے چھوڑ دیا دین ان لوگوں کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ کے ساتھ اور وہ ساتھ آخرت کے بھی کفر کرنے والے ہیں (37) اور میں نے پیروی کی دین کی اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کے، نہیں جائز واسطے ہمارے یہ کہ شریک ٹھہرائیں ہم ساتھ اللہ کے کسی چیز کو، یہ ہے فضل سے اللہ کے اوپر ہمارے اور اوپر تمام لوگوں کے لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (38) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! کیا معبود متفرق بہتر ہیں یا اللہ ایک نہایت غالب؟(39) نہیں عبادت کرتے تم سوائے اس کے مگر چند ناموں کی جو نام رکھے ہیں خود ہی تم نے وہ، تم نے اور تمھارے باپ دادا نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اس نے حکم دیا یہ کہ نہ عبادت کروتم مگر صرف اسی کی، یہی ہے دین سیدھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (40) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! لیکن ایک تو تم دونوں میں سے پس وہ پلائے گا اپنے مالک کو شراب اور لیکن دوسرا، سو وہ سولی دیا جائے گا اورکھائیں گے پرندے اس کے سر میں سے، فیصلہ کیا گیا ہے اس معاملے کا، وہ جس کی بابت تم مجھ سے پوچھتے تھے (41)

[36]﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ﴾ ’’اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔‘‘ جب یوسفu قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کیے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انھوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسفu کو سنایا ﴿ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا١ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِيۡ خُبۡزًا﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں ‘‘ اور یہ روٹی ﴿ تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ﴾ ’’پرندے کھا رہے ہیں ۔‘‘ ﴿ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ﴾ ’’ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجیے۔‘‘ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ اس خواب کا انجام کیا ہوگا۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے کہا: ﴿ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم آپ کو بھلائی کرنے والا دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی آپ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہیں ۔ آپ ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا کر ہم پر احسان کیجیے جیسا کہ آپ نے دوسرے لوگوں پر احسان کیا ہے۔ انھوں نے یوسفu کے احسان کو وسیلہ بنایا۔

[37]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا﴾ ’’جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتادوں گا۔‘‘ یعنی تمھیں دلی اطمینان ہونا چاہیے کہ میں تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمھارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر بتادوں گا۔شاید یوسفu یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں ، جبکہ ان قیدیوں نے حضرت یوسفu کی حاجت محسوس کی وہ ان قیدیوں کو ایمان کی دعوت دیں تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لیے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو، پھر یوسفu سے فرمایا:﴿ذٰلِكُمَا﴾ یعنی یہ تعبیر جو میں تم دونوں …

40

مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

اور داخل ہوئے اس کے ساتھ قید خانے میں دو جوان، ان میں سے ایک نے کہا، بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو کہ نچوڑ رہا ہوں میں شراب،اورکہا دوسرے نے بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو اٹھا رہا ہوں میں اوپر اپنے سر کے روٹی، کھا رہے ہیں پرندے اس میں سے ، بتلا تو ہمیں تعبیر اس کی، بے شک ہم دیکھتے ہیں تجھے احسان کرنے والوں میں سے (36) یوسف نے کہا، نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس کھانا جو دیے جاتے ہو تم وہ مگر بتلا دوں گا میں تمھیں تعبیر اس کی پہلے اس سے کہ وہ آئے تمھارے پاس، یہ ان چیزوں میں سے ہے جو سکھائیں مجھے میرے رب نے، یقینا میں نے چھوڑ دیا دین ان لوگوں کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ کے ساتھ اور وہ ساتھ آخرت کے بھی کفر کرنے والے ہیں (37) اور میں نے پیروی کی دین کی اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کے، نہیں جائز واسطے ہمارے یہ کہ شریک ٹھہرائیں ہم ساتھ اللہ کے کسی چیز کو، یہ ہے فضل سے اللہ کے اوپر ہمارے اور اوپر تمام لوگوں کے لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (38) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! کیا معبود متفرق بہتر ہیں یا اللہ ایک نہایت غالب؟(39) نہیں عبادت کرتے تم سوائے اس کے مگر چند ناموں کی جو نام رکھے ہیں خود ہی تم نے وہ، تم نے اور تمھارے باپ دادا نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اس نے حکم دیا یہ کہ نہ عبادت کروتم مگر صرف اسی کی، یہی ہے دین سیدھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (40) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! لیکن ایک تو تم دونوں میں سے پس وہ پلائے گا اپنے مالک کو شراب اور لیکن دوسرا، سو وہ سولی دیا جائے گا اورکھائیں گے پرندے اس کے سر میں سے، فیصلہ کیا گیا ہے اس معاملے کا، وہ جس کی بابت تم مجھ سے پوچھتے تھے (41)

[36]﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ﴾ ’’اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔‘‘ جب یوسفu قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کیے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انھوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسفu کو سنایا ﴿ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا١ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِيۡ خُبۡزًا﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں ‘‘ اور یہ روٹی ﴿ تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ﴾ ’’پرندے کھا رہے ہیں ۔‘‘ ﴿ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ﴾ ’’ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجیے۔‘‘ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ اس خواب کا انجام کیا ہوگا۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے کہا: ﴿ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم آپ کو بھلائی کرنے والا دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی آپ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہیں ۔ آپ ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا کر ہم پر احسان کیجیے جیسا کہ آپ نے دوسرے لوگوں پر احسان کیا ہے۔ انھوں نے یوسفu کے احسان کو وسیلہ بنایا۔

[37]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا﴾ ’’جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتادوں گا۔‘‘ یعنی تمھیں دلی اطمینان ہونا چاہیے کہ میں تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمھارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر بتادوں گا۔شاید یوسفu یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں ، جبکہ ان قیدیوں نے حضرت یوسفu کی حاجت محسوس کی وہ ان قیدیوں کو ایمان کی دعوت دیں تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لیے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو، پھر یوسفu سے فرمایا:﴿ذٰلِكُمَا﴾ یعنی یہ تعبیر جو میں تم دونوں …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.