Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 1–10 of 111

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ

الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ :” الۗرٰ “ کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ ” الْمُبِيْنِ “ ” أَبَانَ یُبِیْنُ “ باب افعال سے اسم فاعل ہے، لازم بھی آتا ہے، جیسے : (اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ) [ البقرۃ : ١٦٨ ] ” بیشک وہ تمہارا کھلا (واضح) دشمن ہے۔ “ متعدی بھی، یعنی بیان کرنے والا، واضح کرنے والا۔ ” الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ “ یعنی جس کا انداز بیان واضح اور ہر ایک کی سمجھ میں آنے والا ہے، یا جس کا اللہ کا کلام ہونا بالکل عیاں اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔

2

إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّۭا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا ۔۔ :” اَنْزَلْنٰهُ “ میں ” ہٗ “ ضمیر ” اَلْکِتٰب “ کی طرف جا رہی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کتاب صرف اہل عرب کے لیے ہے دوسروں کے لیے نازل نہیں کی گئی ہے۔ بات یہ ہے کہ تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کتاب اتاری جائے گی وہ کسی ایک ہی انسانی زبان میں ہوگی اور فطری طریقہ یہ ہے کہ یا تو اس کتاب کی زبان سیکھی جائے یا اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے، چناچہ یہی طریقہ قرآن کے بارے میں ملحوظ رکھا گیا۔ اس لیے عربوں سے، جو اس کے اولین مخاطب ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری اپنی زبان میں نازل کی ہے، کسی اور زبان میں نہیں اتاری کہ تم اسے ٹھیک طرح سے سمجھ نہ سکنے کا عذر پیش کرسکو۔ یہ کتاب عربی قرآن ہے، قرآن کا معنی پڑھنا ہے، بمعنی اسم مفعول، یعنی یہ ایسی کتاب ہے جو اتنی پڑھی جانے والی ہے کہ سراسر اس کا وجود ہی پڑھا جانا ہے۔ اس میں عقل والوں کے لیے عبرت کا بڑا سامان ہے ۔- ابن کثیر (رض) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ( اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ) اس لیے کہ لغت عرب تمام زبانوں سے زیادہ فصیح، سب سے واضح اور وسیع ہے، انسانی نفس میں آنے والے احساسات و جذبات اور مضامین و معانی کو سب سے زیادہ اور بہتر ادا کرنے والی ہے، اس لیے یہ تمام کتابوں سے اشرف (زیادہ بلندی اور شرف رکھنے والی) کتاب ہے۔ یہ کتاب تمام زبانوں سے زیادہ باشرف زبان میں، تمام رسولوں سے زیادہ شرف رکھنے والے رسول پر، تمام فرشتوں سے زیادہ شرف رکھنے والے فرشتے کی سفارت کے ذریعے سے اتری اور زمین کے تمام قطعوں اور علاقوں سے زیادہ باشرف علاقے مکہ میں، سال کے سب سے باشرف مہینے رمضان اور اس کے سب سے باشرف وقت لیلۃ القدر میں اتری۔ سو اس کا باشرف ہونا اور سب کتابوں سے اشرف ہونا ہر لحاظ سے کامل ہے۔ “ مختصر سی تفصیل اس کی یہ ہے کہ کئی زبانوں کے حروف تہجی پچاس (٥٠) سے لے کر اسی (٨٠) تک ہیں، جب کہ عربی زبان کے حروف تہجی کل انتیس (٢٩) ہیں، جنھیں سیکھنا آسان ہے۔ سیکھنے میں نہایت آسان ہونے کے باوجود اپنا مقصد اور دل کی بات ادا کرنے کے لیے اس زبان کی وسعت دنیا کی ہر زبان سے زیادہ ہے، مثلاً اکثر زبانوں میں فعل کے صیغوں میں فاعل مذکر یا مؤنث کے لیے الگ الگ الفاظ نہیں ہیں، مثلاً وہ گیا، وہ گئی، دونوں کے لیے فارسی میں ” رفت “ اور انگریزی میں ” (رض) “ ہے۔ ان زبانوں میں مذکر و مؤنث کی وضاحت کے لیے الگ الفاظ لانا پڑیں گے، نہ ہی ان زبانوں میں تثنیہ اور جمع کی وضاحت فعل کے لفظ سے ہوتی ہے، اس کے لیے بھی الگ الفاظ کی ضرورت ہے۔ غرض عربی زبان کی خوبیاں ایک مستقل مضمون ہے جس پر اہل علم کی کتابیں موجود ہیں۔ - عرب قوم پہاڑوں اور صحراؤں میں رہنے اور ہر وقت تقریباً حالت سفر میں رہنے کی وجہ سے نہایت جفاکش اور خود دار قوم تھی اور وہ ہمیشہ غیروں کی غلامی سے آزاد رہی تھی، اگرچہ ان میں بیشمار خرابیاں اور گمراہیاں موجود تھیں، مثلاً بت پرستی، شرک، ظلم و ستم، باہمی لڑائی، چوری، ڈاکے، جوا، شراب نوشی اور زنا وغیرہ، ان میں عام تھے، اس کے باوجود وہ بہت سی خوبیوں کی حامل بھی تھی، مثلاً غیرت، قبائلی زندگی کی وجہ سے حمیت اور دفاع کا جذبہ، کسی صورت غلامی قبول نہ کرنا، ایفائے عہد، سخاوت، صدق، ان پڑھ ہونے کی وجہ سے کمال درجے کا حافظہ۔ غرض وہ قوم بہت سی خوبیوں کی بھی حامل تھی، اپنی زبان کی خوبی، وسعت اور حسن ادا کی وجہ سے اپنے آپ کو عرب (اپنے مطلب کا واضح اظہار کرنے والے) اور دوسری تمام اقوام کو عجم (گونگے) قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بیشمار مصلحتوں کے ساتھ ساتھ ان خوبیوں کی بنا پر بھی تمام اقوام عالم تک اپنا دین پہنچانے کے لیے عربوں کا انتخاب فرمایا۔ کیونکہ آخری نبی کا قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ قرآن مجید اپنی دوسری بیشمار خوبیوں کے …

3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَٰفِلِينَ

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ : ” الْقَصَصِ “ ” قَصَّ یَقُصُّ “ کا مصدر ہے، قصہ کی جمع نہیں۔ (دیکھیے جواب اہل العلم، ص : ١ تا ٢٠) قصہ کی جمع قصص قاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ فرمایا : (نَحْنُ نَقُصُّ ) ” ہم بیان کرتے ہیں “ اللہ تعالیٰ جہاں اپنے لیے جمع کا صیغہ لاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام ایک الگ صفت کا تقاضا کرتا ہے، مثلاً بیان کرنا صفت کلام کا تقاضا کرتا ہے، زمین و آسمان بنانا صفت خلق کا تقاضا کرتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی ہے ہی نہیں جس میں تمام صفات کمال موجود ہوں اور وہ اپنے آپ کو ” ہم “ کہنے کا صحیح حق رکھتا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنی اس حیثیت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے لیے ” ہم “ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور جہاں وہ واحد کا لفظ استعمال کریں، مثلاً : (اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا) [ طٰہٰ : ١٤ ] وہ اپنی توحید کے اظہار کے لیے ہوتا ہے، کیونکہ اسی کی ذات واحد، احد، لا شریک لہ ہے۔ اس سورت میں چونکہ اللہ کے اپنی مرضی کے ہر کام پر غالب ہونے کا اظہار کرنے والی بہت سی صفات مذکور ہیں، اس لیے ” نَحْنُ “ (ہم) سے بات شروع کی ہے۔- بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ : یعنی یہ قرآن وحی کرنے کے ذریعے سے ہم تجھے سب سے اچھا بیان سناتے ہیں۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ سورة یوسف قرآن کی تمام سورتوں سے احسن ہے، بلکہ قرآن سارا ہی احسن القصص، یعنی تمام بیانوں سے بہتر بیان ہے، جس میں یہ سورت بھی شامل ہے۔ - وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ : یہ ” اِنْ “ دراصل ” اِنَّکَ “ تھا، تخفیف کے لیے کاف کو حذف کردیا اور ” اِنَّ “ کو ” اِنْ “ کردیا۔ اس کی دلیل ” لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ “ پر آنے والا لام ہے اور یہ عربی کا مسلمہ قاعدہ ہے، اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔ ” اِنْ “ اور لام کے ساتھ تاکید اس لیے کی ہے کہ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ آپ یہ سب کچھ پہلے ہی جانتے تھے، جیسا کہ ہمارے کئی نادان بھائی کہتے ہیں، بلکہ دوسری جگہ فرمایا : (تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا) [ ھود : ٤٩ ] ” یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔ “ - لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ : یعنی آپ کو اس سے پہلے اس کی کچھ خبر نہ تھی، آپ اُمّی تھے، نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ ایسے شخص پر ایسی بےمثال کتاب کا نزول کہ بڑے بڑے باخبر لوگ اس اُمّی کے شاگرد بن جائیں اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے اور آپ کے رسول برحق ہونے کی دلیل ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہ تھے، جتنی وحی ہوتی وہ معلوم ہوجاتا، باقی خبر عالم الغیب کے پاس رہتی جو کسی کے بتائے بغیر سب کچھ جاننے والا ہے، عالم الغیب کہتے ہی ایسی ہستی کو ہیں اور وہ صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔

4

إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَٰجِدِينَ

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں

اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ : یوسف (علیہ السلام) کے باپ یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے اور یہ چاروں نبی تھے، اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوسف (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ( اَلْکَرِیْمُ ابْنُ الْکَرِیْمِ ابْنِ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِ یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاھِیْمَ ) [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : ( ویتم نعمتہ علیک۔۔ ) : ٤٦٨٨، عن ابن عمر ] ” کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ۔ “- يٰٓاَبَتِ : یہ اصل میں ” یَا أَبِیْ “ تھا ” اے میرے باپ “ یاء حذف کرکے اس کی جگہ تاء تانیث لائی گئی اور باء کا کسرہ اس کی طرف منتقل کردیا۔ یہ اظہار محبت کا ایک طریقہ ہے، جیسے اردو میں ” ابا “ کو ” ابو “ کہہ دیتے ہیں۔

5

قَالَ يَٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لِلْإِنسَٰنِ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ ۔۔ : یعنی اس کی تعبیر ظاہر ہے، سنتے ہی سمجھ لیں گے۔ گیارہ بھائی تھے اور ایک باپ اور ایک ماں، یہ سب ان کی طرف محتاج ہوں گے، پھر شیطان ان کے دل میں حسد ڈالے گا۔ (موضح) اس وقت ان کی عمر کیا تھی، اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمائی۔ معالم میں ہے کہ بارہ سال تھی، کچھ لوگ بائبل کے حوالے سے سترہ سال بیان کرتے ہیں، مگر تعیین کی کوئی پختہ دلیل نہیں۔ اگر کوئی اسرائیلی روایت ہو بھی تو اسے نہ ہم سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ ویسے سترہ سالہ جواں جو صحرا میں پلا ہو، اس کے متعلق بھیڑیے کے کھا جانے کا خدشہ کم ہی پیدا ہوتا ہے۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ اس وقت وہ بچے تھے، مگر سمجھ بوجھ رکھتے تھے : ” یَرْتَعْ وَ یَلْعَب “ (چرے، کھائے پیے اور کھیلے) اور ” ھٰذَا غُلَام “ (یہ لڑکا ہے) اور ” اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَداً “ (یا ہم اسے بیٹا بنالیں گے) سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگر عمر بتانے کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ ضرور بیان فرما دیتا۔ ” یوسف “ عربی زبان کا نام نہیں کہ اس کا اشتقاق عربی میں سے تلاش کیا جائے، بلکہ عبرانی یا اس زبان کا نام ہے جو یعقوب (علیہ السلام) استعمال کرتے تھے۔ اس خواب کی تعبیر کافی عرصہ بعد جا کر پوری ہوئی، بعض چالیس برس بتاتے ہیں، بعض کم و بیش، مگر بچپن سے جوانی کا عرصہ جو عزیز مصر کے گھر گزرا، پھر قید خانے کے سات یا نو سال، پھر خوش حالی کے سات سال، جس کے بعد قحط شروع ہوا اور بھائی مجبور ہو کر آئے اکیس بائیس سال سے کم عرصہ کسی صورت نہیں بنتا، زیادہ ہو تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر ظاہر ہونے میں لمبی مدت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ - يٰبُنَيَّ : ” بُنَیَّ “ ” اِبْنِيْ “ کی تصغیر ہے، محبت اور شفقت سے فرمایا، اے میرے چھوٹے سے بیٹے، یا اے میرے پیارے بیٹے۔ - یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ تعبیر ظاہر تھی اور یعقوب (علیہ السلام) نے مختصراً بیان بھی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں چنے گا اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے گا۔ قدرتی طور پر جس شخص کو نعمت ملتی ہے اس پر حسد ہوتا ہے اور شیطان بھی انسان کی اس کمزوری، یعنی حسد کو استعمال کرکے بھائیوں کے درمیان اور دوستوں کے درمیان دشمنی پیدا کردیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ ) [ بنی إسرائیل : ٥٣ ] ” بیشک شیطان ان (میرے بندوں) کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔ “ اور یہ اس کے نزدیک سب سے زیادہ قرب کا ذریعہ ہوتا ہے، جیسا کہ ایک لمبی حدیث میں ہے کہ شیطان اپنے لشکر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھیجتا ہے : ( ثُمَّ یَجِيْءُ أَحَدُھُمْ فَیَقُوْلُ مَا تَرَکْتُہٗ حَتّٰی فَرَّقْتُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ ) [ مسلم، صفات المنافقین، باب تحریش الشیطان۔۔ : ٦٧؍٢٨١٣ ] ” پھر ان میں سے ایک شیطان آ کر ( اپنی کار کردگی بیان کرتے ہوئے) کہتا ہے : ” میں نے اس آدمی کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی۔ “ اس لیے بھائیوں کو خواب کا علم ہونے پر یوسف (علیہ السلام) کو ان کی کسی خفیہ تدبیر سے ڈرایا، ساتھ ہی ” اِنَّ “ کے ساتھ اس کی وجہ بیان فرمائی کہ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور یہی بات یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین اور بھائیوں کے مصر آنے کے موقع پر کہی تھی : (مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ ) [ یوسف : ١٠٠ ] ” اس کے بعد کہ شیطان نے میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا تھا۔ “ قرآن کے بیان کا تقاضا یہی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے والد ماجد کے کہنے کے مطابق وہ خواب بیان نہیں کیا، کیونکہ بھائیوں نے قتل کے مشورے کے وقت بھی خواب کا ذکر نہیں کیا اور یوسف (علیہ السلام) کے کمال اطاعت کا تقاضا بھی یہی …

6

وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ : ” یَجْتَبِیْ “ ” جَبَی یَجْبِیْ “ (ض) کے باب افتعال ” اِجْتِبَاءٌ“ کا فعل مضارع ہے، جس کا معنی جمع کرنا، کسی خوبی کی بنا پر چن لینا ہے۔ راغب نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی بندے کے ” اِجْتِبَاءٌ“ (چن لینے) سے مراد اسے اپنے ایسے فیض کے ساتھ خاص کرلینا ہے جس سے اس کو اپنی کسی کوشش کے بغیر مختلف قسم کی نعمتیں حاصل ہوجائیں، یہ چیز انبیاء کو حاصل ہوتی ہے یا انھیں جو ان کے قریب ہوں، مثلاً صدیقین، شہداء۔ (مفردات) بیشک اعلیٰ درجے کا اجتباء انبیاء، صدیقین اور شہداء کو حاصل ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے چننے کے بھی کئی درجے ہیں، جیسا کہ آپ اپنے متعلق سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس طرح چنا کہ پتھر یا نباتات یا جانوروں کے بجائے انسان بنایا، پھر کافر نہیں بلکہ مسلمان بنایا، پھر کبیرہ گناہوں سے بچایا، پھر مشرک کلمہ گو کے بجائے موحد اور بدعتی کے بجائے متبع سنت بنایا، اگر علم کتاب کی نعمت بھی حاصل ہے تو آپ ان لوگوں میں جا ملے جن کے متعلق فرمایا : (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا) [ فاطر : ٣٢ ] ” پھر اس کتاب کے وارث ہم نے وہ لوگ بنائے جنھیں ہم نے چن لیا۔ “ اگر دعوت الی اللہ کی توفیق مل گئی تو مزید فیض مل گیا۔ غرض اصطفاء اور اجتباء کے کئی درجے ہیں اور جتنا حصہ مل جائے اس پر اللہ کا بیحد شکر ادا کرنا چاہیے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَآ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ ) [ الأعراف : ٤٣ ] ”(جنتی کہیں گے) اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی۔ “ یا اللہ تو اپنے فضل سے ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو جنت میں داخل ہو کر ان الفاظ میں تیرا شکر ادا کریں گے۔ (آمین)- اس آیت میں ” وَکَذٰلِکَ “ (اور اسی طرح) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ خواب دکھلایا، اور کسی کو اس طرح کا خواب نہیں دکھایا، اسی طرح تیرا رب تجھے چنے گا اور تجھے۔۔ چننے سے مراد اعلیٰ درجے کا چننا ہے، جیسا کہ اوپر امام راغب سے نقل ہوا، یعنی نبوت و صدیقیت سے نوازے گا اور گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اعلیٰ مقام پر پہنچا کر تمہیں اپنے عہد کے سب بندوں پر فوقیت بخشے گا۔ - وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : ” الْاَحَادِيْثِ “ ” حَدِیْثٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی بات ہے۔ ” تَاْوِيْلِ “ کا معنی بات کا صحیح مطلب سمجھنا اور اس کی تہ تک پہنچنا ہے، کیونکہ ” تَاْوِيْلِ “ ” أَوْلٌ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی لوٹنا ہے اور تاویل کا معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقصد کی طرف لوٹانا ہے، یعنی جو اس سے مراد ہے۔ یہاں ” تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ “ سے مراد بات سمجھنے کی تیز بصیرت اور کمال فہم کے ساتھ خوابوں کی تعبیر بھی ہے ۔- وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَعَلٰٓي اٰلِ يَعْقُوْبَ ۔۔ : تم پر اپنی نعمت تمام کرے گا جیسے اس سے پہلے تمہارے (دو باپوں) دادا اور پردادا پر پوری کی، یعنی تمہیں نبوت و رسالت اور حکومت عطا فرمائے گا۔ شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں : ”(اَبَوَیْکَ یعنی تیرے دونوں باپوں پر) ابراہیم اور اسحاق (علیہ السلام) کا نام لیا، اپنا نہ لیا عاجزی سے۔ “ (موضح) آل یعقوب پر نعمت تمام کرنے کا مطلب وہ تمام نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل پر ہوئیں اور جن کا ذکر تفصیل سے قرآن مجید میں موجود ہے۔ - اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ : کہ اس کے بندوں میں سے کون سرفرازی کے لائق ہے۔

7

۞ لَّقَدْ كَانَ فِى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَٰتٌۭ لِّلسَّآئِلِينَ

ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں

لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ ۔۔ : یہاں سے یوسف (علیہ السلام) کے قصے کی تفصیل شروع ہوتی ہے۔ ” اٰيٰتٌ“ ” آیَۃٌ“ کی جمع ہے۔ یہاں آیات سے مراد وہ عبرتیں، نصیحتیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں جو اس واقعہ میں ذکر ہوئی ہیں، چونکہ وہ بہت سی ہیں اور بہت سے لوگوں سے متعلق ہیں، مثلاً ایک طرف بھائیوں کی نفرت، حسد، بدگمانی، اس زمانے کے لوگوں کے حالات، آزاد لوگوں کو غلام بنا لینا، ان کا انداز حکومت، ان کے قوانین، شیطان کا بہکانا، اپنوں کے ظلم، پیاروں سے جدائی، بےوطنی، غلامی کے صدمے، حسن کی وجہ سے آنے والی آزمائشیں، عزیز کی بیوی کے عشق کی شورش اور طغیانی اور یوسف (علیہ السلام) کی عفت کا امتحان، پھر قید خانے کی آزمائش ہے، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کا اپنے کام پر غالب ہونے کا مظاہرہ ہے، یوسف (علیہ السلام) کا تمام دشمنوں، حاسدوں اور مخالفوں کی خواہش کے برعکس اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ کمالات علم و حکمت، اخلاص نیت، حسن عمل اور صبر و تقویٰ کی بدولت جیل اور غلامی سے نکل کر قرب شاہی اور حکومت کے وسیع اختیارات کا حصول ہے۔ جابر و ظالم بھائیوں کی ان کے سامنے بےبسی اور ان سے صدقے کے سوال پر مجبور ہونا ہے۔ پھر اس سارے عرصے میں یوسف (علیہ السلام) کا ہر زیادتی کرنے والے سے انتقام کے بجائے حسن سلوک، بےمثال صبر اور عفو و درگزر ہے اور آخر میں یوسف (علیہ السلام) کے خواب گیارہ ستاروں اور سورج و چاند کے ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی تعبیر کا ظہور ہے اور اس تمام عظمت و رفعت کے باوجود یوسف (علیہ السلام) کا آخرت کی فکر میں اللہ تعالیٰ سے اسلام پر موت اور صالحین کے ساتھ ملانے کی دعا ہے۔ غرض ایک ایک بات اپنے اندر بہت سی نشانیاں اور عبرتیں رکھتی ہے۔ - لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ : یہ سوال کرنے والے کون تھے، اشرف الحواشی میں ہے : ” منقول ہے کہ قریش نے یہود کے اشارے پر امتحان کی غرض سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن شام تھا تو بنی اسرائیل مصر میں کیسے آباد ہوگئے، حتیٰ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں فرعون سے نجات حاصل کی ؟ اس پر یہ سورت اتری اور فرمایا کہ سوال کرنے والوں کے لیے اس قصہ میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ انھوں نے ایک بھائی پر حسد کیا تو آخر کار اسی کے محتاج ہوئے، اسی طرح یہود حسد کر رہے ہیں اور قریش نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نکالا تو آخر کار آپ ہی کا عروج ہوا۔ (موضح) مگر یہ روایات اسرائیلی ہیں (اور مکہ میں یہود تھے بھی نہیں، نہ اہل مکہ کا ان سے خاص رابطہ تھا) حافظ ابن کثیر (رض) نے ایسی کسی روایت کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے بالمقابل دوسری ایک دو روایات بحوالہ ابن جریر بیان کی ہیں کہ صحابہ کے سوال پر یہ سورت نازل ہوئی۔ (مگر ابن عباس (رض) سے منقول یہ روایت بھی منقطع ہے، کیونکہ ابن عباس (رض) سے روایت کرنے والے راوی عمرو بن قیس نے انھیں پایا ہی نہیں۔ دیکھیے الاستیعاب فی بیان الاسباب) بہر حال اگر اسرائیلی روایات کو معتبر مان لیا جائے تو نشانیوں سے مراد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی نشانیاں ہیں اور پوچھنے والوں سے مراد یہودی یا کفار مکہ ہیں اور اگر ان کا اعتبار نہ کیا جائے تو آیات سے مراد وہ عبرتیں ہیں جو یوسف (علیہ السلام) کے قصے میں پائی جاتی ہیں اور پوچھنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ صاحب معالم نے ان عبرتوں کو خوب تفصیل سے لکھا ہے۔ “ ابن عاشور نے لکھا ہے کہ اہل عرب کی بلاغت کا یہ ایک اسلوب ہے کہ وہ متوجہ کرنے کے لیے سائل کا ذکر کرتے ہیں۔ مراد اس بات کو سننے کا شوق دلانا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبٰرَكَ فِيْهَا وَقَدَّرَ فِيْهَآ اَقْوَاتَهَا فِيْٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ ۭ سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ )[ حٰآ السجدۃ …

8

إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں

اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ ۔۔ : یعنی انھوں نے آپس میں کہا۔ دراصل انھوں نے اپنے ظلم کے جواز کے لیے یوسف (علیہ السلام) کا یہ جرم تجویز کیا، ورنہ اگر یہ جرم تھا تو والد کا تھا جو انھوں نے والد کو بھی معاف نہیں کیا، اس کا ذکر آگے آ رہا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں کہیں اشارہ بھی نہیں کہ اس میں یعقوب (علیہ السلام) کی کوئی غلطی تھی، اگر یہ غلطی ہوتی تو اللہ تعالیٰ یعقوب (علیہ السلام) کو ضرور اس سے آگاہ کردیتا، کیونکہ وہ نبی تھے۔ بعض مفسرین نے بھی یہ لکھ دیا ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ باپ کو بیٹوں کے درمیان محبت میں بھی برابری رکھنی چاہیے، حالانکہ نہ ان حضرات نے خیال فرمایا، نہ برادران یوسف نے کہ والدین کے بعض اولاد کی طرف میلان کے کیا مراتب و اسباب ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمیشہ چھوٹے بچے والدین کی شفقت اور محبت زیادہ حاصل کرتے ہیں، جو یوسف (علیہ السلام) کے بڑے بھائیوں میں سے ہر ایک اپنی اس عمر میں حاصل کرچکا تھا، پھر اولاد کی طبیعت کی سرکشی اور اطاعت ماں باپ کی محبت کھینچنے میں فرق کا باعث بن جاتی ہے۔ اسی طرح بیمار بچے اور پردیس میں رہنے والے بچے کی طرف والدین کی توجہ زیادہ ہوتی ہے، جیسا کہ اس قدیم عرب نے کہا تھا جس سے پوچھا گیا کہ تمہیں اپنے بیٹوں میں سب سے پیارا کون ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : ” چھوٹا، یہاں تک کہ بڑا ہو، غائب یہاں تک کہ آجائے اور بیمار یہاں تک کہ تندرست ہوجائے۔ “ (شعراوی) اس لیے شریعت نے اولاد کے درمیان عطیے میں برابری اور بیویوں کے درمیان عدل کا حکم دیا ہے، دلی میلان اور محبت نہ بندے کے اختیار میں ہے اور نہ اس کے کم و بیش ہونے میں ماں باپ کا کوئی جرم ہے، نہ اولاد کا۔ یوسف (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی کا جرم بھی یہی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے بھائی کا نام بتایا نہ بڑوں کا، کیونکہ یہ بات قرآن کے مقصود سے خاص تعلق نہیں رکھتی۔ اب اگر ہم اہل کتاب سے سن کر چھوٹے کا نام بنیامین لکھیں یا بڑوں کا نام لکھیں تو جس بات کو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے، اس کا علم سے کیا تعلق ہے اور اس کا اعتبار ہی کیا ہے ؟ علم یقین کا نام ہے، شک کا نہیں۔ - وَنَحْنُ عُصْبَةٌ : یہ جملہ حالیہ ہے۔ لفظ ” عُصْبَةٌ“ ایک قوی جماعت پر بولا جاتا ہے، جو عموماً دس سے لے کر چالیس پر مشتمل ہوں۔ یہ ” عَصْبٌ“ سے مشتق ہے جو بمعنی ” شَدٌّ“ (باندھنا) ہے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو قوت اور سہارا دیتا ہے، یعنی ہم تمام کام سنبھالنے والے اور وقت پر کام آنے والے ہیں، جب کہ یوسف اور اس کا بھائی کم عمر ہونے کی وجہ سے والد کے کسی کام نہیں آسکتے اور ہم ایک قوی جتھا ہیں جو اس بدوی ماحول میں وقت پر کام آسکتے ہیں۔ - اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ : یہاں انھوں نے باپ کو بھی نہیں بخشا۔ ” ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ “ سے مراد رائے کی غلطی ہے جو دنیوی معاملات میں ہوتی ہے، یہاں ضلالت سے مراد دینی ضلالت یا عام گمراہی نہیں ہے، ایسا کہتے تو یہ لوگ کافر ہوجاتے۔ (قرطبی) بعض اوقات کسی خاص کام میں غلطی پر بھی یہ لفظ آجاتا ہے، جیسا کہ دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہونے کی وجہ بتائی، فرمایا : (اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىھُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى ۭ ) [ البقرۃ : ٢٨٢ ] ”(اس لیے) کہ دونوں میں سے ایک بھول جائے تو ان میں سے ایک دوسری کو یاد دلا دے۔ “ دراصل وہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ آئندہ کیے جانے والے سلوک میں اپنے آپ کو بےقصور باور کروا کر ساری غلطی والد کے ذمے ڈالنا چاہتے تھے، جنھوں نے اولاد کی محبت میں فرق کیا تھا۔

9

ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًۭا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًۭا صَٰلِحِينَ

تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے

اقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا : دیکھیے حسد انسان کو کہاں تک پہنچا دیتا ہے کہ آدمی صغیرہ گناہ کو کبیرہ اور کبیرہ کو صغیرہ سمجھنے لگتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کا باپ کی نظر میں زیادہ محبوب ہونا بھائیوں کی نظر میں اتنا بڑا جرم بن گیا کہ اس کی وجہ سے قتل ناحق جو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، ان کی نگاہ میں معمولی بن گیا۔ آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے قصے میں بھی حسد نے ایک بےگناہ کا قتل قاتل کی نگاہ میں جائز بلکہ خوش نما بنادیا۔ دوسری تجویز بھی کم خطرناک نہ تھی۔ ” طَرْحٌ“ کا معنی ہے دور پھینک دینا۔ ” اَرْضًا “ نکرہ ہے، یعنی اسے کسی نامعلوم زمین میں پھینک دو ، تاکہ وہیں مرجائے۔ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے متعلق فرمایا : (وَلَوْلَآ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاۗءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا ) [ الحشر : ٣ ] ” اور اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ان (بنو نضیر) پر جلاوطن ہونا لکھ دیا تھا تو وہ یقیناً انھیں دنیا میں سزا دیتا۔ “ معلوم ہوا کہ جلاوطنی اور وہ بھی نامعلوم سرزمین میں، کم عذاب نہیں ہے۔ - يَّخْلُ لَكُمْ ۔۔ :” يَّخْلُ “ اصل میں ” یَخْلُوْ “ تھا۔ ” اقْــتُلُوْا “ (امر) کے جواب میں مجزوم ہونے کی وجہ سے اس کی واؤ اور ” تَکُوْنُوْنَ “ کا نون گرگئے، یعنی یوسف کے قتل یا غائب کردینے سے تمہارے والد صاحب کی توجہ صرف تمہارے لیے رہ جائے گی۔ ” وَجْہ “ کا معنی چہرہ ہے اور چہرے کے ساتھ ہی توجہ ہوتی ہے۔ والد کی محبت میں شریک غالب کا کانٹا نکلنے کی دیر ہے، وہ تمہارے ہی ہوجائیں گے۔ حسد نے انھیں ایسا اندھا کیا کہ یہ بھی نہ سوچا کہ اس بوڑھی جان پر کیا گزرے گی، انھیں یوسف (علیہ السلام) کی عداوت میں نہ باپ پر گزرنے والی حالت کا کوئی خیال آیا نہ یوسف پر رحم آیا۔ - وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ : اتنے بڑے جرم پر ملامت کرنے والے ضمیر کو انھوں نے یہ تسلی دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی کہ یوسف کا قصہ تمام کرکے تم نیک لوگ بن جانا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی سنگ دلی کے باوجود انھیں اپنے مجرم ہونے کا احساس تھا۔ یہ شیطان کا بندے کو گناہ میں مبتلا کرنے کے لیے بہت بڑا ہتھیار ہے کہ گناہ کرلو، بعد میں توبہ کرلینا، لیکن شیطان کے اس وار سے بچنا نہایت ضروری ہے، کیا خبر کہ اس کے بعد توبہ کا موقع ہی نہ ملے، پہلے ہی موت آجائے، جس کا وقت کسی کو بتایا ہی نہیں گیا، تاکہ ہر شخص موت کے کسی بھی وقت آجانے کے خیال سے گناہ سے باز رہے، فرمایا : (وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) [ آل عمران : ١٠٢ ] ” اور تم ہرگز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ “ پھر اس کی بھی کیا خبر کہ وقت ملنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے اس کی طرف سے توبہ کی توفیق ہی نہ ملے۔ فرمایا : (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ ) [ الأنفال : ٢٤ ] ” اور جان لو کہ بیشک اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے۔ “- ایک معنی ” وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ “ کا یہ بھی کیا گیا ہے کہ یوسف کے بعد تم درست معاملے والے لوگ بن جانا، یعنی والد کو راضی کرلینا اور آپس میں شیر و شکر ہوجانا۔ یہ معنی ہو تو بھی وہ دھوکے ہی میں مبتلا تھے۔ اپنے لخت جگر کو غائب کرنے والوں سے ظاہری صلح ہو بھی جائے تو ہر وقت غم سے بھرا ہوا دل پہلی حالت میں کیسے آسکتا ہے۔

10

قَالَ قَآئِلٌۭ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)

قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ ۔۔ :” غَيٰبَتِ “ کا معنی لغت میں ہے : ” غِیَابَۃُ کُلِّ شَیْءٍ مَا سَتَرَکَ مِنْہُ “ یعنی ہر چیز کی غیابت وہ ہے جو تمہیں اس سے پردے میں کرلے، یعنی اسے تم سے چھپالے۔ اس لیے قبر کو بھی ” غِیَابَۃٌ“ کہتے ہیں۔ ” الْجُبِّ “ کا معنی کنواں، بہت پانی اور گہرائی والا کنواں یا مٹی کا کھودا ہوا کنواں جس میں پتھروں اور اینٹوں کی دیوار نہ بنائی گئی ہو، ” السَّـيَّارَةِ “ قافلہ۔ (قاموس) ان بھائیوں میں سے ایک نے جو فطرتاً دوسروں سے بہتر اور رحم دل تھا، جب انھیں حد سے گزرتے دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ یہ کسی طرح ٹلنے والے نہیں، انھیں ایسا مشورہ دیا جسے وہ بھی قبول کرسکیں اور اسے یوسف کا طرف دار بھی قرار نہ دیں۔ وہ یہ تھا کہ یوسف کو قتل نہ کرو، قتل تو بہت ہی بڑا جرم ہے۔ (مفسرین فرماتے ہیں کہ یوسف کا نام اس نے ان کے دل میں نرمی، شفقت اور رحم ابھارنے کے لیے لیا، تاکہ وہ کچھ سوچیں کہ ہم کسے قتل کرنے جا رہے ہیں، یوسف کو ؟ جو ہمارا بھائی ہے) اگر ضرور ہی کچھ کرنا ہے تو اسے کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں پھینک دو ۔ اس سے تمہارا مقصد بھی پورا ہوجائے گا کہ کوئی قافلہ اسے اٹھا کرلے جائے گا، تم اپنے مقصد یعنی والد کی نگاہوں سے دور کرنے میں بھی کامیاب ہوجاؤ گے اور ایک معصوم جان کے قتل سے بھی بچ جاؤ گے۔ ” قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ “ مطلب یہ کہ اگر قتل کا مشورہ دینے والے بھائی تھے تو یہ بھی ایک بھائی ہی تھا۔ یہ بات کس بھائی نے کہی تھی، قرآن و حدیث میں اس کا ذکر نہیں، کیونکہ ہدایت کے مقصد کے لیے اس کی ضرورت نہ تھی اور پہلی کتابوں کے سچ یا جھوٹ کا کچھ پتا نہیں کہ ان پر بھروسا کر کے کوئی نام بتایا جائے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.